Khanqahh Hashimia

Khanqahh Hashimia Ap akelay nahi, Ap ka Allah ap k sath hai. Apkay masail ka hal Deen e Islam ki Roshni mein.

زندگی میں پیش آنیوالی تمام تکالیف، پریشانیوں، الجھنوں، نقصانات اور دکھ درد میں نجات کا حصول صرف اللہ کی یاد ہے۔۔ اور اللہ کی یاد کا مرکز ہے خانقاہ

09/07/2026

اسلام میں تربیتِ اولاد کی بنیادیں

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آلہ وأصحابہ أجمعين۔
معزز حاضرینِ کرام!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں اولاد ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ایک بڑی امانت بھی۔ ایک مسلمان والدین کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اچھا کھانا، اچھا لباس اور اعلیٰ تعلیم فراہم کریں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ انہیں اللہ کا نیک بندہ، رسولِ اکرم ﷺ کا سچا اُمتی اور معاشرے کا باکردار فرد بنائیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"(سورۃ التحریم: 66:6)
مفسرین، جن میں امام طبری، امام ابن کثیر اور امام قرطبی شامل ہیں، لکھتے ہیں کہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اہل و عیال کو دین کی تعلیم دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
قرآنِ مجید نے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتوں کو قیامت تک کے والدین کے لیے نمونہ بنا دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيم
ترجمہ
"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
(سورۃ لقمان:)
غور کیجیے! تربیت کا آغاز توحید سے ہو رہا ہے۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نماز، والدین کی اطاعت، حسنِ اخلاق، عاجزی، صبر اور اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تربیت صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا نام ہے۔
محترم سامعین!
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی ذمہ داری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا
«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
ترجمہ: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"(صحیح البخاری، کتاب الأحكام؛ صحیحسلم، حدیث 1829)
یہ حدیث ہمیں احساس دلاتی ہے کہ قیامت کے دن والدین سے ان کی اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی۔
اسی مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: "اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔"اس روایت میں دس سال کی عمر پر نماز کی پابندی کے لیے تربیتی سختی کا بھی ذکر ہے۔(سنن ابی داود، حدیث 495، حسن)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عبادت کی تربیت بچپن ہی سے شروع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
میرے عزیزو!
تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ محبت اور عملی نمونے سے ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا۔ ایک شخص نے عرض کیا: میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا
«مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»

ترجمہ: "جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"(صحیح البخاری؛ صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ شفقت، محبت اور احترام اسلامی تربیت کے لازمی اصول ہیں۔
آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچوں کی تربیت موبائل، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ اس کا علاج صرف پابندیاں نہیں بلکہ ایسا گھر ہے جہاں قرآن کی تلاوت ہو، نماز کی پابندی ہو، سچائی، امانت، حلال رزق اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ موجود ہو۔ بچے والدین کی زبان سے کم اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
آئیے! ہم قرآن کی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔"
(سورۃ الفرقان: 25:74)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، ہماری نسلوں کو ایمان، علم، حسنِ اخلاق اور عملِ صالح کی دولت عطا فرمائے، اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیاب بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

