02/09/2026
💣💣 Don't copy paste without my permission 📌
(season 3 of BL) reposted 🔥
By
Episode.….3. 3rd generation ❤️🌹
اگلا دن بہت روشن تھا۔ مگر اپنے سینے میں کئی طرح کے طوفان چھپا کر لایا تھا۔
وہ سکول یونیفارم میں پونیاں جھلاتی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی جب ارشن اپنے کمرے سے نکل کر اس کے پیچھے بھاگا۔
دیا ،،، دیا ویٹ فور می،،، ارشن نے اسے پکارا۔ فلزہ کو ارشن کی رونی شکل دیکھ ہنسی چھوٹ گئی۔ مگر دیا لاپرواہی سے آگے بڑھتی رہی۔ صدا کی بزدل اور ڈرپوک دیا دنیا میں صرف ارشن ماہ بیر حفیظ کو ہی تو اکڑ دکھا سکتی تھی۔ جو اس کے ناز نخرے بڑے چاؤ سے اٹھاتا تھا۔
ارشن میں کچی ہوں تم سے اب سچی نہیں ہونے والی ،، بات نہیں کرو مجھ سے،،
وہ سچ میں ہی بہت ناراض ہو گئی تھی تبھی منہ پھلا کر بولی اور ٹک ٹک کرتی جا کر منی کی گود میں چڑھ گئی۔
زخم کافی مندمل ہو چکا تھا۔
ارشن اس کے پیچھے ہی لپکا تھا مگر وہ آج اسے لفٹ دینے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی۔
احان اپنے شو لیس بند کر رہا تھا۔ جب علیزے بھی یونیفارم میں باہر نکلی۔
احان کل بھی فلزہ تمھارے ساتھ بیٹھی تھی گاڑی میں،، آج میں بیٹھوں گی،، امن فلزہ کے پاس بیٹھ جائے گا،،
علیزے جھنجھلا کر بولی۔
کیا ہے یار علیزے،، ہم سارے ایک ہی گاڑی میں تو بیٹھتے ہیں تو یہ کیا مقابلہ ہے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھے گا اور تمھارے ساتھ کون،، تم لوگ پتہ نہیں کب بڑے ہوگے،،،
وہ بڑوں کی طرح عاجز آ کر بولا تھا۔
اتنے میں ہی خضر بلکل تیار جو کے اب مونٹیسوری جانے لگا تھا علیزے کو دیکھ کر اس کی ٹانگ سے لپٹ گیا۔
میں بھی آپ کے سکول جاؤں گا آپ کے ساتھ علیزے،،،
اس کی فرمائش پر علیزے نے اپنا ماتھا پیٹا۔ مطلب آج وہ پھر اچھی طرح رو رو کر اپنا بھونپو سنا کر ہی ان کو سکول جانے دے گا۔
بڑی مما،، خضر کو پکڑیں ہمیں سکول سے دیر ہو رہی ہے،،،
اس نے بلند آواز میں کہا اور احان کے پیچھے ہی بیگ اٹھا کر لپکی۔
پیچھے خضر نے بلند آواز میں چنگھاڑنا شروع کر دیا تھا۔
وہ سب گاڑی میں بیٹھے۔ آج گاڑی میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ ارشن بار بار احان، فلزہ اور علیزے کو اشارے کرتا رہا کے ان کی صلح کرا دے۔
مگر دیا کے آج غیر معمولی خراب موڈ کو دیکھ سب نے ہی کندھے آچکا دئیے۔
جلد ہی وہ سکول پہنچے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بہت بڑی سی ٹیبل کے اوپر لیزر لائٹ سے ایک بہت بڑے سکول کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ اس رنگین نقشے میں بعض جگہوں کو سرخ لیزر لائٹ سے ہائی لائٹ کیا گیا تھا۔
یہ سکول ہے اور اس پر میں ان تمام بچوں کی ایک ایک سیکنڈ کی ڈیٹیل موجود ہے کہ وہ کب کس وقت کونسی کلاس روم میں موجود ہوتے ہیں،، برسوں کی محنت ہے،، ان دو بچیوں میں سے ایک بہت چالاک اور بہادر ہے،، جبکہ دوسری بہت ڈرپوک اور بزدل،، اور خان شمشان خیل کا حکم دوسری والی کو لانے کا ہے،،
حشمت راؤ نے مہارانی کے خاص بندوں کو سمجھانا شروع کیا تھا۔
یہ کام آج ہی ہو جانا چاہیے،، یہ کلاس روم ہے،، بریک کے بعد بچی اسی کلاس روم میں ہوگی،، سکول میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگے گی جو کہ ہمارا خاص بندہ جو اسی سکول میں ایک استاد کی حیثیت سے موجود وہ لگائے گا،، وہی بچوں کو اس کوریڈور تک آنے پر مجبور کر دے گا،، اس کے سامنے واش رومز ہیں،، ان واش رومز کے ایک واش روم میں زیر زمین کئی سالوں کی محنت سے ایک راہ داری بنائی گئی ہے،، ہمارا کارندہ بچی کو واش روم دھکیلے گا،، تم۔لوگ بچی کو بیہوش کر کے راہداری میں سے نکل آنا،، راہدری سکول کے پیچھے بنے کوارٹرز میں سے ایک کوارٹر کے اندر کھلتی ہے،،،، بچی سکول کے اندر سے ہی غائب ہوگی،، کیونکہ باہر سے لے کر اپنے پیلس تک وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مکمل نگرانی رکھتے ہیں سکول کی،، غائب ہونے کے بعد ہمارے آدمی اس فرش کو ویسے ہی بنا دیں گے جیسے وہ پہلے تھا،، آگ لگنے سے بجھنے تک اور اس کے بعد اتنا تو وقت ہوگا ہی کہ ہمارے آدمی یہ کام با آسانی کر دیں گے،، اور ان جلادوں کے باپ بھی پتہ نہیں لگا پائیں گے کہ بچی گئی کہاں،،؟؟؟
حشمت راؤ نے اپنا مکروہ پلان بتایا تھا۔ مہارانی نے ایگری کرتے سر ہلایا۔
اور اگر ہم وہاں کسی اور کی بچی کی جلی ہوئی لاش پھینک دیں،، اور ان جلادوں کو لگے ان کی بچی جل کر مر گئی،،
نہیں،،،
مہارانی دھاڑی تھی۔
نہیں حرام خور،،تجھے کس نے کہا کہ اپنا دماغ چلا اور منہ کھول،،،، انھیں یہی تاثر تو نہیں دینا ہے کہ بچی مر گئی،،، بلکہ میں تو انھیں تل تل تڑپتے دیکھنا چاہتی ہوں جب وہ بچی گم ہو گی اور وہ چاہ کر بھی اسے کہیں نہیں ڈھونڈ پائیں گے،، مزہ تو تب آئے گا ،، جب وہ خود کو عقل کل سمجھنے والے جلاد اس معاملے میں ہار جائیں گے،،،
