Villagers Entertainment

Villagers Entertainment Wellcome To Villagers Entertainment

11/05/2025

پاکستان بمقابلہ انڈیا جنگ کون جیتے گا ؟

11/05/2025

جے انڈیا نوں ساڈے آپریشن دا نام نہ آئے
تے وڈا آپریشن وی کہ سکدے نے.😅😅😄

’’شادی کے 32 سال بعد ہم میاں بیوی کا پہلا جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی، اگر میرے بیٹے بڑے نہ ہوتے اور وہ مجھے کنٹ...
29/11/2024

’’شادی کے 32 سال بعد ہم میاں بیوی کا پہلا جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی، اگر میرے بیٹے بڑے نہ ہوتے اور وہ مجھے کنٹرول نہ کرتے تو میرا گھر ٹوٹ جاتا‘ ہم دونوں میاں بیوی اب اکٹھے رہ رہے ہیں لیکن ہماری بات چیت نہیں ہوتی‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں‘‘ وہ اداس لہجے میں بتا رہے تھے اور میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا‘ ان کی کہانی دل چسپ تھی‘ ان کی لو میرج ہوئی تھی‘ میاں بیوی پوری زندگی خوش رہے۔

اﷲ تعالیٰ نے صحت مند بچے دیے‘ وہ پڑھ لکھ کر سیٹل ہو گئے‘ گھربار‘ گاڑی بلکہ گاڑیاں اور کاروبار بھی ٹھیک تھا‘ اسٹیٹس بھی تھا لہٰذا ان کی زندگی میں مسئلہ کوئی نہیں تھا‘ بیگم صاحبہ بھی نہایت عاجز اور ہمدرد تھیں‘ یہ ہمیشہ خوش رہتی تھیں لیکن پھر شادی کے 32سال بعد ان کا خوف ناک جھگڑا ہوا اور آخر میں دونوں کے درمیان بات چیت بند ہو گئی۔

یہ ہفتے میں ایک دن میرے ساتھ ملاقات کرتے ہیں‘ کل تشریف لائے تو ان کی جذباتی حالت خراب تھی‘ آنسو ٹھوڑی تک آ رہے تھے اور آہیں رک نہیں رہی تھیں‘ میں نے انھیں پانی کی بڑی بوتل اور گرین ٹی کے تین کپ پلائے‘ جب ان کی حالت سنبھلی تو میں نے جھگڑے کی وجہ پوچھی‘ لڑائی کی وجہ انتہائی مزاحیہ تھی‘ انھوں نے بتایا پندرہ دن قبل میں شام کے وقت گھر گیا تو میری بیوی کا منہ پھولا ہوا تھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے شکوہ کیا جب ہماری شادی ہوئی تھی تو آپ نے مجھے منہ دکھائی کیوں نہیں دی تھی؟

میں نے حیرت سے پوچھا‘ منہ دکھائی کیا ہوتی ہے؟ اس کا جواب تھا اچھا اب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں!مجھے واقعی پتا نہیں تھا‘ میں نے اسے بڑی مشکل سے یقین دلایا میں اس واہیات چیز کے بارے میں بالکل نہیں جانتا‘ مجھے اس نے بتایا‘ خاوند شادی کی پہلی رات بیوی کو جو تحفہ دیتا ہے وہ منہ دکھائی ہوتی ہے اور آپ نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا تھا‘

میں نے جواب دیا‘ میں تمہیں پوری زندگی تحفے دیتا رہا‘ ان تحفوں کے سامنے منہ دکھائی کی کیا حیثیت تھی لیکن اس کا کہنا تھا منہ دکھائی زندگی کا اہم ترین تحفہ ہوتا ہے‘ عورتیں اسے پوری زندگی سنبھال کر رکھتی ہیں‘ اس چھوٹی سی بات پر ہماری تکرار ہوئی‘ میں اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا تھا‘ میں نے غصے سے سالن کا ڈونگا اٹھا کر دیوار پر مار دیا‘ میری بیوی نے چاولوں کی ڈش میرے اوپر انڈیل دی اور اس کے بعد ہم دونوں کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہو گئی‘ ہم نے ایک دوسرے کا سر کھول دیا۔

