29/06/2026
اس محبت میں ترا شرک گوارا کر کے؟
آزما لوں میں تجھے، اپنا خسارہ کر کے؟
تیرے کہنے پہ محبت تو میں کر لوں لیکن
غم پُرانے ہی نہ مل جائیں دوبارہ کر کے
ساتھ رہتے تو نہیں آتا غزل میں یہ رنگ
"تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے"
جانے کس بات نے دونوں کو جدا کر ڈالا
وہ بہت خوش تھا مرے ساتھ گزارا کر کے
تم نے جاتے ہوئے تکلیف نہیں دی تو بتاؤ
کیوں میں رویا ہوں ابھی ذکر تمہارا کر کے
اب کوئی درد کا درماں نہیں ہوتا میرے
لوٹ جاتے ہیں سبھی لوگ نظارہ کر کے
ہم جسے چاہتے ہیں جان سے پیارا کرنا
مار دیتا ہے وہی جان سے پیارا کر کے
پاؤں پڑنے پہ بھی میرے نہ رکے تم
روک لیتا تھا میں دنیا کو اشارہ کر کے