03/06/2024
لجپال مرشد کریم تاجدار چورہ شریف سیاح الحرمین الحاج حضرت پیر سید محمد حسنین فاروق شاہ صاحب مجددی حضرت صاحب کی چند بڑی خصوصیات میں سے ایک ہے خلقِ خدا کے لیے محبتِ عامہ تامہ, حضرت صاحب کی خلقِ خدا کے لیے محبت اتنی شدید و عام و تام ہے کہ کم از کم, ہم عاجز ہیں کہ حضرت صاحب کے مریدین و متعلقین کے درمیان تفریق کرتے ہوئے فیصلہ کر سکیں کہ کس کے لیے حضرت صاحب کو نسبتاً کم اور کس کے لیے حضرت صاحب کو نسبتاً زیادہ محبت ہے,
اگر ہم حضرت صاحب کی اِس محبتِ عامہ کا کمال ذکر کریں اور سچ یہ ہے کہ محبت کا یہ معیارِ کمال بھی ہم نے حضرت صاحب کی محبتِ عامہ دیکھ کر ہی اخذ کیا ہے, ورنہ بظاہر کسی کی محبتِ خلق ہمیں یہیں عام و تام نظر آتی ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر سب کو برابر محبت دیتا ہے اور بس,
حضرت صاحب کی محبتِ بندگانِ خدا کا کمال یہ ہے کہ بدلے میں ہر متعلق و بارابطہ شخص بھی یہ یقینِ متفاخرانہ رکھتا ہے کہ حضرت صاحب ہم سے کسی کی بنسبت کم محبت نہیں رکھتے, بلکہ اس سے آگے کی بات کہوں تو ہر متعلق و بارابطہ شخص یہ سمجھتا ہے کہ حضرت صاحب کے لیے ہم اسپیشل ہیں, اور اس خیالِ خیر میں حضرت صاحب کا ہر متعلق و با رابطہ شخص برابر و بلا تفریق ہے,
دراصل حضرت صاحب کے نزدیک غربت و دولت, رنگ و نسل, علاقہ و زبان, لباس و وضع, خوب روئی و بد روئی, علم و جہالت, تعلقِ دیرینہ و جدیدہ وغیرہ معیارِ قلت و کثرتِ محبت نہیں, حالاں کہ ایسا نہیں کہ حضرت صاحب کی محبتِ کثیر و قلیل کا کوئی اصول و معیار نہیں, بے شک حضرت صاحب کی محبت کا معیار ہے, اور ہمارا خیال ہے کہ بے معیار کوئی بھی شے بے کار ہے,
حضرت صاحب کی محبت کا معیارِ کثرت و قلت وہ عام جذبۂ خیر یا خاص جذبۂ محبتِ صحبتِ صالحین ہے جو کسی کے اندر حضرت صاحب محسوس کرتے ہیں, دراصل حضرت صاحب اُس کو بھی مقصودِ ذاتی خیال نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے متحمل کو گرم لویا تصور کرتے ہیں کہ جس راہ سے وہ اُس کے اندر تدیُّن پیدا کرنے اور اُسے درست سمت اصلاح و تربیت دینے کی سعی کرتے ہیں,
رہا کسی کا علم, پیسہ, سماجی اثر, فطری قابلیت وغیرہ, تو یہاں حضرت صاحب کسی کو اُس کی حیثیتِ عرفی ضرور دیتے ہیں, مگر مقصودِ ذاتی خیال کر کے نہیں, بلکہ دو وجہوں سے, ایک یہ اچھے اخلاق کا حصہ ہے, دوم اگر ایسا شخص بہ تلطف, راہ پر آجاتا ہے تو یہ چیز یک بارگی خلقِ کثیر کی راست روی کا باعث ہوگی,
دراصل حضرت صاحب کی اس محبتِ شدیدہ عامہ تامہ کو دیکھ کر ہمیں لگتا ہی نہیں کہ بے توفیقِ خاص کسی بندۂ خدا سے یہ متصور ہے, محبتیں بانٹنے میں حضرت صاحب کے کمالِ منتہا پر ہم غور کرتے ہیں تو بجز طلبِ مرضیِ خدا و جلبِ مطلوبِ الہ, خود کا کوئی جذبہ یا خود کی کوئی فطریت نہیں پاتے.. . . .
کچا رنگ للاری والا اَتے چڑھدا لیندا ریندا
پکا رنگ میرے مرشد والا جیڑا چڑھ جائے فیر نئیں لیندا