ہمارے بچے پہنچے تو ہم دونوں زخمی حالت میں دیواروں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور ایک دوسرے کو بددعائیں دے رہے تھے‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہم میں 32 سال بعد اتنا غصہ اور نفرت کہاں سے آگئی؟ ہم دونوں ایک جان اور دو قالب ہوتے تھے‘ ہم اچانک ایک دوسرے کے دشمن کیسے بن گئے؟‘‘۔

میں نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور اس کے بعد ان سے پوچھا‘ آپ سوچ کر بتائیں اس دن آپ کی بیوی سے کس کی ملاقات ہوئی تھی؟ وہ سوچتے رہے لیکن انھیں یاد نہ آیا‘ ان کی بیگم میری منہ بولی بہن تھی‘ میں نے انھیں فون کر دیا‘ انھوں نے بتایا اس دن میری ایک پرانی سہیلی مجھ سے ملاقات کے لیے آئی تھی‘ میں نے ان سے پوچھا‘ کیا منہ دکھائی کی بات اس نے آپ سے کی تھی؟ بھابھی نے تھوڑا سا سوچ کر ہاں میں جواب دے دیا‘۔

میں نے فون اسپیکر پر شفٹ کیا‘ بھابھی کو رانا صاحب کی موجودگی کا بتایا‘ رانا صاحب کو فون کے قریب بٹھایا اور پھر دونوں سے عرض کیا ’’ہماری زندگی میں رحمان اور شیطان دونوں انسانوں کے روپ میں آتے ہیں‘ ہمیں روز بعض ایسے بابرکت لوگ ٹچ کرتے ہیں جن پر اﷲ مہربان ہوتا ہے‘یہ لوگ رحمت ہوتے ہیں‘ ان کی ذات دوسروں کے لیے رحمت‘ برکت‘ آسانی اور خوشی کا سبب بنتی ہے‘ یہ لوگ تصوف کی دنیا میں رحمانی کہلاتے ہیں‘ ان کی خاص نشانی شکر اور ماشاء اﷲ ہے‘ یہ جب بھی دوسروں سے ملیں گے ان کی اچیومنٹ‘ ان کی خوشیوں اور ان کی کام یابیوں پر دل سے ماشاء اﷲ کہیں گے‘ یہ انھیں شکر کرنے اور اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی تلقین کریں گے۔

رحمانی لوگوں سے ملاقات کے بعد آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں‘ آپ کو اپنے سر‘ اپنے کندھوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہوتا ہے جب کہ ان کے برعکس کچھ لوگ شیطان کے ایجنٹ ہوتے ہیں‘ یہ اپنی ذات سے شیطانیت‘ بے چینی‘ فساد‘ جھگڑا اور تلخی ٹرانسمٹ کرتے ہیں‘ یہ جب آپ کے قریب آتے ہیں تو آپ کا سکھ‘ چین‘ آرام‘ آسائش‘ امن اور خوشی ختم ہو جاتی ہے‘ اہل تصوف ان لوگوں کو شیطانی کہتے ہیں‘ شیطانوں کا سب سے بڑے ہتھیار حقارت اور کیوں ہوتا ہے‘ شیطان کا جنم حقارت اور کیوں سے ہوا تھا‘ شیطان نے اﷲ تعالیٰ سے کہا تھا انسان مجھ سے حقیر ہے‘ میں اسے سجدہ کیوں کروں۔

