ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

  • Home
  • Pakistan
  • Lahore
  • ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے تمھارے علاؤہ میرے لیے کوئی دلکش نہیں💙

دل کی زمین پر گلابی رنگ کا اک پھول کھلا ہے، ہُو بہ ہُو محبت جیسا ہے ,  بالکل تم جیسا ہے ۔ 🌸
04/09/2026

دل کی زمین پر گلابی رنگ کا اک پھول کھلا ہے، ہُو بہ ہُو محبت جیسا ہے ,

بالکل تم جیسا ہے ۔ 🌸

ہمارے بیچ بھلے جس قدر بھی دوری ہےذرا ذرا سا مگر رابطہ ضروری ہےتمہارا چھوڑ کے جانا ابھی نہیں بنتاذرا رکو کہ کہانی ابھی اد...
04/09/2026

ہمارے بیچ بھلے جس قدر بھی دوری ہے
ذرا ذرا سا مگر رابطہ ضروری ہے

تمہارا چھوڑ کے جانا ابھی نہیں بنتا
ذرا رکو کہ کہانی ابھی ادھوری ہے

ہمارا تجربہ کچھ مختلف ہے لوگوں سے
جسے وہ عشق سمجھتے ہیں جی حضوری ہے

تُم جو پل بھر کو ٹھہر جاؤ تو۔۔۔!!💙تم جو پل کو ٹھہر جاؤ تو یہ لمحے بھی آنے والے لمحوں کی امانت بن جائیںتم جو ٹھہر جاؤ تو ...
04/09/2026

تُم جو پل بھر کو ٹھہر جاؤ تو۔۔۔!!💙

تم جو پل کو ٹھہر جاؤ تو یہ لمحے بھی
آنے والے لمحوں کی امانت بن جائیں
تم جو ٹھہر جاؤ تو یہ رات ، مہتاب
یہ سبزہ ، یہ گلاب اور ہم دونوں کے خواب
سب کے سب ایسے مباہم ہوں کہ حقیقت ہو جائیں
تم ٹھہر جاؤ کہ عنوان کی تفسیر ہو تم
تم سے تلخیء اوقات کا موسم بدلے
رات تو کیا بدلے گی ، حالات تو کیا بدلیں گے
تم جو ٹھہر جاؤ تو میری ذات کا موسم بدلے
مہربان ہو کے نہ ٹھہرو تو پھر یوں ٹھہرو
جیسے پل بھر کو کوئی خوابِ تمنّا ٹھہرے
جیسے درویشِ مادہ نوش کے پیالے میں کبھی
اِک دو پل کے لیئے تلخیء دنیا ٹھہرے
ٹھہر جاؤ کے مدارات میخانے سے
چلتے چلتے کوئی اِک آدھ سبو ہو جائے
اس سے پہلے کہ کوئی لمحہء آئندہ کا تیر
اس طرح آئے کہ پیوستِ گُلو ہو جائے
تم جو پل کو ٹھہر جاؤ تو ۔۔۔۔۔!!

فیض احمد فیض

تمہارا ساتھ  چاہیے💙🌹ایسا ساتھ کے تمہارا ہاتھ تھام کر مجھے یہ سوچنا نہ پڑےکہ تم کل بھی میرے ساتھ ہو گے یا نہیں…میں چاہتی ...
04/09/2026

تمہارا ساتھ چاہیے💙🌹
ایسا ساتھ
کے تمہارا ہاتھ تھام کر مجھے یہ سوچنا نہ پڑے
کہ تم کل بھی میرے ساتھ ہو گے یا نہیں…
میں چاہتی ہوں
ہماری محبت اُن لوگوں جیسی نہ ہو
جو ایک دوسرے کو پانے کے لیے
دنیا سے لڑتے ہیں
بلکہ اُن جیسی ہو
جو ایک دوسرے کو پا کر
دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
تم میرے ساتھ رہو
تو ضروری نہیں
ہر روز مجھے محبت کہہ کر سناؤ
کبھی کبھی
میری خاموشی کے پاس بیٹھ جانا
میرے چہرے سے پڑھ لینا
کہ آج دل بھاری ہے…

