19/10/2021
پیاسی حویلی
قسط 5
عنصر کو یونان سے واپس آئے آج دوسرا روز تھا۔ اماں نے ناشتہ تیار کر لیا تھا اس لیے وہ اُسے جگانے کیلئے آواز پہ آواز لگا رہی تھیں۔
”عنصر! عنصرپتر اُٹھ جا۔ ناشتا تیار ہے۔“ مگر اس پر خُمار طاری تھا۔
اچانک باہری دروازہ کھلنے اور ابا کے کھانسنے کی آواز سن کر عنصر پھرتی سے اٹھا اور غسل خانے میں جا گھسا۔ اسے ابا سے شروع سے ہی ڈر لگتا تھا مگر ڈر سے بھی زیادہ وہ اُن سے محبت کرتا تھا۔ عنصر کے ابا ماسٹر حمید گاﺅں کے واحد سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ سارا گاﺅں ان کی محنت اور ایمانداری کے گن گاتا۔ وہ ہمیشہ نصیحت آمیز لہجے میں بات کرتے اس لیے ان کی پورے گاﺅں میں عزت تھی۔ عنصر کی پوری کوشش تھی کہ وہ جلد سے جلد ہاتھ منہ دھو کر دسترخوان پر پہنچ جائے کیونکہ ماسٹرحمید نے ناشتا کر کے سکول چلے جانا تھا اور بعد میں اس کے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔ اس لیے وہ کوشش کر رہا تھا کہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔
اِس سے پہلے کہ اُن کے درمیان مزید بات چیت ہوتی ڈور بیل کی زوردار آواز نے مداخلت کر دی۔ ماسٹر حمید نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو پونے آٹھ بج رہے تھے۔ انہیں آٹھ بجے تک سکول جانا تھا اس لیے وہ سلام کر کے رخصت ہو گئے۔
عنصر نے باہر جا کر دیکھا تو ریاست کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر عنصر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ دونوں بچپن سے گہرے دوست تھے۔ وقت کا پہیہ گھوما، عنصر میٹرک کرنے کے بعد سترہ سال کی عمر میں گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سنہرے مستقبل کی امید لے کر یونان چلا گیا۔ وہاں جا کر اس نے پڑھائی مکمل کی اور نوکری بھی تلاش کر لی۔ اب وہ واپس آیا تو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کڑیل جوان بن چکا تھا۔ قدرت نے تجسس اس میں کوٹ کوٹ کا بھرا تھا۔
دوسری طرف موٹی تازی جسامت کے مالک ریاست نے گاﺅں کے اکلوتے بازار میں ہی پرچون کی دکان کھول لی۔ دس برس کے طویل عرصے کے بعد دونوں دوست ملے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ عنصر ریاست کو اندر لے گیا۔ چائے پینے کے دوران دونوں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہے۔ ریاست نے دکان پر جانا تھا اس لیے اس نے عنصر سے شام کو دوبارہ اُس کے گھر آنے کی ہامی بھری اور چلا گیا۔ عنصر نے بھی چونکہ شہر کسی کا سامان دینے جانا تھا اِس لیے اُس نے ریاست کے جاتے ہی رخت سفر باندھا اور گاﺅں کو الوداع کہہ دیا۔
سورج ڈُوبنے سے ذرا پہلے عنصر گھر واپس آیا تو اماں اُسی کی منتظر تھیں۔ تھکن سے چُور وہ صحن میں بچھی چارپائی پر ہی دراز ہو گیا۔ اماں اس کیلئے چائے کی پیالی بنا لائیں۔ ابھی وہ چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا کہ حسب وعدہ ریاست آ گیا۔ اماں چائے کی ایک اور پیالی لے آئیں۔ چائے کی چسکیاں لیتے دونوں باتیں کرنے لگے۔
باتوں باتوں میں ہی انھیں اپنا بچپن یاد آگیا ۔ کیا ہی شاندار دن تھے جب ہم وہاں کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ گاﺅں کی ایک ایک بات یاد ہے مجھے۔ نہر جہاں ہم نہایا کرتے تھے۔ بابے اللہ دتے کا باغ جہاں ہم چوری چھپے جا کر پھل کھایا کرتے تھے۔“
اماں اب تو میں فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ گاﺅں کا چپہ چپہ گھوموں گا اور جو شرارتیں میں بچپن میں کیا کرتا تھا وہ سب دوبارہ کروں گا۔ بڑی مدت کے بعد میں اپنے من کو آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ نہر میں نہانا تو میری سب سے بڑی خواہش ہے۔ بابے اللہ دتے کے باغ میں بھی جاﺅں گا اور وہ نیلی حویلی، گاﺅں کی سب سے خوبصورت جگہ۔ وہ تو یاد ہی نہیں رہی۔ وہاں بھی جاﺅں گا۔ وہاں کی فوٹوگرافی دیکھ کر لوگ یہی سمجھیں گے کہ شاید یہ یونان کی ہی کوئی قدیم جگہ ہے۔“
