03/05/2026
موٹروے پر سفر کر رہا تھا تو ایک بھائی صاحب نے مجھ سے لفٹ مانگی۔ میں اکیلا جا رہا تھا، اس لیے میں نے انہیں لفٹ دے دی۔
ان کا نام خالد ہے اور وہ لاہور رنگ روڈ پر ڈیوٹی کرتے ہیں۔ بہت اچھے انسان ہیں، اور دورانِ سفر انہوں نے بہت خوبصورت باتیں کیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ موٹروے پر 100 کی سپیڈ تھوڑی کم ہے؟
خالد بھائی نے کہا: “بھائی، آپ کو سن کر عجیب لگے گا، لیکن میرا مشورہ ہے کہ اس کی سپیڈ 80 ہونی چاہیے۔”
میں حیران ہو گیا۔ میرے ذہن میں تھا کہ وہ کہیں گے کہ موٹروے کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا اگر اس پر بھی جی ٹی روڈ جیسی سپیڈ رکھنی ہے، لیکن وہ تو الٹی بات کر رہے تھے۔
خیر، میں نے وجہ پوچھی تو خالد بھائی نے بتایا:
“بھائی، میں یہ پیٹرول کی بچت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، یہ تو حکومت نے کیا ہے۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس سے ایکسیڈنٹ کی تعداد میں 70٪ تک کمی آئی ہے۔ گرمی کی وجہ سے ٹائر پھٹ جاتے تھے، اور اگر بس وغیرہ کا حادثہ ہو جائے تو کئی بار پوری بس کے مسافر جاں بحق ہو جاتے تھے۔”
انہوں نے ایک اور بات بتائی، جسے میں نے بعد میں کنفرم بھی کیا:
“ہر سال دہشت گردی یا دیگر وجوہات سے تقریباً 1000 سے 1500 لوگ جان سے جاتے ہیں، جبکہ حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 25,000 سے بھی زیادہ ہے، اور اگر زخمیوں کو شامل کریں تو یہ تعداد 1 لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔”
میں نے ان سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں ایک تصویر لے لوں۔ انہوں نے کہا: “بالکل، گاڑی روک کر لے لیں۔”
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس افسر کی سوچ کتنی اعلیٰ ہے۔ نہ کوئی اسے دیکھ رہا تھا، نہ کوئی تعریف کر رہا تھا، پھر بھی وہ نیک نیتی سے اپنا کام کر رہا ہے اور آگاہی پھیلا رہا ہے۔ ان کے الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں انسانی جان کی کتنی قدر ہے۔
پاکستان میں ایسے ایماندار لوگ بھی ہیں جو 40 ڈگری گرمی میں کھڑے ہو کر ہمارے لیے کام کرتے ہیں، وہ بھی پوری ایمانداری کے ساتھ۔
آپ اس سارے واقع سے مطعلق کیا سوچ رکھتے ہیں؟
copypaste