میں تم سے ایسی محبت چاہتی ہوں
جس میں جدائی کا خوف
ہو مگر جدائی کا یقین نہ ہو
جس میں خاموشیاں بھی
ایک دوسرے کو سمجھتی ہوں
اور جس میں عمر کے آخری حصے میں بھی
تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو اور مجھے فخر ہو
اچھا ہوا
میں نے تمہیں چُنا تھا…🎀

اور شاید اُس لمحے
مجھے کسی دعا کسی معجزے
کسی اور زندگی کی خواہش نہ رہے
کیونکہ میری ساری خواہشیں
تمہارے ہاتھ کی اس ایک گرفت میں
پوری ہو چکی ہوں گی❤️💙

ڈھونڈ لیں گے ہم بھی وہ پناہ کبھی  کہنے والے جسے ،  سکون کہتے ہیں 💙💋 محبت کی ، عقل کی ، حدیں توڑ کر اور تجهے  ہم ،  وجہ ج...
04/09/2026

ڈھونڈ لیں گے ہم بھی وہ پناہ کبھی
کہنے والے جسے ، سکون کہتے ہیں 💙💋

محبت کی ، عقل کی ، حدیں توڑ کر
اور تجهے ہم ، وجہ جنون کہتے ہیں

شاخ سے توڑ کے گلدان میں رکھا ہم کو اور پھر اس پہ یہ  ہدایت  کہ مہکتے رہنا ۔
04/09/2026

شاخ سے توڑ کے گلدان میں رکھا ہم کو
اور پھر اس پہ یہ ہدایت کہ مہکتے رہنا ۔

ھم ھمیشہ کے ، سَیر چشم سَہیتجھ کو دیکھیں تو ، آنکھ بَھرتی نہیں۔💙😍💋یہ مُحبت ھے، سُن ، زمانے سُناِتنی آسانیوں سے ، مَرتی ن...
04/09/2026

ھم ھمیشہ کے ، سَیر چشم سَہی
تجھ کو دیکھیں تو ، آنکھ بَھرتی نہیں۔💙😍💋
یہ مُحبت ھے، سُن ، زمانے سُن
اِتنی آسانیوں سے ، مَرتی نہیں۔

دریچے کے اُس پار دنیا ہمیشہ مصروف دکھائی دیتی ہے—گزرتے لوگ، روشن چہرے، ہنستی آوازیںاور زندگی کو پوری آب و تاب سے جیتے ہو...
04/09/2026

دریچے کے اُس پار دنیا ہمیشہ مصروف دکھائی دیتی ہے—
گزرتے لوگ، روشن چہرے، ہنستی آوازیں
اور زندگی کو پوری آب و تاب سے جیتے ہوئے لمحے۔

مگر دریچے کے اِس پار
ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے؛
جہاں شور نہیں، صرف احساسات ہوتے ہیں،
جہاں شخصیت نہیں، اپنے ہونے کا مان پایا جاتا ہے،
اور ہر سرکتا ہوا وقت اپنے پیچھے۔
کوئی نہ کوئی خیال چھوڑ جاتا ہے۔

باہر موسم درختوں پر اترتے ہیں،
اندر وہی موسم یادوں پر برستے ہیں۔
باہر بارش زمین کو بھگوتی ہے،
مگر اندر کبھی ایک بوند
برسوں پرانے احساس کو زندہ کر دیتی ہے۔

عجیب فرق ہے دونوں دنیاؤں میں—
باہر سب کچھ نظر آتا ہے،
اور اندر صرف وہی باقی رہتا ہے
جو محسوس ہوتا ہے۔

شاید اسی لیے دریچے باہر کھلتے ہیں،
مگر بعض منظر
انسان کو اپنے ہی اندر لے جاتے ہیں

مکہ کی گلیوں میں ایک خبر پھیلی۔مگر اس خبر پر کسی کے گھر میں ماتم نہیں تھا۔کچھ چہروں پر مسکراہٹ تھی۔رسول اللہ ﷺ کے دوسرے ...
04/09/2026

مکہ کی گلیوں میں ایک خبر پھیلی۔

مگر اس خبر پر کسی کے گھر میں ماتم نہیں تھا۔

کچھ چہروں پر مسکراہٹ تھی۔

رسول اللہ ﷺ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تھا۔

ایک باپ کے لیے یہ کیسا لمحہ ہوتا ہے، اسے وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کا ٹکڑا مٹی کے سپرد کیا ہو۔