عنصر پُرجوش لہجے میں بولتا چلا گیا۔
”کیا.... نیلی حویلی ؟“
اماں اور ریاست کے منہ سے بیک وقت نکلا۔
نیلی حویلی کا نام سن کر دونوں چونک اٹھے اور مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے گھیر لی۔
”جی نیلی حویلی۔“
عنصر کو اُن کے بدلے ہوئے لہجے پر حیرانی ہوئی۔
”رات بہت ہو گئی ہے میرے لعل۔“ اماں نے سنجیدگی مگر پیار سے کہا۔
”اور ایسے وقت پر ایسی جگہوں کا نام نہیں لیتے۔“
”اماں ! میں اُس نیلی حویلی کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے گاﺅں میں ہے۔ گاﺅں کے سارے لوگ تو وہاں جاتے تھے اور خود میں بلکہ گاﺅں کے دوسرے بچے بھی وہاں جا کر دن بھر کھیلا کرتے تھے۔“
عنصر نے حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔
”وہ گزرے زمانے کی بات ہے بیٹا۔ اب وہاں کوئی نہیں جاتا۔ دس برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے گاﺅں میں پتر۔“
”کیوں اماں ؟ اب یہ مت کہہ دینا کہ وہاں بھوتوں اور چڑیلوں نے قبضہ کر لیا ہے۔“
عنصر نے ہنستے ہوئے سنجیدہ ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کی۔
ہائے میرے اللہ! میں نے ابھی منع کیا تھا کہ اس جگہ کا نام مت لینا۔ بس میں تمہیں کہے دیتی ہوں اس جگہ کا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا۔“
اماں نے اس بار قدرے سخت لہجے میں کہا۔
”جی اماں۔ جیسے آپ کہیں۔“
عنصر کو منع کرنے کی وجہ تو سمجھ نہ آئی لیکن اس نے اماں سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ریاست منہ کھولے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
”تم تو اپنا منہ بند کرو۔“
عنصر نے ریاست کو کہنی ماری۔ اس کی بات سن کر ریاست جھینپ گیا اور فوری منہ بند کر لیا۔
”میں اب چلتا ہوں عنصر۔“
ریاست اٹھ کھڑا ہوا۔ نیلی حویلی کے ذکر کے بعد ان کی گفتگو کی شیرینی یکسر غائب ہو چکی تھی۔ اسے محسوس ہوا اب گھر جانا ہی بہتر ہے۔
”تمہاری بھابی میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ رات کا کھانا ہم اکٹھے ہی کھاتے ہیںاس لیے مجھے اب دو اجازت .... اللہ حافظ۔“
ریاست دروازے کی سمت بڑھا تو عنصر بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر ریاست ہاتھ ملانے کے لیے پیچھے مڑا تو عنصر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
”رات کا کھانا کھا کر میں تمہاری طرف آﺅں گا۔“
عنصر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو ریاست اس کی جانب دیکھنے لگا۔
”اور ہم نیلی حویلی کی طرف جائیں گے۔“
عنصر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھر آئی۔
”کیا کہہ رہے ہو؟ ....نیلی حویلی کی طرف؟“
ریاست بے اختیار بولا۔
”آواز دھیمی رکھ۔“
عنصر نے آہستگی سے کہا۔
”میں بھی دیکھوں وہاں کون سے بھوت پریت ہیں۔ رات کو تیار رہنا۔“
ریاست نے بے بسی سے عنصر کی طرف دیکھا۔
وہ جانتا تھا عنصر کی گھٹی میں یہ بات بندھی ہے جس کام کو ایک بار کرنے کی وہ ٹھان لے اسے کر کے ہی دَم لیتا ہے۔ دس برس پہلے اسی ضدی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تو وہ سب کی مخالفت کے باوجود یونان گیا تھا۔
عنصر دروازہ بند کر کے مڑا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ماسٹر حمید تھے۔ وہ مغرب کی نماز پڑھ کے گھر لوٹے تھے۔ دونوں میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔
”عنصر نے اپنے کمرے میں جا کر احتیاطاً پینٹ کی جیب میں ٹارچ ڈالی۔ آہستگی سے دروازہ بند کیا اور ریاست کی طرف چل پڑا۔۔۔
