Police Gardi

Police Gardi All Bad and Good Stories from Pakistan Police.

📹 ویڈیو پہلے کمنٹ میں دیکھیںاگر اس لڑکی نے بروقت موبائل کا کیمرہ آن نہ کیا ہوتا تو شاید آج ایک بڑا سانحہ پیش آ چکا ہوتا۔...
06/04/2026

📹 ویڈیو پہلے کمنٹ میں دیکھیں
اگر اس لڑکی نے بروقت موبائل کا کیمرہ آن نہ کیا ہوتا تو شاید آج ایک بڑا سانحہ پیش آ چکا ہوتا۔
گزشتہ شام پولیس کے چند اہلکاروں نے ایک گھر پر ریڈ کیا۔ مبینہ طور پر سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے گھر میں موجود خاتون پر کلہاڑی سے حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اللہ پاک نے اسے اپنی حفظ و امان میں رکھا۔
جیسے ہی خاتون کی بیٹی نے ویڈیو ریکارڈنگ شروع کی، اہلکار گھبرا گئے اور کلہاڑی سمیت وہاں سے فرار ہو گئے۔ کچھ اہلکار موٹر سائیکل پر اپنے ساتھی کو چھوڑ کر بھاگ نکلے جبکہ دوسرا کئی میٹر تک پیدل بھاگتا رہا۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر کیمرہ آن نہ ہوتا تو اس خاندان کے ساتھ کیا ہوتا؟ ہم متعلقہ حکام اور ڈی پی او صاحب سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزام ثابت ہو تو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یقیناً ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بھی خدمت کے مواقع کے منتظر ہیں — انہیں آگے آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
📹 ویڈیو پہلے کمنٹ میں دیکھیں

37 سال قبل پہلا عرب تجربہ: عراق نے "العابد" راکٹ خلا میں روانہ کیا✅ العابد راکٹ اور عراقی میزائل سسٹم.. صدر صدام حسین کے...
04/04/2026

