The Mailsi City

The Mailsi City Mailsi, a Historic City of the Southern Punjab Just for fun from a historic city!!!

خوبصورت میلسی!!!
31/03/2021

خوبصورت میلسی!!!

24/03/2021

مہر یاسر منظور شہید کو ستارہ شجاعت سے نوازا گیا.

04/12/2020

اگر آپ میلسی سے ہیں اور اپنے علاقے سے محبت کرتے ہیں تو برائے مہربانی اپنے قیمتی وقت سے پا نچ منٹ اس تحریر کو لازمی دیں.

بہت سے دوست میسج کرتے ہیں کہ اس پیج پر پوسٹ کچھ نہیں ہوتا جبکہ میلسی کا یہ سب سے بڑا فیس بک پیج ہے. حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم تقریباً تین ہزار کے قریب لوگ اس ایک پیج پہ موجود ہیں اور اس پیج کو بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم سب مل کر میلسی کو پروموٹ کریں. مگر ہمارے شہر میں پروموٹ کرنے کے لیے ہے کیا،؟
جب میں نے ہوش سنبھالا تو ملک پہ مشرف کی حکومت تھی. مشرف کا میلسی والوں کو یہ فائدہ ہوا کہ ہماری جان پچاس سال سے میلسی کے بادشاہوں سے جان چھوٹ گئی اور نئے لوگ ہمارے نمائندے منتخب ہوئے. میلسی میں گیس آئی. کالونی روڈ، ملتان روڈ، بہاولپور کرمپور روڈ، ریلوے روڈ تعمیر ہوئے. گاؤں دیہاتوں کو ملانےوالی بہت سی نئی سڑکیں تعمیر ہوئیں . ہسپتال میں نیا ایمرجنسی بلاک بنا. بوائز اور گرلز کالجز کی اپ گریڈیشن ہوئی. میلسی میں سڑکیں اور ترقی کسی صورت بھی ملتان، بورےوالا اور وہاڑی سے کم نہیں تھی. مگر پھر پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور انہوں نے جو ملک کو لوٹا. سو لوٹا مگر جو انہوں نے میلسی والوں کا حشر کیا کہ اللہ کی پناہ. کبھی گیس کے میٹر کے نام پہ بھتہ، کبھی گندم کے نام، کبھی کھاد کے نام پہ، اور اگر آپ اس سے بچ گئے تو تھانیدار تو ان کے اپنے ہی تھے! میلسی کی سڑکوں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی کام نہیں کیا. میلسی ٹبہ روڈ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا. مگر ہمارے خان صاحب ایک ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے عوام کو اپنے ٹاوٹوں اور منشیوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف رہے. پھر میلسی والوں کا وقت آیا اور انہوں نے اس صاحب کو ان کی اوقات یاد دلائی. پھر منیس صاحب کا دود آیا. ٹبہ دوکوٹہ روڈ تعمیر ہوئی. ریسکیو سروسز ٹبہ اور میلسی میں آئی. کچھ ترقی ہوئی مگر جتنی ہونی چاہیے تھی اتنی نہیں ہوئی. ریلوے روڈ، کالونی روڈ، ملتان روڈ، مترو روڈ اور بہاولپور کے کھنڈرات کے گڑھے مزید گہرے ہو گئے. ان کے ساتھ فدہ کے کھچیوں کی چوتھی نسل میلسی پر مسلط ہوئ اور اس کا آغاز ہی ستائیس لوگوں کے قتل سے ہوئی. مگر کیونکہ لڑائی دو شہزادوں کی تھی اور مرنے والے غریب عوام! تو کسی کو کیا فرق پڑتا ہے. خان صاحب الیکشن جیت کر لاہور جا بسے اور لبر ٹی بازار کے گٹر میں گر کر بازو تڑوا بیٹھے مگر پھر بھی انہیں میلسی کے غریب عوام کا احساس نہیں ہوا جو آئے روز سیوریج کے پانی میں سے گزر کر تعلیم اور روزگار کے لیے جاتے ہیں. ٢٠١٨ میں ملک میں تبدیلی آئی اور میلسی میں یہ تبدیلی آئی کہ پھر سے وڈیرے قانض ہوگئے. دو اڑھائی سال گزرنے کے باوجود ہمارے خان صاحبان ترقیاتی منصوبہ کے نام پر صرف عثمان بزدار کو اپنی شاہی سواریوں پر میلسی کی سیریں