Fiaz Masih Nasir

Fiaz Masih Nasir senior vice President Punjab

21/07/2026

Breaking News
پادری کے خلاف شادی کا جھانسہ دے کر جنسی استحصال، دھمکیاں دینے اور دھوکہ دہی پر اندراج مقدمہ کی درخواست
ننکانہ سٹی تھانہ میں سحرش ولیم کی مدعیت میں پادری ابرار جان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست درج ۔
پادری ابرار جان شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا شادی کا جھانسہ دے کر جنسی تعلق قائم رکھا۔ شادی اور بچوں بارے معلوم ہونے پر شادی سے انکاری ہوگیا بد تمیزی ، گالم گلوچ اور جان سے مانے کی دھمکیاں دیں۔ درخواست گزار کا موقف۔
مدعیہ سحرش کی وزیر اعلی مریم نواز اور ڈی پی او ننکانہ سے انصاف کی اپیل۔

بلیک میلنگ ہے عدالت میں سامنا کرونگا / پادری ابرار جان کا موقف

21/07/2026
سپورٹ کریں ویڈیو کو لائک اور کمنٹ لازمی شکریہ
18/07/2026

سپورٹ کریں ویڈیو کو لائک اور کمنٹ لازمی شکریہ

Assalamualaikum dosto!Aaj maine apne *Haier AC ki service* karwai ...

اللہ تعالیٰ معاف فرمائے
16/07/2026

اللہ تعالیٰ معاف فرمائے

مری میں شدید نقصان کی تازہ صورتحال 💔ساری عمارتیں ٹوٹ کر گر گئی ہیں...

ہائے ہائے غربت😭۔ ‏ملتان میں کفن دفن کے پیسے نہ ہونے پر والد اپنے نوجوان بیٹے کی میت گھر میں موجود چادر میں لپیٹ کر قبرست...
30/06/2026

ہائے ہائے غربت😭۔ ‏ملتان میں کفن دفن کے پیسے نہ ہونے پر والد اپنے نوجوان بیٹے کی میت گھر میں موجود چادر میں لپیٹ کر قبرستان تدفین کیلئے پہنچ گیا. باپ کے پاس بیٹے کو دفنانے کے لیئے کفن تک کے پیسے نہیں ہیں
💔🥲
میرے دیس کا غریب اور سفید پوش رُل گیا۔ اور اشرافیہ، حکمران اور جاگیردار عیش میں۔

اگر دنیا کے مسائل حل کرنے سے فرصت مل جائے تو پلیز پاکستانیوں کے حال پر بھی رحم کردیں ...😢یہ منظر صرف ایک خاندان کا نہیں،...
30/06/2026

اگر دنیا کے مسائل حل کرنے سے فرصت مل جائے تو پلیز پاکستانیوں کے حال پر بھی رحم کردیں ...😢

یہ منظر صرف ایک خاندان کا نہیں، پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

ایک زخمی بیوی، جس کے کپڑے اپنے شوہر کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور دو معصوم بچے جنہیں شاید ابھی یہ احساس بھی نہیں کہ ان کے سر سے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ چکا ہے۔

بلوچستان میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے نے ہر درد مند انسان کو غمزدہ کر دیا ہے۔ بے گناہ شہریوں کا خون بہانا نہ صرف انسانیت بلکہ ہر مذہب، ہر قانون اور ہر اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔ ایسے سانحات کسی ایک خاندان کا نہیں، پوری قوم کا دکھ ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، زخمی خاتون کو جلد صحتِ کاملہ نصیب فرمائے، اور ان معصوم بچوں سمیت تمام سوگوار اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے، اور ملک بھر میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔

نفرت نہیں، امن چاہیے۔
تشدد نہیں، انسانیت چاہیے۔
خاموشی نہیں، انصاف چاہیے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، اتحاد، بھائی چارے اور استحکام کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔

فرانسیسی خاتون جس شوہر کا فرانس میں سہارا بنی، اسی نے پاکستان لا کر قیدی بنا دیا، خاتون کو محبت کے ہجرت کے نتیجے میں شرو...
29/06/2026

