28/04/2026
قائدِ اعظم لائبریری، لاہور میں World Book and Copyright Day کے موقع پر ریٹائرڈ بیوروکریٹ محمد سعید مہدی کی تصنیف
The Eyewitness: Standing in the Shadows of
Pakistan's History
پر ایک مشترکہ مباحثہ منعقد کیا گیا
اس علمی نشست میں ملک کی معروف و ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں جناب مجیب الرحمان شامی، جناب طارق کھوسہ، محترمہ سلیمہ ہاشمی، محترمہ منیزہ ہاشمی، جناب خالد مسعود، جناب خالد ایم رسول اور جناب آصف بھلی اور محترمہ امینہ سید و دیگر شامل ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز جناب کاشف منظور نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر چیف لائبریرین جناب عبد الرحیم قائدِ اعظم لائبریری کے پروفیشنل اسٹاف کے ہمراہ موجود تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ لائبریرین محترمہ عائشہ سبحانی نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے ۔
محمد سعید مہدی نے اپنی کتاب تحریر کرنے کے سفر کو نہایت دلنشین اور جامع انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے اُن نادر اور چشم دید واقعات پر روشنی ڈالی جو اس سے قبل کسی کتاب یا سرکاری دستاویز کا حصہ نہیں بن سکے تھے، جس سے اس تصنیف کی انفرادیت مزید اُجاگر ہوئی۔
انہوں نے اپنے تجربات کے تناظر میں محمد ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو سے ہونے والی ملاقاتوں کے دلچسپ اور معلوماتی پہلوؤں کو بھی بیان کیا، جو حاضرین کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث بنے۔ مزید برآں، انہوں نے اپنی زندگی کے ایک اہم اور کٹھن مرحلے—دو سالہ اسیری—کا ذکر کرتے ہوئے اُس دور کے حالات، مشاہدات اور سیکھے گئے اسباق کو بھی نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جس نے سامعین کو گہرے تاثر میں مبتلا کر دیا-
مباحثے کے دوران شرکاء نے محمد سعید مہدی سے مختلف سوالات کیے، جن کے جوابات نہایت مدلل اور معلوماتی تھے۔ گفتگو انتہائی بصیرت افروز رہی اور حاضرین نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ مباحثے میں شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز کاشف منظور نے محمد سعید مہدی کی اس تصنیف کو نہ صرف ایک جرات مندانہ کاوش بلکہ پاکستان کی معاصر تاریخ کی ایک نہایت اہم، مستند اور قابلِ حوالہ دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ملکی سیاسی و انتظامی نظام کے پوشیدہ پہلوؤں کو بے باکی سے سامنے لانے والی ایک منفرد تصنیف ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ ثابت ہوگی۔
اس علمی نشست میں لائبریری کے قارئین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی، جو اس کتاب اور موضوع کے حوالے سے غیر معمولی دلچسپی کا مظہر ہے۔