Adv Shawaiz Javed

Adv Shawaiz Javed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Shawaiz Javed, Law enforcement agency, Lahore.

DM FOR THE LEGAL GUIDANCE✌️
قیدیوں کو اس طرح یاد رکھو کہ گویا تم بھی ان کے ساتھ قید ہو اور جن کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے ان کو یہ سمجھ کر یاد رکھو کہ ہم بھی جسم رکھتے ہیں

انسان کیا ہے؟انسان آخر ہے کیا؟مٹی سے بنا ایک وجود، چند سانسوں کا سفر، یا ایک ایسی روح جسے خالق نے مقصد کے ساتھ دنیا میں ...
20/08/2026

انسان کیا ہے؟

انسان آخر ہے کیا؟
مٹی سے بنا ایک وجود، چند سانسوں کا سفر، یا ایک ایسی روح جسے خالق نے مقصد کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے؟

انسان کی اصل پہچان اس کی دولت، عہدے، خوبصورتی یا طاقت نہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار، اس کا ضمیر، اس کی محبت اور دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ ہے۔ انسان اُس وقت بڑا نہیں ہوتا جب لوگ اسے بڑا کہیں، بلکہ اُس وقت بڑا ہوتا ہے جب وہ کمزور کے ساتھ کھڑا ہونے، مظلوم کی آواز بننے اور ضرورت مند کے لیے اپنا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

ہم اکثر انسان کو اس کے لباس، مذہب، حیثیت، ذات یا دولت سے پرکھتے ہیں، لیکن خدا انسان کو اُس کے دل سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک غریب انسان بھی عظیم ہو سکتا ہے اور بے شمار دولت رکھنے والا شخص اندر سے بہت غریب ہو سکتا ہے۔

انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے انتخاب دیا گیا ہے۔ وہ نفرت کے بجائے محبت، ظلم کے بجائے انصاف، خود غرضی کے بجائے خدمت، اور خاموشی کے بجائے حق کا انتخاب کر سکتا ہے۔

مسیحی ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کو خدا کی صورت و شبیہ پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی انسان کی عزت اس کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے خالق کی طرف سے دی گئی قدر سے ہے۔

شاید انسان کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے وجود، اپنی کمزوری اور اپنی زندگی کی حقیقت کو سمجھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہم سب محتاج ہیںمحبت کے، رحم کے، معافی کے اور خدا کے فضل کے۔

انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے جیتا ہے انسان وہ ہے جو اپنی زندگی سے کسی دوسرے کی زندگی میں روشنی پیدا کرے۔

اور آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنا تھا، بلکہ شاید یہ ہوگا کہ ہم نے جو کچھ ہمارے پاس تھا، اُس سے کتنے انسانوں کے لیے آسانی، امید اور محبت پیدا کی۔

انسان کیا ہے؟
شاید ایک مختصر سا سفر…
لیکن اس سفر میں وہ کیا چھوڑ کر جاتا ہے،
یہی اس کی اصل پہچان ہے۔

✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ

16/08/2026

16 اگست جڑانوالہ کو بھولنا نہیں 🇵🇰

دو سال گزر گئے مگر جڑانوالہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔
وہ دن جب مسیحی گھر جلائے گئے
گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا
خاندان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے
اور معصوم بچوں کے دلوں میں خوف بسا دیا گیا۔
یہ صرف عمارتیں نہیں جلائی گئی تھیں
یہ انسانوں کے گھر تھے
یہ کسی کے خواب تھے
یہ کسی کی عبادت گاہ تھی
یہ کسی کا سکون تھا۔
بطور مسیحی وکیل میرا سوال آج بھی وہی ہے:
اگر کسی پر الزام ہو تو فیصلہ ہجوم کرے گا یا عدالت؟
قانون ہاتھ میں لینا کسی کو حق نہیں دیتا کہ وہ کسی کا گھر جلا دے یا کسی کی عبادت گاہ کو نشانہ بنائے۔
ہم نفرت نہیں چاہتے
ہم بدلہ نہیں چاہتے
ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔
جڑانوالہ کو یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ پاکستان میں کسی بھی مذہب کے کسی انسان کے ساتھ ایسا ظلم دوبارہ نہ ہو۔

کیونکہ انصاف کی کوئی مذہب نہیں ہوتی
انصاف صرف انصاف ہوتا ہے۔

✍️ شاویز جاوید ایڈوکیٹ

🎯 Tax Year 2026: Fast, Accurate & Hassle-Free Tax Return Filing!
11/08/2026

🎯 Tax Year 2026: Fast, Accurate & Hassle-Free Tax Return Filing!

