محبت صبح کا ستارہ ہے

محبت صبح کا ستارہ ہے یہ پیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس ،افسانے، انشاعئیے ا

یہ پیج ان تمام لکھاریوں کے نام جن کی تصانیف ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ ۔ جن کے لفظ اتنی تاثیر رکھتے ہیں کہ زندگیاں بدل دیں ۔ ۔
ہماری گزارش ہے کہ آ پ سب بھی اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں اور اپنے پسندیدہ اقتباس شئیر کریں !!!

09/09/2026

میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"
"وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔'"💔🥹

جمعے کی صبح عائشہ نے شوہر کو سوتے دیکھا تو آہستہ سے پردہ کھینچ دیا۔

دسمبر کی دھوپ کمرے کی دہلیز تک آ کر رک گئی تھی۔

وہ کچھ دیر دروازے پر کھڑی رہی، جیسے کوئی ضروری بات یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر واپس پلٹی، دوپٹہ درست کیا اور بولی:

"سلمان…"

سلمان نے کمبل کے اندر سے کروٹ بدل لی۔

"ہوں؟"

"بازار جا رہی ہوں۔ گھر میں کچھ چیزیں ختم ہیں۔"

"ہاں، چلی جاؤ۔"

"شام کو نسرین آ رہی ہے۔"

سلمان نے آنکھیں کھولے بغیر کہا،
"اچھا۔"

"اس کے شوہر بھی ساتھ ہوں گے۔"

اب سلمان نے ایک آنکھ کھولی۔

"تو؟"

عائشہ ایک لمحے کو خاموش رہی۔

"گھر ذرا بکھرا ہوا ہے۔ واپس آ کر اکیلی سب نہیں کر پاؤں گی… تم بس اٹھ کر تھوڑا سا—"

سلمان نے کمبل چہرے تک کھینچ لیا۔

"عائشہ، آج جمعہ ہے۔ پورا ہفتہ کلینک میں کھڑا رہتا ہوں۔ آج تو سونے دو۔"

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔

پھر شاید اسے یاد آ گیا کہ اس گھر میں بہت سی باتیں کہنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

"ٹھیک ہے۔"

وہ چلی گئی۔

سلمان پھر سو گیا۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ بعض اوقات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان کسی بڑے فیصلے سے نہیں ہوتا۔

صرف ایک چھوٹے سے "نہیں" سے ہو جاتا ہے۔

---

دو گھنٹے بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔

سلمان کی آنکھ کھلی۔

گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔

اس نے جلدی سے قمیض پہنی، بال ہاتھ سے درست کیے اور دروازہ کھولا۔

سامنے عائشہ تھی۔

اس کے ساتھ نسرین اور اس کا شوہر کھڑے تھے۔

نسرین کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔

"السلام علیکم!"

"وعلیکم السلام۔"

سلمان نے مسکرا کر راستہ دیا۔

عائشہ اندر داخل ہوئی۔

اس کی نظر ڈرائنگ روم پر پڑی۔

صوفے پر بچوں کے کپڑے پڑے تھے۔ چائے کے کپ پڑے تھے۔ کل رات کے کھلونوں کی ایک ٹوکری الٹی ہوئی تھی۔

وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔

پھر اس نے سلمان کو دیکھا۔

صرف دیکھا۔

نہ شکایت۔

نہ غصہ۔

نسرین نے شاید کچھ محسوس کر لیا تھا۔

"ارے عائشہ، چھوڑو بھی… ہم تو اپنے ہی گھر کے لوگ ہیں۔"

عائشہ مسکرا دی۔

"ہاں… بس ابھی طبیعت کچھ خراب تھی، اس لیے گھر نہیں سنبھال سکی۔"

سلمان کا دل ایک دم بیٹھ گیا۔

اسے یاد آیا کہ طبیعت اس کی خراب تھی۔

عائشہ کی نہیں۔

عائشہ مڑ کر کچن میں چلی گئی۔

پانی کا نل چلا۔

پھر برتنوں کی آواز آنے لگی۔

سلمان جانتا تھا…

وہ رو رہی تھی۔

لیکن مہمانوں کے سامنے عورتیں اکثر اپنے آنسو بھی برتنوں کے شور میں چھپا لیتی ہیں۔

---

رات کو نسرین کے جانے کے بعد عائشہ نے بچوں کے کپڑے تہہ کیے۔

سلمان دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

"عائشہ…"

"ہوں؟"

"ناراض ہو؟"

وہ کپڑا تہہ کرتی رہی۔

"نہیں۔"

"پکا؟"

اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"آپ کو میری ناراضی کب سمجھ آئی ہے؟"

سلمان خاموش ہو گیا۔

عائشہ نے کپڑے الماری میں رکھے اور لائٹ بند کر دی۔

"سو جائیں۔ کل آپ نے کلینک جانا ہے۔"

وہ سو گئی۔

یا شاید سونے کی کوشش کرتی رہی۔

سلمان دیر تک چھت کو دیکھتا رہا۔

پھر اسے بچوں کے کمرے میں ایک شاپنگ بیگ نظر آیا۔

اس نے بیگ کھولا۔

اندر ایک گھڑی تھی۔

وہی گھڑی۔

جس کی تصویر اس نے دو ماہ پہلے موبائل پر عائشہ کو دکھائی تھی۔

"دیکھو، کتنی اچھی ہے۔"

عائشہ نے تب کہا تھا:

"پیسے بچ جائیں تو لے لیجیے گا۔"

سلمان نے پوچھا تھا:

"میرے لیے لاؤ گی؟"

عائشہ ہنس دی تھی۔

"آپ کے لیے کون لائے گا؟"

وہ گھڑی اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا تھا۔

صرف چار لفظ تھے:

"آپ کو پسند تھی نا؟"

سلمان کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔

پھر پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید اس گھر میں وہ واحد شخص نہیں جو تھکتا ہے۔

