Hidde Chapter Of Life

Hidde Chapter Of Life Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hidde Chapter Of Life, Lahore.

Hidden Chapter of Life – Real court stories, deep emotions, unseen truths.
📖 ہر مقدمہ ایک چھپی داستان، ایک زخمی آواز۔
🎥 Courtroom tales | ⚖️ Justice struggles | 💔 Human pain behind every file.

01/10/2025

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی دفعہ سو سال کی سزا۔

اپنے کی گھر والوں کو قتل کرنے والہ انجام کو پہنچ گیا
#پاکستان

22/07/2025

ظالم دوست نے دوست کو مار کر تزاب کے ڈرم میں گلا دیا اور ایک معصوم جان نگل لی! شباز تتلہ کیس

— سچ کیا ہے؟ جھوٹ کہاں ہے؟ مکمل حقیقت، میرے وی لاگ میں!"
📺 ویڈیو دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ انصاف ہوا یا مٹی میں دفن ہو گیا...


20/07/2025

"شیتل کا جملہ — جو پوری غیرت کے نظام پر بھاری پڑا"
کافرستان کی مٹی آج بھی سوگ میں ہے۔
آج بھی وہاں ہوا بوجھل ہے، پہاڑ شرمندہ ہیں، اور دریا خاموش۔
کیونکہ زرک اور شیتل کو قتل کیا گیا —
نہیں… وہ صرف مارے نہیں گئے،
انہیں محبت کرنے کی سزا دی گئی۔
انہیں اپنی مرضی سے جینے کی سزا دی گئی۔

شیتل نے بندوقوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہا:
> "صرف سُم ئنا اجازت اے نمے"
(صرف گولی مارنے کی اجازت ہے)

سوچو!
کیسی لڑکی ہوگی وہ؟
کتنی سادہ، کتنی سچی،
جس نے محبت کے لیے جان دی، مگر جھکی نہیں۔
جو تنہا تھی، مگر ڈری نہیں۔
اس کے سامنے بندوقیں تھیں، مرد تھے، سردار تھے، فیصلے تھے…
مگر اس کا سینہ کھلا تھا، نظریں بلند تھیں، اور آواز صاف تھی۔
💔 یہ صرف ایک واقعہ نہیں — ایک جنازہ ہے ہماری غیرت کا
وہ لوگ جو خود کو عزت دار کہتے ہیں،
جن کے ہاتھ میں بندوقیں ہیں اور دل میں نفرت…
وہ ایک معصوم لڑکی سے ہار گئے۔
زرک کے ہاتھ پہلے ہی باندھ دیے گئے تھے،
اور شیتل کو ایک ہجوم کے سامنے چھوڑ دیا گیا —
نہ کوئی رحم، نہ کوئی شرم، نہ کوئی انصاف۔
مگر شیتل کی آواز نے،
ان کے پورے نظام کو لرزا دیا۔

یہ اعداد نہیں، انسانوں کی قبریں ہیں

2024 میں پاکستان میں 385 غیرت کے نام پر قتل رپورٹ ہوئے۔
ان میں سے 90% سے زائد خواتین تھیں۔
بلوچستان اور سندھ میں سرداری فیصلے، جرگے، ٹکری، اور قبائلی انا عورتوں کی جان لیتے ہیں۔
اور حکومت؟
خاموش۔
نظام؟
غیر حاضر۔
معاشرہ؟
تماشائی۔

ہم چیخ کر کہنا چاہتے ہیں:
> زرک اور شیتل مجرم نہیں تھے —
وہ آزاد انسان تھے۔
انہوں نے صرف "محبت" کی،
جس کا حق اللہ نے دیا، مگر انسان چھین لیتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں:
1. زرک اور شیتل کے قاتلوں کو دہشتگرد قرار دے کر مقدمہ چلایا جائے۔
2. سرداری نظام، ٹکری، جرگے — یہ سب غیر آئینی اور غیر انسانی نظام ختم کیے جائیں۔