اب کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو،، ہر چیز سمجھا دی ہے تو دفع ہو جاؤ اپنا کام ٹھیک طرح سے کرنا اور اگر آج بچی مہارانی کے پاس نا ہوئی تو تم سب کی آنکھیں نکال کر ان سے گوٹیاں کھیلوں گی،،،
مہارانی بھاری آواز میں چلائی تھی۔
اس کے آدمی گھگھیاتے مکروہ ترین عزائم لیے وہاں سے نکلے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بریک ہوئی تھی اور وہ پھولا سا منہ لیے باہر گراؤنڈ کے بینچ پر بیٹھی تھی۔
ارشن کب سے اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اوکے لک ایٹ ہئیر بٹر فلائی،،، ارشن نے تنگ آ کر کہا تھا۔ دیا نے اس کی جانب دیکھا۔
اس نے کانوں کو پکڑا اور زمین پر آپس اینڈ ڈاؤن کرنے لگا۔
ارشن سوری بھی ہے اور دیا کو آج کی اپنا لنچ باکس،،اور چاکلیٹس بھی دے گا،،،،،
دیا کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ ارشن کو خوشگوار حیرت یوئی۔ کان کو پکڑے یونہی اس کی سبز آنکھوں کی چمک دیکھے گیا۔
ارشن بہت فنی لگ رہے تھے،،، وہ اب بھی ہنس رہی تھی۔
اور تم بہت کیوٹ لگ رہی تھی،، ارشن نے حسب عادت اس کے دونوں گال کھینچے۔
اوکے تو اب کْچی تو نہیں ہے ناں بٹر فلائی کی ارشن کے ساتھ،،،
نو ،، نہیں ہے،، دیا نے احسان جتایا۔ ارشن نے اس کے پھولے گالوں پر پیار کیا۔
اوکے پرامس کرو دیا اب مجھ سے کبھی کچی نہیں کرو گی،،، ارشن نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا۔
ارے بابا،، نہیں کروں گی،،،
وہ اب ارشن کے لنچ باکس میں موجود سینڈوچ سے انصاف کر رہی تھی کہ اپنے لنچ باکس کے فرائیز اب زہر لگ رہے تھے۔
سینڈوچ کا بائٹ لیتے ایک ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما کر پرامس بھی کر دیا۔
تم مجھ سے کبھی دور نہیں جاؤ گی،، ہم ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے،، ایک ساتھ کھیلیں گے،، تم بس میری فرینڈ بنو گی،،،
ارشن نے ہزار بار کی دہرائی ہوئی باتیں پھر دہرائیں۔
اوکے،، دیا نے اپنی جان چھڑائی۔
بٹر فلائی،، ارشن نے پھر پکارا۔
ہمممم،،، وہ چاکلیٹ کھاتی بولی۔
مجھے تمھیں ایک گفٹ دینا تھا،، یہ رات دیا مجھے ڈیڈ نے بولا تھا تمھیں پہنا دوں،، وہ اس کے پاس بینچ پر بیٹھتا بولا۔
واٹ،،،؟ دیا نے اس کی جانب دیکھا۔
یہ،، اس نے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں سے ایک چین میں موجود پینڈنٹ نکالا اور سر کے اوپر سے گزار کر اسے پہنا دیا۔
ارشن یہ ٹیچر نے دیکھ لیا تو اتار لیں گی،،، وہ پریشان ہوئی۔
اٹس اوکے آب نہیں دیکھیں گی،، چیکنگ تو اسمبلی میں ہوتی ہے ناں،،، گھر جا کر اسے اتار کر اپنے منی سیونگ باکس میں رکھ دینا،،،
اوکے،،، وہ پھر سر ہلا گئی۔
بریک ختم ہو چکی تھی۔ بیل بجی۔ وہ اپنی کلاس کی جانب بڑھی۔ ارشن وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ آج جانے کیوں ایک عجیب سی بے چینی سی تھی۔
پھر وہ سر جھٹک کر اپنی کلاس میں چلا آیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے جب پورے سکول میں آگ لگنے کے سائرن کی آواز گونج اٹھی۔
سب حواس باختہ ہوئے تھے۔ سکول میں دیکھتے ہی دیکھتے بھگدرڑ مچ چکی تھی۔ اساتذہ خود سے پہلے بچوں کو وہاں سے نکالنے کی جدو جہد کرنے لگے۔
اتنی آگ نہیں بھڑکی تھی۔ جتنا سکول دھوئیں کے مرغولوں سے بھر چکا تھا۔
مہارانی کے بندے جان بوجھ کر سکول کو دھوئیں سے بھر رہے تھے۔
دیا احان اور فلزہ بری طرح چونکے تھے۔ ان کے ٹیچر نے جلدی سے بچوں کو کلاس سے باہر نکالا۔
فلزہ، دیا میرے ہاتھ مت چھوڑنا،، علیزے تم فلزہ کا ہاتھ پکڑو،، احان چلایا تھا۔ اور ان دونوں کے ہاتھ پکڑ کر باہر نکلا۔
ٹیچر انھیں کوریڈور میں لے کر گیا ۔ سب سے زیادہ دھواں یہاں بھرا ہوا تھا۔ بچے کھانس کھانس کر بے حال ہونے لگے۔
تب اس مکروہ شیطان نے جان بوجھ کر بچوں کو دھکا دیا تھا۔اور خود بہیوش ہونے کا ناٹک کیا۔اس بھگدڑ میں احان کے ہاتھ سے فلزہ اور دیا دونوں کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا۔
فلزہ ،،،
دیا،،،،
علیزے،،،
وہ چلا رہا تھا۔ مگر کچھ دکھائی نا دیا۔
باہر فائر برگیڈز کے سائرن بج رہے تھے۔
اندر اس درندہ صفت انسان جس نے دیا کو نشانے پر اپنی نگاہوں میں رکھا ہوا تھا بازو سے دبوچ کر واش روم میں دھکیل دیا۔۔
فلزہ،،، احان چلایا۔ فلزہ احان کے بازو سے لپٹی۔
میں ادھر ہوں بھائی،، علیزے بچوں کے ساتھ باہر چلی گئی ہے،،، دیا نہیں دکھائی دے رہی،، وہ رونے لگی تھی۔
دیا،،، احان چلایا۔
کافی بچے باہر نکل چکے ہیں،، مجھے لگتا ہے دیا انہی میں تھی،، اب آپ لوگ بھی چلو یہاں سے،،
