Sagar nama

Sagar nama there iz no one like me in da world......

31/01/2026

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا
پر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے
اور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر
دم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا

پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں
جب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے
دنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا

تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفی
کچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

شیخ ابرہیم ذوق

27/03/2025

’’غزل‘‘
محسن بھوپالی

جو غم شناس ہو ایسی نظر تُجھے بھی دے
یہ آسماں غمِ دِیوار و دَر تُجھے بھی دے

سُخن گُلاب کو کانٹوں میں تولنے والے
خُدا سلیقہء عرضِ ہُنر تُجھے بھی دے

خراشیں روز چُنے اور دِل گرفتہ نہ ہو
یہ ظرفِ آئینہ، آئینہ گَر تُجھے بھی دے

پَرکھ چُکی ہے بہت مُجھ کو یہ شبِ وعدہ
اَب اِنتظار زدہ چشمِ تَر تُجھے بھی دے

ہے وقت سَب سے بڑا منتقم یہ دھیان میں رکھ
نہ سہہ سَکے گا یہی غم اَگر تُجھے بھی دے

سَبھی شہادتیں تیرے خلاف ہیں محسنؔ
یہ مشورہ دلِ خُود سَر مگر تُجھے بھی دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

14/03/2025

نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے
خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے

کسی کی بے وفائی سے مجھے کیا
میں اپنے کام رکھتا ہوں وفا سے

بہت مانگیں دعائیں ہاتھ اٹھا کر
نہ نکلا کام کچھ آخر دعا سے

مجھے ڈر ہے کہیں رسوا نہ ہو تو
جو میں رسوا ہوا تیری بلا سے

حسنؔ دیتا ہے تو کیوں جی بتوں پر
ملا دیں گے تجھے کیا یہ خدا سے

میر حسن دہلوی

06/03/2025

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم ، رات یہ کیا ھوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ھے یہ برا ھوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ھوا نہ بجھا ھوا
مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھےآپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ اپنےدل ہی سے پوچھیے
مری داستان حیات کا تو ورق ورق ھے کھلا ھوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کےلوگ تھے مرے گھر سے گھر ھے ملا ھوا
ہمیں اسکا کوئی بھی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ھوں
نہ ہمارے پاس نقاب ھے نہ کچھ آستیں میں چھپا ھوا
مرے ایک گوشہء فکر میں میری جاں سے بھی عزیز تر
مرا ایک ایسا دوست ھے جو ملا کبھی نہ جدا ھوا
مجھے اک گلی میں پڑا ھوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ھوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ھوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ھوا کہیں راستوں میں لٹا ھوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ھوئے سر راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ھوا

#اقبال عظیم

08/02/2025

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی

چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی

نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں
کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی

وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی

ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا
کہ نہ آئنہ میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی

کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی

سیراج اورنگ آبادی

19/01/2025

نشے کی لت میں بزرگوں کا مان بیچا گیا
اڑھائی مرلے کا کچہ مکان بیچا گیا

یہ بات قتل سے زیادہ بری لگی مجھ کو
کہ خوں بہا کے لیے خاندان بیچا گیا

میری پڑھائی پہ جب ماں نے بالیاں بیچیں
مجھے لگا ، میری خاطر جہان بیچا گیا

جو بول سکتے تھے ان کی زبانیں کاٹی گئیں
پھر اس کے بعد ہر اک بے زبان بیچا گیا

یہ کھیل کھیلا گیا پچھلی کئی دہائیوں سے
کبھی غلام ، کبھی حکمران بیچا گیا

خدا کے نام پہ چندے وصول ہوتے رہے
زمیں خریدی گئی ، آسمان بیچا گیا

عجیب قسم کے جھانسے ملازمت کے دیے
پرائے دیس میں میرا جوان بیچا گیا

ڈاکٹر شکیل پتافی

19/09/2024

صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے
ترا خیال اگر دل کے رو برو نہ رہے

تیرے بغیر ہر اک آرزو ادھوری ہے
جو تو ملے تو مجھے کوئی آرزو نہ رہے

ہے جستجو میں تیری اک جہاں کا درد و نشاط
تو کیا عجب کہ کوئی اور آرزو نہ رہے

تو ذوق کم طلبی ہے تو آرزو کا شباب
ہے یوں کہ تو رہے اور کوئی جستجو نہ رہے

کتاب عمر کا ہر باب بے مزہ ہو جائے
جو درد میں نہ رہوں اور داغ تو نہ رہے

خدا کرے کہ وہ افتاد آ پڑے ہم پر
کہ جان و دل رہیں اور تیری آرزو نہ رہے

تیرے خیال کی مے دل میں یوں اتاری ہے
کبھی شراب سے خالی میرا سبو نہ رہے

وہ دشت درد سہی تم سے واسطہ تو رہے
رہے یہ سایہ گیسوئے مشک بو نہ رہے

کرو ہمارے ہی زخموں سے روشنی تم بھی
بڑا ہے درد کا رشتہ دوئی کی بو نہ رہے

نہیں قرار کی لذت سے آشنا یہ وجود
وہ خاک میری نہیں ہے جو کو بکو نہ رہے

سفر طویل ہے اس عمر شعلہ ساماں کا
وہ کیا کرے جسے جینے کی آرزو نہ رہے

شاعرہ:
ساجدہ زیدی
سابق پروفیسر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

07/09/2024

عطا جسے ، تِرا عکسِ جمال ہوتا ہے
وُہ پُھول سارے گُلستاں کا لال ہوتا ہے

تلاش کرتی ہے سائے تمہارے آنچل کے
چَمن میں بادِ صبا کا ، یہ حال ہوتا ہے

رہِ مجاز میں ہیں منزلیں حقیقت کی
مگر ، یہ اہلِ نظر کا خیال ہوتا ہے

یہ واردات بھی اب دِل پہ روز ہوتی ہے
مسرتوں میں بھی ہم کو ملال ہوتا ہے

بہار فطرتِ صیّاد کی کہانی ہے
کہ اس کے دوش پہ پُھولوں کا جال ہوتا ہے

یہ بکھرے بکھرے سے گیسُو ، تھکی تھکی آنکھیں
کہ جیسے ،،، کوئی گُلستاں نڈھال ہوتا ہے

جواب دے نہ سکیں جس کا دو جہاں ساغرؔ
کِسی غریب کے دِل کا سوال ہوتا ہے

(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸

09/06/2024

اسلام آباد سے اغواء کیئے جانے والے کشمیری صحافی اور شاعر”احمد فرحاد” کی جانب سے مظفر آباد آزاد کشمیر میں اپنی برآمدگی کے بعد کہی جانے والی نئی مزاحمتی نظم:

پیٹھ پیچھے سے تیرے وار بھی دیکھ آئے ہیں
جو تھا پوشیدہ وہ کردار بھی دیکھ آئے ہیں

خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے والے
اپنی آنکھوں سے تیری ہار بھی دیکھ آئے ہیں

خود کو جو چارہ گر _ قوم کہا کرتے ہیں
بر لب گور وہ بیمار بھی دیکھ آئے ہیں

نہ ڈرا آگ سے بیٹا ہوں براہیم کا میں
تیرے نمرود کی وہ نار بھی دیکھ آئے ہیں

جس کو دعوی ہے خدائی کا زمیں پر سن لے
ہم تو فرعون کا دربار بھی دیکھ آئے ہیں

اور کیا چاہیئے اے ارض وطن تیرے لئے
طوق بھی چوم لیا دار بھی دیکھ آئے ہیں

Address

Lahore
T.R.B

Telephone

03316290711

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sagar nama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category