عنصر نے ریاست کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس کے دونوں پٹ کھلتے چلے گئے۔ ریاست اُس کا بے تابی سے منتظر تھا۔
”یار اس منحوس جگہ کی طرف جانے کا خیال دل سے نکال دے۔ اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کر۔ میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔“
اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
”پریشان کیوں ہو رہا ہے یار۔ ہم بچوں کو ساتھ لے کر نہیں جا رہے۔“
”گھبراﺅ مت ڈیئر۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ “
”میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی مصیبت چھو بھی نہیں سکتی۔“
ریاست نے دروازہ بند کیا اور دونوں چل پڑے۔ عشا کی نماز ہوتے ہی گاﺅں کی گلیوں میں سناٹا چھا گیا تھا۔ کبھی کبھار اِکادُکا شخص نظر آ جاتا۔ راستے میں ریاست نے عنصر کو وارث اور اکرم کی موت کا قصہ سنایا۔ نیلی حویلی سے جڑے تمام واقعات وہ بڑی تفصیل سے بتاتا جا رہا تھا۔ عنصر بڑے غور سے ریاست کی باتیں سن رہا تھا، اس کا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ اس کا گاﺅں بہت خوشحال ہوا کرتا تھا اور چوپالوں میں رات گئے تک خاصی رونق لگی رہتی تھی مگر اب تو جیسے کسی کی بری نظر سب رونقوں کو کھا گئی تھی۔ اس کے لیے یہ سب باتیں بہت حیران کن تھیں کیونکہ اس کے یونان جانے سے پہلے ایسا کچھ نہیں تھا۔ جب وہ چھوٹا تھا تو اکثر اپنی اماں کے ساتھ نیلی حویلی جایا کرتا تھا۔
دونوں دوست اپنی ہی باتوں میں مگن جا رہے تھے حتیٰ کہ گاﺅں سے نکلنے کیلئے آخری گلی رہ گئی۔ گلی میں خاصا اندھیرا تھا۔
آخری گلی طے کرنے کے بعد اب وہ گائوں کی آبادی سے باہر آ چکے تھے۔ چوہدری عمردراز کی عالیشان حویلی ان کے سامنے تھی اور اس سے آگے تاحدنگاہ پھیلے کھیتوں کا دراز سلسلہ۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھا اور چل پڑے۔ چوہدری عمردراز کی حویلی کے سامنے گزرے تو گیٹ بند کرتے ہوئے حویلی کے ملازم کی نظر اُن پر پڑگئی۔ وہ حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگا کیونکہ عموماً رات کے وقت کھیتوں کی طرف جانے کی کوئی بھی ہمت نہیں کرتا تھا۔ اوپر سے اکرم اور وارث کے ہولناک واقعے کو بھی ابھی بمشکل دو روز گزرے تھے اس لیے اس کی حیرانی بجا تھا۔
بڑی بڑی مونچھوں والا ہٹاکٹا درازقد وہ شخص چوہدری عمردراز کا خاص ملازم ماکھا تھا۔ اس کا داہنا کان ایسے نظر آ رہا تھا جیسے کسی نے اس کو بری طرح چبا ڈالا ہو۔ ریاست کو تو وہ جانتا تھا البتہ عنصر اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال ریاست نے اسے بتایا کہ عنصر ماسٹر حمید کا بیٹا ہے تو وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔ پھر اس نے ان کی اس طرف آمد کی وجہ پوچھی تو ریاست نے اسے بتایا کہ ہم چہل قدمی کیلئے نکلے ہیں۔
”یہ کون سا وقت اور جگہ ہے سیر کیلئے؟“
اس نے حیرانی مگر قدرے کرختگی سے پوچھا۔
ریاست سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ بالآخر عنصر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”جناب ہم کچھ دُور جا کر واپس آ جائیں گے۔ گاﺅں میں کافی دیر بعد واپسی ہوئی ہے اس لیے کھانا ہضم کرنے کھیتوں کی طرف جا رہے ہیں۔“
ہٹے کٹے ملازم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ اسے گھور کر دیکھا جیسے نظروں ہی نظروں میں کھا جائے گا اور پھر دھڑام سے دروازہ بند کر دیا۔ غالباً اسے اُن دونوں کا رات کے اس وقت اس طرف آنا ناگوار گزرا تھا۔
چوہدری عمردراز کی حویلی سے روشنی نکل کر آس پاس کے مناظر کو منور کیے ہوئے تھی۔ دونوں نے کھیتوں کی طرف ابھی چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ چوہدری عمردراز کی حویلی مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب چکی تھی۔