---

اگلے دن کلینک جاتے ہوئے سلمان نے گاڑی ایک چائے کے کھوکھے کے پاس روک دی۔

سردی تیز تھی۔

ایک بوڑھا شخص کڑاہی میں گرم گرم جلیبی نما میٹھا تل رہا تھا۔

"بھائی، سو روپے کی دے دو۔"

بوڑھے نے ہنستے ہوئے کہا:

"سو روپے میں اب صرف خوشبو ملتی ہے، بیٹا۔"

سلمان بھی ہنس پڑا۔

بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا۔

"خیال کہیں اور ہے؟"

سلمان نے چونک کر پوچھا:

"کیوں؟"

بوڑھا گرم میٹھا کاغذ میں ڈالتے ہوئے بولا:

"جو آدمی جلیبی لیتے ہوئے قیمت نہیں پوچھتا، وہ یا تو بہت خوش ہوتا ہے… یا بہت پریشان۔"

سلمان پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے بیٹھ گیا۔

پتا نہیں کیوں۔

شاید اس لیے کہ اجنبی کے سامنے آدمی اپنی کمزوریاں آسانی سے مان لیتا ہے۔

باتوں باتوں میں سلمان نے اسے عائشہ کا ذکر کیا۔

بوڑھا خاموش ہو گیا۔

پھر اس نے کڑاہی کا چمچ ایک طرف رکھا۔

"بیوی تھی میری بھی۔"

سلمان نے اسے دیکھا۔

"اب؟"

بوڑھے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"اب صرف یاد ہے۔"

کچھ دیر بعد بولا:

"میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"

وہ ہنسا۔

"پھر ایک دن اس نے کہا، 'کام ختم ہو جائے تو بتا دینا۔'"

سلمان خاموش رہا۔

"میں نے سمجھا مذاق کر رہی ہے۔"

بوڑھے نے کاغذ کا ایک ٹکڑا سیدھا کیا۔

"کام ختم ہو گیا… مگر وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔"

سلمان کے ہاتھ رک گئے۔

"بیماری تھی؟"

"ہاں۔"

"آپ کو معلوم نہیں تھا؟"

"معلوم تھا۔"

بوڑھے نے نظریں اٹھائیں۔

"بس یقین نہیں تھا کہ وقت اتنا کم رہ گیا ہے۔"

وہ جملہ سلمان کے اندر کہیں اتر گیا۔

---

اس دن کلینک میں مریض بہت تھے۔

مگر سلمان ہر مریض کے چہرے کے پیچھے ایک ہی چہرہ دیکھ رہا تھا۔

عائشہ کا۔

شام کو وہ گھر آیا تو ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔

عائشہ نے دروازہ کھولا۔

"یہ کیا ہے؟"

"مشبک۔"

"کیوں؟"

"بس۔"

"اتنے مہنگے کیوں لے آئے؟"

سلمان نے جوتے اتارتے ہوئے کہا:

"آج تمہارے ساتھ چائے پینی ہے۔"

عائشہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔

"آپ کو بخار تو نہیں؟"

سلمان ہنس پڑا۔

کافی دن بعد دونوں ایک ساتھ ہنسے تھے۔

---

اس کے بعد سلمان نے کوئی بڑا انقلاب نہیں کیا۔

بس چھوٹی چھوٹی چیزیں بدلنے لگا۔

صبح کلینک پہنچ کر ایک پیغام:

"ناشتہ کیا؟"

دوپہر میں فون:

"آج گھر میں کیا بن رہا ہے؟"

جمعے کو:

"آج کہاں چلنا ہے؟"

عائشہ پہلے پہل حیران ہوتی رہی۔

پھر عادی ہو گئی۔

اور سلمان کو آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگا کہ محبت ہمیشہ بڑے تحفوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

کبھی وہ صرف اتنی ہوتی ہے کہ آدمی اپنا موبائل میز پر رکھ کر دوسرے شخص کی بات سن لے۔

---

ایک جمعے کو دونوں بازار گئے۔

عائشہ نے بچوں کے کپڑے لیے۔

گھر کے لیے پردے۔

سلمان کے لیے ایک سویٹر۔

پھر عائشہ نے دکاندار سے کہا:

"بس، اب کچھ نہیں لینا۔"

سلمان نے پرس دیکھا۔

تنخواہ کا تقریباً سارا حصہ خرچ ہو چکا تھا۔

پرس میں صرف دس روپے بچے تھے۔

واپسی پر عائشہ نے خاموشی سے پوچھا:

"سارے پیسے خرچ ہو گئے؟"

"ہاں۔"

"اب؟"

"اب کیا؟"

"مہینے کے آخر تک؟"

سلمان نے دس روپے کا نوٹ نکالا۔

اسے دیکھا۔

پھر سامنے ایک چھوٹی سی مٹھائی کی دکان نظر آئی۔

"چلو۔"

"کہاں؟"

"مشبک لینے۔"

عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"صرف دس روپے ہیں۔"

سلمان نے اس کی انگلیاں اپنی انگلیوں میں لے لیں۔

"تو دس روپے کی ہی لے لیتے ہیں۔"

"اور گھر کیسے جائیں گے؟"

سلمان مسکرایا۔

"پیدل۔"

"اتنا دور؟"

"آج پہلی بار وقت ہے۔"

عائشہ اسے دیکھتی رہی۔

سلمان نے دکان سے دس روپے کی مشبک لی۔

دونوں سڑک پر چل پڑے۔

سردی تھی۔

دھوپ ڈھل رہی تھی۔

عائشہ نے آہستہ سے کہا:

"سلمان…"

"ہوں؟"

"وہ گھڑی یاد ہے؟"

سلمان مسکرایا۔

"ہاں۔"

"اس دن آپ نے پہلی بار مجھے دیکھا تھا۔"

سلمان نے اس کی طرف دیکھا۔

"نہیں عائشہ۔"

وہ رک گئی۔

سلمان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

"اس دن پہلی بار مجھے سمجھ آیا تھا کہ میں تمہیں دیکھتا ہی کب ہوں۔"