ٹیچر نے انھیں کہا اور سب باہر نکلنے لگے۔
عجیب بھاگ دوڑ تھی۔ دھکم پیل۔ سب بچے گراؤنڈ میں جمع ہو رہے تھے۔ اساتذہ بھی گراؤنڈ میں جمع ہو گئے تھے۔
سب اساتذہ اپنے اپنے کلاس کے اسٹوڈنٹس چیک کر رہے تھے۔
بڑی مشکل سے ارشن جو کہ امن کو ڈھونڈ کر لایا تھ فلزہ علیزے اور احان تک پہنچا تھا۔
احان دیا کہاں ہے،،، وہ دھاڑا تھا۔
تم تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ادھر ہی رکو،،
احان اور ارشن پاگلوں کی طرح ایک ایک سٹوڈنٹ کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
ٹیچر،،، دیا نہیں مل رہی ہے،، ارشن کے چہرے پر ہوائیاں اڑیں ہوئیں تھیں۔
سب سے پہلے سکول میں ماہر اور ماہ بیر پہنچے تھے۔ ان کے پیچھے ہی ایشان ،جبران اور آریان پہنچے ۔
سکول کی صورت حال معلوم کر کے اور اندر انھیں اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
جبران ایشان اور آریان سب سے پہلے علیزے ،امن، اور فلزہ تک پہنچے تھے۔
وہ تینوں ہی سہمے ہوئے تھے۔
ڈیڈ،،،
علیزے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
ارشن اور احان کدھر ہیں وئیر از دیا،،،
دیا کہیں نہیں مل رہی ہے ڈیڈ،، ارشن اور احان اسے ڈھونڈنے گئے ہیں،،،
علیزے نے بتایا تو ان کے سروں پر آسمان گرا۔
آگ ابھی بجھائی جا رہی تھی۔
پولیس میڈیا سب سکول کے باہر پہنچ چکے تھے۔ سب نے مل کر شور مچا رکھا تھا۔
ماہ بیر، ارشن تک پہنچا تھا۔ ارشن باپ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا کہ وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
ڈیڈ دیا نہیں کہیں بھی،، نہیں مل رہی مجھے،، اس نے ابھی بریک میں مجھ سے پرامس کیا تھا کہ وہ کہیں نہیں جائے گی،، مگر اب وہ کھو گئی ہے ڈیڈ وہ کھو گئی ہے،، مجھے کہیں نہیں مل رہی،،
وہ ہزیانی ہو رہا تھا۔ چیخ چلا رہا تھا۔
ماہ بیر بھی پریشان ہوا۔ کہ وہ لوگ لاکھ مضبوط اور چٹانوں جیسے حوصلے رکھنے والے ہوں مگر کچھ جگہوں پر تو وہ بھی بے انتہا بے بسی میں گھر جایا کرتے تھے خاص کر تب جب ان کی کسی کمزور رگ پر وار کیا جائے۔
اور لگتا ہے دشمنوں نے وہی کیا تھا۔
ارشن کے حواسوں نے اس کا ساتھ چھوڑنا چاہا وہ بیہوش ہو چکا تھا۔ ماہ بیر نے ایشان،جبران کے ہمراہ باقی بچوں کو گھر بھیج دیا۔
ماہر نے دیر نہیں لگائی تھی۔ کسی بھی چیز کی پروا کیے بغیر وہ اور آریان اندر داخل ہو چکے تھے۔ مگر جس طرف دیا کے کلاس روم کی نشاندھی کی گئی تھی اس کلاس روم کو چاروں جانب سے آگ نے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
آریان دیکھ رہے ہو،،، ماہر خان نے پریشانی سے آریان کو کہا۔
یس برادر،، جان بوجھ کر اس کلاس روم کو جیسے ٹارگٹ کر کے زیادہ آگ بھڑکائی گئی ہے،،،
آریان کو اپنی آواز جیسے کھائی سے آتی سنائی دی۔
پھر کئی گھنٹوں کی جدجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ ایکسکیوشنرز نے سکول کا چپہ چپہ چھان مارا تھا۔ مگر دیا کا کہیں اتا پتا نہیں ملا تھا۔ حتیٰ کے سکول سے کوئی لاش بھی تو نہیں ملی تھی کہ وہ فرض کر لیتے کہ دیا نہیں رہی۔ رات تک وہ سکول میں ہی رہے۔
ماہر خان کی آنکھوں سے اب وحشت لہو چھلکانے لگی تھی جیسے۔ پاشا ، کبیر اور سوہم خان بھی سکول کا اپنے طریقے سے معائنہ کر چکے تھے۔ مگر جلے ہوئے راکھ کے ڈھیر اور ملبے کے علاؤہ کچھ ہاتھ نا آیا۔ حتی کے پورے سکول کی زمین بھی ہر طرح سے ٹٹول کر دیکھی تھی۔ مگر کچھ نہیں ملا۔
یہ سازش تھی۔ بہت بڑی سازش ۔وہ سمجھ چکے تھے مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
انھوں نے کیا کچھ نہیں کنگھالا تھا۔ حتی کے بچوں کے بیگ تک۔
دیا کا بیگ مل چکا تھا۔ وہ بھی سہی سلامت۔ جس میں حسبِ توقع انھیں ایک چٹ بھی ملی تھی۔
جس میں صاف صاف لکھا تھا۔
پیارے جلادو سماج کے ٹھیکدارو۔
دل تو کرتا ہے پیلس کی اس بیٹی کے چیتھڑے اڑا دیں۔ مگر فکر نہیں کرو، بڑے ہونے تک سنبھال کر رکھیں گے،، مگر تب کی گارنٹی نہیں دیتے کہ یہ کس کس گھاٹ کا پانی پیے گی،، سمجھ تو گئے ہو گےناں،؟ڈھونڈنے کی توفیق نے کرنا نہیں ملے گی،،،
فقط
تم لوگوں کے وہ دشمن جنھیں تم لوگوں نے اپنی بےوقوفی میں کافی ہلکے میں لے لیا۔
اس چٹ نے وائیٹ پیلس ہر جیسے آسمانی بجلی گرا دی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وائٹ پیلس پر موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ انھوں نے دیا کو ڈھونڈنے میں اپنی پوری طاقت لگا تھی مگر کوئی سرا یا سراغ ہاتھ نہیں آیا تھا۔
پورا شہر چھلنی کی طرح چھان مارا تھا۔ مگر اب کی بار جلادوں کی سب کوششیں سب حربے بےسود جا رہے تھے۔
رواحہ نے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔ بلکہ سب خواتین کی ہی آنکھیں اشک بار تھیں۔
