16/05/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
الطاف حسن قریشی کے انتقال کے ساتھ ہی اردو صحافت اور ادبی ثقافت کا ایک اہم باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے فروغ، سنجیدہ طرزِ تحریر، اور اردو نثر کی تہذیب و شائستگی کے لیے وقف کیے رکھی۔ یہ خدمت انہوں نے بالخصوص اردو ڈائجسٹ جیسے عظیم ادارے کے ذریعے انجام دی، جو معروف امریکی جریدے Reader’s Digest کا اردو ہم منصب تھا۔
ہم میں سے بہت سوں کے لیے اردو ڈائجسٹ محض ایک رسالہ نہ تھا بلکہ زبان، فکر، اور ذہنی تربیت کا ایک مدرسہ تھا۔ اس کے صفحات کے ذریعے نسلوں نے اظہار کی صفائی، اردو نثر کی دلکشی، اور سنجیدہ ادب و افکار کے مطالعے کی عادت سیکھی۔
زندگی کے بعد کے برسوں میں جا کر مجھے پوری طرح احساس ہوا کہ Time، Newsweek اور Reader’s Digest جیسے رسائل نے دراصل ایک وسیع تعلیمی اور تہذیبی کردار ادا کیا۔ کئی حوالوں سے امریکہ نے پاکستان میں فکری دریچے کھولنے، سوال کرنے کی عادت پیدا کرنے، تعلیم کے فروغ، اور روشن خیالی کی طرف ذہنی رجحان پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی اثرات کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ پینسٹھ برس پہلے کی نسبت جدید فکر اور روشن خیالی کے خلاف کہیں کم مزاحمت رکھتا ہے۔
الطاف حسن قریشی صاحب اُس باوقار نسل سے تعلق رکھتے تھے جس کے مدیران اور اہلِ قلم نے علم، تہذیب، اور فکری شائستگی کو عام گھروں تک پہنچایا۔
اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنی رحمت میں جگہ دے۔ اُن کے الفاظ، اُن کی محنت، اور اردو ثقافت کے لیے اُن کی خدمات آنے والی نسلوں تک زندہ رہیں گی۔
سوگوار، اثراُلاسلام سید