37 سال قبل پہلا عرب تجربہ: عراق نے "العابد" راکٹ خلا میں روانہ کیا
✅ العابد راکٹ اور عراقی میزائل سسٹم.. صدر صدام حسین کے خلاف سازش کا اصل راز
"العابد" کو پہلا عرب راکٹ متبادل سمجھا جاتا ہے جو مصنوعی سیاروں (Satellites) کو خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ ایک اسٹریٹجک راکٹ تھا جس کی رینج 2,000 کلومیٹر تک تھی، اور اسے بنیادی طور پر مواصلات اور جاسوسی کے مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تین دہائیاں قبل، عراق اپنی مقامی صلاحیتوں اور ملٹری انڈسٹریلائزیشن کمیشن کی کوششوں سے ایسا راکٹ بنانے میں کامیاب ہوا جو مصنوعی سیاروں کو خلا میں ان کے مدار تک پہنچا سکے۔ دو ناکام تجربات کے بعد، عراق نے 5 دسمبر 1989 کو "الانبار ایئر بیس" سے اس راکٹ کے کامیاب تجرباتی لانچ کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی عراق خلائی دوڑ میں شامل ہو گیا، لیکن اس تجربے کے نتائج ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔
عراقی عسکری صنعت کا عروج
عراق میں عسکری صنعتوں کی بنیاد 1970 کی دہائی کے آغاز میں رکھی گئی تھی، جب حکومت نے ماہرین اور سائنسدانوں پر مشتمل ایک ادارہ تشکیل دیا تاکہ فیکٹریاں اور ورکشاپس قائم کی جا سکیں۔ اس ادارے کے ذریعے ہزاروں انجینئرز اور تکنیکی عملے کو تربیت دی گئی۔
ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان کارخانوں کی ضرورت مزید بڑھ گئی، جس نے عراق کو اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو جدید بنانے پر مجبور کیا۔ تاہم، 1991 کی دوسری خلیجی جنگ کے دوران ان میں سے بہت سی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔
امریکی خدشات اور سازش
ریاستہائے متحدہ امریکہ عراق کی عسکری ترقی کو شک اور خوف کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، خاص طور پر جب عراق کی عسکری برتری اسرائیل کے قریب پہنچنے لگی۔ واشنطن اسے خلیج اور عرب دنیا میں اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتا تھا۔
1989 کے آخر میں، امریکی انٹیلی جنس (CIA) نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عراق اسرائیل پر حملے اور خلیجی ممالک میں توسیع کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ ایٹمی، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر عراق کی "دیوہیکل توپ" (Supergun) اور دور مار میزائلوں، بالخصوص "العابد" راکٹ پر توجہ دی گئی۔ مزید برآں، عراق، اردن، مصر اور یمن کے درمیان "عرب تعاون کونسل" کے قیام کو عرب اتحاد کی جانب ایک قدم اور امریکی مفادات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
اس رپورٹ کے بعد امریکی انتظامیہ نے برطانیہ کے ساتھ مشاورت کی تاکہ عراق کو خاموشی سے ایسے مسائل اور حالات میں الجھایا جائے جن سے نکلنا عراقی قیادت کے لیے مشکل ہو جائے۔
العابد راکٹ کی خصوصیات
* پہلا عرب خلائی راکٹ: یہ کسی بھی عرب ملک میں تیار کردہ پہلا راکٹ تھا جو سیٹلائٹ لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
* وزن اور ساخت: اس کا وزن تقریباً 48 ٹن تھا اور اسے لانچ کے وقت 70 ٹن تک وزن اٹھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
* تکنیکی بناوٹ: یہ راکٹ تین مراحل (Stages) پر مشتمل تھا اور اس کا ڈھانچہ پانچ "الحسین" اور "الفتح" میزائلوں کے ملاپ سے تیار کیا گیا تھا، جو اس وقت کے بہترین عراقی ہتھیار تھے۔
عالمی ردعمل
اس تجربے کے بعد عالمی سطح پر صدام حسین کے خلاف غصے کی لہر دوڑ گئی۔ امریکی صدر جارج بش سینئر نے انتباہ جاری کیا کہ یہ راکٹ بین البراعظمی (Intercontinental) ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے عراقی خلائی پروگرام کو روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ فرانس کا خیال تھا کہ عراق اب "بڑے ممالک کے کلب" میں شامل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ردعمل کے طور پر اپنا جاسوسی سیٹلائٹ "اوفت-1" (Ofeq-1) لانچ کر دیا۔
انجام
بڑی طاقتیں عراق جیسے قوم پرست ملک کی ایسی ترقی نہیں چاہتی تھیں جو اسرائیل کے لیے خطرہ بنے۔ معاشی پابندیوں اور لگاتار فضائی حملوں کے ذریعے عراق کے میزائل ذخائر بشمول "العابد" کو نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق کے پورے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ماخذ: میجر جنرل پائلٹ ڈاکٹر علوان حسون العبوسی۔

جینت کو اپنی بیٹی اور اشیش کے درمیان تعلق پسند نہیں تھا اور وہ ان دونوں کی شادی کے خلاف تھے اور پولیس کے مطابق اسی لیے ا...
04/04/2026

جینت کو اپنی بیٹی اور اشیش کے درمیان تعلق پسند نہیں تھا اور وہ ان دونوں کی شادی کے خلاف تھے اور پولیس کے مطابق اسی لیے ان دونوں نے مل کر ہیڈ کانسٹیبل کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

 #خانیوالمیاں چنوں کے نواحی گاؤں 124 پندرہ ایل میں نوجوان علیم کی مبینہ خو..دکش.ی کا معاملہ مشکوک ہو گیا۔ چند روز قبل پن...
04/04/2026