09/07/2026

اسلام میں تربیتِ اولاد کی بنیادیں
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آلہ وأصحابہ أجمعين۔
معزز حاضرینِ کرام!
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں اولاد ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ایک بڑی امانت بھی۔ ایک مسلمان والدین کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اچھا کھانا، اچھا لباس اور اعلیٰ تعلیم فراہم کریں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ انہیں اللہ کا نیک بندہ، رسولِ اکرم ﷺ کا سچا اُمتی اور معاشرے کا باکردار فرد بنائیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"(سورۃ التحریم: 66:6)
مفسرین، جن میں امام طبری، امام ابن کثیر اور امام قرطبی شامل ہیں، لکھتے ہیں کہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اہل و عیال کو دین کی تعلیم دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
قرآنِ مجید نے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتوں کو قیامت تک کے والدین کے لیے نمونہ بنا دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيم
ترجمہ
"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
(سورۃ لقمان:)
غور کیجیے! تربیت کا آغاز توحید سے ہو رہا ہے۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نماز، والدین کی اطاعت، حسنِ اخلاق، عاجزی، صبر اور اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تربیت صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا نام ہے۔
محترم سامعین!
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی ذمہ داری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا
«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
ترجمہ: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"(صحیح البخاری، کتاب الأحكام؛ صحیحسلم، حدیث 1829)
یہ حدیث ہمیں احساس دلاتی ہے کہ قیامت کے دن والدین سے ان کی اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی۔
اسی مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: "اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔"اس روایت میں دس سال کی عمر پر نماز کی پابندی کے لیے تربیتی سختی کا بھی ذکر ہے۔(سنن ابی داود، حدیث 495، حسن)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عبادت کی تربیت بچپن ہی سے شروع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
میرے عزیزو!
تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ محبت اور عملی نمونے سے ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا۔ ایک شخص نے عرض کیا: میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا
«مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»
ترجمہ: "جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"(صحیح البخاری؛ صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ شفقت، محبت اور احترام اسلامی تربیت کے لازمی اصول ہیں۔
آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچوں کی تربیت موبائل، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ اس کا علاج صرف پابندیاں نہیں بلکہ ایسا گھر ہے جہاں قرآن کی تلاوت ہو، نماز کی پابندی ہو، سچائی، امانت، حلال رزق اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ موجود ہو۔ بچے والدین کی زبان سے کم اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
آئیے! ہم قرآن کی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔"
(سورۃ الفرقان: 25:74)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، ہماری نسلوں کو ایمان، علم، حسنِ اخلاق اور عملِ صالح کی دولت عطا فرمائے، اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیاب بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب‎پیر شاہ محمد قادری ‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش ح...
22/11/2025

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب
‎پیر شاہ محمد قادری
‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش حالی اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں، تو کبھی معمولی سی بات بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ "ہم ہر کام میں محنت کرتے ہیں، مگر نتیجہ نہیں نکلتا۔" سوال یہ ہے کہ آخر یہ بار بار کی رکاوٹیں کیوں آتی ہیں؟ اس کے اسباب کو اگر دنیاوی اور روحانی زاویے سے سمجھا جائے تو انسان اپنے حال کو بہتر بنا سکتا ہ
‎دنیاوی اسبابِ
‎دنیاوی اعتبار سے رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ غلط منصوبہ بندی اور غفلت ہے۔ بہت سے لوگ بغیر مشاورت اور تدبیر کے کام شروع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
‎> "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" (آل عمران: 159)
‎"اور ہر کام میں ان سے مشورہ کرو۔"
‎یعنی مشورہ کرنا اور عقل و تدبیر سے کام لینا کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح ناانصافی، دھوکہ، اور دوسروں کا حق مارنا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم)
‎رزق، تعلقات، یا منصوبوں میں بار بار رکاوٹ کبھی منفی رویوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، جیسے حسد، غصہ، بدگمانی، یا دل آزاری۔ جب انسان اپنے اندر منفی توانائی جمع کر لیتا ہے تو وہ خود اپنے راستے بند کرتا ہے۔
‎روحانی اسباب

‎روحانی لحاظ سے دیکھا جائے تو رکاوٹوں کا ایک اہم سبب گناہوں کا تسلسل ہے۔ گناہ دل پر زنگ لگا دیتے ہیں اور خیر کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا گیا:
‎ "کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (المطففین: 14)
‎"بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔"
‎اسی طرح نظرِ بد، حسد، اور جادو بھی روحانی اسباب میں شامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "العینُ حقٌّ" — "نظر بد حق ہے۔" (بخاری)
‎کبھی رکاوٹیں دراصل آزمائش ہوتی ہیں، جن سے بندہ مضبوط بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
‎"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ" (البقرہ: 155)
‎"اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے۔"
‎یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات صرف سزا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان بھی ہیں۔

