04/06/2026
قرآن مجید کے ترجموں میں دیوبندیوں کی گستاخیاں پوسٹ نمبر 3
ووجدک ضالا فھدی ۔ (سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7)
ترجمہ : اور پایا تجھ کو بھٹکتا ۔ پھر راہ دی ۔ (شاہ عبدالقادر دیوبندیوں کے مرشد)
ترجمہ : اور رستے سے ناواقف دیکھا دیکھا تو سیدھا رستہ دکھایا ۔ (مولوی فتح محمد جالندھری دیوبندی)
ترجمہ : اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا ۔ (مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے خبر اور بھٹکا ہوا لکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یا فتہ ہوتا ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضان قادری محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں : اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ۔
فیصلہ آپ کیجیے ادب والا ترجمہ کونسا ہے اور گستاخانہ ترجمہ کونسا ہے ؟ اور ہمیںں کونسا ترجمہ قرآن پڑھنا چاہیے ؟ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔ اصل اسکینز دیکھیے : ⏬