ہی کروا تے رہے ہیں. اب تو حالات یہ ہیں کہ ریلوے پھاٹک صرف نام کا پھاٹک ہے درحقیقت یہ ایک فروٹ منڈی ہے. میلسی کے اکلوتے ہسپتال کو جا تی ریلوے روڈ مو ہن جودوڑو کا عکس پیش کرتی ہے. گرلز کالج کے سامنے سڑک میلسی کا اپنا ایک چھوٹا سا ہڑپہ بنی ہو ئی ہے. اب تو ان سڑکوں پر ٹکٹ لگنا چاہیے تاکہ ان کو دیکھ کر لوگ عبرت پکڑ سکیں. ہسپتال کے ایم ایس صاحب دھڑ لے سے سرکاری ادویات اپنے نجی ہسپتال میں فروخت کرتی ہیں اور مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں. تجاوزات کا یہ عالم ہے کہ مرکزی قائداعظم روڈ پر پیدل چلنا محال ہے. اوپر سے ہماری انتظامیہ سونے پہ سہاگہ!.
ڈی سی صاحب کے کہنے پر میلسی میں ایک ارتغرل اور اس کے گھوڑے کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے. شاید ڈی سی صاحب نے سڑکوں کی حالت دیکھ کر عوام کو گھوڑے استعمال کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی ہو گی. پھر انہی ڈی سی صاحب کے حکم پر بینچ بنائے گئے. ماشاءاللہ عوام کا پیسہ تھا سو مالِ مفت دلِ بے رحم. اب آپ میلسی کی تپتی گرمی میں ریلوے اسٹیشن اور کرم پور روڈ پر بغیر کسی سایہ کے کنکریٹ کے بنی بنچز پر تشریف فرما ہو کر اپنی قسمت کا رونا رو سکتے ہیں.
دوسری جانب وہاڑی ضلع کی دوسری تحصیلیں ترقی کی جانب گامزن ہیں. جہاں پر یونیورسٹی کے کیمپسز بن رہے ہیں. نئے ہسپتال قائم ہو رہے ہیں. سڑکیں صاف اور کشادہ. داخلی اور خارجی راستوں پر تعمیر دروازے دیکھ کر دل خوش ہو جاتاہے.
اتنی طویل تحریر کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری یہ کسی کی پروموشن نہیں. اس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری تحصیل میلسی ہر سال نئے درجنوں ڈاکٹرز اور انجینئرز پیدا کرتی ہے مگر پھر بھی ہم اکیسویں صدی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. سڑکیں نہایت بنیادی ضرورت ہیں. اسی سے گزر کر ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے جا تے ہیں. ہمارے گھر والے ہسپتال جا تے ہیں. ہم اپنے روزگار کے لئیے جا تے ہیں. یہی وجہ ہے کہ بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان میلسی سے دوسرے شہروں میں ہجرت کر جاتے ہیں. ہمیں اپنے حق کے لئے آواز اٹھا نا ہو گی اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم برادریوں، ذاتی تعلقات اور وابستگیوں سے نکل کر اپنے حقوق کی آواز بلند کریں. مزید اس پوسٹ کو دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں. شاید اس طرح سے یہ ہمارے حکمرانوں تک پہنچ جائے. شکریہ

پاکستان بننے سے پہلے کا میلسی!!!https://youtu.be/OG6zYIqp-AA
15/09/2020

پاکستان بننے سے پہلے کا میلسی!!!
https://youtu.be/OG6zYIqp-AA

This Web Series Dastan-e-Partition 1947 filmed by ERays film productions New Delhi. This video is copyright with Erays Film Productions all rights reserved w...

میلسی والوں کی کاریگری!!
24/06/2015

میلسی والوں کی کاریگری!!

ملتان روڈ!
31/05/2015

ملتان روڈ!

20/04/2014

Address

DISTIRCT VEHARI
Mailsi
067

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Mailsi City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share