آحان اور فلزہ نے وہ پورا وائٹ پیلس سر پر اٹھا رکھا تھا۔
ارشن ہوش میں آتا پاگلوں کی طرح دیا دیا چلاتا اور پھر ہوش و حواس گنوا دیتا۔ جبران نے آخر اسے جان بوجھ کر نیند آور انجکشن لگا کر پرسکون کیا تھا۔
وہ اب بھی آرام سے نہیں بیٹھے تھے اپنے طریقے سے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دیا کو جب واش روم میں پھینکا گیا اسے مہارانی کے بندے بیہوش کر کے اس خفیہ راہداری سے وہاں سے نکلے تھے۔
پیچھے مہارانی کے ڈھیر سارے بندوں نے وہ جگہ واپس اسی طرح ماربل لگا کر نیچے ٹی آر اور مصنوعی سمنٹ کی تیار کردہ چھت لگا کر وہ جگہ پہلے پتھروں سے بھری۔ پھر اس میں مٹی پھینکتے گئے۔ یہ کام نیچے سے انھوں نے بے تحاشا مہارت سے کیا تھا۔ جانتے تھے زرا سی بھول چوک ہو گئی تو نا جلاد چھوڑیں گے ناں مہارانی۔
وہ دیا کو لے کر اس کوارٹر میں پہنچے تھے۔ اور اس کوارٹر میں رہنے والے میاں بیوی بظاہر اپنا گھر شفٹ کر رہے تھے۔۔
اسی سامان کے ساتھ دیا کو ایک فلیٹ میں پہنچا دیا گیا۔ اور وہاں سے کسی طرح بہت چالاکی اور مہارت سے مہارانی کی حویلی میں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ایک ہفتے کے بعد وہ خیل حویلی کے بیسمنٹ میں سب اکھٹے ہوئے تھے۔
اس چھوٹی سی بچی کو بیڈ پر لٹایا گیا تھا۔ اور اس کے سرہانے بھاری مشینری رکھی گئی تھی۔ بچی کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے اور منہ میں ڈریسنگ کی پٹی کا چھوٹا سا رول ٹھونسا ہوا تھا۔
اس کے دماغ کو الیکٹرو کونولوسیو سے ہلکی نوعیت کے جھٹکے دئیے جا رہے تھے۔
وہ اذیت کی انتہا سے تڑپ رہی تھی۔ سبز آنکھوں میں اذیت کے ڈیرے اور نمکین پانیوں کا سیلاب سا تھا۔ ہاتھ پیر بار بار وہ جھٹکتی اس اذیت سے نجات چاہتی تھی۔ مگر وہاں کھڑے ان درندوں کو اس پر رحم نہیں آ رہا تھا۔
وہ معصوم جان اب اذیت سہتی بہیوش ہو چکی تھی۔
لیں جی سائیں،، آپ کا کام ہو گیا،، اب یہ اپنی پچھلی زندگی اچھی خاصی بھول جائے گی،،، بس ہلکی ہلکی سی خواب جیسی پرچھائیاں دماغ میں رہیں گی،، ہاں شاید اپنی اصلیت نا بھولے،، مگر اس اصلیت کو آپ نے کیسے نقلی میں بدلنا ہے یہ آپ بہتر جانتے ہیں،، یہ بول سکتے ہیں کہ اب یہ نومولود کی طرح ہے،، اب آپ اسے جو سکھائیں گے یہ وہی سیکھے گی،، آپ جو اس کے دماغ میں ڈالیں گے یہ اسے ہی سچ مانے گی،، اسے اب آپ نے نئے سرے سے اپنے مطابق پہچان دیں گے،،،
ڈاکٹر نے خباثت سے بھر پور لہجے میں کہا تھا۔ اور نیم جان سی دیا پر سے وہ مشینری ہٹا دی۔
خان شمشان خیل نے اس کے جانب نوٹوں کی گڈیاں اچھالیں تھیں۔ جنھیں وہ چنتا اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے دفعان ہو چکا تھا۔
فاتحانہ سی مسکراہٹ خان شمشان خیل کے لبوں پر رینگ رہی تھی۔ اس نے دیا کو بازوؤں میں بھرا اور سب کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔
کوئٹہ کے مضافات میں بنے دربار کے پاس بنی حد نگاہ حویلی کے زنان خانے میں وہ داخل ہوئے تھے۔۔ تو ہر طرف معمولی سی ہلچل پیدا ہو گئی۔
خدمت گار ان کی چادر چوم چوم کر اپنے کام میں مصروف ہو جاتے۔
زنان خانے میں داخل ہوئے تو ایک انتہائی رعب و دبدبے والی خاتون جو کہ کاٹ پر بیٹھی تسبیح پھیر رہیں تھیں جس کے پیروں میں کئی عورتیں ادب سے بیٹھیں تھیں۔ خان شمشان خیل کو اندر آتے دیکھ سیدھی ہوئیں۔
آداب سائیں،،، یہ آپ کی گود میں کیا ہے،،،
انھیں ان کی گود میں ایک سفید سی گھٹڑی دیکھ کر حیرت ہوئی۔
حاجن سائیں،، اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کی مراد پوری کر دی ہے،، آپ کی گود کے لیے ایک بیٹی بھیجی ہے،، یہ ایک پاک روح ہے بابا،،،اس کی شادی ہماری روایت کے مطابق قرآن مجید سے ہوگی،، اس کی پرورش آج سے آپ نے کرنی ہے اپنی بیٹی سمجھ کر،،، زوار، مراد اور پرویز کی بہن بنا کر،، سمجھ گئیں نا بابا،،
وہ مخصوص سندھی لہجے میں انھیں سمجھا گئے اور بچی ان کی گود میں ڈال دی۔
حاجن بیگم نے بچی کے چہرے سے پردہ ہٹایا اور آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ جیسے سائیں اسے سیدھا پرستان سے اٹھا کر لائے تھے اور سیدھا ان کی گود میں ڈال دیا تھا۔
بہت شکریہ سائیں،، بہت شکریہ،،، مجھے ایک بیٹی چاہیے تھی،، آپ نے میرے دل کی مراد پوری کر دی،، میں ساری زندگی آپ کی قرضدار رہوں گی سائیں،،
حاجن سائیں تو اتنی خوبصورت بچی پا کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ یہ بھی نا پوچھا کہ سائیں جی کس ماں کی گود اجاڑ آئے ہو۔
خان شمشان خیل مونچھوں کو تاؤ دیتا پراسرار مسکراہٹ لیے واپس مردان خانے کی جانب ہو لیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
💣💣 't copy paste without my permission 📌📌
season 3 of BL
By ..
Episode 4……..
