24/06/2017
مسئلہ تراویح
آخری قسط
منرجہ بالا اقساط میں ۲۰ تراویح کی جو ھم نے دلائل بیان کییے ہیں اس کے بہت سارے مؤیدات ہیں ۔اگر تراویح کی نماز کا ۲۰ رکعات ہونا رسول اللہﷺ سے واضح طور پر ثابت ہونا نہ بھی تسلیم کیا جائے تو بھی خلفاے راشدین میں سے تین سے ثابت ہے حضرت عمر کا ۲۰ تراویح پڑھنا روزروشن کی طرح عیاں ہو چکا حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمان سے کئی تبدیلی مروی نہیں اور حضرت علیؓ بھی ۲۰ کے قائل تھے ترمذی باب ماجاء فی قیام شہر رمضان۔اور انہوں نے اپنے دور خلافت میں باجماعت ۲۰ رکعات تراویح کا اہتمام جاری رکھا[ابن ابی شیبہ جلد ۲]اور اس بات کا اعتراف خود غیر مقلدین کے عالم وحیدالزمان نے بھی کیا ہے۔اور رسول اکرمﷺ کا ارشاد کہ تم پر میری سنت اور میرے خلفا کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے۔اب جس طرح نماز تراویح ادا کرنا رسول اکرمﷺ کی ترغیب اور با جماعت ادا کرنا آپﷺ کی پسندیدگی کی وجہ سے ضروری ہے اسی طرح بیس رکعات ادا کرنا آپ کے خلفاء راشدین کی سنت کی وجہ سے ضروری ہے۔دو سو صحابہ کرام کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے جلیل القدر تابعی اور مکہ مکرمہ کے مفتی عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں میں نے لوگوں کو وتر سمیت ۲۳ رکعات پڑھتے دیکھا ہے[ابن ابی شیبہ جلد ۲]آئمہ اربعہ کا قرآن حدیث کی روشنی میں ہزاروں مسائل میں اختلاف ہے مگر تراویح کی رکعات میں کوئی اختلاف نہیں باالاتفاق چاروں آئمہ ۲۰ رکعات تراویح کے قائل ہیں اور آئمہ اربعہ جس بات پر متفق ہوں اس سے نکلنا جائز نہیں اور اس کی وجہ شاہ ولی اللہؒ اپنی کتاب عقد الجید یہ حدیث نقل کی ہے ترجمہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سواد اعظم کی پیروی کرو ،اور جس مسئلہ پر آئمہ اربعہ متفق ہوں اس میں ان کی پیروی کرنا سواد اعظم کی پیروی کرنا ہے کیونکہ ان چاروں آئمہ کے جو مسالک ھیں ان کے علاوہ باقی آئمہ کے مسالک مٹ چکے ہیں اس لیے حضور اکرمﷺ کے اس ارشاد کی پیروی کرنا لازم ہے۔
صحابہ کے زمانے سے لے کر آج تک مسجد حرام میں تراویح باجماعت ۲۰ رکعت پڑھی جارہی ہے۔آج کل حرم پاک میں دس رکعات کے بعد امام بدل جاتا ہے یہ تبدیلی انتظامی لحاظ سے کی جاتی ہے نماز تراویح کی رکعات کو کم سجھنے کی وجہ سے نھیں کی جاتی اول تو حرم کے آئمہ حنبلی مقلد ہیں چنانچہ شیخ سبیل صاحب امام حرم مکی نے بقاعدہ اعتراف کیا ہے کی حرمین کے آئمہ حضرات امام احمد ابن حنبل کے مقلد ہیں۔ تیسرا یہ کہ امام بدلتا ہے مقتدی نہیں بدلتے چوتھا یہ کہ امام شروع سے منزل پڑھنے کی بجائے پہلے امام کی منزل سے آگے پڑھتا ہے۔پنچویں یہ کہ وتر پہلے امام کی بجاے دسرا امام ۲۰ رکعات مکمل ہونے کے بعد پڑھتا ہے چھٹا یہ کہ پہلا امام دس پڑھا کر دسرے کے پیچھے بقیہ دس پڑھتا ہے۔نیز اگر گیر مقلدین نے آئمہ حرمین کے دس تراویح پڑھانے کو ہی بنیاد بنانا ہے تو ان کو آئمہ حرمین کا مقلد ہونا کیوں ضروری نہیں بلکہ تاریخی طورپر حرمین میں آج تک کوئی غیر مقلد امام مقرر نہیں ہوا۔کبھی جنازہ غیر مقلدین کی طرح اونچی آواز سے نہیں پڑھا نماز کبھی نگے سر نہیں پڑھائی،اور آئمہ اربعہ کی تقلید کو شرک نہیں کہا جب کہ غیر مقلدین کے نزدیک آئمہ اربعہ کی تقلید شرک ہے۔
نیز ان غیر مقلدین کی کتاب حدیث نماز اس کے صفحہ ۲۰ کے ھاشیہ پر وحیدالزمان صاحب کا جو ارشاد ہے وہ بھی ہم نقل کرتے ہیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہ حرمین اور وہاں کئے جانے والے اعمال کا کس قدر لحاظ کرتے ہیں،موصوف لکھتے ہیں بہت سارے اکابر علماء نے تصحیح کر دی ہے اس بات کی کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے قول فعل کی کوئی سند نہیں کیونکہ دونوں مقامات پر بدعت کا رواج عام ھو گیا ہے ۔
مدینہ منورہ حضرت عمر کے دور سے لے آج تک ۲۰ رکعات ادا کی جارہی ہیں ،عمر بن عبدالعزیز اور ابان بن عثمان کے دور میں ۳ وتر کے علاوہ ۳۶ رکعات ادا کی جانے لگیں جس کی وجہ یہ تھی کہ اہل مکہ پہلے چار ترویحوں میں ہر ترویح کے بعد ایک طواف کر لیتے تھے اہل مدینہ نے نیکی میں برابری کے لیے ہر ترویحہ کے بعد چار رکعت نفل پڑھنا شروع کر دیے جس سے ان کی تراویح میں ۲۰ تراویح سولہ نفل اور تین رکعات کل انتالیس رکعات ھو گئیں۔اور بعض نے دو نفل ساتھ ملا کر اکتالیس کا عددبیان کر دیا مگر بعد میں نفل ختم ہو گے اور باجماعت ۲۰رکعات تراویح کا اہتمام باقی رہ گیا جو آج تک باقی ہے یعنی حضرت عمرؓ کے دور سے آج تک ۲۰ رکعات سے کم ادا نہیں ہوئی ۔امام ترمذیؒ نے اپنے دور تک نماز تراویح کی صرف دو صورتیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک صورت اکتالیس رکعت کی اور دوسری صورت بیس رکعات کی اور اس دوسری صورت کو اکثر اہل علم کا عمل بتلایا اور اس کی تعداد حضرت عمر اور حضرت علیؓ سے مروی کہا ہے۔
اللہ تعالٰی سب مسلمانوں کو پورے شرح صدر کے ساتھ ۲۰ رکعات تراویح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔:
آمین یا رب العالمین