11 اگست یومِ اقلیتیں 🇵🇰یہ پوسٹ شاید کچھ لمبی ہے لیکن میرے دل کے اندر بہت کچھ بھرا ہوا ہے۔ یہ صرف ایک دن کا درد نہیں بلکہ...
10/08/2026

11 اگست یومِ اقلیتیں 🇵🇰

یہ پوسٹ شاید کچھ لمبی ہے لیکن میرے دل کے اندر بہت کچھ بھرا ہوا ہے۔ یہ صرف ایک دن کا درد نہیں بلکہ اُن سوالات اور ناانصافیوں کا بوجھ ہے جو ہم مذہبی اقلیتیں برسوں سے اپنے دل میں لیے پھر رہے ہیں۔ میں نے پچھلے سال بھی 11 اگست کو یہی آواز اٹھائی تھی اور میرے اپنے بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ آپ کو کیا حقوق چاہیے آپ کو تو سب حقوق حاصل ہیں۔ آج ایک سال بعد میرا سوال پھر وہی ہے۔ اگر ہمیں سب حقوق حاصل ہیں تو پھر ہمارے ساتھ یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ ہمارے حقوق کہاں ہیں؟

11 اگست صرف مبارکباد دینے کا دن نہیں۔ یہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر یاد دلاتا ہے جس میں مذہبی آزادی شہری برابری اور ہر شہری کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق کا تصور سامنے رکھا گیا تھا۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان دکھایا گیا تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہوگا اور ہر شہری عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔ آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا وہ خواب واقعی پورا ہوا؟

اگر ہم برابر کے شہری ہیں تو پھر کم عمر بچیوں کے اغوا جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں کے واقعات کیوں سامنے آتے ہیں؟ کیوں بعض مسیحی اور ہندو خاندان اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے لیے خوفزدہ رہتے ہیں؟ کیوں غریب مذہبی اقلیتوں کے مزدوروں کو استحصال کم اجرت اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ یہ سوال کسی ایک مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

22 جون 2026 کا Pattoki واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 سالہ مسیحی مزدور Siddique Masih جو چار بچوں کا باپ تھا ایک بھٹہ پر کام کرتا تھا۔ پانی پینے کے معاملے پر تلخ کلامی کے بعد صورتحال سنگین ہوئی اور رپورٹس کے مطابق اس مسلمان ساتھی نے چاقو سے Siddique Masih کا گلا کاٹ دیا جس کے نتیجے میں اس کی جان چلی گئی۔ ایک مزدور ایک باپ چار بچے اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے اپنے سربراہ سے محروم ہوگیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک غریب مزدور کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی طاقتور انسان کی۔

ہم جڑانوالہ کے زخم نہیں بھول سکتے جہاں مسیحی گھر اور گرجا گھر نشانہ بنے۔ ہم رِمشا کالونی اسلام آباد کے اُن خاندانوں کو بھی نہیں بھول سکتے جن کے سامنے اپنے گھروں اور مستقبل کا سوال کھڑا رہا۔ ہم توہین مذہب کے الزامات کے خوف کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ مقدسات کا احترام اپنی جگہ لیکن اگر کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگا دیا جائے یا قانون کا غلط استعمال کسی خاندان کو خوف میں مبتلا کر دے تو انصاف کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔

ندیم مسیح جیسے کیس بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بے گناہ ثابت ہو جائے تو اس کی زندگی کے وہ قیمتی مہینے کون واپس کرے گا جو جیل میں گزر گئے؟ اسی طرح مسیحی اور ہندو اقلیتوں کی کم عمر بچیوں کے اغوا جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں کے سنگین واقعات بھی ہمارے سامنے آتے رہے ہیں۔ میری آواز کسی مذہب کے خلاف نہیں۔ میری آواز ہر اُس انسان کے لیے ہے جس کے ساتھ ظلم ہو۔

اور اگر کوئی کہے کہ مسلمانوں کو بھی مسائل ہیں تو میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا۔ پاکستان میں مسلمان بھی غربت جرم اور ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں اور جہاں کسی مسلمان کے ساتھ ظلم ہو میں اُس ظلم کے خلاف بھی ہوں۔ لیکن آج 11 اگست ہے اور آج ہم اُن مخصوص مسائل کی بات کر رہے ہیں جن کا سامنا مذہبی اقلیتوں کو اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی مسلمان کا حق نہیں مانگ رہے ہم کسی دوسرے مذہب کا حق نہیں چھین رہے ہم کسی کے خلاف نفرت نہیں پھیلا رہے۔ ہم صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

ہمیں خصوصی رعایت نہیں چاہیے۔ ہمیں اپنی جان عزت بیٹیوں گھروں عبادت گاہوں اور روزگار کا تحفظ چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے تعلیم قانون کے سامنے عملی برابری اور سب سے بڑھ کر انصاف چاہیے۔

اور اپنے اُن مسیحی سیاست دانوں سے بھی سوال ہے جو ہماری نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا اب وقت نہیں آیا کہ صرف 11 اگست کی تقریروں اور مبارکبادوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر میدان میں آیا جائے؟ جب ایک مسیحی بچی اغوا ہو جب ایک مزدور کے ساتھ ظلم ہو جب کسی خاندان کو انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں تو ہماری نمائندگی صرف بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ آپ کے عہدے اُن لوگوں کی امانت ہیں جنہوں نے آپ پر اعتماد کیا ہے۔

میں ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ پوسٹ کر رہا ہوں۔ شاید کچھ لوگ پھر کہیں گے کہ یہ شخص ہر سال یہی بات کیوں کرتا ہے۔ میرا جواب سادہ ہے۔ جب تک ہمارے بنیادی سوالات باقی ہیں میری آواز بھی باقی رہے گی۔ میں کسی مسلمان کے خلاف نہیں اور کسی مذہب کے خلاف نہیں۔ میں ظلم ناانصافی جبری تبدیلی مذہب جبری شادی جھوٹے الزامات اور مذہبی امتیاز کے خلاف ہوں۔

میرے مسلمان بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ اس آواز کو اپنے مذہب کے خلاف نہ سمجھیں۔ اگر کسی مسیحی ہندو یا کسی بھی مذہبی اقلیت کے ساتھ ظلم ہو تو صرف اتنا کہنے کی ہمت رکھیں کہ یہ غلط ہے۔ کیونکہ ظلم کرنے والے کا مذہب دیکھنے سے پہلے ہمیں مظلوم کا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ انصاف کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

شاید میری ایک پوسٹ دنیا نہ بدل سکے لیکن میں اپنی خاموشی سے ظلم کو مضبوط نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے آج بھی لکھ رہا ہوں اور جب تک ضرورت پڑی لکھتا رہوں گا۔

ہمیں کسی پر فوقیت نہیں چاہیے۔ ہمیں کسی کا حق نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف یہ چاہیے کہ پاکستان میں ہمیں برابر کا پاکستانی سمجھا جائے۔

ایسا پاکستان جہاں کسی باپ کو اپنی بیٹی کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔ کسی مزدور کو اپنے بنیادی حق کے لیے جان نہ گنوانی پڑے۔ کسی بے گناہ کو جھوٹے الزام کی وجہ سے زندگی کے قیمتی سال جیل میں نہ گزارنے پڑیں۔ اور کسی خاندان کو اپنے گھر عبادت گاہ یا مستقبل کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔

یہ صرف اقلیتوں کا خواب نہیں بلکہ یہ پاکستان کا خواب ہے 🇵🇰

11 اگست یوم اقلیتیں

مبارکباد سے آگے بڑھیں
وعدوں سے آگے بڑھیں
اب عمل کا وقت ہے

✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ

آج اچانک میری نظر ایک ایسی تصویر پر پڑی جس نے مجھے چند لمحوں کے لیے خاموش کر دیا۔ میں اس تصویر کو دیکھتا ہی رہ گیا. اور ...
07/08/2026

آج اچانک میری نظر ایک ایسی تصویر پر پڑی جس نے مجھے چند لمحوں کے لیے خاموش کر دیا۔ میں اس تصویر کو دیکھتا ہی رہ گیا. اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ جانے کب میں برسوں پیچھے اپنے بچپن میں جا پہنچا۔
یہ تصویر میری ہے۔ ایک ایسے بچے کی، جس کی زندگی میں نہ کسی مسئلے کی فکر تھی، نہ کل کی پریشانی، نہ ذمہ داریوں کا بوجھ۔ ہر خواہش پوری ہو جاتی تھی، ہر ضد مان لی جاتی تھی، اور سب سے بڑھ کر میں اپنے ماں باپ کی دعاؤں، محبت اور شفقت کی ٹھنڈی چھاؤں میں تھا۔ اُس وقت زندگی کتنی حسین اور کتنی سادہ لگتی تھی۔
وقت خاموشی سے گزرتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچہ جوان ہو گیا۔ آج میں پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہوں۔ میری زندگی دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑتے، مظلوموں کی آواز بنتے، اور انصاف کی تلاش میں گزرتی ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی کے دکھ، کسی کی پریشانی اور کسی کے مقدمے کا حصہ بنتا ہوں۔
مگر زندگی کی ایک حقیقت نے مجھے آج اس تصویر کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اب میرے پاس دوسروں کے لیے تو وقت ہے، مگر اپنے لیے وقت نہیں۔کبھی عدالتوں کی مصروفیات، کبھی کسی بے بس انسان کی داد رسی, ان سب کے درمیان کہیں وہ معصوم بچہ بھی گم ہو گیا، جو کبھی بے فکر ہو کر مسکرا لیا کرتا تھا۔
آج اس تصویر کو دیکھ کر احساس ہوا کہ انسان زندگی بھر مستقبل بنانے میں لگا رہتا ہے، مگر ایک دن مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کا گزرا ہوا بچپن ہوتا ہے۔ وہ بچپن جو نہ دولت سے واپس خریدا جا سکتا ہے، نہ وقت سے واپس مانگا جا سکتا ہے۔
شاید زندگی کا سب سے کڑوا سچ یہی ہے کہ بچپن میں ہم جلدی بڑے ہونے کی خواہش کرتے ہیں، اور بڑے ہو کر ہر روز دل ہی دل میں یہی دعا کرتے ہیں کہ کاش ,ایک بار پھر بچپن لوٹ آئے۔
وقت کبھی واپس نہیں آتا، لیکن پرانی تصویریں انسان کو چند لمحوں کے لیے ضرور اُس زمانے میں لے جاتی ہیں، جہاں سکون تھا، محبت تھی، اور زندگی واقعی زندگی محسوس ہوتی تھی۔
کاش بچپن تھوڑا اور ٹھہر جاتا

✍️ شاویز جاوید ایڈووکیٹ

پھر کہتے ہیں لوگ قانون پر یقین کیوں نہیں کرتے؟یہ تصویر شمع بی بی اور شہزاد مسیح کی ہے وہ مسیحی میاں بیوی جنہیں کوٹ رادھا...
11/07/2026

پھر کہتے ہیں لوگ قانون پر یقین کیوں نہیں کرتے؟
یہ تصویر شمع بی بی اور شہزاد مسیح کی ہے وہ مسیحی میاں بیوی جنہیں کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے قتل کرکے بھٹے میں جلا دیا۔

اور دوسری تصویر میں ان کا بیٹا سلیمان ہے، جو اپنے ہاتھ میں موبائل فون پر اپنی ماں کی تصویر دکھا رہا ہے۔