طویل و عریض بنگلے کے شاندار سے ڈرائیور وے سے ہوتی ہوئی مہنگی ترین کار پورٹیکو میں آ کر رکی تھی۔ گارڈ نے بھاگ کر کار کا دروازا کھولا جس میں سے حشمت راؤ چہرے پر دنیا فتح کرلینے والے تاثرات لیے کار سے نیچے اترے تھے۔
مونچھوں کو تاؤ دیتا وہ بنگلے کی اندرونی جانب آیا تھا۔
عشا کے بعد کا وقت تھا۔ اور بنگلے میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ لاؤنج میں داخل ہوئے تو سامنے ہی شاہ بلند بخت راؤ (ان کے لاڈلے اکلوتے بیٹے) بزنس کی فائل ٹیبل پر رکھے اپنے گھر آئے مینجر کے ساتھ کسی گفتگو میں مگن تھے۔ حشمت راؤ کو اندر آتا دیکھ فائلز مینجر کو تھما دیں اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔
مینجر حشمت راؤ کو سلام کرتا فائلز لے کر وہاں سے چلا گیا۔
اسلام وعلیکم بابا جان،،، بلند بخت نے انھیں دیکھ کر سلام کیا۔
وعلیکم اسلام،، سب کہاں ہیں،، کافی خاموشی ہے گھر میں،، ہماری شہزادی کہاں ہے،،
آپ کی شہزادی نے ہی ناک میں دم کر رکھا ہے،، کیا کروں،، آپ نے پوتی کی ہر خواہش پوری کر کر کے اسے اتنا بگاڑ دیا ہے کہ اب جب وہ کوئی ضد کرتی ہے تو اس قدر تنگ کرنے لگ گئی ہے بابا اور پھر میڈم رو رو کر اتنی طبیعت خراب کر لیتی ہے کہ میں اور سارا بھی تنگ آ چکے ہیں اب تو اس کی ضد سے ،،،
بلند بخت جھنجھلا کر بولے تھے۔
اب کیا فرمائش کر دی میری پرنسز نے،،، وہ مسکراتے بولے تھے۔
آج بالکونی میں کھیلتے ہوئے چاند پر نظر پڑ گئی ہے آپ کی پرنسز کی،، اب اسے وہ چاہیے ،،اب جائیے اور لا کر دیجئے اسے مون،،، رو رو کر پھر سانس بند کر لیا،، ایک تو اس کی یہ پراسرار بیماری،،، اوپر سے آج پھر انہیلر کی ضرورت تک پڑ گئی،، اب سوئی ہے پورے راؤ مینشن کو سر پر اٹھا کر،،
بلند بخت اب بھی بیزار کن لہجے میں بولے تھے جبکہ لاڈلی پوتی کی انوکھی فرمائش پر دادا قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
ارے جانے دو بیٹا جی ،، حشمت راؤ کی پوتی ہے،، چاند مانگنا تو بنتا ہے ناں،،، کوئی معمولی چیز مانگ کر دادا کا سٹینڈرڈ لو تو نہیں نا کرے گی،، ویسے بھی ایسی چیز مانگے جو مجھے اسے دیتے،، اور اسے لیتے ہوئے بھی مزا آئے،،
وہ چٹخارا بھر کر بولے تھے۔
دیکھ لیجیے کل کو کوئی ایسی چیز نا مانگ بیٹھے جو آپ اسے لا کر نا دیں سکیں،،
بلند بخت معنی خیز انداز میں بولے تھے۔
اونہوں ایسا تو ممکن نہیں ہے،، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،،
حشمت راؤ نے نخوت سے ہنکارا بھرا۔
تبھی دس سالہ آساوری شاہ آنکھیں ملتی سیڑھیوں سے نیچے اتری تھی۔
دادو،،، وہ آکر حشمت راؤ کے گلے میں جھول گئی۔
پاپا گندے ہیں مما بھی،،، مجھے مون نہیں لا کر دیتے آپ کو پتہ ہے میں کتنا روئی تھی،،، وہ منہ بنا کر بولی۔
میری شہزادی نے اپنی طبیعت کیوں خراب کی،، اور روئی کیوں؟؟ دادو کا تو ویٹ کیا ہوتا،، میں اپنی پرنسز کو خود مون لا کر دوں گا،،،
اور اب حشمت راؤ تھے اور ان کی لاڈلی پوتی کے چونچلے بھری فرمائشیں۔ بلند بخت نے افسوس سے سر ہلایا۔ اور ایک سرد سی آہ بھری۔
وہ خود حشمت راؤ کی منتوں مرادوں کی اولاد تھے۔ پھر جب جوان ہونے پر ان کی خود کی شادی ہوئی تو تین مردہ بچوں کی پیدائش کے بعد کہیں جا کر اساوری کی صورت انھیں زندہ سلامت اولاد کا منہ دیکھنا نصیب ہوا تھا۔ مگر اسے پیدائشی ہی ایک پراسرار سی بیماری تھی کہ چلتے پھرتے وہ بلکل نارمل رہتی مگر اچانک ہی اس کا سانس بند ہو جایا کرتا تھا۔
میڈیکل میں اس کی اس پراسرار بیماری کی تشخیص نا ہو سکی۔ حشمت راؤ نے دنیا کے بہترین ڈاکٹر سے اس کا چیک اپ کروایا مگر کچھ پتہ نا چلا۔ پھر اپنے دیرینہ دوست خان شمشان خیل کی باتوں میں آ کر جو توہم پرستی کا گھناؤنا کھیل شروع ہوا ابھی اس سب سے دنیا انجان تھی۔
حشمت راؤ نے پوتی کو زندہ رکھنے کے لیے کیا کچھ کیا تھا یہ اگر خود اساوری ہی سمجھ بوجھ ہونے پر جان لیتی تو خود کشی کو ہی ترجیح دیتی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مزید پانچ سال بعد۔
امن ،علیزے ،خضر، فلزہ اور احان اپنی سپورٹس بائیکس قریبی پارک آئے تھے۔ آج سنڈے تھا اور سکول سے چھٹی تھی۔
ایکسکیوشنرز نے سکول کے ایک ایک فرد کا سارا بائیو ڈیٹا نکالا تھا۔ پرنسپل سے لے کر گیٹ کے چپڑاسی اور گارڈز تک کا۔ مگر کوئی قابل ذکر کلو یا چیز حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اسی لئے انھوں نے سکیورٹی بڑھا دی۔ مگر سکول چینج نہیں کیا تھا۔
(اور یہیں پہ شاید وہ ایک بہت بڑی بھول کر گئے تھے)
وہ لوگ پارک میں گھوم پھر رہے تھے۔ علیزے احان کی جانب متوجہ تھی۔ وہ سنجیدگی سے چہل قدمی میں مصروف تھا علیزے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
وہ اب سنجیدہ رہا کرتا تھا۔ وہ سالوں سے نہیں ہنسا تھا۔ دیا کا اس کی موجودگی میں کہیں گم ہو جانا بہت صدمے کا باعث تھا۔
پانچ سالوں سے وائٹ پیلس پر ایک ان دیکھی افسردگی چھائی ہوئی تھی۔
جبکہ دیا کا کڈنیپ ہونا بڑوں نے بچوں سے تو چھپا کر ہی رکھا۔ بچوں کی دانست میں دیا اس حادثے میں گم ہو گئی تھی۔
احان اچانک پیچھے مڑا تھا جب علیزے کو اپنے سامنے پایا۔
علیزے پلیز،،، کتنی مرتبہ کہا ہے کہ مجھے فالو مت کیا کرو،، مجھے نہیں پسند اس طرح تمھارا میرے پیچھے پیچھے ہر جگہ پہنچ جانا،،
اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ علیزے کا منہ لٹک گیا۔