”لگتا ہے چوہدری صاحب کا ملازم ناراض ہو گیا ہے۔ چوہدری صاحب کو پتا لگ گیا تو وہ بھی ناراض ہوں گے۔ واپس چلتے ہیں یار۔ “
ریاست نے عنصر کو منانے کی آخری کوشش کی۔
”مجھے کسی کے ناراض ہونے کی پروا نہیں۔“
عنصر نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔
” ویسے بھی میرے پاس لائٹ کا انتظام ہے۔ ہو ہاہاہاہاہا“
عنصر نے بھوتوں کی طرح قہقہہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا اور جیب سے ٹارچ نکال کر روشن کر دی۔
”تم مجھے ڈرا کیوں رہے ہو؟“
ریاست نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
”میں صرف تمہارا ڈر بھگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔“
عنصر نے مسکرا کر کہا۔
”بھوت پریت قصے کہانیوں میں اچھے لگتے ہیں۔ “
ریاست کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ عنصر نے ٹارچ مضبوطی سے تھامی اور نیلی حویلی کی طرف جانے والی پگڈنڈی پر قدم جما دیے۔ ریاست کو بھی مجبوراً اس کی تقلید کرنا پڑی۔ ٹارچ کی روشنی میں دونوں دوست فاصلہ طے کرنے لگے۔ تقریباً پانچ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد بالآخر وہ اس چوکی تک پہنچ گئے جو چوہدری عمردراز نے نیلی حویلی سے کچھ فاصلے پر بنوائی تھی تاکہ یہاں تعینات گارڈ لوگوں کو اس طرف آنے سے روکیں مگر چوکی خالی تھی اور وہاں کوئی ملازم نظر نہیں آ رہا تھا۔
”یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ کہاں گئے چوہدری عمردراز کے ملازم؟“
عنصر نے ریاست سے پوچھا تو اس نے کندھے اچکا دیے کیونکہ اس سوال کا جواب بھلا وہ کیسے دے سکتا تھا۔ عنصر نے ٹارچ کی روشنی تاریک نیلی حویلی پر ڈالی۔ دُور سے وہ کسی سیاہ ہیولے کی مانند نظر آ رہی تھی۔ غیرارادی طور پر اس نے نیلی حویلی کی طرف قدم اٹھا دیے۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتا ریاست اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔
”ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ نیلی حویلی کو دور سے ہی دیکھ کر واپس لوٹ جائیں گے۔“
ریاست نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔
”مجھے یاد ہے لیکن اسے ایک نظر دیکھ تو لینے دو۔“
یہ کہہ کر عنصر نے ریاست کو نظرانداز کر دیا اور آگے بڑھتا رہا۔ مجبوراً ریاست کو بھی ساتھ چلنا پڑا۔ وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔ نیلی حویلی ان سے کچھ فاصلے پر رہ گئی۔ دونوں آگے بڑھ رہے تھے کہ معاً ایک آواز سن کر انہیں رکنا پڑا۔
وقفے وقفے سے فضا میں گھنگھرﺅں کی آواز تحلیل ہو رہی تھی۔
”چھن چھن....چھن چھن چھن....چھن چھن۔“
ریاست نے خوف کے مارے فوراً عنصر کا ہاتھ تھام لیا۔
”مم.... مم.... میں نے تمہیں منع کیا تھا ناں۔ لگتا ہے ہم بدروحوں کے علاقے میں آ گئے ہیں۔“
ریاست نے سخت گھبرائی آواز میں کہا۔
اگرچہ نئے مہینے کا چاند پیدا ہو چکا تھا لیکن ابھی وہ اس قابل نہیں تھا کہ رونمائی کرا سکے اس لیے ہر طرف تاریکی کا راج تھا۔ گھنگھرﺅں کی آواز پہلے ایک سمت سے سنائی دے رہی تھی پھر وقفے وقفے سے چاروں سمتوں سے آنے لگی مگر انہیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
چونکہ ساون کا مہینہ تھا اس لیے حبس بھی خوب تھا۔ اوپر سے ایسے ڈراو¿نے ماحول کی موجودگی سے ریاست پسینے میں ڈوب گیا۔ وہ زیرلب آیت الکرسی پڑھ رہا تھا لیکن خوف کا عالم یہ تھا کہ اس کی آواز کبھی تیز ہو جاتی اور کبھی بالکل آہستہ۔
گھنگھرﺅں کی آواز مسلسل وقفے وقفے سے فضا میں تحلیل ہو رہی تھی۔
”چھن چھن....چھن چھن چھن....چھن چھن۔“
