Usama shakh

Usama shakh ıllıllı انجان اور خفیہ لوگوں کا مرکز ıllıllı

‏ہم جتنا مردے کو کندھا دینے کو افضل سمجھتے ہیں اتنا کسی زندہ کو سہارا دینا سمجھ لیں تو ہزاروں انسانوں کے حالات ٹھیک ہوجا...
21/01/2022

‏ہم جتنا مردے کو کندھا دینے کو افضل سمجھتے ہیں
اتنا کسی زندہ کو سہارا دینا سمجھ لیں
تو ہزاروں انسانوں کے حالات ٹھیک ہوجائیں-

لوگ زندگی کو زندگی سمجھ بیٹھے ہیں اصل زندگی تو موت کے بعد آۓ گی سچ  کہتا ہوں لوگوں سمجھ جاؤ اب بہت کالی ہے قبر کی جو رات...
21/01/2022

لوگ زندگی کو زندگی سمجھ بیٹھے ہیں
اصل زندگی تو موت کے بعد آۓ گی
سچ کہتا ہوں لوگوں سمجھ جاؤ اب
بہت کالی ہے قبر کی جو رات آۓ گی

20/01/2022
علامہ اقبال کا ڈاکٹر لیوکس کو جوابایف سی  کالج لاہور کا سالانہ جلسہ تھا۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر لیوکس نے علامہ اقبال کو بھ...
10/11/2021

علامہ اقبال کا ڈاکٹر لیوکس کو جواب

ایف سی کالج لاہور کا سالانہ جلسہ تھا۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر لیوکس نے علامہ اقبال کو بھی شرکت کی دعوت دی۔علامہ اقبال اور دوسرے مہمان اجلاس کے بعد چاۓ پی رہے تھے کہ ڈاکٹر لیوکس ان کے پاس آۓ۔
ڈاکٹر لیوکس: ڈاکٹر صاحب چاۓ کے بعد چلے نہ جائیے گا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
علامہ: بہت بہتر۔
ڈاکٹر لیوکس :(کچھ دیر بعد علامہ محمداقبال کو ایک گوشہ میں لےجاکر)
حضرت علامہ محمداقبال، مجھے یہ بتائیے آیا آپ کے پیغمبر پر قرآن کریم کا مفہوم نازل ہوتا تھا۔یا پوری عبارت ہی اسی طرح اترتی تھی۔
علامہ: پوری عبارت ہی عربی میں اترتی تھی۔
ڈاکٹر لیوکس: حضرت علامہ اقبال،حیرت ہے آپ جیسا پڑھا لکھا آدمی بھی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پوری عبارت ہی اس طرح اترتی تھی۔
علامہ:ڈاکٹر لیوکس! یقین؟ یہ میرا تجربہ ہے مجھ پر پورا شعر اترتا ہے تو پیغمبر پر پوری عبارت کیوں نہ اترتی ہوگی۔
(اقبال کے جواہر ریزے)

منفرد اسلوب کے حامل ممتاز شاعر، ادیب اور فلسفی جون ایلیا کی 19 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔جون ایلیا نے معروف شاعر، صحاف...
10/11/2021

منفرد اسلوب کے حامل ممتاز شاعر، ادیب اور فلسفی جون ایلیا کی 19 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
جون ایلیا نے معروف شاعر، صحافی اور دانشور رئیس امروہی اور سید محمد تقی جیسے بھائیوں کے ساتھ ادبی ماحول میں پرورش پائی، اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔
8 سال کی کم عمری میں اپنا پہلا شعر کہنے والے جون، 1957 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا، جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے، ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعے کی عادات کا واضح ثبوت تھی جسکی وجہ سے ان کے کلام کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔
جون ایک انتھک مصنف تھے لیکن انہیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی راضی نہ کیا جا سکا، ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ 'شاید' 1991 میں منظر عام پر آیا جس وقت ان کی عمر 60 سال تھی، اس مجموعے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اردو سے آشنا طبقے نےبےحد پسند کیا۔
ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’یعنی‘ ان کی وفات کے بعد 2003میں، تیسرا مجموعہ’گمان ‘ 2004 میں، چوتھا مجموعہ ’لیکن‘ 2006 میں اور پانچواں مجموعہ ’گویا‘ 2008 میں شائع ہوا، اس کے علاوہ نثر میں ان کی دو کتب فرنود اور راموزفات منظرِنامے پر آئیں۔
فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، مغربی ادب پر جون ایلیا کا علم بے کراں تھا اور اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی شامل کیا جس کے باعث جون نے اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
انہوں نے شاعری کے علاوہ فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، سائنس اور مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا اوردنیا کی 40 کے قریب نایاب کتب کے تراجم کیے۔
جون ایلیاء کو مختلف زبانوں پر کمال حاصل تھا، اردو شاعری میں اس کا بہترین استعمال کیا کرتے تھے،انہیں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی ‘ عربی‘ سنسکرت پر خاص عبور حاصل تھا۔
جون ایک ادبی رسالہ ’انشا‘ سے بطور مدیر بھی وابستہ رہے جہاں انکی ملاقات نامور ادیبہ اور کالم نگار زاہدہ حنا سے ہوئی, جن سے بعد ازاں جون رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ، جون کے زاہدہ حنا سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا، 1980 کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔

اسکے بعد تنہائی کے باعث جون کی صحت گرتی چلی گئی، اور انہیں پژمردہ کر دیا اور یوں طویل علالت کے بعد اردو ادب کا یہ منفرد قلم کار اور ادبی دنیا کا آفتاب 8 نومبر 2002 کو 71 برس کی عمر میں طویل عل

Address

Hazara Muhalla
Mach
00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usama shakh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Usama shakh:

Share

Category