وہ خاموشی سے آ کر اس بینچ پر بیٹھ گئی جہاں قریب ہی خضر باقی بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
فلزہ واک کرتی کرتی تھوڑی دور گئی تھی جب اسے اپنی پرانی دوست عائشہ نظر آئی۔ وہ ایک بینچ پر اداس سی بیٹھی تھی۔
عائشہ،، اس نے پکارا۔ وہ اٹھ کر فلزہ سے بغلگیر ہوئی۔
فلزہ تم،، بہت خوشی ہوئی تم سے ملکر،،، عائشہ ابھی تک خوشگوار حیرت میں مبتلا تھی۔
مجھے بھی خوشی ہوئی،، تم نے سکول کیوں چھوڑ دیا یار،، فلزہ نے افسردگی سے اس سے پوچھا۔
ہاں بابا نے اس آگ والے حادثے کے بعد چھڑوا لیا۔ وہ بھی اداسی سے بولی۔
تم اتنی سیڈ کیوں ہو عائشہ،،، فلزہ نے حیرت سے پوچھا جو مسلسل بچوں کے ایک جھرمٹ کی جانب دیکھ رہی تھی۔
اس کی وجہ سے ،،،
داشاب،،،؟
عائشہ نے ایک جانب اشارا کر کے آواز دی۔ وہ احان جتنا لڑکا جو بچوں کے ساتھ بچوں کی طرح کھیل رہا تھا اب عائشہ کے پکارنے پر اس کی جانب متوجہ ہوا۔
واٹ ہیپنڈ عاشی ،،ابھی تو داشو کو گیم کھیلنے کا مزا آ رہا ہے،، وہ بچوں کی طرح پاؤں پٹختا عائشہ تک آیا۔
فلزہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
داشاب ،، یہ میری فرینڈ ہے فلزہ ،، سے ہائے ٹو ہر،،،، عائشہ نے اسے فلزہ کی جانب متوجہ کیا۔
اس نے سر تا پا فلزہ کو غور سے دیکھا۔ پھر اس کی آنکھوں کو حیرت سے دیکھا۔
عاشی اس کی آئیز تو بلکل فراگ کی طرح ہے گرین گرین،،
اس کی بات پر فلزہ نے بھونچکا سا ہو کر اسے دیکھا جو اس کی اتنی حسین آنکھوں کو فراگ سے میچ کر کے امیجینشن کی ماں بہن ایک کر رہا تھا۔
وہ اب اپنی ہی بات کو انجوائے کرتا تالیاں بجا بجا کر خود مینڈک کی طرح کود رہا تھا۔
مینڈک کہیں کا،، فلزہ جل کر بڑبڑائی۔
ہائے،،،، اس نے فلزہ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ بظاہر جو ایک ٹین ایج صحت مند لڑکا تھا۔ مگر شاید مینٹلی ڈس ایبلڈ تھا۔
ہائے،،، فلزہ نے اس سے ہاتھ ملایا۔ ہاؤ آر یو،،،
فائن،، وہ میکانکی انداز میں بول کر پھر بچوں کی جانب بھاگ گیا۔
عائشہ نے ایک سرد سی آہ بھری۔
عائشہ یہ کون ہے اور اسے کیا ہوا،،؟ فلزہ اس کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی۔
یہ میرا کزن برادر ہے،، کچھ عرصے پہلے تک بلکل ٹھیک تھا، بہت انٹیلجنٹ،، لونگ ،، کئیرنگ،، پھر اچانک چاچو اور چاچی کی مسٹریس ڈیتھ ہو گئی،، وہ رات کو ٹھیک ٹھاک سوئے اور صبح ان کی مردہ وجود کمرے میں پائے گئے،، اس حادثے کے بعد داشاب اکثر بیمار رہنے لگا،، اور اب تو ایک سال سے وہ بلکل اس طرح چھوٹے بچوں کی طرح بہیو کرتا ہے،، مما بابا نے کافی علاج کروایا مگر سائیکولوجی ڈاکٹرز کچھ ہیلپ نہیں کر پا رہے،، یہ بہت زندہ دل اور ہنس مکھ تھے اور اب ان کی یہ حالت مجھے بہت ڈسٹرب کرتی ہے،،،
عائشہ بے حد اداس تھی۔
جب اچانک بات کرتے کرتے داشاب کھیلتے ہوئے بھاگا اور سامنے سے آتے دو لڑکوں سے بری طرح ٹکرا گیا وہ جو آئسکریم کھاتے آ رہے تھے ان کے کپڑوں آئسکریم سے بری طرح خراب ہو چکے تھے۔
وہ جو ناسمجھ تھا ان کی یہ حالت دیکھ کھوکھلا کر ہنس پڑا۔
سامنے والے لڑکے نے کھینچ کر ایک زناٹے دار تھپڑ داشاب کے جڑ دیا تھا۔ وہ بلبلا اٹھا۔ عائشہ اور فلزہ لپک کر اس تک پہنچیں تھیں۔ اور ابھی وہ ایک دوسرا تھپڑ داشاب کے منہ پر مارتا جب فلزہ نے بجلی کی سی تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔
ہیے،، دیکھ نہیں رہے سامنے والا مینٹلی سٹیبل نہیں،، بزدل کہیں کے ،،اپنی طاقت اپنے جیسوں کو جا کر دکھاؤ،،
فلزہ غرائی تھی اور اس کا ہاتھ ایک جانب جھٹکا۔ داشاب بری طرح رو دیا تھا۔ وہ تمسخرانہ سا ہنسے تھے۔
تو تم اسے بچاؤ گی،، پہلے ہم سے خود کو تو بچا لو گرین بیوٹی،،،
ان میں سے ایک خباثت سے بولا۔
رئیلی،، اور تم کیا کرو گے،، فلزہ نے اطمینان سے کہا۔
لڑکے نے اس کی کلائی پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ ہوا میں اچھل کر کمر کے بل دھاڑ سے زمین پر گر کر اب فرش کو سلامی پیش کر رہا تھا۔
دوسرا لڑکا بھنا کر فلزہ کی جانب لپکا اور بہت اچانک اس کی گردن دبوچ لی۔
فلزہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے دونوں بازوؤں کے اندر سے اس کے چہرے تک لائی تھی۔ فلزہ کا ایک مکا اس کی ناک کی ہڈی توڑ چکا تھا۔
فلزہ نے پوری طاقت سے گھٹنا فولڈ کر کے اس کی پیٹ پر مارا تھا وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا اور دونوں وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔
وہ اب روتے روتے کلیپنگ کر رہا تھا۔
یو آر ویری بریو،،آئی لائک یو سو مچ،، داشو اب تمھارا فرینڈ بن جائے گا،،
وہ اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا کر بولا تھا۔ فلزہ نے مسکراتے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اب تو میں بھی اپنے فرینڈ سے ملنے آیا کروں گی،، فلزہ نے اس کا ہاتھ تھپکا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ گھر واپس آئے تھے۔ ان کی بائیکس گیٹ کے اندر داخل ہوئیں تو اسی وقت ماہ بیر کی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی۔ جس میں آریان اور سمیع تھے۔
ماہ بیر راسم حفیظ کے دیرینہ وفادار سمیع(جو دوسری نسل سے جلادوں کا وفادار تھا) اس کی بیوی بیمار تھی۔ جب پتا چلا کے اس کی بیوی کی ڈیتھ ہو گئی تو ماہ بیر اور آریان خود گاؤں اس کی میت پر گئے تھے۔ بیوی تو نہیں رہی مگر اب خاندان کے نام پر سمیع کی ایک دس سالہ بیٹی ہی بچی تھی۔ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
