05/05/2022
عید کا موقع امت مسلمہ کےاتفاق اور محبت والفت کاایک خداوندی تخفہ ھے.مسلمان تمام تررنجشیں بھلا کر ایک دوسرےکے ساتھ بغلگیرھوکر شیر وشکر ھوجاتےہیں. لیکن ایک انتہائی افسوسناک اورکربناک صورتحال تب پیش آتی ھے. جب اس موقع پر بھی امت افتراق وانتشار اورایک دوسرےکے ساتھ دست وگریبان ھوتاھوادیکھایی دے..عید کے مبارک موقع پر جو لوگ انتشارکاذریعہ بنتےہیں. ان میں ایک وہ لوگ ہیں جو فلکیات کےتحقیقات کےنام پرعوام میں تشویش پیدا کرتےہیں. جب 29روزے پورےھو. تو ہماری دینی روایات اور شریعت کاتقاضایہ ھے. کہ لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کریں. اگر اس موقع پر شرعی قاعدہ کےمطابق رویت ھوجایے. تو کل عید کا اعلان عین شریعت کےمطابق ھوگا. لیکن فلکیات کے بعض لوگ فلکیات کےمسئلےکو اس اندازمیں پیش کرتےہیں. کہ 29روزےرکھنےکےبعد بھی رؤیت کےکوشش کو یکسر مسترد کردیاجایے..جس کا نتیجہ یہ ھوتاھے. کہ مرکزی رویت کمیٹی بھی دباؤ میں آکر متدین مسلمانوں کےگواہیاں رد کرکےملک میں بےاعتمادی اور اضطراب کو پیدا کردیتے ہیں.بعض دینی ادارے بھی اس افسوسناک رویہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےہیں. لگتاایساھے. کہ یہ لوگ کسی ایک صوبہ کو ملک پاکستان سے جدا کرنےکی مذموم کوشش کرتےہیں... اگر یہ لوگ اس رویہ سے بازنہیں آتے. تو وطن عزیز میں یہ انتشار وافتراق کسی بڑےحادثےکاباعث نہ بنیں