15/08/2021
کئ ملکوں کی فوج
ڈالروں کی برسات
اسلحے کے انبار
جدید جنگی طیارے
ٹینک
توپیں
دوسری جانب فقط
ایک ہی نعرہ
اللہ اکبر
اور اس نعرے نے افغانستان فتح کر لیا
وہ جنھوں نے ہمیں پتھروں کے دور میں دھکیلنا تھا
وہ اپنی بقا کی جنگ لڑتے افغانستان سے فرار ہو گئے
جنھوں نے پاکستان سے اٹک تک کا علاقہ چھیننا تھا وہ محلات سے فرار ہو کر دوسرے ملکوں میں دوسرے درجے کے پناہ گزین بن چکے
جو سقوط ڈھاکہ کی تصاویر ٹویٹ کرتے تھے وہ طال بان سے معافی نامے حاصل کرنے کے لیے پتلونیں گھروں میں چھوڑ کر ٹخنوں سے اونچی شلواریں باندھے لائن میں لگے کھڑے ہیں
انڈیا کی پاکستان مخالف اربوں روپے کی انوسٹمنٹ ڈوب چکی
این ڈی ایس اور را کی دہشت گردی کی تربیت گاہیں اجڑ گئ
پی ٹی ایم یتیم ہو گئ
بھارت کی فنڈنگ یافتہ بلوچ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مستقبل کے لیے بھارت کی جانب دیکھ رہی ہیں
یہ یتیمی نئ نہیں ننگ وطن یونہی در بدر رہے ہیں اور بالآخر ریاست نے ہی انھیں سینے سے لگایا
یہی صورت حال 5 دہائیاں قبل بھی تھی
1970 کا دور تھا جب روس اور بھارت نے بلوچستان میں شورش کو ہوا دینے کے لیے افغانستان میں خصوصی کیمپ اور تربیت گاہیں بنائی
یہ سرد جنگ کے وہ دن تھے ، جب روس افغانستان پر قابض تھا،
روس کی بدنام زمانہ انٹیلیجنس ایجنسی KGB نے افغانستان کی ایجنسی KAM کو KHAD کے نام سے ری بلڈ کیا اور بھارت کی مدد سے پاکستان مخالف تحریکوں کی سرپرستی شروع کی
بھارت بنگلہ دیش طرز پہ پشتونستان اور گریٹر بلوچستان بنانے کے لیے ان علیحدگی پسند تحریکوں کی سرپرستی کر رہا تھا جبکہ روس کا مقصد ان کے زریعے گرم پانی تک رسائی حاصل کرنا تھا
پاکستان میں نیپ NAP اس شورش کی جڑ تھی
نیپ کے دونوں رہنما اجمل خٹک اور خیر بخش مری ، افغانستان میں مقیم تھے۔
اجمل خٹک پشتونستان مہم کی قیادت کر رہے تھے اور خیر بخش مری گریٹر بلوچستان مہم کی۔
لڑائی میں مدد کے لئے دونوں سرحد پار سے رقم اور اسلحہ بھیج رہے تھے
نیپ کے ممبر نواب اکبر بگٹی نے 1973 میں پاکستان مخالف پلان کو "لندن پلان" کے نام سے بے نقاب کیا۔
چنانچہ بھٹو کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی ،اور اکبر بگٹی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کر دیا گیا تاکہ وہ شورش پر قابو پائیں ۔
ادھر پاکستان میں بھٹو حکومت کا نیپ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری تھا تو دوسری جانب اس دوران افغانستان سے روس بیدخل ہو گیا اور گریٹر بلوچستان اور پشتونستان کی پیڈ تحریکیں اپنی موت آپ مر گئ
(قریباً آج والی صورتحال)
ناامیدی اور رسوائی کے مختلف مراحل میں طے کرنے کے بعد ، عطا اللہ مینگل ، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک سبھی واپس پاکستان لوٹ آئے ریاست ان غداروں کے لیے حقیقی ماں ہی ثابت ہوئی ان کی تمام تر وطن فروشی کے باوجود انھیں قومی سیاست کے دائرے میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا
لیکن گریٹر بلوچستان کو افغانستان سے لیڈ کرنے والا خیر بخش مری اپنے خاندان سمیت افغانستان میں مجاہدین کے گھیرے میں آ گیا
جون 92 میں ،مجاہدین نے خیر بخش مری کے دہشت گردی کے کیمپوں کا گھیراؤ کیا اور خیر بخش مری اور اس کے بیٹوں کو افغانستان میں سوویت کے کٹھ پتلی قرار دیکر عمائدین سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ،
پاکستان میں جب یہ اطلاع حکومت پاکستان تک پہنچی تو صدر غلام اسحاق خان ، وزیر اعظم نواز شریف ، اور وزیراعلیٰ بلوچستان تاج محمد جمالی نے ان غداروں کو بچانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا
نواز شریف حکومت نے خیر بخش مری اور اس کے خاندان کو گھیرنے والی افغان فورسز کے ساتھ بات چیت کی اور 60 کروڑ روپے کے عوض ان کے لئے محفوظ راستہ حاصل کیا۔
پاکستان نے خیر بخش مری کے اہل خانہ کو لانے کے لئے پاک آرمی کے دو سی -130 بھیج دیئے ۔
جیسے ہی خیر بخش مری اور ان کے بیٹے مہران مری ، ہربیار مری ، بالاچ مری سمیت ، اہل خانہ اور معاون کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے ،
ان میں سے چند نوجوان ایئر پورٹ کی چھت پر چڑھے اور انھوں نے پاکستان کا جھنڈا اتار کر بی ایس او کا پرچم لہرا دیا
آج ان واقعات پہ دہائیوں کی گرد جم چکی ہے لیکن تاریخ کا پہیہ گھوم کر پھر اسی نقطے پہ آن کھڑا ہے
دیکھتے ہیں وقت کیا دکھلاتا ہے
آئندہ حالات جو بھی ہوں افغان فوج کی بزدلی اور افغان حکومت کی پاکستان کے خلاف ریشہ دیوانیاں تاریخ کا حصہ رہیں گی اور تاریخ ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ پاکستان نے تمام تر ریشہ دیوانیوں اور کثیر الملکی سازشوں کے باوجود اپنے ملک کی سرحدوں کو ناقابل تسخیر رکھا آج ہم محفوظ ہیں
اپنی زندگیاں اپنی مرضی سے گزارنے کے لیے آزاد ہیں تو صرف ایک مضبوط فوج کی وجہ سے
ناقابل تسخیر سرحدوں کی وجہ سے.
الحمداللہ