‎روحانی تدارک
‎جب رکاوٹیں بار بار سامنے آئیں تو سب سے پہلے اپنے باطن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا کہیں ہم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کیا ہمارے معاملات میں حرام یا ناپاک رزق شامل تو نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جسم کا وہ ٹکڑا درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور وہ ہے دل۔" (بخاری)
‎لہٰذا سب سے پہلا علاج توبہ، استغفار، اور درود شریف کی کثرت ہے۔ استغفار دل کو نرم کرتا اور نصیب کو کھولتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
‎"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا" (نوح: 10-11)
‎"اپنے رب سے مغفرت مانگو، وہ ضرور بارشیں نازل کرے گا۔"
‎ساتھ ہی سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی روزانہ تلاوت، سورۂ بقرہ کی تلاوت، یا کسی مجرب روحانی عمل کو اجازت کے ساتھ اختیار کرنا بھی مفید ہے۔
‎دنیاوی توازن

‎روحانی اسباب کے ساتھ ساتھ عملی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
‎ "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ" (الرعد: 11)
‎"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔"
‎اس آیت کا مفہوم ہے کہ دعا اور عمل، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ہم دعا کے ساتھ کوشش بھی جاری رکھیں تو کامیابی یقینی ہے-
‎نتیجہ:
‎زندگی میں بار بار آنے والی رکاوٹیں صرف بدقسمتی یا اتفاق نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے کہیں ہماری کوتاہیاں، کہیں روحانی اثرات، اور کہیں ربّانی آزمائش ہوتی ہے۔ علاج یہی ہے کہ انسان اپنے اعمال درست کرے، دل کو صاف رکھے، رزقِ حلال اختیار کرے، اور اپنے رب سے سچی توبہ کرے۔ جب نیت خالص اور دل مطمئن ہو جائے تو اللہ کے فضل سے تمام دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
‎---
‎نوٹ: اگر آپ محسوس کریں کہ ہر تدبیر کے باوجود معاملات بگڑ رہے ہیں، تو کسی صاحبِ علم و باصفا بزرگ سے روحانی رہنمائی ضرور حاصل کیجیے۔
‎خانقاہ ہاشمیہ سے اس سلسلے میں راہنمائی سکتے ہیں۔
‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل

‎بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‎🌿 تسخیرِ قلوب: افسران کے دلوں میں نرمی پیدا کرنے والی قرآنی آیاث‎---‎🌸  تمہید‎زندگی میں بعض اوق...
08/11/2025

‎بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
‎🌿 تسخیرِ قلوب: افسران کے دلوں میں نرمی پیدا کرنے والی قرآنی آیاث
‎---
‎🌸 تمہید
‎زندگی میں بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی افسر، عہدیدار یا صاحبِ اختیار کے فیصلے پر ہمارے جائز کام کا دار و مدار ہوتا ہے۔ کبھی وہ انسان نرم دل ثابت ہوتا ہے، اور کبھی بنا سبب سخت رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ دنیاوی تدبیریں کرتے ہیں، تعلقات یا سفارشات ڈھونڈتے ہیں، مگر قرآن کریم ہمیں ایک اور دروازہ دکھاتا ہے — “دلوں کا ربّ”۔
‎دلوں پر اثر ڈالنے والا کوئی انسان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ خود ہے جو قلوب کو پھیر دیتا ہے۔
‎اس لیے "تسخیرِ افسران" کا مطلب کسی پر غلبہ نہیں، بلکہ اللہ کے حضور یہ دعا ہے کہ:

‎ "اے رب! میرے جائز کام کے لیے ان کے دلوں میں نرمی، قبولیت اور انصاف پیدا فرما۔"
‎یہی حقیقی تسخیرِ قلوب ہے — نور، یقین اور عاجزی کے ساتھ مانگی جانے والی تسخیر۔
‎---
‎📖 قرآنی آیات برائے تسخیرِ قلوب و افسران

‎۱. سورۃ طٰہٰ – آیت ۲۵ تا ۲۸

‎> رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ (۲۵)
‎وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ (۲۶)
‎وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّن لِّسَانِیْ (۲۷)
‎یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ (۲۸)

‎ترجمہ:
‎"اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، میرا کام میرے لیے آسان کر دے،
‎اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔"
‎📖 (سورۃ طٰہٰ 25–28)