اس بچے کی آنکھوں میں دیکھیے۔
اس سے اس کی ماں بھی چھین لی گئی، باپ بھی، اور ایک ہی دن میں اس کا پورا خاندان اجڑ گیا۔

اس مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزمان کی بریت کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوال صرف یہ نہیں کہ کون بری ہوا؟
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ہمارا نظام اتنے سنگین مقدمات کو انجام تک پہنچانے میں بار بار ناکام کیوں ہو جاتا ہے؟

جب مظلوم انصاف کی امید میں سالوں عدالتوں کے دروازے دیکھتا رہے، جب ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن سنگین مقدمات کو کمزور کر دے، تو پھر لوگوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ انصاف کے لیے قانون کی طرف دیکھیں؟

لوگ قانون سے دور خود نہیں ہوتے،
ایک کمزور نظام انہیں قانون سے مایوس کرتا ہے۔

اور پھر ہم پوچھتے ہیں کہ قتل، ریپ، مذہبی تشدد اور ظلم کے واقعات کم کیوں نہیں ہوتے؟

کیونکہ جب جرم کے بعد سزا یقینی نہ رہے، تو جرم کرنے والے کا خوف بھی ختم ہونے لگتا ہے۔

یہ صرف ایک مسیحی خاندان کا سوال نہیں۔
یہ اس بچے جیسے ہر یتیم کے مستقبل کا سوال ہے۔
یہ پاکستان کے ہر شہری کے انصاف، تحفظ اور قانون پر اعتماد کا سوال ہے۔

ایسے مقدمات میں جب انصاف اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے، تو صرف ملزمان بری نہیں ہوتے لوگوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد بھی کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

شمع اور شہزاد واپس نہیں آ سکتے، مگر ان کے بچوں کا سوال آج بھی زندہ ہے: ہمارے ماں باپ کے ساتھ جو ہوا، اس کا انصاف کہاں ہے؟؟؟

شمع اور شہزاد کی راکھ آج بھی ہمارے نظامِ انصاف سے ایک ہی سوال کرتی ہے آخر انصاف کب ہوگا؟

✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ

آج میرا دل شکرگزاری، فخر اور عاجزی کے جذبات سے بھرا ہوا ہے۔22 جون 2026 کا دن میری زندگی کے اُن دنوں میں شامل ہو گیا ہے ج...
24/06/2026

آج میرا دل شکرگزاری، فخر اور عاجزی کے جذبات سے بھرا ہوا ہے۔

22 جون 2026 کا دن میری زندگی کے اُن دنوں میں شامل ہو گیا ہے جنہیں میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ خداوند یسوع مسیح کے فضل، رحم اور وفاداری سے ہمارے مسیحی بھائی ندیم مسیح معزز عدالت سے باعزت بری ہو گیا۔

ندیم مسیح ایک عام انسان نہیں ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر نابینا (Born Blind)ہے۔ ندیم نے دنیا کو اپنی آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا، لیکن اپنی محنت، دیانت داری اور خدا پر ایمان کے ساتھ زندگی بسر کی۔ اپنی بیوہ والدہ اور خاندان کی کفالت کے لیے وہ اوکاڑہ سے لاہور آئے، جہاں وہ محنت مزدوری اور وزن کرنے والی مشین کے ذریعے روزی کماتا تھا۔

پھر اچانک اس کی زندگی نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے اس کی آزادی، عزت اور مستقبل سب کو خطرے میں ڈال دیا۔ ایک ایسا الزام جس کی سزا موت تک ہو سکتی تھی۔ لیکن ان تمام تاریکیوں کے درمیان خداوند کی روشنی چمکتی رہی۔

بطور ایک وکیل اور اس مقدمے میں شامل ہونے والے شخص کے طور پر، میں خاص طور پر اپنے والد، اپنے استاد، اپنے رہنما جاوید سہوترا ایڈووکیٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