عنصر نے ٹارچ کو چاروں طرف گھما کر اچھی طرح دیکھ لیا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ گھنگھرو¿ں کی آواز چاروں طرف سے آ رہی ہے تو انہیں پہننے والا نظر کیوں نہیں آ رہا۔ چند لمحے وہ ادھر ادھر ٹارچ گھماتا رہا لیکن لاحاصل۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گردوبیش کے ماحول کی پراسراریت نے اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
”میں کہتا ہوں اب بھی وقت ہے بھاگ چلتے ہیں۔“
ریاست نے بیٹھی بیٹھی آواز میں کہا تو عنصر فوراً راضی ہو گیا۔ اس صورتحال میں بھلا وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور واپس چل پڑے۔
پگڈنڈی پر واپسی کی راہ اختیار کرتے چند قدم ہی طے کیے تھے کہ انہیں محسوس ہوا جیسے دائیں جانب کھیتوں میں سفید کپڑوں میں ملبوس کھڑا کوئی انہیں گھور رہا ہے۔ عنصر نے ٹارچ فوراً ادھر کی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد انہیں محسوس ہوا جیسے ان کے بائیں جانب موجود کھیتوں میں بھی سفید کپڑوں میں ملبوس کوئی انہیں گھور رہا ہے۔
ریاست نے عنصر کو ادھر ادھر دیکھنے سے منع کر دیا۔ اس کے ذہن میں لوگوں کی یہ باتیں گھوم رہی تھیں کہ اگر ایسی مخلوق کو جتنی اہمیت دی جائے یہ اتنا ہی تنگ کرتی ہیں۔ اگر انہیں نظرانداز کر دیا جائے تو یہ جلد ہی پیچھا چھوڑ دیتی ہیں۔ عنصر نے بھی اس کے مشورے پر عمل کرنے میں غنیمت جانی اور دونوں تیزتیز قدموں سے سیدھے چلتے رہے لیکن مصیبت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اسی عالم میں ان پر ایک اور افتاد نازل ہو گئی۔
اچانک انہیں محسوس ہوا جیسے گھنگھرو باندھے کوئی بڑی تیزی سے ان کے پیچھے آ رہا ہے۔ وہ پہلے ہی بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ اس صورتحال سے ان کی دل کی دھڑکنیں بالکل ہی بے ترتیب ہو گئیں۔ جوں جوں آواز گھنگھرو¿ں کی آواز ان کے قریب آتی جا رہی تھی توں توں ان کا خون خشک ہوتا جا رہا تھا۔ حتی کہ آواز اتنے قریب سے آنے لگی کہ مجبوراً عنصر کو رک کر پیچھے دیکھنا پڑا لیکن خالی پگڈنڈی دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ گھبراہٹ سے دونوں بری طرح پسینے میں نہا چکے تھے۔ جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ سامنے کا منظر کسی بھی کمزور دل انسان کی رُوح پرواز کرنے کیلئے کافی تھا۔
اُن کے سامنے سیاہ لباس میں ملبوس ایک ہیولا کھڑا تھا جس کے لمبے لمبے بال اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ چہرہ ان کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ بالوں سے خون کے سرخ سرخ قطرے ٹپک رہے تھے اور وہ بالکل ساکت کھڑا تھا۔ گھنگھرو اسی نے باندھ رکھے تھے۔ عنصر کو چکر آ گیا۔ ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بیہوش ہو کر زمین پر گرنے سے پہلے اس کے کانوں میں پڑنے والی آخری آواز ریاست کی دلدوز چیخ تھی۔
(جاری ہے) ۔۔
دوستو یہاں تک پڑھ کر بتائیں کہانی کیسی لگی ۔۔دوستو کمینٹ لازمی کریں تاکہ آپ کو کمنٹس میں اگلی قسط کا لنک دیا جا سکے ۔۔۔
نوٹ
آنے والی ہر نئی قسط کا لنک پچھلی قسط کے کمنٹ سیکشن میں سینڈ کر دیا جائے گا ۔۔۔اور اگر پھر بھی کسی کو اگلی قسط نہیں ملتی تو میری کسی بھی پوسٹ پر کمنٹ یا میسج کر کے مجھ سے اگلی قسط کا لنک مانگ سکتا ہے ۔۔۔یا پھر آپ ایسا کریں کہ مجھے فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کر دیں اس طرح جب بھی میں گروپ میں کوئی پوسٹ اپلوڈ کروں گى تو آپ کو نوٹیفیکیشن مل جایا کرے گا ۔۔۔۔نوٹ ۔۔آنے والی ہر نئی قسط کے آخر میں پچھلی تمام اقساط کا لنک دیا جائے گا تاکہ اگر آپ سے کوئی قسط رہ جاتی ہے تو آپ کو پڑھنے میں آسانی ہو ۔۔