مگر مکہ کے کچھ لوگوں کے لیے یہ غم نہیں، خوشی کی خبر تھی۔

ابو لہب تو پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔

آج تو جیسے اسے اپنی خوشی کا ایک اور بہانہ مل گیا تھا۔

صبح ہوئی تو وہ ایک گھر سے دوسرے گھر جانے لگا۔

اور لوگوں کو خبر سناتے ہوئے طنز سے کہتا:

"اَبْتَرَ مُحَمَّدٌ اللَّیْلَةَ"

محمد ﷺ کی جڑ آج رات کٹ گئی۔

نعوذ باللہ۔

وہ سمجھتا تھا کہ بیٹے کے چلے جانے کے ساتھ محمد ﷺ کا مستقبل بھی ختم ہو گیا۔

جیسے ایک درخت کی جڑ کاٹ دی جائے تو اس کے لیے کھڑا رہنا ممکن نہیں رہتا۔

---

پھر مکہ کے ایک اور سردار نے اس طعنے کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔

عاص بن وائل۔

جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا، وہ تحقیر سے کہتا:

"انہیں چھوڑو… وہ تو ابتر ہیں۔"

وہ یہ لفظ صرف زبان سے نہیں بولتا تھا۔

وہ چاہتا تھا کہ یہ لفظ لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر جائے۔

کہ محمد ﷺ کی نسل باقی نہیں رہے گی۔

کہ ان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

کہ ان کا ذکر وقت کے ساتھ مٹ جائے گا۔

اور سب سے بڑھ کر—

وہ چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے دل کا زخم ہر بار تازہ ہو۔

مسلمان گلیوں سے گزرتے تو پیچھے سے آواز آتی:

"ابتر!"

پھر دوسری طرف سے:

"ابتر!"

ایک لفظ۔

مگر ہر بار جیسے کسی زخمی دل پر تیر۔

---

پھر آسمان نے جواب دیا۔

اور ایسا جواب آیا جس نے مکہ کی زبان ہی بدل دی۔

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ۝

بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۝

پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔

پھر آخری ضرب آئی:

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۝

بے شک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔

بس۔

وہی لفظ…

جو دشمن نے طعنہ بنا کر پھینکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھایا اور اسی دشمن کی طرف لوٹا دیا۔

ابتر محمد ﷺ نہیں تھے۔

ابتر تو وہ تھا جو محمد ﷺ سے بغض رکھتا تھا۔

---

مکہ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔

کل تک لوگ ایک لفظ سنتے تھے:

ابتر۔

اب ایک دوسرا لفظ ہر طرف گونجنے لگا:

کوثر۔

"کوثر کیا ہے؟"

لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔

بازاروں میں بات ہونے لگی۔

محفلوں میں سوال ہونے لگا۔

اہلِ زبان سے پوچھا جانے لگا۔

اہلِ علم کی طرف لوگ جانے لگے۔

وہ لوگ جو کل تک "ابتر" کا لفظ پھیلا رہے تھے، اب خود ایک نئے لفظ کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔

کوثر۔

یہ لفظ ان کے پروپیگنڈے پر ایسا چھایا کہ ان کا پھیلایا ہوا "ابتر" خود پس منظر میں چلا گیا۔

انہوں نے ایک لفظ سے محمد ﷺ کا نام مٹانا چاہا تھا۔

اللہ نے ایک لفظ سے ان کے پورے منصوبے کو بے معنی کر دیا۔

---

عرب کی زبان اپنی فصاحت پر ناز کرتی تھی۔

شاعروں کا کلام کعبہ کے گرد اپنی جگہ بناتا تھا۔

اعلان ہوتے تھے۔

چیلنج دیے جاتے تھے۔

"اگر اس کلام کا جواب ہے تو لاؤ۔"

مگر قرآن سامنے آیا تو معاملہ بدل گیا۔

سورۃ الکوثر—

صرف تین آیات۔

چھوٹی سی سورت۔

مگر ایسی تاثیر کہ بڑے بڑے فصحاء خاموش رہ گئے۔

وہ جواب دینا چاہتے تھے۔

مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔

مگر جس زبان پر انہیں فخر تھا، اسی زبان نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔

آخرکار وہ عاجز ہو کر رہ گئے۔

کیونکہ یہ انسانی کلام نہیں تھا۔

---

ذرا غور کیجیے۔

دشمن نے کہا:

"ابتر!"