چناں چہ یہ لوگ جب بھی آپ سے ملیں گے یہ آپ کو کیوں کے ہتھیاروں سے حقیر ثابت کر دیں گے اور یوں آپ کی زندگی کا چین اور امن ختم ہو جائے گا‘‘ میں نے بھابھی سے عرض کیا ’’بھابھی آپ کی وہ سہیلی بھی شیطان کی ایجنٹ تھی‘ اس نے صرف ایک فقرے سے یعنی تمہارے خاوند نے تمہیں منہ دکھائی کیوں نہیں دی؟ آپ کی ازدواجی زندگی کا بیڑہ غرق کر دیا‘ یہ شیطان کا وار تھا‘ اﷲ نے آپ پر کرم کیا‘ آپ لوگ بچ گئے‘ میں نے سیکڑوں لوگوں کو اس وار کے ذریعے برباد ہوتے دیکھا لہٰذا آپ لوگ ایسے لوگوں سے بچ کررہا کریں‘‘ بھابھی نے لمبی اور ٹھنڈی آہ بھری‘ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور رانا صاحب سے معذرت کر لی‘ رانا صاحب نے بھی بیگم سے اپنا تلخ نوائی پر معافی مانگ لی اور یوں دونوں دوبارہ شیروشکر ہو گئے۔

میری اپنی زندگی شیطان کے ایجنٹوں سے بھری پڑی ہے‘ میں نے 1996میں پہلی گاڑی خریدی تھی‘ وہ زیرو میٹر مہران تھی‘ میں نے بڑی مشکل سے دن رات کام کر کے تین لاکھ روپے جمع کیے اور مہران خرید لی‘ میں نے ابھی اسے اپنے دروازے پر کھڑا ہی کیا تھا کہ مجھے ایک شیطان ٹکر گیا‘ اس نے گاڑی کے گرد چکر لگایا‘ قیمت پوچھی اور پھر مسکرا کر کہا‘ آپ نے سوئفٹ کیوں نہیں خریدی‘ وہ اس سے کہیں زیادہ ا چھی‘ آرام دہ اور بڑی ہے اور مہران اور اس کی قیمت میں بھی صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کا فرق ہے۔

آپ یقین کریں یہ فقرہ سن کرمجھے میری گاڑی بری لگنے لگی‘ میں اس کے بعد جہاں بھی جاتا تھا مجھے سوئفٹ نظر آتی تھی اور مجھے اپنی حماقت پر افسوس ہوتا تھا‘ یہ افسوس مہران کے بکنے تک جاری رہا‘ میں آج بھی جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی بے وقوفی پر افسوس ہوتا ہے‘ اﷲ تعالیٰ نے مجھے 27 سال کی عمر میں اپنی کمائی سے زیرو میٹر گاڑی خریدنے کی توفیق دی تھی لیکن میں اس خوشی کو چھوڑ کر دوسری گاڑی کے تاسف میں گھلنے لگا‘ مجھ سے زیادہ بے وقوف کون تھا،

اسی طرح میں 2000میں ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں کاپی رائیٹنگ کرتا تھا‘ میں وہاں صرف دو گھنٹوں کے لیے جاتا تھا اور مجھے وہاں سے ماہانہ پچاس ہزار روپے ملتے تھے‘ یہ اس زمانے میں بڑی رقم تھی‘ یہ میرے بچوں کی فیس اور گھر کی گروسری کور کرتی تھی لیکن پھر ایک دن میرا ایک پرانا دوست وہاں آیا‘ اس نے میرا ڈیسک دیکھا اور طنزاً مسکرا کر کہا‘ تم اپنا اسٹیٹس دیکھو‘ تم اے پی این ایس سے بیسٹ کالمسٹ کا ایوارڈ لے چکے ہو اور تم اس وقت دو بائی تین فٹ کے ڈیسک پر بیٹھے ہو‘ تم اپنی بے عزتی کیوں کرا رہے ہو؟۔