فرانسیسی خاتون جس شوہر کا فرانس میں سہارا بنی، اسی نے پاکستان لا کر قیدی بنا دیا، خاتون کو محبت کے ہجرت کے نتیجے میں شروع ہونے والی 12 سالہ قید سے رہائی مل گئی۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کے پاکستان آنے اور اس کے بعد بدلنے والے حالات کے جبر کی نشاندہی کرتی ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نظر آنے والا فرق صرف دو مختلف زمانوں کا نہیں بلکہ ایک ہنستی کھیلتی زندگی کے اجڑنے اور ایک تاریک قید خانے میں بدلنے کی داستان ہے، دائیں جانب پیرس کے ایفل ٹاور کے سائے تلے کھڑی ایک پُرکشش، پُراعتماد فرانسیسی دوشیزہ ہے، جبکہ بائیں جانب اسی عورت کا حال ہے جو پاکستان کے ضلع خیبر کے ایک کچے مکان سے 12 سالہ بدترین تشدد اور قید کے بعد بازیاب کروائی گئی ہے، محبت کے نام پر ہجرت کرنے والی اس بدقسمت خاتون کا نام سلوی یاسمینہ ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ کبھی فرانس میں اپنے پاکستانی شوہر کا مضبوط سہارا تھیں، انہوں نے اپنے جیون ساتھی کی ہر ممکن مالی مدد کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت پر اندھا بھروسہ کرتے ہوئے 2014ء میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان کے علاقے باڑہ ضلع خیبر منتقل ہو گئیں، لیکن جیسے ہی انہوں نے پاکستان کی دھرتی پر قدم رکھا، ان کی زندگی ایک ایسے بھیانک قید خانے میں بدل گئی جہاں سے چیخیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھیں۔
سلوی یاسمینہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں سے گھر سے باہر نکلنے کی ذرا سی بھی اجازت نہیں تھی، کسی سے بات کرنے، ملنے یا فون استعمال کرنے تک کی آزادی ان سے چھین لی گئی تھی، وہ کہتی ہیں کہ ظلم کی انتہا صرف ان تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے معصوم بچوں اور بالخصوص بیٹی کو بھی روزانہ شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ معلوم ہوا ہے کہ کئی برس اسی خاموشی اور سسکتے ہوئے گزر گئے،
، جس کے بعد اس خاندان کے لیے آزادی کی نئی صبح طلوع ہوئی۔ اس ضمن میں پولیس حکام نے بتایا ہے کہ فارن آفس یعنی وزارتِ خارجہ کی وساطت سے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک سرکاری مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی باوقار وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے

لگتا ہے ان تینوں کے پاس دوزخ کی کنفرم ریزرویشن ہے، کیونکہ جو کارنامے یہ انجام دے رہے ہیں وہ جنت والوں کی لسٹ میں تو دور ...
28/06/2026

لگتا ہے ان تینوں کے پاس دوزخ کی کنفرم ریزرویشن ہے، کیونکہ جو کارنامے یہ انجام دے رہے ہیں وہ جنت والوں کی لسٹ میں تو دور دور تک نظر نہیں آتے۔

ادھر ایک اور عجیب قصہ سامنے آیا۔ ایک عورت نے خفیہ طور پر دو مردوں سے شادی کر رکھی تھی، اور حیرت کی بات یہ کہ دونوں شوہروں کو ایک دوسرے کے وجود کا علم ہی نہیں تھا۔ کئی سال تک سب کچھ آرام سے چلتا رہا۔ پھر ایک دن اتفاق سے دونوں آمنے سامنے آگئے۔ پہلے تو انہیں لگا کوئی غلط فہمی ہے، لیکن جب ثبوت سامنے آئے تو دونوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

گاؤں والوں نے سوچا اب ضرور مار کٹائی ہوگی، مقدمے ہوں گے اور عدالتوں کے چکر لگیں گے۔ مگر حیرت انگیز طور پر تینوں نے بیٹھ کر بات کی۔ کافی بحث، ناراضی اور حساب کتاب کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ جھگڑا کرنے سے بہتر ہے اتفاق سے رہا جائے۔ چنانچہ دونوں شوہر اور ایک ہی بیوی نے مل جل کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔

اب محلے والے روز یہ تماشا دیکھتے ہیں اور سر پکڑ کر کہتے ہیں: "بھائی، دنیا میں سب کچھ دیکھا تھا، مگر یہ والا سسٹم پہلی بار دیکھا ہے!"