#خانیوال
میاں چنوں کے نواحی گاؤں 124 پندرہ ایل میں نوجوان علیم کی مبینہ خو..دکش.ی کا معاملہ مشکوک ہو گیا۔ چند روز قبل پنکھے سے لٹکی ل.اش ملنے کے بعد اب مقتول پر بیوی کے بہیمانہ تشدد کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے، جو مبینہ طور پر مقتول کی کم سن بیٹی نے بنائی تھی۔
مقتول کی والدہ کا الزام ہے کہ علیم سے خو..دکشی کا بیان زبردستی دلوایا گیا اور اسے تشدد کر کے قتل کیا گیا۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور فرانزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ ایس ایچ او تھانہ صدر تنویر جٹ کے مطابق وائرل ویڈیو نے کیس کو مشکوک بنا دیا ہے، تاہم اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور میرٹ پر تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے, تشدد کی چھ منٹ کے ویڈیو واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہو چکی ہے۔

لاہور رِنگ روڈ پر پنجاب پولیس کے انسپکٹر صاحب کی بگڑی اولاد لینڈ کروزر کو جہاز بنا کر گڈی ٹھوک گئے، قیامتِ صغری بپاتحریر...
03/04/2026

لاہور رِنگ روڈ پر پنجاب پولیس کے انسپکٹر صاحب کی بگڑی اولاد لینڈ کروزر کو جہاز بنا کر گڈی ٹھوک گئے، قیامتِ صغری بپا
تحریر: ظاہر محمود

آج بعد از نمازِ عصر لاہور رِنگ روڈ تھانہ کاہنہ کی حدود میں ایک بگڑی اولاد کا نیا کارنامہ سامنے آیا ہے-

پتہ چلا ہے کہ پنجاب پولیس کے انسپکٹر عزت مآب ابرار شاہ صاحب کے برخوردار محمد علی شاہ صاحب مدظلہ عالیہ لینڈ کروزر کو اُڑاتے زِگ زیگ بھگاتے پائے گئے-

قبلہ محمد علی شاہ صاحب یقیناً موڈ مستی میں ہوں گے اور پھر یقیناً مربعوں کے مالک ہوں گے، اسی لیے تو اُن کے پاس لینڈ کروزر موجود تھی، سو اُسے اڑانا ان کا پیدائشی حق ٹھہرا-

بس اسی حق کو پریکٹس کرتے کرتے لاہور کی مصروف ترین رِنگ روڈ پر اِس نوجوان نے کئی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق کر دیا-

ایک صاحب جو اِن کی لینڈ کروزر کے پیچھے پیچھے اپنی گاڑی چلا رہے تھے، ان کی ویڈیو بھی بنا رہے تھے کہ اچانک علی شاہ صاحب نے اپنی سفید رنگ کی لینڈ کروزر بائیں اَور سے آنے والی کالے رنگ کی ہونڈا سِوَک پر چڑھا دی-

ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے اس کار کو جان بوجھ کر ہِٹ کیا گیا- بہرحال قبلہ محمد علی شاہ صاحب ولد ابرار شاہ صاحب انسپکٹر پنجاب پولیس موقع پر ہی فرار ہو گئے یا شاید کر دیے گئے- واللہ اعلم بالصواب

تھانہ کاہنہ میں رپورٹ درج کرا دی گئی ہے، جس غریب کی کالی کار ٹھوکی گئی ہے، نجانے اس کا کیا حال ہے، علم نہ ہو سکا، البتہ اس کی گاڑی کا تو بیڑہ غرق ہو گیا-

سوال یہ بھی ہے کہ پولیس انسپکٹر کے بیٹے کے پاس لینڈ کروزر کہاں سے آئی اور یہ گھمنڈ کہاں سے آیا کہ وہ اتنے مصروف روڈ پر اس گھٹیا انداز میں ڈرائیونگ کرے، کیا اُسے یہ یقین تھا کہ باپ بچا لے گا؟ یا بعد میں صلح صفائی ہو جائے گی؟

یا کیا قبلہ محمد علی شاہ صاحب شراب یا چرس کے ن ش ے میں دُھت تھے؟ یا ان کا ذہنی توازن خراب تھا؟ کیا ججوں، پُلسیوں، بیوروکریٹوں کے بچوں کو ہمارا نظامِ انصاف کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ دندناتے پھرو

