13/09/2026
کبھی کبھی ایک تصویر، محض ایک تصویر نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا پر تصاویر کو 1980ء کی دہائی کے انداز میں تبدیل کرنے کے رجحان نے جب پرانی یادوں کو ایک بار پھر زندہ کیا تو میرے مرحوم والد، چوہدری محمد اسلم مارتھ، کی کچھ تصاویر میری گیلری میں سامنے آ گئیں۔ یہ تصاویر اُس زمانے کی ہیں جب وہ 1980ء کی دہائی میں جرمنی میں تھے۔ میں کچھ دیر ٹھہر گیا، خاموشی سے ان تصاویر کو دیکھتا رہا، اور یادوں کا ایک سلسلہ سا چل پڑا۔ دل نے چاہا کہ ان یادوں اور احساسات میں سے کچھ کو لفظوں میں ڈھال دوں۔
ابا جی 5 فروری 2022ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن وہ اپنے پیچھے صرف مادی چیزیں نہیں چھوڑ گئے؛ بلکہ اقدار، رشتے، یادیں اور ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئے جو آج بھی ہم سب کے ذریعے زندہ ہے۔
مجھے آج بھی ان کی تعلیم سے گہری محبت اور وابستگی یاد ہے۔ وہ پختہ یقین رکھتے تھے کہ تعلیم ایک بہتر زندگی کی بنیاد ہے، خصوصاً بیٹیوں کے لیے۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہر بیٹی کو تعلیم یافتہ، بااختیار اور خودمختار ہونا چاہیے۔ وہ دوسروں کو بھی ترغیب دیتے کہ اپنے بچوں کو بہترین ممکنہ تعلیم دلوائیں۔ یہ یقین ان کے دل کے بہت قریب تھا، اور جب وہ بچوں، خصوصاً بچیوں کو تعلیم حاصل کرتے اور اپنے بہتر مستقبل کی تعمیر کرتے دیکھتے تو انہیں بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوتا تھا۔
آج کا دور یکسر بدل چکا ہے، مگر مجھے نوے کی دہائی کے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔ ابا جی فجر کی نماز کے وقت ہمیں جگایا کرتے تھے۔ ہم مسجد میں باجماعت فجر کی نماز ادا کرتے، پھر قاری صاحب کے پاس قرآنِ پاک پڑھتے۔ اُس وقت قرآنِ پاک کی جو سورتیں ہم نے یاد کیں، وہ آج بھی ہمیں ازبر ہیں۔ اُس عمر میں شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ معمول ہماری شخصیت اور زندگی کی بنیادوں پر کس قدر گہرا اثر ڈال رہا تھا، مگر آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ابا جی ہمیں صرف نماز اور قرآن نہیں سکھا رہے تھے؛ وہ ہمارے اندر نظم و ضبط، دین سے وابستگی اور زندگی کے بنیادی اصولوں کی بنیاد رکھ رہے تھے۔
تعلیم کے حوالے سے بھی ان کا شوق اور وابستگی غیر معمولی تھی۔ اسکول سے کالج اور پھر یونیورسٹی تک، ہماری تعلیم کے ہر مرحلے میں ان کی دلچسپی ہمیشہ نمایاں رہی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے لے کر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد تک، وہ ہماری تعلیم کے بارے میں نہ صرف مسلسل فکر مند رہتے بلکہ اکثر ہم سے ملنے آتے، ہمارے اساتذہ سے ملاقات کرتے اور ہماری تعلیمی پیش رفت کے بارے میں دریافت کرتے۔ ہماری تعلیم ان کے لیے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ایسا خواب تھا جس سے وہ دل کی گہرائیوں سے وابستہ تھے۔
وہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کے لیے بھی بے حد مخلص تھے۔ وہ ہمارے خاندان کے محور تھے۔ ہمیشہ سب کو متحد رکھنے، اختلافات ختم کرنے، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے ہمیں اپنی عملی زندگی سے یہ سکھایا کہ خاندان ایک نعمت ہے، لیکن اسے متحد رکھنا ایک ذمہ داری بھی ہے۔