عائشہ کچھ نہ بولی۔

بس مشبک کا ڈبہ دونوں کے درمیان تھا۔

اور دس روپے کا وہ آخری نوٹ…

جس کی قیمت اس دن ختم ہو گئی تھی۔

مگر ان دونوں کے درمیان ایک پورا گھر بچ گیا تھا۔

کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں، بس توجہ مانگتے مانگتے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی دس روپے کی مٹھائی، پوری زندگی کی سب سے مہنگی نصیحت بن جاتی ہے۔

افسانہ
Copied

08/09/2026

بانو قدسیہ لکھتی ہیں کہ:
"آپ کے بغیر جس کا دن گزر سکتا ہے اُسکی آپ کے بغیر
زندگی گزر سکتی ہے، حقیقت پسند بننے یا بےوقوف بنے
رہنا آپ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے "

06/09/2026

میں نہیں جانتی کہ کیوں
لیکن میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھتی ہوں تو آخر تک پہنچتے پہنچتے میرا دل بھیگ جاتا ہے۔۔
اور جب میں یہ پڑھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھا کے فرمایا
"اے اللہ گواہ رہنا۔۔
میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا،،
تو یہاں میرے آنسو آنکھوں سے بہ پڑتے ہیں۔

ہمارا اللہ کتنا مہربان ہے اس نے کتنا سادہ اور مکمل دستورِ حیات دیا ہے ہمیں

آئیے 9 ذوالحج 10 ہجری کو دئیے گئے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔

1۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

2۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔

3۔ لوگوں کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،

4۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

5۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

6۔ جاہلیت کے تمام سود ختم کر دئیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبد المطلب کا سود معاف کرتا ہوں۔

7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔

8۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (بیویاں)ہیں۔انہیں تم نے اللہ کی امان میں اپنے نکاح میں لیا ہے اور یہ بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔

9۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔

10۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔

11 ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر,
عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔
تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔

12۔ یاد رکھو! تم نے ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو!
میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔

13۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔

14۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، ( بعض کتب میں خلفائے راشدین) اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔

15۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا،
16۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔،،

06/09/2026

ڈیفنس ڈے کی دعا:

اے میرے رب ہمیں ڈیفینس میں گھر عطا فرما۔
(فیز کوئی بھی چلے گا)

🤣🤣

اگر رابطہ نہ رہے تو واپسی کا راستہ قدرتی طور پر بند ہو جاتا ہے!یہ زندگی بھی ایک سفر کی مانند ہے، اور راستے تب تک کھلے رہ...
25/08/2026

اگر رابطہ نہ رہے تو واپسی کا راستہ قدرتی طور پر بند ہو جاتا ہے!

یہ زندگی بھی ایک سفر کی مانند ہے، اور راستے تب تک کھلے رہتے ہیں جب تک ان پر آمد و رفت جاری رہے۔ مگر جیسے ہی خاموشی اور بے اعتنائی چھا جاتی ہے، فاصلوں کی دھند راستوں کو دھندلا دیتی ہے، اور وقت کی آندھی انہیں ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے۔

مثال کیلئے ریلوے ٹریک کو دیکھا جا سکتا ہے۔۔! کبھی یہاں ٹرینوں کی گونج سنائی دیتی ہو گی، قافلے گزرتے ہوں گے، منزلیں قریب آتی ہوں گی۔ مگر جیسے ہی سفر رک گیا، درخت اُگ آئے، جھاڑیاں پھیل گئیں، اور راستہ قدرتی طور پر بند ہو گیا۔

تعلقات اور رابطے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں، اگر ان میں بات چیت ختم ہو جائے، تو واپسی کا راستہ خود بخود مٹنے لگتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد، پھر چاہ کر بھی وہ دروازہ نہیں کھلتا، وہ راہ نہیں ملتی، وہ رشتہ دوبارہ جوڑا نہیں جا سکتا۔

رابطے ختم نہ کریں، بصورتِ دیگر راستے خود ہی بند ہو جائیں گے!
Copied

23/08/2026

کچھ باتیں انسان شادی کے دن نہیں سمجھتا…
انہیں سمجھنے میں آدھی زندگی لگ جاتی ہے۔

آج اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ اتنے برس ایک شریکِ سفر کے ساتھ گزارنے کے بعد محبت کے بارے میں کیا سیکھا، تو شاید میں محبت کی کوئی بڑی تعریف نہ کر سکوں۔

میں صرف اپنی زندگی کی بات کروں گا۔

میں نے ایک ہی انسان کے ساتھ زندگی شروع کی تھی…
لیکن آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اسی ایک انسان کے ساتھ کئی زندگیاں گزاری ہیں۔

شادی سے پہلے وہ کوئی اور روپ تھا۔
شادی کے بعد وہی انسان ایک نئے روپ میں میرے ساتھ تھا۔

پھر پہلے دس سال گزرے…
ہم دونوں بدل گئے۔

اگلے دس سال گزرے…
ہم پھر پہلے جیسے نہ رہے۔

بچے آئے، گھر بنا، ذمہ داریاں بڑھیں، زندگی کی دوڑ تیز ہوئی۔
کچھ خواب پورے ہوئے، کچھ رہ گئے۔
کچھ دن بہت خوبصورت تھے، کچھ دن شاید ایسے بھی تھے جنہیں ہم دونوں نے صرف ایک دوسرے کی خاطر گزار لیا۔

کبھی میں اپنی دنیا میں مصروف رہا،
کبھی وہ اپنی ذمہ داریوں میں۔

اور اس سارے سفر میں ایک بات بہت دیر سے سمجھ آئی:

شخص وہی رہتا ہے…
مگر وقت اس کے اندر بہت کچھ بدل دیتا ہے۔

اور صرف اسے نہیں—
مجھے بھی۔

جس انسان نے جوانی میں میرا ہاتھ تھاما تھا، اس نے شاید یہ نہیں سوچا ہوگا کہ آنے والے برسوں میں اسے میرے کتنے مختلف روپ دیکھنے پڑیں گے۔

