03/05/2023
2 مئی : یوم وفات
معروف مزاحیہ شاعر غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
(پیدائش: 1928ء – وفات: 2 مئی 2017ء)
ان کا نام تو غوث محی الدین احمد تھا مگر ’’ خواہ مخواہ حیدرآبادی ‘‘ کے نام سے انہوں نے شہرت پائی۔
1928ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور 2 مئی 2017ء کو انتقال کر گئے۔ انہیں حیدرآباددکن سے ہی شہرت ملی ۔ وہ اپنی مزاحیہ شاعری کے باعث مقبول ہوئے۔ انہیں مزاحیہ مشاعروں میں ضرور بلایاجاتا تھا۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ خواہ مخواہ حیدرآبادی ہندوستان کے مزاحیہ مشاعروں کا جزوِ لازم تھے۔ انہیں طنز و مزاح میں ملکہ حاصل تھا۔
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد دکن میں پائی۔ اردو میڈیم میں ہی ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ بعدازاں باقی ماندہ تعلیم کا سلسلہ بھی انہوں نے حیدرآباد میں ہی مکمل کیا۔
18برس کی عمر سے انہوں نے مشاعروں میں شرکت کرنی شروع کر دی تھی۔وہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود اردو بولنے، سمجھنے اور جاننے والوں میں مقبول تھے۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں ہونے والے مشاعروں میں بھی انہیں مدعو کیاجاتا تھا جہاں خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے تارکین وطن انہیں انتہائی شوق سے سنتے تھے۔
وہ امریکہ اور یورپ بھی جاتے تھے جہاں ان کے مداحوں کی کثیر تعداد تھی۔
خواہ مخواہ حیدرآبادی کی تصانیف میں ’’حرفِ مکرر‘‘، ’’بفرضِ محال‘‘اور ’’کاغذ کے تیشے‘‘ شامل ہیں۔
خواہ مخواہ نے تمام شاعری ہی مزاحیہ نہیں کی بلکہ انہوں نے سنجیدہ اشعار بھی کہے ۔مگر وجہ شہرت مزاحیہ کلام ہی بنا۔
سنہ 2017ء میں اپنے بچوں سے ملنے کیلئے غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی کینیڈا گئے تھے جہاں ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی جس کے بعد ہونے والے فالج نے انہیں چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور کر دیا۔ اس حملے کے بعد ان کی صحت بتدریج گرتی گئی اور کینیڈا سے انہیں واپس ہندوستان لایا گیاجہاں چند روز کے بعد ہی خواہ مخواہ حیدرآبادی انتقال کر گئے ۔
منتخب کلام:
خدا کے حکم کا جو اہتمام کرتے ہیں
حدیثِ پاک کا یوں احترام کرتے ہیں
خدا کے بندے ملے ہیں جہاں بھی آپس میں
کلام کرنے سے پہلے سلام کرتے ہیں
——
کِتے دنوں سے دکنی کی حالت خراب ہے
لگ را ہے جیسے اُس کی بھی صحت خراب ہے
گِلی ، خطیب اور بھلانوا بھی جا چکے
میری بھی ’’خواہ مخواہ‘‘ طبیعت خراب ہے
——
سایہ نئیں ہے ، دھوپ کڑی ہے
سر پو آ کو موت کھڑی ہے
پھٹّا دامن کیسا سیؤں میں
دھاگہ چھوٹا، سوئی بڑی ہے
——
مشکل میں اک نجات دہندہ ضرور ہو
سر جس پہ رکھ کے روئیں وہ کندھا ضرور ہو
معشوق ہو حَسیں، ضروری نہیں مگر
عاشق کو چاہئے کہ وہ اندھا ضرور ہو
——
مانا وہ زمانے کے حسینوں سے حَسیں ہیں
یاں ہم بھی فنِ عاشقی میں کم تو نہیں ہیں
——
حافظ کی رباعی یا غالب کی غزل جیسی
یا جھیل کے پانی پر اک نیل کنول جیسی
اک تاج محل میں بھی شاید بنا ہی لیتا
ملتی مجھے جو بیگم ممتاز محل جیسی
——