میں نے اپنی زندگی میں بہت سے وکیل دیکھے ہیں، لیکن ایک ایسا انسان کم دیکھا ہے جس کے دل میں قانون کے ساتھ ساتھ انسانیت، ہمدردی اور مظلوموں کے لیے درد بھی موجود ہو۔ میں نے انہیں دن رات محنت کرتے، ہر گواہ پر جرح کرتے، ہر قانونی نکتے پر غور کرتے اور ایک بے گناہ انسان کے لیے پوری جرات اور دیانت داری کے ساتھ لڑتے دیکھا۔

والد صاحب! آج جو کچھ میں جانتا ہوں، جو کچھ میں وکالت میں سیکھا ہوں اور جو کچھ حاصل کر رہا ہوں، اس میں آپ کی تربیت، رہنمائی، کردار اور دعاؤں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں آپ کا بیٹا بھی ہوں اور آپ کا شاگرد بھی۔ خداوند آپ کو لمبی عمر، صحت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔

میں اپنے محترم ساتھی حافظ زاہد اسلام ایڈووکیٹ کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس مقدمے میں نہایت خلوص، محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ ان کا تعاون اور قانونی بصیرت اس کامیابی کا ایک اہم حصہ رہا۔

میں اُن تمام لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں دعاؤں میں یاد رکھا۔ آپ سب کی دعائیں ہمارے لیے طاقت، حوصلہ اور امید کا ذریعہ بنیں۔

"میں نے اچھی کشتی لڑی، میں نے دوڑ کو ختم کیا، میں نے ایمان کو محفوظ رکھا۔"
— 2 تیمتھیس 4:7

"خداوند مظلوموں کے لیے انصاف کرتا ہے اور ستائے ہوئے لوگوں کا حق دلاتا ہے۔"
— زبور 103:6

آج جب میں ندیم مسیح کو آزاد دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ایک بریت نظر نہیں آتی، بلکہ ایک پیدائشی نابینا انسان کی بحال ہونے والی عزت، ایک ماں کی قبول ہونے والی دعائیں، اور خدا کی وفاداری نظر آتی ہے۔

آج ایک بے گناہ شخص آزاد ہوا، ایک خاندان کو سکون ملا، اور ایک بار پھر ثابت ہوا کہ سچائی کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔
✍️شاویز جاوید سہوترا ایڈووکیٹ

آج میں یہ الفاظ صرف ایک وکیل کے طور پر نہیں بلکہ Forman Christian College کے ایک سابق طالب علم کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ایو...
14/06/2026

آج میں یہ الفاظ صرف ایک وکیل کے طور پر نہیں بلکہ Forman Christian College کے ایک سابق طالب علم کے طور پر لکھ رہا ہوں۔

ایونگ ہال (Ewing Hall) میرے لیے صرف ایک عمارت نہیں۔ یہ ہماری تاریخ، ہماری شناخت، ہماری یادوں اور لاہور کے تعلیمی ورثے کا ایک اہم باب ہے۔

1864 میں قائم ہونے والا Forman Christian College برصغیر اور پاکستان کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایونگ ہال اس تاریخی سفر کا ایک زندہ گواہ ہے۔ یہ وہ عمارت ہے جس نے نسلوں کے طلبہ کو پناہ دی، تعلیم کے سفر کا حصہ بنی اور لاہور کے تاریخی حسن میں اپنا منفرد مقام بنایا۔

تقسیمِ ہند کے بعد اس جائیداد کی قانونی حیثیت تبدیل ہوئی، مگر بعد ازاں یہ جگہ قانونی معاہدوں اور لیز کے تحت Forman Christian College کے استعمال میں رہی۔ اگر واقعی آج بھی ایک مؤثر لیز موجود ہے، تو پھر قانون کا تقاضا ہے کہ ہر اقدام شفاف، قانونی اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے۔ ریاست کی طاقت قانون سے بالاتر نہیں ہوتی بلکہ قانون کے تابع ہوتی ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہ لیز پہلے 2012-13 تک موجود رہی اور بعد ازاں ایک نئے معاہدے کے تحت اس کی مدت میں توسیع کی گئی، جو 2040 تک جاری ہے۔

جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، ان کے مطابق کالج انتظامیہ کو مختصر وقت میں عمارت خالی کرنے کا کہا گیا، تاریخی تصاویر، فرنیچر اور دیگر ورثہ جاتی اشیاء ہٹانے کی ہدایت دی گئی، جبکہ کالج کا مؤقف ہے کہ عمارت کی بحالی اور تحفظ کے لیے اقدامات پہلے ہی زیرِ عمل تھے۔ اگر یہ درست ہے تو یہ معاملہ صرف ایک عمارت کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی خودمختاری، تاریخی ورثے اور قانونی اصولوں کا بھی ہے۔

میں پنجاب حکومت سے احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، تمام قانونی دستاویزات اور وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں، اور ایک ایسے حل کی طرف بڑھا جائے جو قانون، انصاف اور تاریخی ورثے تینوں کا احترام کرے۔

اور میں اپنے تمام Formanites، سابق طلبہ، موجودہ طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی، وکلاء، صحافیوں اور ہر اُس پاکستانی سے اپیل کرتا ہوں جو تاریخ اور تعلیم کی قدر کرتا ہے:

خاموش نہ رہیں۔

اپنی آواز بلند کریں۔
اس پوسٹ کو شیئر کریں۔
اپنے نمائندوں کو لکھیں۔
ایونگ ہال کے تحفظ کا مطالبہ کریں۔

کیونکہ اگر آج ہم اپنی تاریخ کے لیے نہیں بولیں گے تو کل ہماری تاریخ ہمارے لیے بولنے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔

پارکنگ پلازے، سڑکیں اور عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں،
مگر ایک صدی پر مشتمل ورثہ دوبارہ تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔

ورثہ حکومتوں کا نہیں، قوموں کا ہوتا ہے۔
اور قومیں اپنی تاریخ بچانے کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ (Formanite)







⚖️ وکالت میرے لیے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ انصاف کی خدمت کا ایک عہد ہے۔زندگی میں بہت سے لوگ ایسے حالات سے گزرتے ہیں جہاں ...
30/05/2026

⚖️ وکالت میرے لیے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ انصاف کی خدمت کا ایک عہد ہے۔

زندگی میں بہت سے لوگ ایسے حالات سے گزرتے ہیں جہاں انہیں صرف ایک وکیل نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی بات سنے، ان کے درد کو سمجھے اور ان کے حق کے لیے کھڑا ہو۔ میری کوشش ہمیشہ یہی رہتی ہے کہ ہر مؤکل کو عزت، دیانت اور خلوص کے ساتھ قانونی معاونت فراہم کروں۔

میں جانتا ہوں کہ ہر مقدمہ صرف کاغذات کا ڈھیر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے کسی خاندان کی امیدیں، کسی مظلوم کی فریاد اور کسی بے گناہ کی سچائی ہوتی ہے۔

ایک مسیحی ہونے کے ناطے میرا ایمان ہے کہ انصاف خدا کی مرضی کا حصہ ہے۔ خدا کا کلام فرماتا ہے:

"مظلوم اور یتیم کا انصاف کرو، مسکین اور محتاج کا حق ادا کرو۔"
زبور 82:3

اسی یقین کے ساتھ میں اپنے پیشے کو خدمت، دیانت اور انصاف کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔

سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنا میری ذمہ داری ہے۔

✍️شاویزجاویدسہوتراایڈووکیٹ

30/05/2026

ایک وکیل کی حیثیت سے میں پتوکی کے نواحی علاقے 4 چک جاگوالہ میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں، جہاں اطلاعات کے مطابق پانچ بکریوں، دو بکروں اور ایک شیفرڈ کتے کو آگ لگا کر ہلاک کر دیا گیا اور ایک خاندان کی محنت کی کمائی راکھ میں تبدیل ہو گئی۔

اگر تحقیقات کے بعد یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف املاک کو نقصان پہنچانے کا معاملہ نہیں بلکہ قانون، اخلاقیات اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ کسی بھی معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کمزور اور بے زبان مخلوق کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔

میں متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کے نقصان کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔

✍️شاویز جاوید سہوترا ایڈووکیٹ

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Shawaiz Javed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share