30/08/2026
پریس ریلیز
30/8/2026
پاکستان مزدور کسان پارٹی میرپور آزاد کشمیر سے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (ماؤاسٹ) کے مرکزی صدر کامریڈ طاہر مجتبیٰ کی دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتاری اور 10 ستمبر تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی آوازوں کو دبانے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی ریاستی
روش کا تسلسل قرار دیتی ہے۔
پاکستان مزدور کسان پارٹی سمجھتی ہے کہ ایک شاعر، لکھاری اور سیاسی کارکن کو دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کرنا ریاستی جبر اور قانون کے سیاسی استعمال کی انتہا ہے۔ کامریڈ طاہر مجتبیٰ کا جرم یہ ہے کہ وہ سوال اٹھاتے ہیں، لکھتے ہیں، سوچتے ہیں اور کشمیری عوام کی عوامی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔
کامریڈ طاہر مجتبیٰ کی گرفتاری اور ان کے خلاف دائر مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری کی ترجیحات عوامی آوازوں اور عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کو کچلنا شامل ہے۔
لہٰذا پاکستان مزدور کسان پارٹی واضح کرتی ہے کہ اختلافِ رائے دہشت گردی نہیں، سوال اٹھانا جرم نہیں اور سیاسی مزاحمت کوئی دہشت گردی نہیں۔ ریاست اگر ہر اختلافی آواز کو مقدمات، گرفتاریوں اور ہتھکڑیوں سے خاموش کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف مزاحمت مزید مضبوط ہوگی۔
پاکستان مزدور کسان پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ کامریڈ طاہر مجتبیٰ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کیا جائے اور سیاسی کارکنوں، طلبہ اور لکھاریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
~پاکستان مزدور کسان پارٹی