09/09/2026
میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"
"وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔'"💔🥹
جمعے کی صبح عائشہ نے شوہر کو سوتے دیکھا تو آہستہ سے پردہ کھینچ دیا۔
دسمبر کی دھوپ کمرے کی دہلیز تک آ کر رک گئی تھی۔
وہ کچھ دیر دروازے پر کھڑی رہی، جیسے کوئی ضروری بات یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر واپس پلٹی، دوپٹہ درست کیا اور بولی:
"سلمان…"
سلمان نے کمبل کے اندر سے کروٹ بدل لی۔
"ہوں؟"
"بازار جا رہی ہوں۔ گھر میں کچھ چیزیں ختم ہیں۔"
"ہاں، چلی جاؤ۔"
"شام کو نسرین آ رہی ہے۔"
سلمان نے آنکھیں کھولے بغیر کہا،
"اچھا۔"
"اس کے شوہر بھی ساتھ ہوں گے۔"
اب سلمان نے ایک آنکھ کھولی۔
"تو؟"
عائشہ ایک لمحے کو خاموش رہی۔
"گھر ذرا بکھرا ہوا ہے۔ واپس آ کر اکیلی سب نہیں کر پاؤں گی… تم بس اٹھ کر تھوڑا سا—"
سلمان نے کمبل چہرے تک کھینچ لیا۔
"عائشہ، آج جمعہ ہے۔ پورا ہفتہ کلینک میں کھڑا رہتا ہوں۔ آج تو سونے دو۔"
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔
پھر شاید اسے یاد آ گیا کہ اس گھر میں بہت سی باتیں کہنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
"ٹھیک ہے۔"
وہ چلی گئی۔
سلمان پھر سو گیا۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ بعض اوقات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان کسی بڑے فیصلے سے نہیں ہوتا۔
صرف ایک چھوٹے سے "نہیں" سے ہو جاتا ہے۔
---
دو گھنٹے بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔
سلمان کی آنکھ کھلی۔
گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔
اس نے جلدی سے قمیض پہنی، بال ہاتھ سے درست کیے اور دروازہ کھولا۔
سامنے عائشہ تھی۔
اس کے ساتھ نسرین اور اس کا شوہر کھڑے تھے۔
نسرین کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔
"السلام علیکم!"
"وعلیکم السلام۔"
سلمان نے مسکرا کر راستہ دیا۔
عائشہ اندر داخل ہوئی۔
اس کی نظر ڈرائنگ روم پر پڑی۔
صوفے پر بچوں کے کپڑے پڑے تھے۔ چائے کے کپ پڑے تھے۔ کل رات کے کھلونوں کی ایک ٹوکری الٹی ہوئی تھی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔
پھر اس نے سلمان کو دیکھا۔
صرف دیکھا۔
نہ شکایت۔
نہ غصہ۔
نسرین نے شاید کچھ محسوس کر لیا تھا۔
"ارے عائشہ، چھوڑو بھی… ہم تو اپنے ہی گھر کے لوگ ہیں۔"
عائشہ مسکرا دی۔
"ہاں… بس ابھی طبیعت کچھ خراب تھی، اس لیے گھر نہیں سنبھال سکی۔"
سلمان کا دل ایک دم بیٹھ گیا۔
اسے یاد آیا کہ طبیعت اس کی خراب تھی۔
عائشہ کی نہیں۔
عائشہ مڑ کر کچن میں چلی گئی۔
پانی کا نل چلا۔
پھر برتنوں کی آواز آنے لگی۔
سلمان جانتا تھا…
وہ رو رہی تھی۔
لیکن مہمانوں کے سامنے عورتیں اکثر اپنے آنسو بھی برتنوں کے شور میں چھپا لیتی ہیں۔
---
رات کو نسرین کے جانے کے بعد عائشہ نے بچوں کے کپڑے تہہ کیے۔
