03/12/2022
پریس ریلیز
2 دسمبر 2022
نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ، جامعہ سندھ کے طلبہ پر ثقافتی دن منانے کے جرم میں دائر مقدمات کو طلبہ سیاست کو دبانے کی سازش سمجھتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ طلبہ کے خلاف ایسے گھناؤنے ہتھ کنڈوں اور طریقہ کار کو فل الفور بند کرکے طالب علموں پر دائر کیسز خارج کیے جائیں۔
یکم دسمبر کو جامعہ سندھ جامشور میں ہزاروں کی تعداد میں طالب علموں نے سندھ کا ثقافتی دن منایا تو یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے تین سو زائد طلبہ پر دہشتگردی کے مقدمات دائر کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ جامعہ سندھ کے طالب علموں کو ایسے جھوٹے کیسز میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہو، کبھی ہاسٹل میں صاف پانی کی مانگ پر غداری کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں تو کبھی ان پر اپنے بنیادی حقوق کیلیے احتجاج کرنے پر مقدمات دائر کیے جاتے ہیں، اور اب تو یونیورسٹی انتظامیہ، فورسز اور حکومت سندھ کی نظر میں اپنی ثقافت کا جشن منانا بھی دہشتگردی ہے۔
کل یہ کیسز دائر کیے گئے اور آج 25 سے 30 پولیس گاڑیوں پر فورسز کی بھاری نفری نے پوری یونیورسٹی میں گشت کر کے طلبہ کو حراساں کیا ہے۔ کیا اب طلبہ دہشتگرد ہیں جو اتنی تعداد میں فورسز کو تعلیمی اداروں کے اندر اجازت دی گئی جیسے یہ یونیورسٹی نہیں کوئی جنگی سرحد والا علاقہ ہو۔۔!
جامعہ سندھ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران طلب علموں کے سیاسی تحرک پیدا ہونے پر انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے، وہ چاہتی ہے کہ طلبہ اپنے حقوق کی بات نہ کریں، صاف پانی نہ مانگیں، ہاسٹل سہولیات اور معیاری کھانے کی مانگ نہ کریں اور نہ اپنی ثقافت کو خراج پیش کریں۔ انتظامیہ سمیت طلبہ دشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ یونیورسٹی کے اندر طلبہ نہیں مگر فورسز کا راج ہو، اور وہ صحتمد اور تنقیدی سوچ والے ذہنوں کے بجائے غیر سیاسی ذہن پیدا ہو جو جنرل ضیاء چاہتا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب نہ صرف جامعہ سندھ بلکہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے اور قابض قوتیں اس ہی آمر جنرل ضیاء کی لیگسی کو آگے لے کر انتہاپسند اور غیر سیاسی طلبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
حال ہی میں جب طلبہ یونین کی بحالی کی بات شروع ہوئی اور تعلیمی اداروں میں طلب علموں کا سیاسی تحرک پیدا ہوا تو یونیورسٹی انتظامیہ سمیت طلبہ دشمن قوتوں نے ایک سازش کر کے اس معاملے کو دبانا چاہتی ہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی جاری ہے۔ ان گھناؤنے سازشوں کو ہم سب طالب علموں کو سمجھنا چاہیے اور یہ طے کرنا ہوگا کہ سیاسی طور پر جڑ کر آواز اٹھانے کے علاؤہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
اس لیے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ ترقی پسند اور پرامن سیاست کے ذریعے ہی ہم ان گھناؤنی سازشوں کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت طلبہ کو نہیں ہرا سکتی جب وہ یک آواز ہو کر اپنے حقوق مانگتے ہیں۔