سمیع نے ماہ بیر سے اپنی نوکری چھوڑنے کی بات کی مگر ماہ بیر کسی صورت نہیں مانا۔ ماہ بیر نے اس کے مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ وہ اپنی بچی سمیت وائٹ پیلس چلا آئے۔ اسے رہنے کے لیے انیکسی دی جائے گی۔ اور ان کے بچوں کے ساتھ ہی وہ بھی تعلیم حاصل کرے گی۔
تبھی اب سمیع اپنی بچی کے ساتھ سوگوار سا وائٹ پیلس آیا تھا۔
وہ سب گاڑی سے باہر نکلے۔ اور سب بچوں نے اس چھوٹی سی پٹھانی بچی کو دلچسپی سے دیکھا۔
دراصل سمیع اور اس کی بیوی تاج بیگم پٹھان تھے تبھی اب وہ بچی پٹھانی زرتار بلیک فراک میں حیرت سے اتنے بڑے گھر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا رنگ بے حد سفید تھا جبکہ آنکھیں ڈارک براؤن چاکلیٹ جیسی۔
سب سے پہلے امن دلچسپی سے اس کی جانب آیا تھا۔
سمیع انکل یہ کوکو مو کون ہے،،، امن نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔ سب اس کے شوشے پہ ہنس پڑے۔
امن،،، بری بات،، آریان نے اسے گھورا۔
واٹ ڈیڈ،،، سیریس میں بلکل مزاق نہیں اڑا رہا،، یہ بلکل کوکو مو کی طرح ہے وائٹ وائٹ،، اور اس کی آنکھیں کوکو مو کے اندر والی چاکلیٹ کی طرح براؤن،،،
امن نے کہتے اس کی سفید میدہ کی طرح گال پر اپنی فنگر لگائی۔
اس کی اس امیجینشن پر سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے۔ سمیع جو کافی دن سے افسردہ تھا آج کھل کر مسکرایا۔
یہ میری گڑیا ہے امن بابا،، اور اس کا نام معجزا سمیع خان ہے،،،
سمیع نے مسکراتے اس کا تعارف کروایا۔
سمیع انکل آپ فکر ہی نا کریں،، یہ ہماری فرینڈ بنے گی،، آج سے میں اس کا ڈھیر سارا خیال رکھوں گا،،
امن کی اس بات پر سب مسکرائے تھے۔
بلکل امن بابا یہ کل سے آپ کے سکول میں جایا کرے گی،، آپ سب پڑھنے میں بھی اس کی مدد کرنا،،
سمیع نے کہتے تشکر کے احساس سے ماہ بیر اور آریان کی جانب دیکھا تھا۔ کیونکہ سب بچے اسے ساتھ لیے اب لان میں کھیل رہے تھے اور چھوٹی چھوٹی باتیں بھی کر رہے تھے۔ وہ جو پہلے ڈری سہمی سی تھی اب بہت جلد بہل گئی تھی۔ اور ان کے ساتھ اب باتیں بھی کر رہی تھی۔
سمیع جو پہلے کچھ پریشان سا تھا کہ وہ بلکل الگ اور انوکھے ماحول میں کیسے ایڈجسٹ کرے گی اب وہ کافی سکون میں تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جوگنگ کے بعد وہ سیدھا بیسمنٹ میں آیا تھا۔ احان کے پریکٹس جاری تھی۔ بیس فٹ کے فاصلے سے بھی وہ نشانہ سہی نہیں لگا پا رہا تھا۔ اور اب وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگا تھا۔
کیا بات ہے چیمب،، ابھی سے تھکنے لگے،، ابھی تو زندگی کے بڑے بڑے امتحان باقی ہیں،،
ماہر خان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
کیا ڈیڈ یار اب تو میٹرک کا سٹوڈنٹ ہوں اب تو چیمب بولنا بند کر دیں،،،
وہ روہانسا ہوا تھا۔ کچھ یہ نشانہ لگانا اس کے لیے کافی مشکل پیش آ رہی تھی کچھ ویسے ہی وہ سب تو جیسے آدم بیزار ہو چکے تھے۔
ماں وہ بیمار رہتی تھی دیا کے غم میں آہستہ آہستہ گھل رہی تھی۔ اور کچھ ویسے ہی صبر ہی نہیں آتا تھا کسی کو بھی۔
اس کے مقابلے میں تو فلزہ نے اپنا دل زیادہ مضبوط کر رکھا تھا کہ وہ ماں کے سامنے خود کو کمپوز رکھتی ان کو ہنسانے کا ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی رہتی۔
ہاں مگر تنہائیوں میں جی بھر کر رویا کرتی تھی۔ اسے یاد کرتی اور بے تحاشا یاد کرتی جو اس کے وجود کا ہی ایک حصہ تھی مگر اس سے الگ ہو گئی تھی۔ وہ اس کی یاد میں کافی بے حس بنتی جا رہی تھی۔ ظالمانہ حد تک بہادر اور نڈر۔ اس کی اور علیزے کی پریکٹس بھی لگاتار جاری تھی۔ انھیں سب سے پہلے سیلف ڈیفنس کی تکنیکس سکھائی جا رہی تھیں۔
پھر ماہر خان نے اسے کافی پریکٹس کروائی۔
وہ اب اپنے کمرے میں آیا تھا۔ سب سکول کے لیے تیار تھے۔
امن جو کہ اپنی ذہانت کی وجہ سے سکول میں ایک رائزنگ سٹار تھا اور ایٹھت کلاس کا سٹوڈنٹ تھا سکول کے لیے بلکل تیار اب سمیع انکل کی انیکسی کی جانب آیا تھا۔ سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ٹائی ہمیشہ کندھے پر گرائے اس کا الگ ہی سویگ تھا۔
سمیع انکل،، کوکومو ریڈی ہے،،، وہ سکون سے انیکسی میں داخل ہو کر پوچھ رہا تھا۔ مگر سامنے کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھییں تحیر سے پھیل گئی۔
بیچارے سمیع انکل کا ایک پیر کچن میں اور ایک رونی سی شکل بنا کر کھڑی معجزا کے پاس تھا۔ پوری انیکسی میں گیلا ٹاول، ٹوتھ برش ،پیسٹ کپڑے اور برتن بکھرے پڑے تھے۔
معجزہ کے گھنے بالوں میں جیسے دھماکا بجا ہوا تھا۔ امن کو اسے دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئی۔
انکل آپ رہنے دیں،،
وہ جلدی سے معجزا کے قریب آیا تھا۔ اس کے بالوں میں برش کر کے پونیاں پہنائیں۔ اور اس کا بیگ اٹھایا۔
انکل آپ رہنے دیں ،، بریک فاسٹ یہ ہمارے ساتھ کر لے گی،، آپ یہ سب سمیٹ لیں،،وہ لاپروائی سے بولا۔
لیکن امن بابا،،،سمیع جھجھکا۔
مگر وہ اس کا ہاتھ تھامے باہر نکل گیا تھا۔
معجزا نے ان سب کے ساتھ ہی ناشتہ کیا تھا۔ شفا نے اس کا لنچ باکس بھی ریڈیو کر کے بیگ میں ڈال دیا۔
آریان آج خود بچوں کے ساتھ معجزا کے ایڈمیشن کے لیے سکول آیا تھا ۔
وہ سب گاڑی سے اترے اور سکول کے ڈرائیور وے سے اندر داخل ہوئے۔
