Sofiana Kalaam

Sofiana Kalaam Husn-e-khulaq ye hai
K khalqat tuj se razi ho...!

Ek Nukte Wich Gal Mukdi Ae
اِک نقطے وچ گل مکدی ہے

اِک نقطے وچ گل مکدی ہے
پَھڑ نُقطہ چھوڑ حساباں نوں
کر دور کپفر دیاں باباں نوں
چھڈ دوزخ گور عزاباں نوں
کر صاف دلے دیاں خواباں نوں
گل ایسے گھر وچ ڈُھکدی ہے

اِک نقطے وچ گل مکدی ہے
اینیوں متھا زمین گھسائیدا
پالما محراب دکھائیدا
پڑھ کلمہ لوک ہسائیدا
دل اندر سمجھ نہ لیا ئِیدا
کدی بات سچی بھی لُکدی ہے

اِک نقطے وچ گل مکدی ہے
کئ حاجی بن بن آئےجی
گَل نیلے

جامے پائے جی
حج ویچ ٹکے لے کھائے جی
بَھلا ایہ گل کینہوں بھائے جی
کدی سچی گل بھی لکدی ہے

اِک نقطے وچ گل مکدی ہے
اک جنگل بحریں جاندے نیں
اک دانا روز لے کھاندے نیں
بے سمجھ وجود تھکاندے نیں
گھر آون ہو کے ماندے نیں
اینیوں چلیاں وِچ جِند سُکدی ہے

اِک نقطے وچ گل مکدی ہے
پَھڑ مُرشد عبد خُدائی ہو
وِچ مستی بے پرؤائی ہو
بے خواہش بے نوائی ہو
وِچ دل دے خوب صفائی ہو
بُلھا بات سچی کدوں رکدی ہے
اِک نقطے وِچ کل مکدی ہے

Bulleh Shah
بلھے شاہ

29/12/2017

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
یہ دل کا نگر ہے کہ مدینے کی فضا ہے

سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے

آیات کے جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند
لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے

اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا
کونین کی وسعت تو تہہ دستِ دعا ہے

ہے تیری کسسک میں بھی دمک حشر کے دن کی
وہ یوں کہ میرا قریہ جاں گونج اُٹھا ہے

خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو
مہتاب تیرا ریزہ نقشِ کف پا ہے

والیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا
والعصر تیری نیم نگاہی کی ادا ہے

لمحوں میں سمٹ کر بھی تیرا درد ہے تازہ
صدیوں میں بھی بکھر کر تیرا عشق نیا ہے

یا تیرے خدوخال سے خیرہ مہ و انجم
یا دھوپ نے سایہ تیرا خود اُوڑھ لیا ہے

یا رات نے پہنی ہے ملاحت تیری تن پر
یا دن تیرے اندازِ صباحت پہ گیا ہے

رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد
جب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے

خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کی
جس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے

اِک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا
اب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے

دل میں ہو تیری یاد تو طوفاں بھی کنارہ
حاصل ہو تیرا لطف تو صرصر بھی صبا ہے

غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
اپنوں پہ بھی نوازش کا انداز جدا ہے

ہر سمت تیرے لطف و عنایت کی بارش
ہر سو تیرا دامانِ کرم پھیل گیا ہے

ہے موجِ صبا یا تیرے سانسوں کی بھکارن
ہے موسم گل یا تیری خیراتِ قبا ہے

سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی
بے زر کو ابوزر تیری بخشش نے کیا ہے

ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ
عالم کا مقدر تیرے ہاتھوں پہ لکھا ہے

اُترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
قرآن تیری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے

اب اور بیاں کیا ہو کسی سے تیری مدحت
یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِ خدا ہے

اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کر
یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے

بخشش تیری آٓنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے

29/12/2017

اویسیوں میں بیٹھ جا، بلالیوں میں بیٹھ جا
طلب ہےکچھ تو بےطلب سوالیوں میں بیٹھ جا

یہ معرفت کےراستےہیں اہلِ دل کے واسطے
جنیدیوں سے جا کے مل، غِزالیوں میں بیٹھ جا

صحابیوں سے پھول،تابعین سے چراغ لے
حضورچاہئیں تواِن موالیوں میں بیٹھ جا

درود پڑھ ،نماز پڑھ، عبادتوں کے راز پڑھ
‏صفیں تو سب بچھی ہیں عشق والیوں میں بیٹھ جا

ہر ایک سانس پر جو اُن کو دیکھنے کا شوق ہے
تو آنکھ بن کراُن کے در کی جالیوں میں بیٹھ جا

اگر ہیں خلوتیں عزیز توہجوم میں نکل
اگر سکُون چاہئیے،دھمالیوں میں بیٹھ جا

جو چاہتا ہےگُلستانِ مصطفےٰکی نوکری
تو بُوئے مصطفےٰپہن کےمالیوں میں بیٹھ جا

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

20/09/2017
17/04/2017
17/04/2017

ﺑﮍﯼ ﺷﻔﺎ ﮬﮯ ______ ﺗﯿﺮﮮ #ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ
ﺻﺎﺣﺐ
ﺟﺐ ﺳﮯ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ...

12/10/2016

ان کا فیض_نظر ملا ہے مجھے
ان کی شفقت کا آسرا ہے مجھے
میں نے جب بھی انہیں پکارا ہے
اک صدا آئی تو ہمارا ہے
(شب چراغ)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکاش ! وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتامجھ کو تقدیر نے اس دور میں لکھا ہوتاباتیں سن...
18/08/2016

رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کاش ! وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا
مجھ کو تقدیر نے اس دور میں لکھا ہوتا
باتیں سنتا میں کبھی پوچھتا معنی ان کے
میں آپ کے سامنے اصحاب میں بیٹھا ہوتا
ہر سیاہ رات میں روشن ہیں حدیثیں ان کی
آپ نہ آتے تو زمانے میں اندھیرا ہوتا

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sofiana Kalaam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category