01/04/2026

بیوی کا شوہر پر شدید تشدد

میاں چنوں 124 پندرہ ایل تھانہ صدر کی حدود میں بیوی کا شوہر پر بہیمانہ تشدد بیٹی نے ویڈیو بنا لی
خاوند کمرے میں مردہ پایا گیا قتل یا خود کشی پولیس تفتیش میں مصروف

لاہور میں ایک نئی آئینی بحث نے جنم لے لیا ہے جہاں قانون کی ایک طالبہ جمیلہ فاطمہ نے لاہور ہائی کورٹ میں سیف سٹی ای چالان...
01/04/2026

لاہور میں ایک نئی آئینی بحث نے جنم لے لیا ہے جہاں قانون کی ایک طالبہ جمیلہ فاطمہ نے لاہور ہائی کورٹ میں سیف سٹی ای چالان نظام کو چیلنج کر دیا ہے، اور یہ مقدمہ اب محض ٹریفک جرمانوں کا نہیں بلکہ شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کا کیس بنتا جا رہا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ ای چالان سسٹم بنیادی حقوق، خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 14، 15، 23 اور 24 کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے، جہاں شہریوں کو بغیر مناسب سماعت اور شفاف طریقہ کار کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست میں سب سے بڑا سوال اس نظام کی شفافیت اور انصاف پر اٹھایا گیا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر لین مارکنگ کے بغیر بھاری جرمانے، کلون نمبر پلیٹس کے باعث بے گناہ شہریوں کو چالان، اور پھر ان چالانز کو ایکسائز، ٹوکن ٹیکس اور گاڑی کی ٹرانسفر سے لنک کر دینا۔ یہ سب ایک na ایسے ماڈل کی نشاندہی کرتا ہے جسے درخواست گزار نے “ثبوت کے بغیر سزا” اور “ریونیو مشین” قرار دیا ہے۔ اندازاً اربوں روپے کی وصولی کے باوجود نہ کیمروں کی درستگی کا مکمل ریکارڈ سامنے آیا اور نہ ہی اس رقم کے استعمال کی شفاف تفصیل۔
ایک اور اہم نکتہ شہریوں کی پرائیویسی کا ہے۔ بغیر کسی جامع ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے مسلسل کیمرہ نگرانی کو آئین کے آرٹیکل 14 (عزتِ نفس اور نجی زندگی کے تحفظ) کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سوال اب صرف ٹریفک مینجمنٹ کا نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان حدود کا ہے کہ کہاں تک نگرانی جائز ہے اور کہاں یہ بنیادی حقوق پر حملہ بن جاتی ہے۔
عدالت پہلے ہی موٹر وہیکل قوانین کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے رہی تھی اور اب اس نئی درخواست کو بھی فوری سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگر عدالت اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرتی ہے تو یہ فیصلہ نہ صرف ای چالان سسٹم بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے۔
اب دیکھنا ہے کہ عدالت اس معاملے کو محض انتظامی خرابی سمجھتی ہے یا اسے واقعی ایک آئینی بحران کے طور پر دیکھتے ہوئے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی واضح حد مقرر کرتی ہے۔

31/03/2026

*کل يكم اپریل ہے کوئی بھی اطلاع آۓ تو پہلے تصدیق ضرور کر لیں.شکریہ.*

*کیونکہ اکثر بے عقل افراد اپریل فول ڈے مناتے ہیں..*
*رب العزت مسلمانوں کو جھوٹ پھیلانے سے محفوظ رکھے*

جس ایف آئی آر کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو وہ انصاف کیسے دلائے گی ؟ آلہ آباد قصور کی مزمل شہزادی کی اپنے بوائے فرینڈ کے سامنے ...
31/03/2026