آرایان امن اور معجزا پرنسپل کے آفس کی جانب چلے گئے۔
فلزہ اپنی فرینڈز کے پاس رک گئی تھی۔ علیزے اور احان اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جب احان کی سامنے نگاہ پڑی اور وہ سرد سی سانس کھینچ کر رہ گیا۔ علیزے نے خونخوار نگاہوں سے سامنے گھورا اور غیر محسوس طریقے سے احان کے مزید پاس ہو کر چلنے لگی۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تھے اسے سکول مائیگریٹ ہوئے۔ پہلے تو بڑی بیزار بیزار شکلیں بنائے گھومتی تھی۔ مگر اب کچھ دن ہوئے تھے وہ احان ماہر خان کی سایہ بن گئی تھی جیسے۔
ایک ہی کلاس میں ہونے کی وجہ سے وہ اب اس ساری سچویشن سے ایریٹیٹ ہونے لگا تھا۔
وہ اساوری شاہ تھی جو صبح آتے ساتھ ہی سامنے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کرتی جیسے۔ اس کے ساتھ اس کی وہ دوستیں ہوتیں جو اس کے ساتھ ہی مائگریٹ ہو کر یہاں آئیں تھیں۔۔ اور چھٹی ٹائم بھی وہ اس کے قدموں کے اوپر قدم رکھتی پیچھے پیچھے چلی آتی۔
پورے سکول میں مختلف قسم کی سرگوشیاں ہونے لگیں تھیں اب۔ لیکن اس پاگل لڑکی کو تو جیسے کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں تھی۔
اب بھی وہ اسے نظر انداز کرتا اپنی کلاس میں جا چکا تھا۔
اندر آ کر وہ بوائز کی جانب بیٹھ گیا۔ وہ اس کے پیچھے ہی اپنی چھچھوری سی دوستوں کے ساتھ اندر آئی تھی۔
ٹیچر نے پیریڈ لینے کے بعد اناؤنس کیا تھا کہ ایک ہفتے بعد کلچر سے ہے۔ جس نے حصہ لینا ہے وہ اپنا نام لکھوا لیں۔ جنھوں نے حصہ لینا تھا وہ کلاس میں ہی اپنا اپنا نام لکھوا رہے تھے جبکہ یہ تینوں کلاس سے باہر نکل آئے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج پورے ہفتے بعد کلچر سے تھا۔ چونکہ ان میں سے کسی نے بھی پروگرام میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا اسی لیے وہ لوگ یونیفارم میں ہی سکول گئے تھے۔
سپورٹس میں وہ سب حصہ بھی لیتے تھے اور ہمیشہ جیت کر بھی آتے۔ مگر اس طرح کی ایکٹیویٹیز سے وہ لوگ دور ہی رہتے۔
سکول میں کافی رونق تھی آج۔
سب تیاری مکمل تھی۔۔ اس وقت تمام اساتذہ اور سٹوڈنٹس آڈیٹوریم میں موجود تھے۔ بس اب چیف گیسٹ کے آنے کا انتظار تھا۔ کچھ ہی دیر میں چیف گیسٹ بھی آ گئے۔ جن کا بچوں نے پھول گرا کر استقبال کیا۔ چیف گیسٹ اپنی سیٹ پر براجمان ہوئے اور فنکشن کا باقاعدہ آغاز تلاوت اور نعت سے کیا گیا۔۔
مختلف پرفامنسز دی گئیں۔ جن سے وزیر شبیر احمد بہت متاثر بھی ہوئے۔
آڈیٹوریم کچھا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا وزیر ثقافت پرنسپل کے ساتھ سامنے کی رو میں بیٹھے تھے۔ ایٹھت کلاس کے بچے سندھ کی ثقافت کو بیان کرتے اپنی پرفامنس دے چکے تھے۔
اب نائنتھ کلاس کی باری تھی۔
آساوری شاہ بے تحاشا خوبصورتی سے پور پور سجی پنجابی کْرتی لاچا میں سر کی سائیڈ پر جھومر اور دوپٹہ سیٹ کیے ،، پنجاب کی ثقافت کو پرزینٹ کرتی اپنے گروپ کے ساتھ سٹیج پر مسکراتی ہوئی آئی تھی۔
سٹیج پر آتے ہی نگاہ کسی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکی۔ آخر دائیں جانب کی چئیرز پر تیسری رو میں اسے وہ سبز کائی جمی آنکھیں دکھائیں دیں جن کی جھیل سی گہرائیوں میں وہ خود کو ڈوبتا محسوس کرتی تھی۔ وہ کچھ چباتا رہتا تھا۔ اب بھی حسب معمول شان بے نیازی سے بیٹھا سٹیج کی جانب دیکھ رہا تھا۔
گانا بجا۔ پرفامنس شروع ہوئی۔ آڈیٹوریم کلیپنگ سے گونجا۔
مردی آں تیرے آولے اٹیٹوڈ تے
کتھے دس ریناں توں کیڑے لیٹیٹوڈ تے
سوہنیاں شوکیناں،
وے تو قیمتی نگینہ،
ماڑی چیز اُتے اکھ نئی میں رکھدی،
گل سن کہ جا سردارا
تیرے تے جٹی اکھ رکھدی
وہ اپنی پرفامنس کے دوران جان بوجھ کر صاف صاف اشارہ کر رہی تھی کہ آجکل جٹی کس پر آنکھ رہی ہے؟؟؟
احان نے دانت کچکچا کر اس پاگل لڑکی کو دیکھا۔
ایک مرتبہ
دو مرتبہ
تیسری بار لڑکوں کی بہت زیادہ ہوٹنگ پر احان ماہر خان نے پہلو بدلا۔
سنیپ چیٹ اُتے گیت سارے تیرے پاواں جیڑے میرے دل دے وے بوتے نیہڑے وے
اک تو ہی ایں پسند،، دل تیرے اُتے آیا،، اونج دنیا تے لکھاں ویسے چہرے وے
اب کی بار اساوری نے پھر اس کی جانب اشارہ کیا تھا۔ احان ماہر خان بھنا کر اپنی سیٹ سے اٹھا تھا۔ لڑکوں کی ہوٹنگ کے دوران وہ سرخ چہرا لیے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
نیویارک کے ایک اپارٹمنٹ کے درودیوار پر اس وقت جیسے سوگ کی سی کیفیت طاری تھی۔ اسی اپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔
پھر اچانک اس نے اپنا سرخ چہرہ لال انگارا وحشت بھری نگاہیں اٹھائیں اور ہاتھ میں پکڑے فریم پر جم کر رہ گئیں۔
ارشن ماہ بیر حفیظ سالوں سے تڑپ رہا تھا۔
مر رہا تھا۔ پل پل،، قطرہ قطرہ پگھلتا جاتا تھا۔
اگر یہاں نا آتا تو مر جاتا۔
اگر پاکستان نا چھوڑتا تو مر جاتا۔ اس کی ہم شکل کو روز اپنے سامنے دیکھتا تو روز تل تل کر کے مرتا۔ تبھی سب کچھ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔
بے رَبط خیالات
مُنتشِر سوچیں
حیات کی گہماگہمی
اور چارسُو شور و غُل
ان سب کے باوجود تُمھارا خیال
پُوری شِدت سے میرے دِل و دِماغ پر حاوی ہے
اے خُوش گُفتار روح
سکون کا ہر راستہ تُمھارے دروبام تک جاتا ہے
وہ تصویر کی جانب دیکھ کر اپنے دل میں اسے مخاطب تھا۔
ہلکی سی ناک کے بعد کوئی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جاری ہے