22/03/2024
سیرت حضرت زینب بنت محمدﷺ
حضرت زینب بنت محمدﷺ آپ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی تھی آپ رضی اللہ عنہا نہایت ہی نفیس اور بہادر أور صبر والی بیٹی تھی
آپؓ کا نکاح آپؓ کے خالہ زاد حضرت ابی العاص بن ربیع سے حضرت خدیجہؓ کی مرضی سے ہوا ۔
حضرت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نہایت ہی عزیز تھے
حضرت زینبؓ کا نکاح نبوت سے پہلے ہی ہوگیا تھا تاہم جب آپﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو حضرت زینبؓ نے اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا
جب آپؓ نے اسلام قبول کیا تو آپؓ کے شوہر تجارت کے لیے ملک سے باہر تھے جب انہیں پتہ چلا تو واپس لوٹے اور اپنی بیوی سے پتہ کیا کہ کیا وہ واقعی ہی اسلام قبول کر چکی ہے تو انہوں نے بتایا کہ بالکل وہ اپنے والد ﷺ کے دین کو قبول کر چکی ہے کیونکہ انکے والدﷺ حق کے دین پر ہے اگر وہ نہ ہوتے تو حضرت ابی العاص کے رشتہ دار حضرت زبیر بن عوام اور انکی خالہ حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ پر ایمان نہ لاتے
حضرت زینبؓ نے اسلام کے شروع میں بہت زیادہ مصیبتیں جھیلیں جب مکہ والوں نے بنو ھاشم کے لوگوں کے ساتھ مکمل باٸیکاٹ کرکے انہیں شعب ابی طالب پر قید رکھا تو آپؓ بھی اپنے والدﷺ والدہ اور بہنوں کے اور باقی مسلمانوں کے ساتھ اتنی ہی مصیبتوں میں رہی جتنی مصیبتوں میں باقی مسلمان تھے کیونکہ آپ اولین مسلمانوں میں سے تھی آپ قریش کے لوگ آپؓ کو چھوڑنے کی ڈیمانڈ حضرت ابی العاصؓ سے کرتے تھے اور بدلے میں انہیں جو بھی لڑکی پسند ہو ان سے نکاح کرنے پیش کش کرتے رہے مگر حضرت ابی العاصؓ نے آپؓ کو نہیں چھوڑا حالانکہ تب تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا
جب نبی ﷺ پر ہجرت کا حکم آیا تو آپﷺ اپنی بیویوںؓ بیٹیوں اور باقی ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کیطرف ہجرت کی تو حضرت زینب بنت محمدؓ نے اپنے شوہر کے ساتھ خواہش کی تو آپﷺ آپؓ کو مکہ ہی انکے شوہر چھوڑ گیے
لیکن جب غزوہ بدر میں جب کفار کیطرف سے حضرت ابی العاص قید ہو کر مدینہ لاۓ گے
جب حضرت زینبؓ بنت محمدﷺ کو یہ خبر ہوٸ کہ حضرت ابی العاص مسلمانوں کی قید میں ہے تو انہیں چھڑوانے کے لیے آپؓ نے اپنی والدہ کی نشانی جو کہ ایک ہار تھی جو آپؓ کو آپؓ کی والدہ نے آپ کو آپؓ کی شادی پر دیا تھا
وہ ہر جانے کے طور پر بعوز اپنے خاوند کی رہاٸ کے لیے بھیجا
جب وہ ہار آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ یہ حضرت أبی العاصؓ کی آزادی کے ان کی بیوی نے بھیجا ہے اور درخواست کی ہے کہ انکے پاس اسکے علاوہ دینے کو کچھ نہیں
آپﷺ نے حضرت ابی العاصؓ کو أپنے ساتھیوں کو یہ بتا کر آزاد کردیا کہ یہ انکی بیوی حضرت خدیجہؓ کی انکی بیٹی کو دی گی نشانی ہے تو آپ یہ یار انہیں واپس کردیں
اور شرط یہ رکھی کہ حضرت ابی العاصؓ مکہ پہنچتے ہی حضرت زینبؓ بنت محمدﷺ کو مدینہ بھیج دیں گے
حضرت ابی العاص چونکہ قول و قرار کے شرنف نفس انسان تھے انہوں آپﷺ کی بات من لی
حضرت محمدﷺ نے اپنے منہ بھولے بیٹے حضرت زید بن حارثؓ کو حضرت ابی العاصؓ کیساتھ بھیجا تاکہ وہ اپنی بہنؓ کو اپنے ساتھ لے آۓ
مکہ سے کچھ پہلے دیگستان میں حضرت ابی العاص نے انہیں روکدیا کہ وہ حضرت زینب بنت محمدﷺ کو کسی کے ساھ ادھر بھیج دیں گے
حضرت زید بن حارث انکی بات مانتے ہوے وہی ک گیے
حضرت ابی العاص مکہ پہنچ کر أپنے بھاٸ کنانہ بن لقیط جو کہ حضرت زینبؓ کے خالہ زاد کیساتھ روانہ کردیا
مگر جیسے ہی مکہ کے لوگوں و پتہ چلا کہ حضرت زینبؓ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے لگی ہے تو انہوں نے راستے میں محاصرہ کر کے گھیر لیا
مگر کنانہ بن لقیط نے کفار کا مقابلہ کیا قافلے کے سردار ابو سفیان نے کنانہ اے کہا کہ آپ انکو اسطرح بھیج دیں گے تو مکہ کہ سرداروں کی تضحیک ہوگی آپ اس طرح کریں کے آپ کچھ رک کر انہیں لوگوں کی نظر سے بچا کر بھجواٸیں
تاہم کنانہ بن لقیط نے ایسا ہی کیا اور کچھ دنوں بعد حضرت زینب بنت محمدﷺ کو حضرت زید بن حارٹؓ کیساتھ مدینہ بیج دیا
حضرت زینب مدینہ آکر حضرت سودہؒ کے ساتھ رہی کچھ عرصہ بعد حضرت ابی العاص تجارت کے سلسلے میں قافلے کیساتھ مدینے سے گزر رہے تھے کہ مسلمانوں نے قافلے کا محاصرہ کر کے سب کو قید کرلیا جن میں حضرت ابی العاصؓ بھی تھے
جب یہ خبر حضرت زینبؓ تک پہنچی توانہوں نے حضرت ابی العاص کا دفع کیا
تاہم حضرت ابی العاص نے حضرت محمدﷺ سے اجزت لی اور مکہ والوں کی امنتیں واپس کرکے مدینہ آکر اسلام قبول کرلیا
اور بعد میں حضرت ابی العاص ؓ کا نکاح آپﷺ نے دوبارہ حضرت زینب بنت محمدﷺ کردیا تاہم حضرت زینبؓ زیادہ دیر زندہ نہ رہی اور ٨ ہجری کو وصال کر گیی
آپؓ کے باطن سے دو اولاد ہوٸ امیامہ اور علی
امایمہ کا نکاح حضرت علی بن ابی طالبؓ سے حضرت فاطمہؓ کے وصال کی بعد وصیت فاطمہ کے مطابق ہوا
حضرت ابی العاصؓ جنگ یرموک میں شہید ہوے
دعا گو