میری کامیابی بھی۔
میری ناکامی بھی۔
میرا غصہ بھی۔
میری مصروفیت بھی۔
میری پریشانیاں بھی۔
میری خاموشیاں بھی۔

اور میں نے بھی اس کے کئی روپ دیکھے۔

ایک لڑکی…
پھر بیوی…
پھر ماں…
پھر بچوں اور گھر کی فکر اپنے وجود میں سمیٹ لینے والی عورت…
اور پھر وقت کے ساتھ وہ ساتھی، جس کے ساتھ اب بعض اوقات بات کیے بغیر بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔

یہاں پہنچ کر ایک احساس دل میں ذرا چبھتا بھی ہے۔

ہم جن لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ زندگی گزارتے ہیں، اکثر انہی کا شکریہ سب سے کم ادا کرتے ہیں۔

ہم باہر والوں کی چھوٹی سی مہربانی یاد رکھتے ہیں،
مگر گھر میں برسوں سے ہمارے ساتھ کھڑے انسان کی بہت سی قربانیوں کو آہستہ آہستہ “معمول” سمجھ لیتے ہیں۔

کھانا معمول…
انتظار معمول…
فکر معمول…
ساتھ معمول…

حتیٰ کہ اس انسان کی موجودگی بھی معمول۔

اور شاید یہی ہماری سب سے بڑی بھول ہے۔

کیونکہ ایک دن یہی معمول…
یاد بن جاتا ہے۔

ایک دن وہ آواز جسے روز سنتے تھے، سننے کو دل ترستا ہے۔

وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر کبھی جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، انہی کو یاد کرکے آنکھ نم ہو جاتی ہے۔

وہ کرسی اپنی جگہ موجود ہوتی ہے…

بس اس پر بیٹھنے والا انسان نہیں ہوتا۔

شاید اسی لیے اب مجھے محبت کا مطلب کچھ اور سمجھ آتا ہے۔

محبت صرف جوانی کی شدت کا نام نہیں۔

ایک عمر کے بعد محبت
انتظار بن جاتی ہے،
احترام بن جاتی ہے،
برداشت بن جاتی ہے،
خیال بن جاتی ہے،
اور کبھی صرف خاموشی سے پاس بیٹھ جانے کا نام بن جاتی ہے۔

پچیس سال کی عمر میں شاید انسان کہتا ہے:

“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔”

اور زندگی کے کئی عشرے گزارنے کے بعد شاید اس سے بھی خوبصورت جملہ یہ ہوتا ہے:

“میں ہوں نا… تمہارے ساتھ۔”

آج میں اپنے تجربے سے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں:

اپنے شریکِ سفر کو اس انسان میں تلاش نہ کرتے رہیے جس سے آپ نے برسوں پہلے شادی کی تھی۔

وہ بدل چکا ہے۔

اور آپ بھی۔

اس کے آج کے وجود کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

آج اسے کس بات سے خوشی ہوتی ہے؟
کس چیز سے دکھ پہنچتا ہے؟
اب اسے آپ سے کیا چاہیے؟

شاید اب اسے تحفوں سے زیادہ آپ کا وقت چاہیے۔

شاید تعریف سے زیادہ احترام۔

شاید وعدوں سے زیادہ موجودگی۔

اور شاید بہت کچھ نہیں…

صرف آپ۔

میرے نزدیک طویل رفاقت کا اصل حسن یہی ہے:

آپ ایک دوسرے سے صرف ایک مرتبہ محبت نہیں کرتے۔
آپ زندگی کے ہر نئے مرحلے میں ایک دوسرے سے دوبارہ محبت کرنا سیکھتے ہیں۔

اور ہر چند سال بعد زندگی آپ کے سامنے جیسے ایک نیا سوال رکھ دیتی ہے:

“اب یہ انسان بدل گیا ہے… کیا تم اسے پھر چنتے ہو؟”

اور شاید ایک خوبصورت رشتہ وہ ہے جس میں جواب بار بار یہی آئے:

ہاں۔
آج بھی۔
اسی کو۔
اس کے اس نئے روپ کے ساتھ بھی۔

اور جن کے شریکِ سفر آج ان کے ساتھ ہیں، ان سے میری بس اتنی سی گزارش ہے:

آج انہیں معمول مت سمجھیے گا۔

کچھ دیر ان کے پاس بیٹھیں۔
انہیں دیکھیں۔
ان کی بات سنیں۔

اور دل میں ان برسوں کا حساب نہ کریں جو گزر گئے…

شکر کریں ان برسوں کا جو آپ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ گزار لیے۔

کیونکہ زندگی کے آخری حصے میں شاید انسان کو یہ افسوس نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی بحثیں نہیں جیتیں…

افسوس شاید یہ ہوتا ہے کہ

جس کے ساتھ بیٹھنے کے لیے پوری زندگی موجود تھی،
اس کے پاس بیٹھنے کے لیے ہم نے وقت بہت کم نکالا۔