جھنگ لڑکی رول نمبر سلپ لینے نکلی تھی — تین دن بعد لاش واپس آئی! جھنگ میں چار درندوں نے 17 سالہ طالبہ کو موت کے گھاٹ اتار...
10/06/2026

جھنگ
لڑکی رول نمبر سلپ لینے نکلی تھی — تین دن بعد لاش واپس آئی! جھنگ میں چار درندوں نے 17 سالہ طالبہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا!جھنگ میں ایک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ صرف اپنی رول نمبر سلپ لینے گھر سے نکلی تھی — ایک معصوم کام، ایک چھوٹا سا قدم — اور یہی آخری قدم ثابت ہوا۔ راستے میں چار درندوں نے اسے اغوا کر لیا اور تین دن تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ جب اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تو انہوں نے اسے نجی ہسپتال میں پھینک دیا، جہاں سے DHQ ہسپتال جھنگ ریفر کیا گیا — لیکن وہ بچ نہ سکی اور گزشتہ رات اس دنیا سے چلی گئی۔
وہ پڑھنا چاہتی تھی — امتحان دینا چاہتی تھی — اپنی زندگی بنانا چاہتی تھی۔ اور ان درندوں نے تین دن میں اس کی پوری زندگی چھین لی۔

یہ چار ملزمان ابھی تک کہاں ہیں؟ کیا گرفتار ہوئے؟ کیا پولیس نے کوئی کارروائی کی؟ یا یہ کیس بھی فائلوں میں دب جائے گا؟
پولیس ڈیپارٹمنٹ، قانونی اداروں، وزیراعلیٰ مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے مطالبہ ہے کہ ان چاروں درندوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور سرعام ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی اور درندہ کسی کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے۔
والدین سے گزارش — خدارا اپنی بیٹیوں کو اکیلا نہ نکلنے دیں، ان کے ساتھ جائیں یا کسی قابل اعتماد شخص کو ساتھ بھیجیں۔ بیٹیوں کو سیلف ڈیفنس ضرور سکھائیں۔ یہ معاشرہ اب محفوظ نہیں رہا — لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں، بلکہ ہم اور زیادہ چوکس ہو جائیں۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ایک بچی رول نمبر سلپ لینے بھی محفوظ نہیں؟ یہ سوال ہم سب سے ہے — حکومت سے بھی، پولیس سے بھی اور ہم سب سے بھی جو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس معصوم طالبہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، اس کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان چاروں درندوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں عبرتناک سزا دے — آمین!

وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ : کیا میں آپ کی ریڈ لائن نہیں ہوں ؟؟؟ ڈیڑھ ماہ پہلے میرے ساتھ ایک بااثر ملزم نے ظلم اور زیا۔دت...
07/06/2026

وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ : کیا میں آپ کی ریڈ لائن نہیں ہوں ؟؟؟ ڈیڑھ ماہ پہلے میرے ساتھ ایک بااثر ملزم نے ظلم اور زیا۔دتی کی، مجھے نوچا اور اپنے نیچے دبوچ کر مجھے بے عزت کیا ، میں کہیں کی نہیں رہی ، تھانے گئی پرچہ درج ہوا اور چند روز بعد ملزم ضمانت کنفرم کروا کے رہا ہو گیا ، تھانے جاؤں تو پولیس والے داد رسی کی بجائے مجھے سر سے پیر تک تاڑتے ہیں ، مجھے لگتا ہے میرا ایکسرے ہو رہا ہے ، ڈی پی او دفتر میں بھی داد رسی نہیں ہوئی ، آپ کی کھلی کچہری میں آئی تو بجائے مجھے انصاف دلوانے یا کوئی ایکشن لینے کے آپ کے سٹاف نے کہا ہم سے کرایہ لے لو اور واپس گاؤں چلی جاؤ ، میڈم وزیراعلیٰ مجھے بتائیے میں کیا کروں ؟ کیا مجھے عزت سے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، میں کس کے پاس جاؤں اور کس سے فریاد کروں ، انتہائی اقدام کے علاوہ مجھے کوئی حل نظر نہیں آرہا ، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مجھے انصاف دے دیں میرے مجرم کو سخت سے سخت سزا دلوا دیں ۔۔۔۔۔ ساہیوال سے لاہور آکر انصاف کے لیے دھکے کھانے والی ایک بیٹی کی فریاد

Address

Lahore
05450

Telephone

+923348756868

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fiaz Masih Nasir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Fiaz Masih Nasir:

Shortcuts

Share