08/08/2026
اگرچہ تحصیل غازی سے متعلق گردش کرنے والا نوٹیفکیشن جعلی ہے، لیکن اصولی طور پر ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ پختونخوا کی ایک تحصیل تو درکنار، اگر اس کی ایک ویلج کونسل کی آئینی حیثیت سے بھی غیر آئینی طریقے سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، اور جو عناصر ایسے اقدامات کریں گے وہ پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور پاکستان توڑنے کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکیں گے۔
پختونخوا کسی فرد، حکومت یا ادارے کی ذاتی جاگیر نہیں کہ اسے اپنی مرضی سے تقسیم کیا جائے۔ یہ ہزاروں برس سے پختونوں کی سرزمین، ان کی تاریخ، تہذیب اور شناخت کی امین ہے۔
اگر کوئی غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے پختونخوا کی جغرافیائی یا انتظامی حیثیت کو چھیڑنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف پختونوں کے حقوق پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ پاکستان کی وفاقی روح، آئینی ڈھانچے اور قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ایسے اقدامات کرنے والوں پر عائد ہوگی۔
ایمل ولی خان