جس ایف آئی آر کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو وہ انصاف کیسے دلائے گی ؟ آلہ آباد قصور کی مزمل شہزادی کی اپنے بوائے فرینڈ کے سامنے ویڈیو کال پر پنکھے سے لٹک کر خود۔ کشی ۔۔۔۔ لڑکی کی پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں کیا انکشافات ہوئے اور گرفتار ملزم عامر کے خلاف کیسا کتنا مضبوط ہے ؟ آپ کو بتائیں کہ مزمل شہزادی کی خود۔ کشی کے بعد پہلے تو اسکے والد نے کسی کے خلاف کارروائی نہ کرنے پوسٹ۔ مارٹم نہ کروانے کی درخواست کی لیکن گھر کے دیگر افراد کے مطالبے پر پولیس نے پوسٹ۔ مارٹم کروا لیا تھا اس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 21 سالہ لڑکی کنواری نہیں تھی ، فون ریکارڈ سے پولیس کو پتہ چلا کہ مزمل شہزادی عامر سے اپنے سونے کے 2 کانٹے واپس کرنے کا مطالبہ کررہی تھی جبکہ عامر کا کہنا تھا کہ میں موبائل لے چکا ہوں کانٹے کہاں سے واپس کروں ، بعد ازاں لڑکی نے شادی کا تقاضا کیا تو ملزم عامر نے بدستور انکار کیا جس پر مزمل شہزادی نے اسکے سامنے ویڈیو کال پر پنکھے کے ساتھ لٹک کر جان دے دی ، اس مقدمہ میں ایف آئی آر جلد درج نہ ہو سکی لیکن سوشل میڈیا پر عوامی مطالبے اور چیف منسٹر سیل میں درخواستوں کے بعد پولیس کو کارروائی کرنا پڑی ، ایف آئی آر کے متن کے مطابق مزمل شہزادی کے بھائی نے بطور مدعی موقف اختیار کیا کہ اسکی ہمشیرہ کی عمر لگ بھگ 21 سال ہے جو پنجاب کالج میں پڑھتی تھی۔ 20 روز قبل جب ان کی ہمشیرہ گھر میں اکیلی تھی تو ملزم جو ان کا ہمسایہ بھی ہے، ’موقع پا کر گھر میں داخل ہوا اور پستو۔ل کی نوک پر ہمشیرہ کا ر۔یپ کرنے کے علاوہ موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بنا کر فرار ہو گیا۔‘ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے لڑکی کی ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھم۔کی دے کر طلائی زیورات، رقم اور موبائل فون حاصل کیے۔ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا ہے کہ ’ملزم لڑکی کو بلیک ۔میل کرتا رہا اور ذہنی اذیت دیتا رہا، جس سے میری بہن ذہنی دباؤ میں چلی گئی۔ ہم نے ملزم کے والد کی منت کی اور اسے اپنے بیٹے کو غیراخلاقی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک ۔میل کرنے سے منع کیا تو اس نے کہا کہ میرا بیٹا ایسا ہی کرے گا، جو کرنا ہے کر لو۔‘ایف آئی آر کے مطابق مزمل شہزادی نے 14 فروری کو دن 11 بج کر 15 منٹ پر گلے میں دوپٹہ ڈال کر اپنی جان دے دی۔27 فروری کو قصور پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔ملزم کا موبائل فون پولیس قبضے میں لے چکی ہے اور اسے فرانزک تجزیے کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی بھجوا دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ گرفتاری کے بعد جب ملزم کے فون کا جائزہ لیا گیا تو وہ چیٹ ڈیلیٹ کر چکا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا اپنے موبائل فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا اس کے خلاف سب سے بڑی شہا۔دت ہے، فرانزک لیب سے موبائل فون کا سارا ڈیٹا ریکور ہو جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اصل حقائق کے برعکس قانونی تقاضوں کے تحت ایک ایف آئی آر کے اندراج کا ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے یا پھر جان بحق لڑکی کو ۔۔۔۔۔۔ یہ تو عدالتی کارروائی کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے ۔۔۔۔

منڈی بہاؤالدین کی دو بہنوں کا کارنامہ : نوجوان کو ق.ت.ل کروا دیا ۔۔۔پولیس تفتیش میں چالاکی سے بچ نکلیں لیکن دو روز قبل د...
29/03/2026