سلمان دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
"عائشہ…"
"ہوں؟"
"ناراض ہو؟"
وہ کپڑا تہہ کرتی رہی۔
"نہیں۔"
"پکا؟"
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"آپ کو میری ناراضی کب سمجھ آئی ہے؟"
سلمان خاموش ہو گیا۔
عائشہ نے کپڑے الماری میں رکھے اور لائٹ بند کر دی۔
"سو جائیں۔ کل آپ نے کلینک جانا ہے۔"
وہ سو گئی۔
یا شاید سونے کی کوشش کرتی رہی۔
سلمان دیر تک چھت کو دیکھتا رہا۔
پھر اسے بچوں کے کمرے میں ایک شاپنگ بیگ نظر آیا۔
اس نے بیگ کھولا۔
اندر ایک گھڑی تھی۔
وہی گھڑی۔
جس کی تصویر اس نے دو ماہ پہلے موبائل پر عائشہ کو دکھائی تھی۔
"دیکھو، کتنی اچھی ہے۔"
عائشہ نے تب کہا تھا:
"پیسے بچ جائیں تو لے لیجیے گا۔"
سلمان نے پوچھا تھا:
"میرے لیے لاؤ گی؟"
عائشہ ہنس دی تھی۔
"آپ کے لیے کون لائے گا؟"
وہ گھڑی اب اس کے ہاتھ میں تھی۔
اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا تھا۔
صرف چار لفظ تھے:
"آپ کو پسند تھی نا؟"
سلمان کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔
پھر پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید اس گھر میں وہ واحد شخص نہیں جو تھکتا ہے۔
---
اگلے دن کلینک جاتے ہوئے سلمان نے گاڑی ایک چائے کے کھوکھے کے پاس روک دی۔
سردی تیز تھی۔
ایک بوڑھا شخص کڑاہی میں گرم گرم جلیبی نما میٹھا تل رہا تھا۔
"بھائی، سو روپے کی دے دو۔"
بوڑھے نے ہنستے ہوئے کہا:
"سو روپے میں اب صرف خوشبو ملتی ہے، بیٹا۔"
سلمان بھی ہنس پڑا۔
بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا۔
"خیال کہیں اور ہے؟"
سلمان نے چونک کر پوچھا:
"کیوں؟"
بوڑھا گرم میٹھا کاغذ میں ڈالتے ہوئے بولا:
"جو آدمی جلیبی لیتے ہوئے قیمت نہیں پوچھتا، وہ یا تو بہت خوش ہوتا ہے… یا بہت پریشان۔"
سلمان پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے بیٹھ گیا۔
پتا نہیں کیوں۔
شاید اس لیے کہ اجنبی کے سامنے آدمی اپنی کمزوریاں آسانی سے مان لیتا ہے۔
باتوں باتوں میں سلمان نے اسے عائشہ کا ذکر کیا۔
بوڑھا خاموش ہو گیا۔
پھر اس نے کڑاہی کا چمچ ایک طرف رکھا۔
"بیوی تھی میری بھی۔"
سلمان نے اسے دیکھا۔
"اب؟"
بوڑھے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"اب صرف یاد ہے۔"
کچھ دیر بعد بولا:
"میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"
وہ ہنسا۔
"پھر ایک دن اس نے کہا، 'کام ختم ہو جائے تو بتا دینا۔'"
سلمان خاموش رہا۔
"میں نے سمجھا مذاق کر رہی ہے۔"
بوڑھے نے کاغذ کا ایک ٹکڑا سیدھا کیا۔
"کام ختم ہو گیا… مگر وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔"
سلمان کے ہاتھ رک گئے۔
"بیماری تھی؟"
"ہاں۔"
"آپ کو معلوم نہیں تھا؟"
"معلوم تھا۔"
بوڑھے نے نظریں اٹھائیں۔
"بس یقین نہیں تھا کہ وقت اتنا کم رہ گیا ہے۔"
وہ جملہ سلمان کے اندر کہیں اتر گیا۔
---