جو ساتھ آج میسر ہے، اسے آج ہی محسوس کر لیجیے۔

کیا معلوم…
زندگی نے ایک دوسرے کے نام ابھی کتنی شامیں لکھی ہیں۔

Copied

14/08/2026

ایک ائیرلائن میں *ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ میں سوﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﯿﮟ، جبکہ
ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ،
ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔
*” ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ“*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ جی ﺑﺎﻟﮑﻞ“
ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ،
ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ،
ﭼﻨﺎنچہ ﮨﻢ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ،
ﭘﺘﮧﭼﻼ کہ *ﺟﯿﻨﺎ* ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ *” ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ“* ﭘﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ ﻭﮦ *ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ* ﺳﮯ بھی ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍٓﭨﻮﺑﺎﺋﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﯽ(سوانعمری) ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ“
*ﺟﯿﻨﺎ* ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ،
ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﺍﻭﻝ ﻧﮯ،
950ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮦ؟
ﮨﻮﺱ، ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ، ﻻﻟﭻ، ﮐﺎﮨﻠﯽ، ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ، ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭﺗﮑﺒﺮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﮯ،
ﺗﻮ ﯾﮧ ﺷﺎندﺍﺭ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ 1925ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ،
ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﯾﮧ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﺎﺭﺕ
ﮐﮯﻟﯿﮯﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯼ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑل ﺑﺎﺍﺻﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ"
ﻭﮦ ﻓﺮﻣﻮﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻓﻼﺳﻔﺮﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ بجاۓ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﻣﺜﻼً ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
( ﻭﮦ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﮯ، ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ، ﻗﺎﺋﺪ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯼ)
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﺮﻭﭨﻮﮐﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ،
ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ،
ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎﯾﺎ،
ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﯽ،
ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ،
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ،
ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻭﯾﻞ ﮈﻥ ﺍٓﭖ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎندﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ“
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؟
” ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ“
وﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ“
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ،
ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﻭﮦ بھانپ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔
”ﺍٓﭖ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ“
ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺍٓ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ،
ﺍٓﭖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﻋﻤﻠﯽ ‏(ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ) ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﺑﮭﯽ ”ﺍﮈﺍﭘﭧ“ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،
ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ۔
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﻧﻮﭦ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﭖ ﺩﯾﺎ،
ﺍٓﭖ ﮨﺮ ﻓﻮﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ؟
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ؐ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ،
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﻡ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍٓﭖ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮔﻨﻮﺍﺋﯿﮟ،
ﺟﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﮟ،
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺍٓﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﻮ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﯽ،
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ،
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ،
ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﭖ (ﻣﻨﺎﻓﻖ) ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ
copied...