منڈی بہاؤالدین کی دو بہنوں کا کارنامہ : نوجوان کو ق.ت.ل کروا دیا ۔۔۔پولیس تفتیش میں چالاکی سے بچ نکلیں لیکن دو روز قبل دوبارہ کیسے قانون کے شکنجے میں آئیں ؟ صاحبہ اور اقرا کے کرتوت ملاحظہ کریں ۔۔۔۔صاحبہ اور اقرا دونوں شادی شدہ ہیں ، مق.تول قاسم کی کئی سالوں سے صاحبہ سے دوستی تھی ، وہ قاسم کو ہر طرح سے کھا رہی تھی ، حد یہ کہ قاسم کا اے ٹی ایم کارڈ بھی صاحبہ کے پاس ہوتا تھا ۔ لیکن کچھ عرصہ قبل قاسم کو شک ہوا کہ صاحبہ کے اور مردوں سے بھی تعلقات ہیں جب اس نے صاحبہ کو ان حرکات سے منع کیا تو اسکا قاسم کے ساتھ جھگڑا ہونے لگا ۔ اب ناجائز تعلقات دونوں کے لیے بوجھ بن گئے ، قاسم اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا لیکن صاحبہ اپنے جسم کا بھرپور خراج وصول کرنا چاہتی تھی اس نے قاسم سے لاکھوں روپے کا مطالبہ کیا اور بدلے میں اسکی زندگی سے نکل جانے کی پیشکش کی لیکن قاسم نے مزید پیسے دینے سے انکار کردیا اور اپنا بنک اکاؤنٹ بھی بند کروا دیا ، اس پر صاحبہ نے اپنے دیگر آشناؤں اور اپنی بہن اقرا کے آشنا کو مدد کے لیے بلایا کہ قاسم کو سبق سکھاؤ، صاحبہ اور اقرا کے آشناؤں نے حد ہی کر ڈالی انہیں کہا گیا تھا کہ قاسم کو صرف زدوکوب کرنا یا زیادہ سے زیادہ ٹانگ میں فا.ئیر مارنا ہے لیکن انہوں نے 25 جنوری 2026 کو قاسم پر فائیر۔نگ کر دی اسے متعدد جگہ فا۔ئیر لگے اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا ، اسکے بعد موبائل ریکارڈز کی مدد سے دونوں بہنیں مقامی پولیس کی نظر میں آ گئیں انہیں گرفتار کیا گیا لیکن دونوں بہنیں اتنی شاطر نکلیں کہ پولیس انکے خلاف ق۔ت۔ل کا الزام ثابت نہ کرسکی ۔ صاحبہ نے تعلقات کی غلطی کا اعتراف ضرور کیا لیکن پولیس کی منت سماجت کے بعد یہ چند دن میں رہا ہو گئیں ، بظاہر یہاں کیس اندھا ق۔ت۔ل اور معمہ بن گیا تو منڈی بہاؤالدین سی آئی اے کو افسران بالا نے یہ کیس سونپ دیا ۔ سی آئی اے ٹیم کی زبردست کاوش دن رات کی محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استفادے کے بعد صاحبہ اور اقرا کے ساتھ رابطے میں رہنے والے 2 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا اور خصوصی توجہ سے پوچھ گچھ کی گئی تو صاحبہ اور اقرا کے آشناؤں نے اپنے اور دونوں بہنوں کے حوالے سے ساری سٹوری بیان کردی ، واردات میں شریک دیگر دو ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا جو دونوں ملزمان کے دوست نکلے ، سب سے آخر میں پولیس نے انتہائی رازداری سے صاحبہ اور اقرا کو ان کے گھر سے حراست میں لے لیا ۔۔۔۔۔دونوں بہنوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ ہمارا ارادہ اسے ق۔ت۔ل کرانے کا نہیں تھا صرف مزہ چکھانے کا تھا ، یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے آشنا اسے جان سے مار ڈالیں گے ۔۔۔۔۔
سی آئی اے پولیس نے قاسم ق۔ت۔ل کیس کی تفتیش مکمل کرکے مقامی پولیس کے حوالے کردی ہے ، واقعہ کے 6 ملزمان یعنی دو بہنیں اور دو آشنا مع دو دوست پولیس نے چالان کرکے جیل روانہ کردیے ہیں ، اب دیکھتے ہیں عدالت ملزمان کو کیا سزا دیتی ہے ۔