‎🕊️ عمل:
‎جب کسی افسر یا بڑے کے سامنے پیش ہونا ہو تو یہ آیات سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھیں۔
‎ان شاءاللہ گفتار میں نرمی، رعب اور قبولیت پیدا ہوگی۔
‎---
‎۲. سورۃ یوسف – آیت ۲۱

‎> وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْأَرْضِ

‎ترجمہ:
‎"اور اسی طرح ہم نے یوسفؑ کو زمین میں اقتدار بخشا۔"
‎📖 (سورۃ یوسف 21)
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ صبح و شام ۱۱ مرتبہ درود شریف کے ساتھ یہ آیت پڑھیں،
‎اور دعا کریں:

‎> "یا اللہ! جیسے تو نے یوسفؑ کو عزت و مقام دیا، ویسے ہی مجھے بھی اپنے فضل سے قبولیت عطا فرما۔"

‎یہ آیت روحانی عزت، وجاہت اور مقبولیتِ کے لیے نہایت مؤثر ہے۔
‎---
‎۳. سورۃ الزخرف – آیت ۸۴

‎ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ
‎ترجمہ:
‎"اور وہی ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔"
‎📖 (سورۃ الزخرف 84
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ ۳۰۰ مرتبہ یہ آیت درود شریف کے ساتھ پڑھیں،
‎اور دعا کریں:
‎"اے ربّ العالمین! تو ہی زمین و آسمان کا حاکم ہے، اپنے فضل سے میرے حق میں افسران کے دل نرم کر دے اور میرے لیے آسانی پیدا فرما۔

‎یہ آیت روحانی جلال اور تسخیرِ قلوب کے لیے خاص ہے

‎۴. سورۃ الشوریٰ – آیت ۱۹
‎ اللّٰهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ
‎ترجمہ:
‎"اللہ اپنے بندوں پر نہایت لطیف (مہربان) ہے، جسے چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے۔"
‎📖 (سورۃ الشوریٰ 19)
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ ۱۱۱ مرتبہ یہ آیت پڑھ کر دعا کریں:
‎> "اے لطیف و رحیم رب! اپنے لطف سے میرا معاملہ آسان فرما، اور جن کے ہاتھ میں میرا کام ہے ان کے دل میں میرے لیے نرمی پیدا کر دے۔
‎یہ آیت نرمی، برکت اور رزق کے دروازے کھولنے والی ہے۔

‎🌿 جامع طریقۂ عمل (21 دن کا وظیفہ)
‎1. باوضو ہو کر کسی پاک جگہ بیٹھیں۔

‎2. اول و آخر 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی۔

‎3. درمیان میں یہ چاروں آیات بالترتیب تلاوت کریں۔

‎4. آخر میں درج ذیل دعا مانگیں:

‎ دعا:
‎"اے اللہ! تو ہی دلوں کو پھیرنے والا ہے، اپنے فضل سے میرے افسران کے دل میرے حق میں نرم فرما، ان کے فیصلے میرے لیے آسان بنا، اور میرے ہر جائز کام کو قبولیت عطا کر۔ مجھے عزت و دیانت کے ساتھ رزق عطا فرما۔ آمین۔"
‎پابندی سے اکیس دن تک یہ عمل جاری رکھیں۔
‎اگر مقصد جائز، نیت پاک اور دل مطمئن ہو تو اللہ دلوں کے دروازے خود کھول دیتا ہے۔
‎🌸 روحانی نوٹ:

‎یہ عمل صرف جائز مقصد کے لیے کیا جائے —
‎کسی کے حق تلفی یا دنیاوی ضد کے لیے نہیں۔
‎اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے، الفاظ کو نہیں۔

‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل:
https://www.youtube.com/

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب‎پیر شاہ محمد قادری ‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش ح...
01/11/2025

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب
‎پیر شاہ محمد قادری
‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش حالی اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں، تو کبھی معمولی سی بات بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ "ہم ہر کام میں محنت کرتے ہیں، مگر نتیجہ نہیں نکلتا۔" سوال یہ ہے کہ آخر یہ بار بار کی رکاوٹیں کیوں آتی ہیں؟ اس کے اسباب کو اگر دنیاوی اور روحانی زاویے سے سمجھا جائے تو انسان اپنے حال کو بہتر بنا سکتا ہے