بس ان چند فقروں کی دیر تھی اور مجھے وہ جاب بری لگنے لگی‘ میں نے اپنے ’’اسٹیٹس‘‘ کے چکر میں وہ جاب چھوڑ دی اور اس کے بعد مجھے اس سے آدھی رقم کے لیے روزانہ چھ چھ گھنٹے اضافی کام کرنا پڑا‘ یہ صرف دو مثالیں نہیں ہیں‘ میری زندگی کی ہر اچیومنٹ کے بعد شیطان کا کوئی نہ کوئی ایجنٹ میری زندگی میں ضرور آیا اور اس نے چند لمحوں میں میری اس کام یابی کا مزہ کرکرا کر دیا‘ اﷲ نے کرم کیا اور زندگی کے مختلف مراحل کے دوران مجھے رحمان اور شیطان کا فرق سمجھ آ گیا‘ میرے پاس اب جب بھی کوئی ایسا شخص آتا ہے جو دائیں بائیں دیکھ کر برا سا منہ بناتا ہے اور پھر کہتا ہے سر یہ آپ نے کیا کر دیا‘ آپ اگر اس کی جگہ یہ لے لیتے تو کتنا اچھا ہوتا یا آپ نے یہ کیوں نہیں لیا تو میں مسکرا کر دل ہی دل میں سورۃ الناس پڑھتا ہوں اور پھر اپنے کان بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔

آپ کی زندگی میں بھی روزانہ ایسے لوگ آتے ہوں گے ‘آپ بس ان سے بچ جائیں‘ یہ شیطان کے ایجنٹ ہیں‘ یہ آپ کی خوشیاں اور کام یابیاں برباد کرنے کے لیے آتے ہیں‘ یہ آپ کا سکھ اور چین مارنے کے لیے آتے ہیں چناں چہ آج سے جب بھی کوئی شخص آپ سے پوچھے‘ تمہارے خاوند نے منہ دکھائی میں تمہیں کیا دیا تھا‘ تم نے ورکنگ وومن کے ساتھ شادی کیوں کی‘ تمہارا خاوند روزانہ لیٹ کیوں آتا ہے‘ تمہارے بچے تمہاری کیوں نہیں سنتے‘ تمہیں دفتر سے اتنی کم تنخواہ کیوں ملتی ہے‘ تمہارے بیٹے نے اتنے کم نمبر کیوں لیے‘ تم نے اپنے بچوں کو آئی فون کیوں نہیں لے کر دیا‘ تمہارے ابو تمہیں نیا لیپ ٹاپ لے کر کیوں نہیں دیتے‘ تم اپنی گاڑی کیوں نہیں بدل رہے‘ تم اس محلے میں کیوں رہ رہے ہو‘ تم یورپ میں امیگریشن کیوں نہیں لیتے‘ تم اتنے کم پیسوں میں گزارہ کیسے کرتے ہو‘ تم اپنے فضول باس کی فضول باتیں کیوں سن لیتے ہو‘ تم اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہیں رہتے‘ تمہارے بچے تمہارے ساتھ بدتمیزی کیوں کرتے ہیں‘ تم اتنا کام کیوں کرتے ہو‘ تم پتلے کیوں ہو گئے ہو‘ تمہارا رنگ کیوں پیلا پڑ رہا ہے اور تم اس مسجد میں نماز کیوں پڑھتے ہو تو آپ اس کی طرف مسکرا کر دیکھیں‘ اﷲ تعالیٰ سے شیطان سے پناہ کی دعا کریں اور وہاں سے جلد سے جلد نکل جائیں‘کیوں؟ کیوںکہ شیطان آپ تک پہنچ چکا ہے اور آپ اب جتنا عرصہ اس کے قریب رہیں گے آپ کا امن‘ سکون‘ شانتی اور سکھ کا دریا خشک ہوتا رہے گا یہاں تک کہ آپ بنجر ہو جائیں گے لہٰذا اٹھیں اور بھاگ جائیں‘ اسی میں عافیت ہے۔
Copied

⬅️ گھر کے زہریلے مادے یہ ہیں: 1. وہ اشیاء جو آپ مزید استعمال نہیں کرتے۔2. وہ کپڑے جو آپ کو پسند نہیں ہیں یا کچھ عرصے سے ...
07/07/2024

⬅️ گھر کے زہریلے مادے یہ ہیں:

1. وہ اشیاء جو آپ مزید استعمال نہیں کرتے۔
2. وہ کپڑے جو آپ کو پسند نہیں ہیں یا کچھ عرصے سے استعمال نہیں کیے گئے۔
3. ٹوٹی ہوئی چیزیں۔
4. پرانے کارڈ اور نوٹ۔
5. وہ پودے جو مردہ یا بیمار ہیں۔
6. رسیدیں اور پرانے رسالے۔
9. ٹوٹے ہوئے جوتے۔
7. ماضی کو یاد کرنے والی ہر قسم کی چیزیں، خاص طور پر تکلیف دہ ماضی۔
8. اگر آپ کے بچے ہیں، تو ایسے کھلونے جو وہ استعمال نہیں کرتے، جو کام نہیں کرتے یا جو ٹوتے ہوئے ہیں۔
9. الیکٹرونکس کا خراب سامان ، تاریں، خراب چارجرز، ایڈاپٹرز اور دیگر ٹولز۔

⬅️ ان چیزوں کی صفائی سے کیا ہوتا ہے؟

1. صحت بہتر ہوتی ہے۔
2. تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
3. تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
4. استدلال کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
5. موڈ بہتر ہوتا ہے۔

⬅️ وہ سوالات جو آپ کو صفائی میں مدد کر سکتے ہیں:

- میں ان چیزوں کو کیوں بچا رہا ہوں؟
- کیا یہ پوسٹ میرے بارے میں ہے؟
- اگر میں ان چیزوں سے چھٹکارا پا لوں تو کیسا محسوس کروں گا؟

⬅️ چیزوں کو الگ الگ کر کے درجہ بندی کریں جس میں شامل ہیں:

1. چندہ یا خیرات میں دینے والی چیزیں۔
2. پھینکنے والی چیزیں۔
3. بیچنے والی چیزیں۔

⬅️ اندر کی صفائی باہر کی طرف جھلکتی ہے۔ اس لئے گھر کے اندر:

1. انتہائی شور سے پرہیز کریں۔
2. بہت تیز لائٹس کا استعمال نہ کریں۔
3. ہلکے رنگ استعمال کریں۔
4. کیمیکلز کی بو یا کوئی بھی بدبو نہ ہو۔
5. کم اداس یادیں ہوں۔
6. نامکمل منصوبوں کو مکمل کریں۔
7. اپنے گھر میں مثبت توانائی پیدا کریں۔

⬅️ پورے گھر کی صفائی کریں اور منظم رہنے کے لیے ڈبے استعمال کریں۔

درازوں اور الماریوں سے شروع کریں اور ہر فالتو چیز کو نکال دیں ۔ آپ کو ضرورت ہو سکتی ہے:

• ردی کی ٹوکری
• جن چیزوں کے بارے میں یقین نہ ہو کہ کیا کرنا ہے، ان کا ڈبہ یا ٹوکری
•تحائف کا ڈبہ
• عطیات کے ڈبے (کپڑے جو آپ نہیں پہنتے ، جوتے، کراکری، کتابیں جو نہیں پڑھتے، کھلونے ، ڈیکوریشن کا سامان اور وہ سب جو آپ استعمال نہیں کرتے)
• اشیاء برائے فروخت

جب آپ صفائی کرتے ہیں تو دیکھیں کہ آپ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

⬅️ آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے ہم اپنے گھر کو صاف کرتے ہیں، ہم اپنے دماغ اور دل کی بھی صفائی کرتے ہیں.

مادی چیزوں سے لاتعلقی کی مشق کریں جو صرف آپ کی جگہ اور دماغ کو بھرتی ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کس طرح آہستہ آہستہ زندگی کے دیگر اہم معاملات سے نمٹنے کے قابل بھی ہوں گے۔

(کاپی )

