21/08/2026
یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں سینئرز اور دوستوں سے اکثر یہی سننے کو ملتا تھا کہ "کیمپس لائف بس ایک رسمی مرحلہ ہے، یہاں صرف اپنے کام سے کام رکھو، وقت پورا کرو، اساتذہ سے بچ کے رہو، ڈگری اپنے نام کرو اور چپ چاپ آگے بڑھ جاؤ۔" لیکن جب میں نے عملی طور پر اس تعلیمی سفر کا آغاز کیا، تو میری تمام پیش فرض سوچیں غلط ثابت ہوئیں۔ میرا سامنا ایسے اساتذہ سے ہوا جنہوں نے تدریس کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس مشن سمجھا۔ وہ استاد کم، ایک سچے دوست، بہترین مشیر اور زندگی کے ہر موڑ پر بلامعاوضہ رہنمائی کرنے والے مشفق رہنما ثابت ہوئے۔
انہی باکمال اور ہمہ جہت ہستیوں میں سے ہمارے ایک محترم استاد وہ ہیں جن کی شخصیت خود علم، ادب اور تخلیق کا ایک بحرِ بے کنار ہے۔ وہ ایک حساس اور بااثر شاعر بھی ہیں جن کے اشعار نہ صرف ادبی حلقوں میں سراہے جاتے ہیں بلکہ زبان زدِ عام بھی ہیں۔ ان کے چند دلنشین اور فکر انگیز اشعار نذرِ قارئین ہیں جو مجھے ذاتی طور پر بے حد پسند ہیں اور یاد بھی ہیں:
حسینؑ آپ سے سیکھا ہے بولنا میں نے
سو ظلم دیکھ کے خاموش رہ نہیں سکتا
..
اطاعتوں کی المناک تہمتوں کا جواب
حسینیت میری تاریخ کا روشن باب
..
تیرے حمادؔ کو کسی نے بتایا ہی نہ تھا
شاہ کو بولنے والے نہیں اچھے لگتے
سر احمد حماد کی کلاس میں بیٹھنا صرف نصابی کتابیں پڑھنا نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اپنے منفرد اسلوب سے ہمیں زندگی اور آرٹ کو ایک بالکل نئے زاویے سے دیکھنا سکھاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ فلم صرف چند مناظر کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات، پیغامات اور محنت کی ایک زندہ تصویر ہوتی ہے۔
حال ہی میں ہم نے اپنے اسی خواب کو تعبیر کا روپ دیتے ہوئے ایک نئے پروجیکٹ کا آغاز کیا، جس کا نام ہم نے "پیادہ" رکھا۔ اس فلم کا سفر جتنا خوبصورت تھا، اتنا ہی کٹھن اور آزمائشوں سے بھرا بھی۔
فلم کی تحریر اور اسکرپٹ نویسی میں ارتضیٰ باقر نے مجھ ناچیز کی رہنمائی کرتے ہوئے بے پناہ محنت کی اور ہمارے ساتھ دن رات ایک کر دیا۔ دوسری طرف مزمل شریف نے اداکاری کے بہترین جوہر دکھائے؛ ان کا جذبہ اور جنون اس حد تک تھا کہ جب شوٹ مکمل ہونے کا اعلان کیا جاتا تو وہ مزید بہتری کے لیے خود کہتے کہ "براہِ کرم میرے کچھ اور شاٹس بھی لے لیں۔" اس پورے سفر اور سیٹ کے ماحول میں مجیب بھائی، احسان بھائی، اعزاز اور مزمل شریف اور دیگر دوست احباب میرے بازو بن کر ڈٹے رہے اور ہر مشکل مرحلے میں میرے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
اسکرپٹ پر راتوں کی انتھک محنت لگی، ایک ایک منظر اور مکالمے کو بار بار تراشا گیا۔ پھر جون کی شدید، جھلساتی ہوئی گرمی اور حبس میں ہم نے شوٹنگ کا مرحلہ شروع کیا۔ شوٹنگ کے دوران گرمی کی شدت اور تھکاوٹ سے جب بھی ہم ہمت ہارنے لگتے، تو کام کے ساتھ ساتھ ایک نیا جذبہ جنم لیتا (جس کے پسِ پردہ مناظر یعنی BTS آپ ہمارے پیج پر دیکھ سکتے ہیں)۔
فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد جب شائقین نے BTS دیکھے تو سب نے ہماری اس کاوش کو سراہا اور کھلے دل سے داد دی، کیونکہ کیمرے کے سامنے ہم محنت کرتے، پسینہ بہاتے اور دوڑ دھوپ کرتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اس پوری کہانی کا اصل ہیرو اور روشن باب وہ شخصیت تھی جو کیمرے کی چمک دھمک سے دور، پسِ پردہ رہ کر اس پورے سفر کی اصل طاقت اور روح بنی رہی۔
فلم کے ابتدائی آئیڈیا کی تخلیق سے لے کر، کہانی کی تشکیل، شوٹنگ کے چیلنجز اور پھر فائنل کٹ اور ایڈیٹنگ کی باریکیوں تک سر احمد حماد نے اپنی شدید ترین مصروفیات اور گوناگوں ذمہ داریوں کے باوجود کبھی ہمارا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے بغیر کسی مادی فائدے، لالچ یا معاوضے کے لمحہ بہ لمحہ ہماری رہنمائی کی۔ اکثر رات کے آخری پہر، جب پوری دنیا سو رہی ہوتی تھی اور ہم کسی فکری الجھن یا ایڈیٹنگ کے مسئلے کا شکار ہوتے، تو سر کو میسج کرنے پر فوراً ان کا محبت بھرا، تفصیلی اور بصیرت افروز جواب موصول ہو جاتا۔ دن ہو یا رات، سر احمد حماد ہمیشہ ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ڈھال بن کر ہماری ہمت بڑھانے کے لیے موجود رہے۔ یہی ان کا بے لوث جذبہ اور شفقت تھی جس نے ہمیں روایت کی لکیر پیٹنے کے بجائے کچھ مختلف اور منفرد کرنے کا حوصلہ بخشا۔
یہ فلم بہت جلد سینما گھروں کی زینت بنے گی اور یہ میری زندگی کی دوسری ایسی فلم ہے جسے میں اپنی پروفائل اور پورٹ فولیو پر بے حد فخر اور مان کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ بظاہر بشر ہونے کے ناتے اس میں کچھ خامیوں اور کمیوں کا امکان ضرور موجود ہوگا، لیکن ہم نے اپنے پورے دل، روح اور خونِ جگر سے محنت کی ہے اور اس سعیِ لاحاصل نہ ہونے پر ہمیں کامل فخر ہے۔
اس کا تمام تر کریڈٹ ہمارے قابلِ احترام استاد سر احمد حماد کی ذات کو جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف ہمیں خود اعتمادی کی دولت بخشی بلکہ گزشتہ چھ سمسٹرز کے طویل اور یادگار سفر میں عملی کام کے داؤ پیچ اور ان کی باریک بینیاں بھی سکھائیں۔ انہوں نے ہمیں صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ عملی دنیا میں اپنے کام سے اپنی پہچان بنانا سکھایا۔
بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا ہے کہ ہر طالب علم کو سر احمد حماد جیسا شفیق، بے لوث، حوصلہ افزا اور مخلص استاد میسر آئے، جو اپنے شاگردوں کی کامیابی کو اپنی ذاتی کامیابی سمجھ کر ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔ ہمیں اس بات پر تا حیات ناز اور فخر رہے گا کہ ہم ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے شاگرد ہیں جو ایک بلند پایہ شاعر بھی ہیں، صاحبِ طرز مصنف بھی اور ایک بے مثال استاد بھی—اگر آسان اور جامع الفاظ میں کہوں تو وہ فن کی دنیا کا ایک جامع الحیثیات اور سچے معنی میں ہر فن مولا انسان ہیں!
نوٹ: یہ تمام باتیں میں ذاتی طور پر تین سالہ مشاہدات کے بعد لکھ رہا ہوں، میری رائے بھی پہلے مختلف تھی جیسے اکثریت کی اب بھی ہے...!
سید علی رضا