3. زرک اور شیتل کے نام پر جرات، محبت اور انسانی آزادی کا دن منایا جائے۔

4. اسکولوں میں "محبت، برداشت، اور انسانیت" کی تعلیم دی جائے — کیونکہ نفرت کے ہتھیار اب بہت ہو چکے۔
خراجِ عقیدت
شیتل… تم شاید ہمارے درمیان نہ ہو،
مگر تمہاری آواز اب صدیوں تک گونجے گی۔
زرک… تم بےبس تھے، مگر محبت تمہارے ساتھ تھی،
اور محبت کبھی شکست نہیں کھاتی۔
> محبت کو مارا جا سکتا ہے، مگر دفن نہیں کیا جا سکتا۔
یہ پھر جنم لے گی — ہر زرک میں، ہر شیتل میں۔

ہماری آواز، ہمارا وعدہ:

ہم شیتل کے اس جملے کو صرف لفظ نہیں مانتے —
یہ ہمارا منشور ہے:
"صرف گولی مارنے کی اجازت ہے" —
یعنی جھکنا نہیں، ڈرنا نہیں، رکنا نہیں۔



ُم_ئنا_اجازت_اے_نمے



  اسپیکر پنجاب اسمبلی کا متکبرانہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے...
01/07/2025


اسپیکر پنجاب اسمبلی کا متکبرانہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر، ممتاز عالم دین اور چنیوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر چار بار منتخب ہونے والے رکنِ اسمبلی مولانا الیاس چنیوٹی سے اس انداز میں ملاقات کی کہ کھڑے ہونا بھی گوارا نہ کیا، بلکہ دائیں ہاتھ میں سے سیگریٹ چھوڑنے کی بھی زحمت نہ کی۔ اگر وہ اپنی ہی جماعت کے سینئر ترین رکن کو عزت دینا مناسب نہیں سمجھتے تو نہ دیں، لیکن کم از کم ایک بزرگ اور عالم دین کے احترام میں کھڑے ہونا ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا بنیادی تقاضا تھا۔
جو "فیملی ولاگنگ" کے نام پر معاشرے میں بیہودگی اور فحاشی پھیلانے والے یوٹیوبر رجب بٹ کو نہ صرف اسمبلی میں مدعو کر چکے ہیں، بلکہ سرکاری دفتر میں کھڑے ہو کر اسے عزت و احترام کے ساتھ شیلڈ بھی پیش کر چکے ہیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں حقیقی علمی، دینی اور نظریاتی شخصیات کی توقیر دن بہ دن کم ہو رہی ہے، جبکہ لغویات اور سطحی شہرت کے حامل افراد کو پذیرائی مل رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف معاشرتی اقدار کی پامالی ہے، بلکہ سیاسی زوال کی بھی ایک علامت ہے۔
(م ن ق و ل)

یومِ تکبیر 28 مئی 1998وہ دن جب چاغی کے پہاڑوں نے تکبیر کی صدا سنی 🇵🇰دن تھا بدھ، 28 مئی 1998، وقت تھا دوپہر 3:16بلوچستان ...
28/05/2025

یومِ تکبیر 28 مئی 1998
وہ دن جب چاغی کے پہاڑوں نے تکبیر کی صدا سنی 🇵🇰

دن تھا بدھ، 28 مئی 1998، وقت تھا دوپہر 3:16
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اچانک زمین لرز اٹھی، اور آسمان پر سنہری گرد کی چادر چھا گئی۔
یہ محض مٹی کا طوفان نہ تھا،
یہ پاکستان کی خودمختاری کا اعلان،
دشمن کو منہ توڑ جواب،
اور ایک ایٹمی قوم کے جنم کی صدا تھی۔

یہ سب ممکن ہوا ایک عظیم سائنسدان کے خواب، محنت اور وژن سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان،
وہ نام جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔
جن کی قیادت میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں دن رات محنت کر کے دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا گیا۔
جنھوں نے دنیا کو باور کروا دیا کہ "پاکستان کسی سے کم نہیں!"

بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے چھ دھماکے کر کے دشمن کو واضح پیغام دیا:

"ہم امن چاہتے ہیں، لیکن دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں!"



Secretary information Punjab HYV
Mehar M Hamza

Address

Lahore

Telephone

+923014568123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hidde Chapter Of Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Hidde Chapter Of Life:

Share