۔
۔

30/05/2024

Must read

مجھے کامیاب لوگوں کی کہانیاں بہت بور لگتی ہیں۔ یہ چند لوگ ہوتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو بیوقوف اور جاہل ثابت کرکے خود کو نمایاں کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہی سب سے محنتی ہوتے ہیں۔ یہی زندگی کو سب سے الگ دیکھتے ہیں اور یہی کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی کہانیاں مصالحہ لگا کر بیچنا بڑا آسان ہے۔ مجھے مارکیٹ میں کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آئی جس کا عنوان ہو ’’100 ناکام ترین لوگ‘‘۔ ہر دوسری کتاب ’’ہاں تم کرسکتے ہو۔۔۔کامیابی کے نسخے۔۔۔کامیابی کی ضمانت۔۔۔اور ناکامی کو کامیابی میں بدلیں‘‘ جیسے فارمولوں پر مشتمل ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ آدھے سے زیادہ لوگ ان کتابوں کو پڑھ کر ناکامی کے عروج پر پہنچے ہیں۔ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ ایک بندہ بھوکا مر رہا ہو تو وہ کیا کرے؟ کسی کے پاس نوکری نہیں تو وہ کہاں جائے؟ زور صرف محنت پر ہے لیکن محنت کس چیز پر؟ ۔۔۔ہوائی باتیں ‘ خیالی قلعے۔۔۔!!!

پچھلے دنوں میرے ایک موٹیویشنل سپیکر دوست نے فرمائش کی کہ میں ان کے نئے سیشن میں شرکاء کو کامیابی کے نسخے بتاؤں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے پچاس ہزار کا چیک میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ ظاہری بات ہے اب تو انکار بالکل بھی ممکن نہیں تھا۔ میں نے ان سے ایک وعدہ لیا کہ میں اپنی مرضی سے بولوں گا اور وہ ٹوکیں گے نہیں۔ وہ خوشی خوشی راضی ہو گئے۔ میں مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گیا۔ پتا چلا کہ کامیابی کے نسخے والے سیشن کے لیے فی کس 5 ہزار روپے فیس رکھی گئی ہے اور کوئی دو سو کے قریب خواتین وحضرات یہ رقم ادا کرکے تشریف لاچکے ہیں۔ یہ سب کسی منتر کی تلاش میں جمع ہوئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جب یہ یہاں سے نکلیں گے تو رکشے والے سے پہلے کامیابی اِن کے پاس آن کھڑی ہوگی۔ مجھے ڈائس پر بلایا گیا۔ میں نے ایک نظر حاضرین پر ڈالی۔ ان کی نگاہوں میں عجیب سی بے بسی تھی‘ گویا ترس رہے ہوں کہ خدا کے لیے جلدی سے کامیابی کا نسخہ بتاؤ تاکہ زندگی کچھ آسان ہوسکے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ سب لوگوں نے پانچ ہزار فی کس کے حساب سے آج کے سیشن کی فیس ادا کی ہے؟ سب کا مشترکہ جواب آیا ’’جی ہاں‘‘۔
’’اللہ والیو! پہلے تو میں آپ کو بتا دوں کہ مجھے ایک گھنٹہ کے لیے آپ پر مسلط کیا گیا ہے تاکہ آپ پر کامیابی کا راز افشا کروں۔ اس کام کے لیے مجھے پچاس ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ یعنی آپ لوگ پانچ ہزار دے کر یہاں آئے ہیں جبکہ میں پچاس ہزار وصول کرکے یہاں کھڑا ہوں۔ پہلے تو ذہن میں بٹھا لیجئے کہ مالی طور پر اس وقت آپ ناکام ہیں اور میں کامیاب۔ گویا ناکام لوگوں کی مدد سے زیادہ آسانی سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جسے یہ بات پتا نہ ہو کہ زندگی میں محنت کرنی چاہیے‘ اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے‘ اللہ سے دعا کرنی چاہیے‘ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر آپ مجھ سے کیا سننے آئے ہیں؟ یہ جو پانچ ہزار روپے آپ نے میری چکنی چپڑی باتیں سننے کے لیے خرچ کیے ہیں ان سے آپ کی بہت سی چھوٹی موٹی پرابلمز حل ہوسکتی تھیں۔ بچوں کے کپڑے بن سکتے تھے‘ کچن کی چیزیں آسکتی تھیں‘ ٹیلی فون وغیرہ کا بل ادا کیا جاسکتا تھا‘ گھر کی کوئی چیز مرمت کرائی جاسکتی تھی۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔چونکہ آپ کے ذہن میں بٹھایا گیا تھا کہ پانچ ہزار خرچ کرکے آپ خزانے کا نقشہ پالیں گے لہذا آپ اچھل پڑے کہ اس سے آسان طریقہ بھلا کیا ہوسکتا ہے۔ تو بہنو بھائیو! میں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ آپ کو گھسی پٹی باتیں ذرا دلچسپ انداز میں سنا دوں۔ میں یہ تو بتاؤں گا کہ زندگی میں اپنے کام پر فوکس کریں لیکن یہ مجھے نہیں پتا کہ ایک الیکٹریشن جو صرف اپنے کام کو ہی جانتا ہے اور اسی پر دھیان دیتا ہے وہ مزید فوکس کیسے کرے؟ میں یہ تو بتاؤں گا کہ بس اللہ سے محبت کرنا شروع کردیں، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ جولوگ پانچ وقت کے نمازی بھی ہیں‘ ایماندار بھی ہیں‘ کام بھی دیانتداری اور محنت سے کرتے ہیں وہ کیوں ناکام ہیں؟ آپ سب کا یہاں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنی ناکامی تسلیم کرچکے ہیں۔ لہذا اب آپ جو بھی کہتے رہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اتنی صلاحیت تو مجھ میں ہے کہ آپ کی ناکامی کو ثابت کرنے کے لیے آپ کی ہر بات میں ایک دلیل نکال کر پیش کردوں کہ آپ اس وجہ سے ناکام ہیں۔ اپنی ناکامیوں کی تشہیر کریں گے تو میرے جیسا ہر بندہ آپ کی چھوٹی سی خامی کو سو سے ضرب دے کر پیش کرے گا۔ کامیاب بننا ہے تو ناکام لوگوں سے ملیں۔۔۔ بڑی آسانی سے پتا چل جائے گا کہ خامی کہاں ہے۔ نہ بھی پتا چلے تو کم از کم مجھ سے نہ پوچھئے گا۔میرے پاس کسی چیز کا دو ٹوک حل نہیں‘ صرف خوشنما باتیں اور احساسِ کمتری میں مبتلا کر دینے والی کہانیاں ہیں۔ اجازت دیجئے! مجھے ذرا چیک جمع کرانا ہے۔‘‘ 🙂