اللہ نے فرمایا:

"کوثر!"

دشمن نے کہا:

"ان کی نسل نہیں رہے گی۔"

اللہ نے عطا فرمائی:

خیرِ کثیر۔

دشمن نے کہا:

"ان کا نام مٹ جائے گا۔"

اللہ نے فرمایا:

"وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ"

اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔

---

صدیاں گزر گئیں۔

وہ لوگ کہاں ہیں جو "ابتر" کہتے تھے؟

وہ زبانیں کہاں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کا نام سن کر تمسخر کرتی تھیں؟

وہ محفلیں کہاں ہیں جہاں یہ منصوبہ بنایا جاتا تھا کہ محمد ﷺ کا نام وقت کے ساتھ مٹ جائے گا؟

سب گزر گئے۔

مگر محمد ﷺ کا نام؟

آج بھی فجر کے وقت بلند ہوتا ہے۔

آج بھی اذان میں بلند ہوتا ہے۔

آج بھی بچے جب قرآن پڑھتے ہیں تو اس نام کی محبت ان کے دل میں اترتی ہے۔

آج بھی کروڑوں زبانیں درود بھیجتی ہیں۔

اور قیامت تک بھیجتی رہیں گی۔

جنہوں نے سمجھا تھا کہ نام اولاد سے باقی رہتے ہیں،

انہیں تاریخ نے بتا دیا کہ نام صرف اولاد سے نہیں رہتے۔

کچھ نام اللہ خود باقی رکھتا ہے۔

---

وہ شخص جسے "ابتر" کہا گیا تھا—

اس کا ذکر آج زمین کے ہر خطے میں ہے۔

اور وہ لوگ جنہوں نے اسے "ابتر" کہا تھا—

ان کے نام آج صرف اس لیے باقی ہیں کہ وہ اس عظیم ہستی کے دشمن تھے۔

کیا عجیب فیصلہ ہے وقت کا۔

جس نام کو مٹانے نکلے تھے،

اپنا نام مٹوا بیٹھے۔

اور جسے بے نسل، بے نشان اور بے ذکر سمجھ رہے تھے—

اس کا ذکر قیامت تک بلند کر دیا گیا۔

یہ صرف تاریخ نہیں۔

یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔

اور اللہ کے فیصلے کے سامنے زمانے کے سارے شور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ

بے شک آپ ﷺ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔

اور شاید اس واقعے کا سب سے گہرا جواب یہی ہے:

جڑ وہ نہیں کٹتی جس کا ایک درخت دنیا سے چلا جائے؛
جڑ وہ کٹتی ہے جس کا نام دنیا کے دلوں سے مٹ جائے۔

اور محمد ﷺ کا نام؟

وہ تو اللہ نے خود بلند کر دیا۔

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔

سات رنگوں کی قسم !!!تم جانتے ہو نااں ____میں وہ ہشتم رنگ ہوں جو کسی کتاب میں نہیں ملتا،کسی آسمان میں نہیں دکھتا،صرف تمہا...
04/09/2026

سات رنگوں کی قسم !!!
تم جانتے ہو نااں ____

میں وہ ہشتم رنگ ہوں جو کسی کتاب میں نہیں ملتا،
کسی آسمان میں نہیں دکھتا،
صرف تمہاری آنکھوں میں جاگتا ہے

میں تیرے لمس، تیرے لہجے،
تیرے قریب آنے کی نرمی میں
یوں رنگ جاتی ہوں

جیسے بے رنگ کاغذ پر اچانک
زندگی اتر آئے

تمہاری قربت میرا رنگ بدل نہیں دیتی__
مجھے مکمل کر دیتی ہے

میں سنور جاتی ہوں، نکھر جاتی ہوں،

ہر ادھورا پن جیسے پورا ہو جاتا ہے۔

تمہاری محبت میں رنگا یہ میرا ہشتم رنگ
دوسرے سب رنگوں پر بھاری ہے
کیونکہ یہ رنگ صرف تمہارا ہے ۔۔۔

💙🌹❤️

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category