04/04/2026
37 سال قبل پہلا عرب تجربہ: عراق نے "العابد" راکٹ خلا میں روانہ کیا
✅ العابد راکٹ اور عراقی میزائل سسٹم.. صدر صدام حسین کے خلاف سازش کا اصل راز
"العابد" کو پہلا عرب راکٹ متبادل سمجھا جاتا ہے جو مصنوعی سیاروں (Satellites) کو خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ ایک اسٹریٹجک راکٹ تھا جس کی رینج 2,000 کلومیٹر تک تھی، اور اسے بنیادی طور پر مواصلات اور جاسوسی کے مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تین دہائیاں قبل، عراق اپنی مقامی صلاحیتوں اور ملٹری انڈسٹریلائزیشن کمیشن کی کوششوں سے ایسا راکٹ بنانے میں کامیاب ہوا جو مصنوعی سیاروں کو خلا میں ان کے مدار تک پہنچا سکے۔ دو ناکام تجربات کے بعد، عراق نے 5 دسمبر 1989 کو "الانبار ایئر بیس" سے اس راکٹ کے کامیاب تجرباتی لانچ کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی عراق خلائی دوڑ میں شامل ہو گیا، لیکن اس تجربے کے نتائج ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔
عراقی عسکری صنعت کا عروج
عراق میں عسکری صنعتوں کی بنیاد 1970 کی دہائی کے آغاز میں رکھی گئی تھی، جب حکومت نے ماہرین اور سائنسدانوں پر مشتمل ایک ادارہ تشکیل دیا تاکہ فیکٹریاں اور ورکشاپس قائم کی جا سکیں۔ اس ادارے کے ذریعے ہزاروں انجینئرز اور تکنیکی عملے کو تربیت دی گئی۔
ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان کارخانوں کی ضرورت مزید بڑھ گئی، جس نے عراق کو اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو جدید بنانے پر مجبور کیا۔ تاہم، 1991 کی دوسری خلیجی جنگ کے دوران ان میں سے بہت سی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔
امریکی خدشات اور سازش
ریاستہائے متحدہ امریکہ عراق کی عسکری ترقی کو شک اور خوف کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، خاص طور پر جب عراق کی عسکری برتری اسرائیل کے قریب پہنچنے لگی۔ واشنطن اسے خلیج اور عرب دنیا میں اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتا تھا۔
1989 کے آخر میں، امریکی انٹیلی جنس (CIA) نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عراق اسرائیل پر حملے اور خلیجی ممالک میں توسیع کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ ایٹمی، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر عراق کی "دیوہیکل توپ" (Supergun) اور دور مار میزائلوں، بالخصوص "العابد" راکٹ پر توجہ دی گئی۔ مزید برآں، عراق، اردن، مصر اور یمن کے درمیان "عرب تعاون کونسل" کے قیام کو عرب اتحاد کی جانب ایک قدم اور امریکی مفادات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
اس رپورٹ کے بعد امریکی انتظامیہ نے برطانیہ کے ساتھ مشاورت کی تاکہ عراق کو خاموشی سے ایسے مسائل اور حالات میں الجھایا جائے جن سے نکلنا عراقی قیادت کے لیے مشکل ہو جائے۔
العابد راکٹ کی خصوصیات
* پہلا عرب خلائی راکٹ: یہ کسی بھی عرب ملک میں تیار کردہ پہلا راکٹ تھا جو سیٹلائٹ لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
* وزن اور ساخت: اس کا وزن تقریباً 48 ٹن تھا اور اسے لانچ کے وقت 70 ٹن تک وزن اٹھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
* تکنیکی بناوٹ: یہ راکٹ تین مراحل (Stages) پر مشتمل تھا اور اس کا ڈھانچہ پانچ "الحسین" اور "الفتح" میزائلوں کے ملاپ سے تیار کیا گیا تھا، جو اس وقت کے بہترین عراقی ہتھیار تھے۔
عالمی ردعمل
اس تجربے کے بعد عالمی سطح پر صدام حسین کے خلاف غصے کی لہر دوڑ گئی۔ امریکی صدر جارج بش سینئر نے انتباہ جاری کیا کہ یہ راکٹ بین البراعظمی (Intercontinental) ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے عراقی خلائی پروگرام کو روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ فرانس کا خیال تھا کہ عراق اب "بڑے ممالک کے کلب" میں شامل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ردعمل کے طور پر اپنا جاسوسی سیٹلائٹ "اوفت-1" (Ofeq-1) لانچ کر دیا۔
انجام
بڑی طاقتیں عراق جیسے قوم پرست ملک کی ایسی ترقی نہیں چاہتی تھیں جو اسرائیل کے لیے خطرہ بنے۔ معاشی پابندیوں اور لگاتار فضائی حملوں کے ذریعے عراق کے میزائل ذخائر بشمول "العابد" کو نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق کے پورے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ماخذ: میجر جنرل پائلٹ ڈاکٹر علوان حسون العبوسی۔