20/08/2026
انسان کیا ہے؟
انسان آخر ہے کیا؟
مٹی سے بنا ایک وجود، چند سانسوں کا سفر، یا ایک ایسی روح جسے خالق نے مقصد کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے؟
انسان کی اصل پہچان اس کی دولت، عہدے، خوبصورتی یا طاقت نہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار، اس کا ضمیر، اس کی محبت اور دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ ہے۔ انسان اُس وقت بڑا نہیں ہوتا جب لوگ اسے بڑا کہیں، بلکہ اُس وقت بڑا ہوتا ہے جب وہ کمزور کے ساتھ کھڑا ہونے، مظلوم کی آواز بننے اور ضرورت مند کے لیے اپنا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
ہم اکثر انسان کو اس کے لباس، مذہب، حیثیت، ذات یا دولت سے پرکھتے ہیں، لیکن خدا انسان کو اُس کے دل سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک غریب انسان بھی عظیم ہو سکتا ہے اور بے شمار دولت رکھنے والا شخص اندر سے بہت غریب ہو سکتا ہے۔
انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے انتخاب دیا گیا ہے۔ وہ نفرت کے بجائے محبت، ظلم کے بجائے انصاف، خود غرضی کے بجائے خدمت، اور خاموشی کے بجائے حق کا انتخاب کر سکتا ہے۔
مسیحی ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کو خدا کی صورت و شبیہ پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی انسان کی عزت اس کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے خالق کی طرف سے دی گئی قدر سے ہے۔
شاید انسان کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے وجود، اپنی کمزوری اور اپنی زندگی کی حقیقت کو سمجھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہم سب محتاج ہیںمحبت کے، رحم کے، معافی کے اور خدا کے فضل کے۔
انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے جیتا ہے انسان وہ ہے جو اپنی زندگی سے کسی دوسرے کی زندگی میں روشنی پیدا کرے۔
اور آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنا تھا، بلکہ شاید یہ ہوگا کہ ہم نے جو کچھ ہمارے پاس تھا، اُس سے کتنے انسانوں کے لیے آسانی، امید اور محبت پیدا کی۔
انسان کیا ہے؟
شاید ایک مختصر سا سفر…
لیکن اس سفر میں وہ کیا چھوڑ کر جاتا ہے،
یہی اس کی اصل پہچان ہے۔
✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