07/08/2026

ہفتہ کا دن تھا اور رات کو سونے کے لئے لیٹتے ہوئے اس کو اچھی طرح یاد تھا کہ صبح اتوار ہے اور وہ جلدی آئے گی اس لئے اس نے آفس دیر سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ صبح جب وہ آئی تھی تو بہت خوش نظر آرہی تھی۔ اس نے حسب معمول اسے چائے کافی کی آفر کی تھی اور حسب معمول مریم نے آفر ٹھکرا دی تھی۔ جب وہ سیپارہ واپس کرنے آئی تو وہ لاؤنج میں ٹی وی آن کئے بیٹھا تھا۔ سیپارہ اندر رکھ کر وہ واپس آئی تھی اور اس نے کہا تھا۔
''میں نے آپ کو بہت ڈسٹرب کیا لیکن بس آج آخری دن تھا… کل ہم لوگ واپس چلے جائیں گے۔''
اس کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہو گئی تھی۔
''آپ لوگ کل جارہے ہیں…؟'' اس کے سوال پر اس نے اثبات میں سرہلایا۔
''کیا آپ مجھے اپنا فون نمبر یا ایڈریس دیں گی'' وہ اس کی بات پر حیران ہو گئی تھی۔
''وہ کیوں…؟'' وہ اس کی بات کا مناسب جواب نہیں دے پایا بس کندھے اچکاتے ہوئے اس نے کہا:
''نہیں ایسے ہی۔''
''میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔'' اسے بڑی سختی سے جواب دیا گیا تھا وہ بس اس کا منہ دیکھ کر رہ گیا۔
''اچھا ایک منٹ ٹھہر جائیں'' وہ یہ کہہ کر تیزی سے اندر چلا گیا اور وہ حیرانگی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ پھر جتنی تیزی سے وہ اوپر گیا تھا اتنی ہی تیزی سے واپس آگیا۔
''یہ آپ کے لئے ہے'' اس نے ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھایا تھا۔ وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹ گئی۔
''کیوں؟''
''اس لئے کہ آپ نے میرا پاؤں ٹھیک کیا تھا اور اس لئے بھی کہ میں آپ سے فرینڈ شپ کرنا چاہتا ہوں اور اس لئے بھی کہ مجھے آپ اچھی لگی ہیں۔''
وہ اس کے تاثرات سے بے خبر کہتا جارہا تھا اور وہ جیسے غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔ اس نے یک دم پیکٹ اس کے ہاتھ سے کھینچ کر زور سے دیوار پر دے مارا تھا۔
''آپ نے مجھے بہت غلط سمجھا ہے۔ میں تو صرف قرآن پاک لینے کے لئے آپ کے گھر آتی تھی اور آپ…''
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر غصے میں دروازے کی طرف چل پڑی۔
''مریم آپ بھی مجھے غلط سمجھ رہی ہیں'' وہ ایک دم اس کے سامنے آگیا تھا۔
''آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں… یہ تو صرف ایک گڈوِل گفٹ تھا اور کچھ نہیں، بلکہ میں پھر بھی ایکسکیوز کرتا ہوں۔ آپ مجھے غلط نہ سمجھیں۔ بہت عرصے کے بعد کسی نے میرے سامنے اس طرح مذہب پر یقین ظاہر کیا ہے جو نیچرلی مجھے اچھا لگا ورنہ اور کوئی بات نہیں ہے۔''
وہ وضاحتیں پیش کر رہا تھا اور اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ رہا تھا۔ اب اسے افسوس ہو رہا تھا کہ شاید اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ اسے اب یاد آرہا تھا کہ پچھلے پندرہ دن سے وہ اس سے کتنے مہذبانہ انداز میں پیش آتا رہا تھا۔
''مجھے بھی افسوس ہے کہ میں نے آپ کو غلط سمجھا۔ بس مجھے ایسے ہی غصہ آگیا تھا۔ آپ نے تو واقعی ہمیشہ اسی طرح میری عزت اور مدد کی ہے۔''
مریم نے کھلے دل سے اس سے معذرت کی تھی، شرمندگی کے تاثرات اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔ وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ بڑی عجیب نظروں سے اسے دیکھنے کے بعد اس نے مریم سے کہا۔
''اِٹس آل رائٹ… آئیں میں آپ کو باہر تک چھوڑ آؤں۔'' وہ اس کے ساتھ چل پڑی تھی لیکن اب بھی اپنی حرکت پر پشیمان تھا۔ گیٹ کی طرف جاتے ہوئے اچانک وہ اس سے کہنے لگا۔
''ویسے آئندہ کے لئے ایک مفید مشورہ میں آپ کو دیتا ہوں۔ قرآن پاک سے عقیدت اور محبت اچھی چیز ہے لیکن آئندہ کبھی اس طرح اکیلے کسی کے گھر مت جائیں۔'' وہ یک دم رک گئی وہ بھی ٹھہر گیا۔
''کیا مطلب…؟'' وہ واقعی اس کی بات نہیں سمجھی۔
''ہاں کبھی بھی اکیلے کسی کے گھر مت جائیں اور کسی تنہا مرد کے پاس تو بالکل بھی نہیں چاہے وہ سولہ سال کا بچہ ہو یا سو سال کا بوڑھا۔''
''کیا مطلب…؟'' اب کی بار وہ ہکا بکا رہ گئی تھی۔
''میرا مطلب وہی ہے جو آپ سمجھ رہی ہیں۔ آپ اتنے دنوں سے یہاں آرہی ہیں کیا آپ نے میرے علاوہ یہاں کسی کو دیکھا ہے۔''
اس نے بڑی سنجیدگی سے دریافت کیا۔
''ملازم تھے تو سہی۔'' مریم نے جیسے خود کو خوش فہمی سے بہلانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اس کی بات پر تمسخرانہ انداز میں ہنس دیا۔
''اچھا ملازم تھے مگر کب، مجھے اچھی طرح یاد ہے جب آپ پہلے دن آئی تھیں تو گیٹ پر واچ مین تک نہیں تھا اور ملازم اپنے کوارٹرز میں تھے۔
''گھر میں کوئی نہیں تھا؟'' اس نے بمشکل سوال کیا تھا۔
''نہیں گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اتنے دنوں میں کیا آپ نے میرے کسی فیملی ممبر کو دیکھا ہے۔ نہیں دیکھا نا، آپ دیکھ بھی کیسے سکتی ہیں کیونکہ وہ تو یہاں ہیں ہی نہیں… وہ امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ صرف فادر یہاں ہوتے ہیں لیکن وہ بھی صبح نو بجے چلے جاتے ہیں اور پھر رات کو واپس آتے ہیں اور پھر کئی دفعہ ایسا ہوا کہ گیٹ پر واچ مین کے علاوہ میرے گھر میں کوئی نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً اس دن جب آپ مجھے وہ پانی وانی بنا کر دے رہی تھیں۔''
وہ اطمینان سے کہتا جارہا تھا اور وہ ہونق بنی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔
''پر میں تو صرف چند منٹ کے لئے آتی تھی اور فوراً چلی جاتی تھی۔'' اس نے جیسے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔
''ہاں آپ جلدی چلی جاتی تھیں لیکن وہ صرف اس لئے کہ میں آپ کو جانے دیتا تھا۔ ورنہ چاہتا تو آپ کا قیام طویل بھی ہو سکتا تھا۔''
''پر میں قرآن پاک لینے آتی تھی۔''
اس کا لہجہ کمزور اور معذرت خواہانہ ہوتا جارہا تھا۔
''اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ آپ کس لئے آتی ہیں۔''
''لیکن آپ تو مسلم ہیں… میں نہیں مانتی کہ آپ میرے ساتھ کوئی بدتمیزی کر سکتے تھے۔''
اب کی بار وہ کھکھلا کر بڑے دلکش انداز میں ہنسا تھا۔
''آپ کیا سوچتی ہیں یہاں سارے کرائمز نان مسلمز کرتے ہیں؟''
''آپ ایسے تو نہیں لگتے۔''
ایک بار پھر وہ ہنس پڑا تھا۔
''میرے بارے میں آپ کا یہ اندازہ بھی غلط ہے۔ اگر آپ مجھے جانتیں تو یہاں آنے سے پہلے کم از کم ایک ہزار بار ضرور سوچتیں اور اکیلے آتے ہوئے تو شاید لاکھ بار'' وہ اس کی متغیر ہوتی ہوئی رنگت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
''آپ نے تو اتنے دنوں سے میرا نام تک پوچھنا گوارا نہیں کیا۔ کسی مہذب آدمی کو بھڑکانے کے لئے تو اتنی بے رخی ہی کافی ہوتی ہے پھر آج بھی آپ نے بڑا کارنامہ کیا۔ میرا گفٹ اٹھا کر پھینک دیا۔ کمال کیا۔ لیکن آپ دیکھ لیں واچ مین آج بھی گیٹ پر نہیں ہے اور اکثر اس وقت نہیں ہوتا۔ آپ نے جارحیت اس جگہ دکھائی تھی جہاں صرف میں تھا اور کوئی نہیں۔ آپ خود سوچیں اگر مجھے آپ کی اس حرکت پر غصہ آجاتا تو کیا ہوتا۔''
وہ اس کی بات پر پیروں کی طرف دیکھتے ہوئے ہونٹ کاٹنے لگی تھی۔ وہ جان گیا کہ اب اگر اس نے کچھ اور کہا تو وہ شاید پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دے گی۔
''آئیں اب میں آپ کو گیٹ تک چھوڑ آؤں۔''
وہ سر جھکائے اس کے ساتھ چلنے لگی۔
''ویسے آپ کس کلاس کو پڑھاتی ہیں۔''
چلتے چلے اس نے اس سے پوچھا۔
''ون کو۔'' اس نے اتنی ہلکی آواز میں جواب دیا کہ وہ بمشکل سن پایا۔
''آپ کو پڑھانا بھی اسی کلاس کو چاہئے۔ ویسے جو کچھ ابھی میں نے آپ سے کہا ہے وہ اپنے سٹوڈنٹس کو ضرور سکھانا۔'' وہ اس کے طنز کو سمجھنے کے باوجود بھی چپ ہی رہی۔ گیٹ کی چین اتارتے ہوئے اس نے کہا۔
''اگر آپ نہ رونے کا وعدہ کریں تو ایک بات اور بتاتا ہوں۔'' وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
''آپ پہلے دن یہاں آئی تھیں اس دن…'' وہ بولتے ہوئے یک دم رک گیا پھر دھیمی آواز میں اس نے کہا۔
''اس دن میں ڈرنک کر رہا تھا'' مریم کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
''اور جس دن آپ مجھے وہ پانی کی ترکیب بتا رہی تھیں اس دن آپ کے آنے سے پہلے میں ڈرنک کر رہا تھا اور میں نے آپ کے بارے میں وہی سوچا تھا جو کوئی مرد کسی عورت کے بارے میں سوچ سکتا ہے اور آج آپ نے کتنی آسانی سے میری ایکسکیوز کو مان لیا حالانکہ میں نے وہ گفٹ آپ کو اسی نیت سے دیا تھا جو آپ پہلے سمجھی ہیں اور آپ پتا نہیں اسٹوپڈ ہیں یا کیا ہیں کہ ان میں سے کچھ بھی جان نہیں پائیں تو پھر خود کو اتنے رسک میں کیوں ڈالتی ہیں۔ یار عقل کی ضرورت ہوتی ہے جب دوسرے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں کچھ جان پائیں۔ آپ تو شاید…''
وہ اس کی آنکھوں میں ابھرنے والی نمی دیکھ کر یک دم چپ ہو گیا۔ اسے پہلی بار اپنے تجزئیے کی بے رحمی کا احساس ہوا تھا But inspite of everything I must admit کہ آپ مجھے بہت اچھی لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں کوئی بد تمیزی نہیں کر سکا۔ شاید میں…''
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔ آنسوؤں سے بھیگے ہوئے چہرے کے ساتھ اس نے سر اٹھا کر آخری بار اسے دیکھا جو بہت گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ کچھ کہے بغیر گیٹ کراس کر گئی تھی۔
ایک ہفتہ کے بعد اسے اسکول کے ایڈرس پر ایک پارسل ملا تھا۔ اسے بہت حیرت ہوئی تھی کہ اسے اسکول کے ایڈریس پر پارسل کون بھیج سکتا ہے۔ پارسل کھولتے ہی کرسچن ڈی اور کی ایک بہت خوبصورت اور قیمتی گھڑی نے اسے چونکا دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اتنا قیمتی تحفہ اسے کون بھیج سکتا تھا۔ بڑے تجسس سے اس نے پیکٹ میں سے نکلنے والے کارڈ کو کھولا تھا۔ کارڈ پر تحریر لفظوں نے اسے چونکا دیا۔
An ordinary gift for an extraordinary girl who restored my faith in God and the chastity of woman.
Your humble admirer
Walid Haider
چند لمحوں کے لئے اس کا سانس جیسے حلق میں اٹک گیا۔ وہ جان گئی تھی کہ وہ کس کا بھیجا ہوا تحفہ تھا۔ لیکن پھر وہ اس تحریر کو دوبارہ پڑھنے لگی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس نے وہ کام کیسے کیا ہے جس کا وہ ذکر کر رہا تھا۔ ہاں البتہ اس نے اسے ضرور کچھ سکھایا جسے وہ باقی ساری زندگی فراموش نہیں کر سکتی تھی۔
''کبھی کسی مرد کے پاس اکیلے مت جانا چاہے وہ سولہ سال کا بچہ ہو یا سو سال کا بوڑھا۔''
اس نے کیس میں سے گھڑی نکال لی۔
''آپ مجھے بہت اچھی لگی ہیں اس لئے میں آپ سے کوئی بدتمیزی نہیں کر سکا شاید میں آپ سے…'' کوئی کہہ رہا تھا۔ گھڑی کو گال سے چھوتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کوئی بات ہے تیری بات میں - عمیرہ احمد