اس دن کلینک میں مریض بہت تھے۔
مگر سلمان ہر مریض کے چہرے کے پیچھے ایک ہی چہرہ دیکھ رہا تھا۔
عائشہ کا۔
شام کو وہ گھر آیا تو ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔
عائشہ نے دروازہ کھولا۔
"یہ کیا ہے؟"
"مشبک۔"
"کیوں؟"
"بس۔"
"اتنے مہنگے کیوں لے آئے؟"
سلمان نے جوتے اتارتے ہوئے کہا:
"آج تمہارے ساتھ چائے پینی ہے۔"
عائشہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔
"آپ کو بخار تو نہیں؟"
سلمان ہنس پڑا۔
کافی دن بعد دونوں ایک ساتھ ہنسے تھے۔
---
اس کے بعد سلمان نے کوئی بڑا انقلاب نہیں کیا۔
بس چھوٹی چھوٹی چیزیں بدلنے لگا۔
صبح کلینک پہنچ کر ایک پیغام:
"ناشتہ کیا؟"
دوپہر میں فون:
"آج گھر میں کیا بن رہا ہے؟"
جمعے کو:
"آج کہاں چلنا ہے؟"
عائشہ پہلے پہل حیران ہوتی رہی۔
پھر عادی ہو گئی۔
اور سلمان کو آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگا کہ محبت ہمیشہ بڑے تحفوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
کبھی وہ صرف اتنی ہوتی ہے کہ آدمی اپنا موبائل میز پر رکھ کر دوسرے شخص کی بات سن لے۔
---
ایک جمعے کو دونوں بازار گئے۔
عائشہ نے بچوں کے کپڑے لیے۔
گھر کے لیے پردے۔
سلمان کے لیے ایک سویٹر۔
پھر عائشہ نے دکاندار سے کہا:
"بس، اب کچھ نہیں لینا۔"
سلمان نے پرس دیکھا۔
تنخواہ کا تقریباً سارا حصہ خرچ ہو چکا تھا۔
پرس میں صرف دس روپے بچے تھے۔
واپسی پر عائشہ نے خاموشی سے پوچھا:
"سارے پیسے خرچ ہو گئے؟"
"ہاں۔"
"اب؟"
"اب کیا؟"
"مہینے کے آخر تک؟"
سلمان نے دس روپے کا نوٹ نکالا۔
اسے دیکھا۔
پھر سامنے ایک چھوٹی سی مٹھائی کی دکان نظر آئی۔
"چلو۔"
"کہاں؟"
"مشبک لینے۔"
عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"صرف دس روپے ہیں۔"
سلمان نے اس کی انگلیاں اپنی انگلیوں میں لے لیں۔
"تو دس روپے کی ہی لے لیتے ہیں۔"
"اور گھر کیسے جائیں گے؟"
سلمان مسکرایا۔
"پیدل۔"
"اتنا دور؟"
"آج پہلی بار وقت ہے۔"
عائشہ اسے دیکھتی رہی۔
سلمان نے دکان سے دس روپے کی مشبک لی۔
دونوں سڑک پر چل پڑے۔
سردی تھی۔
دھوپ ڈھل رہی تھی۔
عائشہ نے آہستہ سے کہا:
"سلمان…"
"ہوں؟"
"وہ گھڑی یاد ہے؟"
سلمان مسکرایا۔
"ہاں۔"
"اس دن آپ نے پہلی بار مجھے دیکھا تھا۔"
سلمان نے اس کی طرف دیکھا۔
"نہیں عائشہ۔"
وہ رک گئی۔
سلمان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
"اس دن پہلی بار مجھے سمجھ آیا تھا کہ میں تمہیں دیکھتا ہی کب ہوں۔"
عائشہ کچھ نہ بولی۔
بس مشبک کا ڈبہ دونوں کے درمیان تھا۔
اور دس روپے کا وہ آخری نوٹ…
جس کی قیمت اس دن ختم ہو گئی تھی۔
مگر ان دونوں کے درمیان ایک پورا گھر بچ گیا تھا۔
کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں، بس توجہ مانگتے مانگتے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی دس روپے کی مٹھائی، پوری زندگی کی سب سے مہنگی نصیحت بن جاتی ہے۔
افسانہ
Copied