ان کا سیاسی سفر ان کی جرأت، استقامت اور ثابت قدمی کی عکاسی کرتا تھا۔ طاقتور مخالفین کے باوجود انہوں نے کبھی مشکلات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ وہ مسلسل چار انتخابات جیتے اور ان لوگوں کا اعتماد اور محبت حاصل کی جن کی وہ خدمت کرتے رہے۔ تین دہائیوں تک وہ اپنے لوگوں اور اپنے سیاسی گروپ کے ساتھ وفادار رہے، کیونکہ ان کے لیے وفاداری محض ایک سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اصول اور عہد تھا۔
لیکن سیاست ان کے لیے کبھی صرف انتخابات یا عہدوں کا نام نہیں تھی؛ ان کے نزدیک سیاست خدمت کا ذریعہ تھی۔ ان کے دروازے خاندان، دوستوں، عزیزوں اور عام لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
جوں جوں میں خود عمر کے اس مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہوں، اور خصوصاً خود ایک باپ بننے کے بعد، میں ان کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کی قربانیوں کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے لگا ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان ان کاموں کی قدر کو سمجھتا ہے جو ایک باپ ہماری زندگی میں اس وقت کرتا ہے جب ہم کم عمر ہوتے ہیں اور وہ ہمیں معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل محبت، ذمہ داری اور قربانی کے غیر معمولی مظاہر تھے۔
ان کا سب سے بڑا ورثہ نہ وہ انتخابات تھے جو انہوں نے جیتے، نہ وہ کاروبار جو انہوں نے قائم کیا، اور نہ وہ عہدے جو انہیں حاصل رہے۔ ان کا اصل ورثہ وہ اقدار تھیں جو انہوں نے ہمارے اندر پروان چڑھائیں—تعلیم سے محبت، مشکلات کے سامنے حوصلہ، محنت، وفاداری، دوسروں کا احترام، لوگوں کی مدد ، لوگوں کے آسانیاں بانٹنا اور سب سے بڑھ کر خاندان کو متحد رکھنے کی اہمیت۔
ان کے خواب آج بھی ان لوگوں کے ذریعے زندہ ہیں جن کی انہوں نے مدد کی، ان رشتوں کے ذریعے جنہیں انہوں نے سنبھالا، ان زندگیوں کے ذریعے جنہیں انہوں نے چھوا، اور ان نسلوں کے ذریعے جو ان کی اقدار کو آگے لے کر چل رہی ہیں۔
ایک لمحے کے لیے جیسے برسوں کا فاصلہ مٹ گیا۔
میں نے محض 1980ء کی دہائی کی تصاویر نہیں دیکھیں؛ مجھے یوں لگا جیسے میں نے اپنے والد کو ایک بار پھر اپنے سامنے دیکھ لیا ہو اور میرے دل میں ایک گہرا احساسِ تشکر پیدا ہوا—اس بات پر شکر کہ مجھے ان کا بیٹا ہونے کا شرف حاصل ہوا، ان اقدار کے لیے جو انہوں نے ہمیں عطا کیں، اور اس حقیقت کے لیے کہ ان کا ایک حصہ آج بھی ہم سب کے اندر زندہ ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے والد محترم پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ان تمام دعاؤں اور نیکیوں کو، جن کی انہوں نے بنیاد رکھی یا جن کی ترغیب دی، ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم تمام بھائیوں کے درمیان محبت اور اتحاد کے رشتے کو مضبوط رکھے، ہمارے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے محبت، سمجھ بوجھ اور رحم و شفقت سے بھر دے، اور ہمیں ایک دوسرے کے لیے طاقت، سہارا اور حوصلے کا ذریعہ بنائے—جیسا کہ ہمارے والد ہمیشہ چاہتے تھے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲
ہمیشہ یاد آئیں گے۔
ہمیشہ محبت سے دل میں بسے رہیں گے۔
اور ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ، باعثِ حوصلہ اور ہماری زندگیوں میں ایک روشن چراغ کی طرح رہیں گے۔