لاہور کی انڈسٹریل ایریا کی پولیس چوکی میں زیرِ حراست شخص کی پنکھے سے لٹکی ل ا ش ملنے پر بونچھال آ گیا، حیرت انگیز معاملا...
27/03/2026

لاہور کی انڈسٹریل ایریا کی پولیس چوکی میں زیرِ حراست شخص کی پنکھے سے لٹکی ل ا ش ملنے پر بونچھال آ گیا، حیرت انگیز معاملات سامنے آ گئے
لاہور کے علاقے کاہنہ کی انڈسٹریل ایریا کی پولیس چوکی میں زیرِ حراست شخص کی پنکھے سے لٹکی ہوئی ل ا ش ملنے پر لاہور پولیس میں بونچھال آ گیا-
پنکھے سے لٹکے ہوئے شخص کی شناخت افتخار کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس واقعہ کا فوری اور سخت نوٹس لے لیا-
ابتدائی معلومات کے مطابق چوکی انچارج سمیت سارے عملے کو حراست میں لے لیا گیا اور تفتیش شروع کر دی گئی کہ افتخار کو وہاں کیوں لایا گیا تھا-
ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ڈی ایس پی سمیت اہم پولیس افسران موقع پر موجود ہیں- افتخار کی موت کے پس پردہ تمام حقائق پر مختلف پہلوؤں سے تفتیش بھی جاری ہے-
افتخار کے ورثا کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے- ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تفصیلی رپورٹ اور شواہد کی روشنی میں ہی مزید فیصلہ کیا جا سکے گا-

احمد محی الدین ، محکمہ پولیس کا قابل فخر آفیسر:کچھ عرصہ قبل ملکوال کی کھلی کچہری میں سائل نے جب شکایت کی کہ میری ویہڑی (...
27/03/2026

احمد محی الدین ، محکمہ پولیس کا قابل فخر آفیسر:کچھ عرصہ قبل ملکوال کی کھلی کچہری میں سائل نے جب شکایت کی کہ میری ویہڑی (گائے) چوری کے ملزم کے خلاف نہ کاروائی ہُوئی نہ پرچہ درج ہوا تو ڈی پی اُو احمد محی الدین نے کہا ،کیوں ایس، ایچ، اُو صاحب ،جواب دیں ، ایس ،ایچ ،اؤ نے موقف اختیار کیا کہ سر میں پرچہ دینے لگا تھا مگر اس نے کہا ، ابھی رُک جائیں ہمارا پنچائیتی فیصلہ ہونے جا رہا ہے ،اب یہ یہاں آپکے پاس پہنچ گیا ہے ، ڈی ،پی ،اُو صاحب نے جواب دیا مگر پرچہ تو اتنی دیر میں درج ہو جانا چاہیے تھا بے شک اسی سائل کو جھوٹا لکھ دیتے، میں مان لیتا۔۔۔ قانون کو بہرصورت اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا ، آپکی غفلت کیوجہ سے یہ یہاں کیمروں کے سامنے آیا ہوا ہے ،اب 8 ویں دن یہ آپ سے آکر اپنی گائے لے جائے گا آپکو کاروائی اور برآمدگی کے لیے 7 دن کا وقت دیا جا رہا ہے ۔۔۔ سائل سے کہا آپ 8 ویں دن ایس ،ایچ،اُو صاحب سے اپنی ویہڑی آکر لے جائیے گا ،اگر نہ ملے تو مجھے بتائیے گا ۔۔۔۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Police Gardi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category