01/09/2026
گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واویلا کیا گیا، آج اسی ملک کے سفیر صاحب کے سامنے سب نے آنکھیں موند رکھی ہیں جبکہ پروپیگنڈا آپریٹرز نا جانے کن کی ایماء پر گامزن ہیں وہ ابھی تک منظر عام سے اوجھل ہیں ، بخدا ان مناظر کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ، کہ آخر خدا خدا کرکے کفر ٹوٹ رہا ہے ۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہمیشہ خطے میں بہتر اور برادرانہ تعلقات کے داعی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف کسی وقتی مصلحت یا بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی بصیرت، قومی مفاد اور حالات کے گہرے ادراک پر قائم ہے۔
اس لئے مولانا صاحب کے ایک سفارتی تقریب میں خطاب پر جن بچونگڑوں کو اُس وقت اچانک حب الوطنی کا مروڑ اٹھا تھا، آج ان کے لئے یہ سب سے شافی علاج ہے کہ وہ اپنے کل کے شور اور آج کی خاموشی کا موازنہ کرلیں کہ تمہارا بیانیہ تو ایک ہفتہ بھی نہ چل سکا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی بصیرت اور حالات کے درست ادراک کی بنیاد پر برسوں قبل ان حقائق کو بھانپ چکے تھے۔
جن تعلقات کی بہتری اور استحکام کو آج ضروری سمجھا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اس حقیقت کے داعی رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے باوقار، متوازن اور مضبوط تعلقات ہی امن اور قومی مفادات کے لیے بہترین راستہ ہیں۔
اور وہ دیہاڑی دار سن لیں ! ہم ایسے وقتی پروپیگنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ کل جنہیں حب الوطنی کا دورہ پڑا ہوا تھا اور آج وہی منظر بدلتے ہی خاموش ہیں، ان کی یہ خاموشی خود ان کے پروپیگنڈے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
ان میں اور ہم میں فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب حالات کو اپنی سیاسی بصیرت سے پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ حکم آنے کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں اور حکم بدلنے پر اپنا بیانیہ ، اور نظریہ بھی بدل دیتے ہیں۔
حب الوطنی کے نام پر مولانا صاحب کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ پر آج کے یہ مناظر ہی کڑاکے دار طمانچہ ہیں ۔
ان شاءاللہ جلد دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مضبوط اور شاندار تعلقات استوار ہوں گے۔