09/07/2026
اسلام میں تربیتِ اولاد کی بنیادیں
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آلہ وأصحابہ أجمعين۔
معزز حاضرینِ کرام!
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں اولاد ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ایک بڑی امانت بھی۔ ایک مسلمان والدین کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اچھا کھانا، اچھا لباس اور اعلیٰ تعلیم فراہم کریں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ انہیں اللہ کا نیک بندہ، رسولِ اکرم ﷺ کا سچا اُمتی اور معاشرے کا باکردار فرد بنائیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"(سورۃ التحریم: 66:6)
مفسرین، جن میں امام طبری، امام ابن کثیر اور امام قرطبی شامل ہیں، لکھتے ہیں کہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اہل و عیال کو دین کی تعلیم دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
قرآنِ مجید نے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتوں کو قیامت تک کے والدین کے لیے نمونہ بنا دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيم
ترجمہ
"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
(سورۃ لقمان:)
غور کیجیے! تربیت کا آغاز توحید سے ہو رہا ہے۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نماز، والدین کی اطاعت، حسنِ اخلاق، عاجزی، صبر اور اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تربیت صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا نام ہے۔
محترم سامعین!
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی ذمہ داری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا
«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
ترجمہ: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"(صحیح البخاری، کتاب الأحكام؛ صحیحسلم، حدیث 1829)
یہ حدیث ہمیں احساس دلاتی ہے کہ قیامت کے دن والدین سے ان کی اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی۔
اسی مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: "اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔"اس روایت میں دس سال کی عمر پر نماز کی پابندی کے لیے تربیتی سختی کا بھی ذکر ہے۔(سنن ابی داود، حدیث 495، حسن)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عبادت کی تربیت بچپن ہی سے شروع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
میرے عزیزو!
تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ محبت اور عملی نمونے سے ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا۔ ایک شخص نے عرض کیا: میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا
«مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»
ترجمہ: "جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"(صحیح البخاری؛ صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ شفقت، محبت اور احترام اسلامی تربیت کے لازمی اصول ہیں۔
آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچوں کی تربیت موبائل، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ اس کا علاج صرف پابندیاں نہیں بلکہ ایسا گھر ہے جہاں قرآن کی تلاوت ہو، نماز کی پابندی ہو، سچائی، امانت، حلال رزق اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ موجود ہو۔ بچے والدین کی زبان سے کم اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
آئیے! ہم قرآن کی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔"
(سورۃ الفرقان: 25:74)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، ہماری نسلوں کو ایمان، علم، حسنِ اخلاق اور عملِ صالح کی دولت عطا فرمائے، اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیاب بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