02/09/2026
**مقام محمود: محبوبِ خدا ﷺ کا بلند ترین مقام، جہاں سے شفاعتِ کبریٰ کے نور سے امت کے لیے رحمت کے دروازے کھل جائیں گے: سائیں سید غلام حیدر شاہ قلندری**
**کھپرو (پریس ریلیز)**
انجمن غلامانِ قلندر ویلفیئر پاکستان کے زیرِ اہتمام سائیں روشن شاہ رح کے آستانہ، کھپرو میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی نسبت سے **”مقامِ محمود“** کے عنوان سے محفلِ ہدیہ کثرتِ درودِ پاک منعقد کی گئی، جس میں انجمن کے سربراہ سائیں سید غلام حیدر شاہ قلندری نے روحانی خطاب اور خصوصی دعا فرمائی، جبکہ قلندری طارق علی چارن اور نواز مری نے نعت خوانی کی۔
سائیں سید غلام حیدر شاہ قلندری نے کہا کہ **مقامِ محمود محبوبِ کریم ﷺ کے اس عظیم الشان مرتبے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو قیامت کے دن عطا فرمائے گا، جہاں شفاعتِ کبریٰ کا عظیم مقام ظاہر ہوگا۔** قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: **”رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کریں، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔“** (سورۃ الاسراء، 79)
سائیں نے کہا کہ حدیثِ شفاعتِ کبریٰ میں آتا ہے کہ قیامت کے دن لوگ شفاعت کے لیے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت میں جائیں گے اور آخرکار حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، تو آپ ﷺ فرمائیں گے: **”أَنَا لَهَا“** یعنی **”میں اس شفاعت کے لیے ہوں۔“** پھر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حمد کے ایسے کلمات عطا فرمائے گا جو اس وقت تک کسی کو عطا نہیں کیے گئے ہوں گے، اس کے بعد شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
سائیں نے مزید کہا کہ قرآن پاک نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو امت کے لیے **اسوہ حسنہ** قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے: **”بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔“** (سورۃ الاحزاب، 21)
سائیں نے کہا کہ **محبتِ رسول ﷺ ایمان کی تکمیل، شفاعتِ کبریٰ کی امید اور روحانی وابستگی کا روشن راستہ ہے۔** حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: **”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“** (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
سائیں نے کہا کہ امام نووی اور امام ابن حجر عسقلانی رحمہما اللہ نے حدیثِ شفاعت کی شرح میں شفاعتِ کبریٰ کو رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات میں شمار کیا ہے اور قیامت کے دن آپ ﷺ کے مقامِ محمود پر فائز ہونے کو بیان کیا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی رحہ بھی عشق و محبت اور جدائی کی کیفیت کو اپنی شاعری میں اجاگر کرتے ہیں۔
سائیں نے مزید کہا کہ **عشقِ رسول ﷺ دلوں کی بلندی اور معاشرے کی روشنی کا سرچشمہ ہے۔** علامہ اقبال کے پیغام کے مطابق عشقِ رسول ﷺ انسان کو پستی سے بلندی کی طرف لے جاتا اور اسمِ محمد ﷺ دنیا کو روشنی عطا کرتا ہے، جبکہ شاہ لطیف سرکار بھی اپنی شاعری میں محبت، وفاداری اور قربانی کے جذبات کو اجاگر کرتے ہیں۔
سائیں نے کہا کہ **درود پاک روحانی سکون، سماجی ہمدردی اور کردار سازی کا ذریعہ ہے۔** رحم، دوسروں کی مدد، معافی، غصے پر قابو، شکر، عبادت اور ذکر جیسی مثبت عادات انسان کے جذباتی توازن، سماجی تعلقات اور اندرونی سکون کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ درود پاک دل کو محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ کرکے روحانی سکون اور امید کا ذریعہ بنتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر **کروڑوں درودِ پاک اور ختم القرآن کی اجتماعی دعا** کی گئی۔ اس موقع پر محمد ابراہیم ہالیپوٹو، محمد رفیق ہنگورو، میر محمد ٹالپر، عبدالشکور درس، علی حسن درس، خدا بخش، محمد ہاشم بوزدار، اللہ بخش بوزدار، مولوی میر محمد، مولوی ساون، امتیاز درس، حاجی عمر، سید عالم شاہ، سید امید علی شاہ، ملوک کنبھر، گل شیر کنبھر، کریم کنبھر، حبیب اللہ ہنگورو، حاجی سخی منگریو، قبول منگریو، لال چانڈیو، محمد عرس ہنگورو، اللہ بخش بھنبھرو، دین محمد بھنبھرو، امتیاز راجڑ، محمد منگریو، معروف درس، شہزاد درس، حاجی رمضان ہنگورو، اللہ بخش ہنگورجو، جمن کنبھر، امتیاز ہنگورو، ارشاد درس، غلام مصطفیٰ درس، خیر محمد ہالیپوٹو اور مجیب ہالیپوٹو سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