‎دنیاوی اسبابِ
‎دنیاوی اعتبار سے رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ غلط منصوبہ بندی اور غفلت ہے۔ بہت سے لوگ بغیر مشاورت اور تدبیر کے کام شروع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

‎> "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" (آل عمران: 159)
‎"اور ہر کام میں ان سے مشورہ کرو۔"
‎یعنی مشورہ کرنا اور عقل و تدبیر سے کام لینا کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح ناانصافی، دھوکہ، اور دوسروں کا حق مارنا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم)

‎رزق، تعلقات، یا منصوبوں میں بار بار رکاوٹ کبھی منفی رویوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، جیسے حسد، غصہ، بدگمانی، یا دل آزاری۔ جب انسان اپنے اندر منفی توانائی جمع کر لیتا ہے تو وہ خود اپنے راستے بند کرتا ہے۔
‎روحانی اسباب

‎روحانی لحاظ سے دیکھا جائے تو رکاوٹوں کا ایک اہم سبب گناہوں کا تسلسل ہے۔ گناہ دل پر زنگ لگا دیتے ہیں اور خیر کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا گیا:
‎ "کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (المطففین: 14)
‎"بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔"

‎اسی طرح نظرِ بد، حسد، اور جادو بھی روحانی اسباب میں شامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "العینُ حقٌّ" — "نظر بد حق ہے۔" (بخاری)

‎کبھی رکاوٹیں دراصل آزمائش ہوتی ہیں، جن سے بندہ مضبوط بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

‎"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ" (البقرہ: 155)
‎"اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے۔"
‎یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات صرف سزا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان بھی ہیں۔

‎روحانی تدارک
‎جب رکاوٹیں بار بار سامنے آئیں تو سب سے پہلے اپنے باطن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا کہیں ہم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کیا ہمارے معاملات میں حرام یا ناپاک رزق شامل تو نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

‎ "جسم کا وہ ٹکڑا درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور وہ ہے دل۔" (بخاری)

‎لہٰذا سب سے پہلا علاج توبہ، استغفار، اور درود شریف کی کثرت ہے۔ استغفار دل کو نرم کرتا اور نصیب کو کھولتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

‎"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا" (نوح: 10-11)
‎"اپنے رب سے مغفرت مانگو، وہ ضرور بارشیں نازل کرے گا۔"
‎ساتھ ہی سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی روزانہ تلاوت، سورۂ بقرہ کی تلاوت، یا کسی مجرب روحانی عمل کو اجازت کے ساتھ اختیار کرنا بھی مفید ہے۔

‎دنیاوی توازن

‎روحانی اسباب کے ساتھ ساتھ عملی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

‎ "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ" (الرعد:
‎"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔"
‎اس آیت کا مفہوم ہے کہ دعا اور عمل، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ہم دعا کے ساتھ کوشش بھی جاری رکھیں تو کامیابی یقینی ہے-

‎نتیجہ:
‎زندگی میں بار بار آنے والی رکاوٹیں صرف بدقسمتی یا اتفاق نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے کہیں ہماری کوتاہیاں، کہیں روحانی اثرات، اور کہیں ربّانی آزمائش ہوتی ہے۔ علاج یہی ہے کہ انسان اپنے اعمال درست کرے، دل کو صاف رکھے، رزقِ حلال اختیار کرے، اور اپنے رب سے سچی توبہ کرے۔ جب نیت خالص اور دل مطمئن ہو جائے تو اللہ کے فضل سے تمام دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
‎---
‎نوٹ: اگر آپ محسوس کریں کہ ہر تدبیر کے باوجود معاملات بگڑ رہے ہیں، تو کسی صاحبِ علم و باصفا بزرگ سے روحانی رہنمائی ضرور حاصل کیجیے۔
‎خانقاہ ہاشمیہ سے اس سلسلے میں راہنمائی سکتے ہیں۔
‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل

Address

House# 105 Block F1 Wapda Town Near Abu Bakar Roundabout
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923309868031

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanqahh Hashimia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category