Copied : Muhammad Qasim

04/05/2024

‏ بالکل بھی پریشان مت ہوں
بلکہ فارغ وقت میں ڈسکوری چینل دیکھتے رہیں
اس میں جنگل میں رہنے کے طریقے بتاتے ہیں
کیونکہ جیسے حالات چل رھے ہیں
جنگلاں نوں ای جانا پینا 🤪😅

03/04/2024

“People hate what they don’t understand..”

11/02/2024

اپنے بچوں کو ہار تسلیم کرنا سیکھائیں
ورنہ وہ بڑے ہو کر 60 سیٹوں پر وکٹری اسپیچ دے دینگے
🤣

10/02/2024

بھٹو نے تو صرف کھمبے جتوائے تھے پر قیدی نمبر 804 نے تو
جوتی، بکری، چینک، پیالے اور کیتلی تک کو جتوا دیا
تاریخ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر❤️

04/01/2024

Good Morning Everyone 🌞 ☕️

You must do what you like. People come and go.

Sometimes, they like you, sometimes they don’t.

Do your best and appreciate yourself!

Have a wonderful day 😊

21/03/2023

‏تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں آنے والے زلزلے کے مناظر۔
ابھی وقت ہے سدھر جاؤ۔
ترکی، شام اور کشمیر کے نقصانات کو ذہن میں رکھو

Address

Johar Town Lahore
Lahore
54782

Telephone

+923004639238

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Villagers Entertainment posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Villagers Entertainment:

Share