09/07/2026

تمہیں ہمیشہ
دنیا سے بچائے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی
تمہیں خود اپنے آپ سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے،
کچھ جنگیں
باہر نہیں لڑی جاتیں۔
وہ خاموشی سے
تمہارے اپنے ذہن کے اندر جاری رہتی ہیں،
جہاں کوئی نہیں دیکھ پاتا
کہ تم حقیقت میں کتنے تھک چکے ہو،
کتنی بار خود کو سنبھالا ہے،
اور کتنی بار
اپنے ہی خیالات کے بوجھ تلے
بکھرنے سے خود کو بچایا ہے۔۔!!

05/06/2026

میرے والدین کی علیحدگی کو ستائیس سال ہو چکے تھے۔نہ طلاق ہوئی نہ صلح۔
بس ایک دن دونوں نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنا چھوڑ دیا تھا۔
اور پھر ستائیس برس تک ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔
پھر ایک رات امی ہسپتال پہنچ گئیں۔
اور اُن کے کمرے کے باہر سب سے پہلے جو شخص بیٹھا تھا...

وہ میرے ابا تھے۔

آج تک نہیں جانتی کہ اُس منظر کو محبت کہوں، وفاداری یا صرف عمر بھر کی عادت۔

میرا نام مریم ہے۔

عمر تینتالیس سال۔

اور میں اُن بچوں میں سے ہوں جنہوں نے اپنی زندگی دو گھروں کے درمیان گزاری۔

جب میرے والدین الگ ہوئے ۔
کوئی شور شرابہ نہیں ہوا۔
کوئی عدالت نہیں لگی۔
کوئی کاغذ نہیں پھٹا۔

بس ایک دن ابا نے اپنا سامان اٹھایا اور شہر کے دوسرے حصے میں ایک چھوٹے سے گھر میں منتقل ہو گئے۔

کسی نے ہمیں کبھی اصل وجہ نہیں بتائی۔

شاید دونوں نے ایک دوسرے کو بہت دکھ پہنچایا تھا۔

شاید دونوں تھک گئے تھے۔

شاید کچھ زخم ایسے تھے جن کا علاج ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر ممکن نہیں رہا تھا۔

