بَزمِ اُردو اَدب Bazm E Urdu Adab

بَزمِ اُردو اَدب Bazm E Urdu Adab Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from بَزمِ اُردو اَدب Bazm E Urdu Adab, Library, kot Radha kishan, Lahore.

24/07/2026

تو نے دیکھا ھی نہیں دل کی نگاہ سے ورنہ...
سرد انکھوں میں سبھی زخم عیاں تھے جاناں..
اک تیرے ہجر کی پھیلی ھوئی رت سے پہلے. .
ھم کسی کرب سے مانوس کہاں تھے جاناں ...
اب تیرے در سے پرے دور کھڑے سوچتے ھیں..
ھم تیرے ساتھ کے قابل ھی کہاں تھے جاناں...

24/07/2026

|| ‏‏تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دُکھ کو
تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو. ❤️‍🩹

21/07/2026

اے رنج آگہی کوئی چارہ تو ہوگا نا
چل خوش نہ رہ سکیں گے گزارا تو ہوگا نا

یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی کبھی وہ ہمارا تو ہوگا نا

جاتی ہے جو متاع دل و جاں تو کیا ملال
یہ عشق کی دکاں ہے خسارہ تو ہوگا نا

ہر آن جس کا ذکر ہے اس بے نیاز نے
بھولے سے میرا نام پکارا تو ہوگا نا

میں زاد رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں
اے ہم سفر تجھے یہ گوارا تو ہوگا نا

کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے
کیا بات بھی نہ ہوگی اشارہ تو ہوگا نا

کرنا کرانا چھوڑ زبانی ہی ساتھ دے
تنکے کا ہو اگرچہ سہارا تو ہوگا نا

صائمہ آفتاب

@ everyone

21/07/2026

زن حسین تھی اور پھول چن کے لاتی تھی
میں شعر کہتا تھا وہ داستاں سناتی تھی

یہ پھول دیکھ رہے ہو یہ اس کا لہجہ تھا
یہ جھیل دیکھ رہے ہو یہاں وہ آتی تھی

منافقوں کو مرا نام زہر لگتا تھا
وہ جان بوجھ کے غصہ انہیں دلاتی تھی

عرب لہو تھا رگوں میں بدن سنہرا تھا
وہ مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی

اسے کسی سے محبت تھی اور وہ میں نہیں تھا
یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی

میں اس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا
وہ مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی

ارمان یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی
گلے لگا کے مرا حوصلہ بڑھاتی تھی

ارمان سے دور رہو لوگ اس سے کہتے تھے
وہ میرا سچ ہے بہت چیخ کر بتاتی تھی

میں کچھ بتا نہیں سکتا وہ میرا کیا تھی ارمان
کہ اس کو دیکھ کے بس اپنی یاد آتی تھی

علی زریون

17/07/2026

‎*کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا*
‎*کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا*

‎*کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چُھڑا لینا*
‎*کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا*

‎*کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا*
‎*کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا*
‎ sahab

15/07/2026

سنو یہ ابر کا موسم
‎ھمارے صبر کا موسم
‎کہ جب کالی گھٹا چھا کر
‎ذرا رم جھم برستی ہے
‎کسی کی دید کی خاطر
‎نگاھیں پھر ترستی
‎ہوا کا سرد جھونکا
‎آ کے جب چھو کر نکلتا ھے
‎کسی کے لمس کی خوشبو
‎میری روح میں اترتی ہے
‎سنو یہ ابر کا موسم
‎ھمارے صبر کا موسم
‎اچانک ہونے والی بارشوں کا سلسلہ ایسا
‎کہ گویا دھڑکنوں کے ساز کی دھن اور بڑھ گئ ہو
‎کہ روح کو چھلنی کر گئ ہو
‎کبھی تم کو بھی یہ احساس آ کر تشنگی دے دے
‎کہیں پر دور کوئی تیرے لیے یوں تڑپتا ہے
‎کہ تیری آس کی خاطر وہ جیتا اور مرتا ہے
‎کہ۔۔۔۔۔
‎کبھی یہ ابر کا موسم
‎ھمارے صبر کا موسم
‎کبھی تو تازگی بن کر

‎سکون روح ہو گا یہ
‎کہ گویا ابر کا موسم ۔۔۔۔۔۔

بقلم۔۔۔(سہانی)

30/05/2026

میں کر رہا ہوں اکٹھے تمام دنیا کے رنگ..!
تمہاری آنکھوں کا صدقہ اتارنا ہے مجھے🫣
تو لاکھ غصے میں بولے اٹھ کہ جانا نہیں.. 😶
مجھے پتہ ہے تونے پھر پکارنا ہے مجھے🤌🫣

16/05/2026

اداس شامیں، اُجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
‎کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا

‎ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر مِری جاں
‎یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا

‎جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
‎اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا

‎نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
‎تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا

‎میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
‎کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا

‎اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
‎اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا

‎مِری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر
‎بچھڑنے والے مِری وہ باتیں کبھی رُلائیں تو لوٹ آنا

‎فرحت عباس شاہ

Dedicated to my best friend in the world
N.G sahab

16/05/2026

کون کیسا ہے؟کیوں ہے؟تیرا کیا لگتا ہے؟
‎پوچھتا رہتا ہے تو ! میرا خدا لگتا ہے؟

‎اتنے عرصے سے تعلق ہے اداسی سے میرا
‎اب جو ہنستا ہوں تو خود کو بھی برا لگتا ہے

‎پھول ٹہنی پہ بھی اچھا تو لگے گا لیکن
‎سب سے بہتر تیرے بالوں میں لگا لگتا ہے ❤

‎اس لیے تجھ سے میں تنہائی میں ملتا ہی نہیں
‎کیا سے کیا سمجھیں گے ! لوگوں کا پتا لگتا ہے !

‎عیب مجھکو میرے بتلائے نہیں آج تلک
‎دوست ہو کر بھی تو دشمن سے ملا لگتا ہے

‎مصطفی کمال

14/05/2026

مجھے خبر ہے کہ تُو مجھ سے بے خبر نہیں ہے !
‎اسی لیے تو مجھے راستوں کا ڈر نہیں ہے !🖤

‎ترے بغیر مرے دن گزر نہیں رہے ہیں !
‎تُو جانتا ہے؟ مری رات مختصر نہیں ہے ✨

‎میں اُس کے دل میں اسی ڈر کے ساتھ رہتا ہوں
‎یہ میرا گھر ہے مگر میرے نام پر نہیں ہے !💔

Address

Kot Radha Kishan
Lahore
7861

Telephone

+923008013287

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بَزمِ اُردو اَدب Bazm E Urdu Adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category