13/08/2025
انسانی معاشرہ کتابوں سے نہیں، سوچ سے بنتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں سوچ کو روایت کے قالین کے نیچے چھپانے کا رواج ہے۔ فلسفہ سوال اٹھانے کی جُرأت کا نام ہے، مگر ہم نے سوال کو بغاوت اور اختلاف کو گستاخی بنا دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذہن جمود کا شکار ہوتا ہے اور معاشرہ اپنے ہی بنائے ہوئے سائے میں قید رہتا ہے۔ ہم نے سیکھا نہیں کہ اختلاف دراصل ایک صحت مند معاشرتی مکالمے کی بنیاد ہے، اور سوال ہی وہ چابی ہے جو نئے دروازے کھولتی ہے۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے ذہنی قلعوں کے دروازے کھولیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ فلسفہ محض مغربی کلاس رومز کا مضمون نہیں بلکہ ہر اُس لمحے کا حصہ ہے جب کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ "یہ جو ہے، کیا یہ درست ہے؟"۔ اگر ہم نے سوچنے اور سوال کرنے کی جُرأت نہ کی تو آنے والی نسلیں صرف ہمارے ڈر اور خاموشی کی میراث پائیں گی، نہ کہ روشنی اور بصیرت کی۔
آج کے معاشرے میں کچھ لوگ فلسفہ کو مردہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ نہ مغرب میں پڑھایا جاتا ہے نہ اس کی کوئی عملی ضرورت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ کبھی محض نصاب کی کتابوں کا قیدی نہیں رہا۔ یہ سوال اٹھانے، دلیل مانگنے اور دھوکے کے پردے چاک کرنے کا فن ہے۔ وہ ذہن جو فلسفیانہ سوالات سے دور بھاگتا ہے، اکثر جذبات، تعصب یا طاقتور بیانیوں کا غلام بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں رائے اور تعصب میں فرق مٹ چکا ہے۔ دلیل کی جگہ آواز کا زور، اور علم کی جگہ شہرت کا شور غالب آ چکا ہے۔ فلسفہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر "سچ" کا پردہ اٹھانا ضروری ہے، چاہے وہ مذہب، سیاست یا ثقافت کے نام پر کیوں نہ بیچا جا رہا ہو۔ مگر یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ فلسفہ صرف پڑھنے کی چیز نہیں—یہ جینے کا طریقہ ہے۔