مگر ایک بات ضرور تھی۔

نفرت جتنی بھی تھی، دونوں نے کبھی ہمیں ایک دوسرے کے خلاف نہیں کیا۔

امی نے کبھی ابا کی برائی نہیں کی۔

اور ابا نے کبھی امی کی عزت کم نہیں ہونے دی۔

وقت گزرتا گیا۔
ہم بڑے ہو گئے۔
اپنی زندگیاں بنا لیں۔

مگر ہمارے والدین وہیں رہ گئے۔

دو الگ گھروں میں۔
دو الگ دنیاؤں میں۔
ایک دوسرے سے بے نیاز۔

یا کم از کم ہمیں ہمیشہ یہی لگتا رہا۔

پھر تین ہفتے پہلے ایک شام فون آیا۔

امی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی۔

پڑوسی اُنہیں ہسپتال لے گئے تھے۔

میں گھبراہٹ میں گھر سے نکلی۔

راستے بھر دعائیں پڑھتی رہی۔

بار بار دل میں ایک ہی خوف تھا:

یا اللہ، میری ماں کو سلامت رکھنا۔

ہسپتال پہنچی تو قدم اچانک رک گئے۔

امی کے کمرے کے باہر ایک شخص کرسی پر بیٹھا تھا۔

سر جھکا ہوا۔

ہاتھوں میں تسبیح۔

چہرے پر پریشانی۔

وہ میرے ابا تھے۔

میں چند لمحے اُنہیں دیکھتی رہی۔

پھر بے اختیار پوچھا:

"آپ کو کس نے بتایا؟"

انہوں نے سر اٹھایا۔

آنکھوں کے نیچے گہرے سائے تھے۔

"تم نے۔"

میں حیران رہ گئی۔

"میں نے؟"

وہ آہستہ سے مسکرائے۔

"راستے میں تمہارا فون آیا تھا۔"

مجھے یاد نہیں تھا۔

شاید گھبراہٹ میں انگلی اُن کے نمبر پر چلی گئی تھی۔

شاید دل نے اُس شخص کو پکارا تھا جسے وہ ابھی بھی مشکل وقت میں اپنا سمجھتا تھا۔

میں اُن کے پاس بیٹھ گئی۔

انہوں نے پانی کی بوتل میری طرف بڑھائی۔

پھر بولے:

"ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے۔"

"الحمدللہ خطرہ ٹل گیا ہے۔"

پتہ نہیں اُس رات انہوں نے یہ جملہ کتنی بار دہرایا۔

شاید مجھے تسلی دینے کیلئے۔

شاید خود کو۔

اگلی صبح امی کو ہوش آیا۔

انہوں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔

کمرے میں نظر دوڑائی۔

پھر اُن کی نگاہ ابا پر جا کر ٹھہر گئی۔

کافی دیر دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

ستائیس سال کی خاموشی شاید اُس ایک لمحے میں سمٹ آئی تھی۔

پھر امی نے آہستہ سے کہا:

"تمہیں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔"

ابا نے جواب دیا:

"پتہ ہے۔"

بس اتنا ہی۔

کوئی وضاحت نہیں۔

کوئی شکوہ نہیں۔

کوئی پرانا حساب نہیں۔

مگر اُس مختصر سے جواب میں نہ جانے کیا تھا کہ میری آنکھیں بھر آئیں۔

ابا اگلے دن بھی آئے۔

پھر اُس کے اگلے دن۔

پھر اُس کے بعد بھی۔

وہ روز ایک ہی کرسی پر بیٹھتے۔

امی کیلئے پھل لے آتے۔

کبھی اخبار۔

کبھی اُن کی پسندیدہ کتاب۔

اور پھر خاموش بیٹھے رہتے۔

جیسے اُنہیں کوئی رشتہ ثابت نہیں کرنا تھا۔

صرف موجود رہنا تھا۔

ایک دن میں امی کے ساتھ بیٹھی تھی جب انہوں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا:

"کیا وہ روز آتا ہے؟"

میں نے کہا:

"جی۔"

وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں:

"تمہارے ابا ہمیشہ مشکل وقت میں اچھے انسان رہے ہیں۔"

یہ جملہ میں نے اُن کے منہ سے پہلی بار سنا تھا۔

اور شاید آخری بار بھی۔

امی چند ہفتوں بعد گھر واپس آ گئیں۔

ابا پھر بھی کبھی کبھار خیریت پوچھنے آ جاتے۔

اب بھی دونوں زیادہ بات نہیں کرتے۔

اب بھی ماضی کا ذکر نہیں ہوتا۔

اب بھی وہ ایک ساتھ نہیں رہتے۔

مگر اب میں ایک بات سمجھ گئی ہوں۔

بعض تعلقات ختم نہیں ہوتے۔

وہ صرف اپنی پہلی شکل کھو دیتے ہیں۔

میرے والدین میاں بیوی نہیں رہے تھے۔

مگر ایک دوسرے کی زندگی کی سب سے طویل عادت اب بھی تھے۔

اور شاید اصل محبت ہمیشہ ساتھ رہنے کا نام نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی یہ بھی محبت ہوتی ہے کہ ستائیس سال کی خاموشی کے بعد جب دوسرا شخص ہسپتال کے بستر پر ہو...

تو آپ پھر بھی اُس کے دروازے تک پہنچ جائیں۔

بغیر بلائے۔
بغیر شکوے کے۔

صرف اس لیے کہ دل ابھی تک اُس راستے کو جانتا ہو۔ ❤️

Copied

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 20:00 - 00:00
Tuesday 20:00 - 00:00
Wednesday 20:00 - 00:00
Thursday 20:00 - 00:00
Friday 20:00 - 00:00
Saturday 20:00 - 00:00
Sunday 20:00 - 00:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محبت صبح کا ستارہ ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category