24/04/2026
یہ تاثر دینا کہ شیخ ادریس صاحب ظلم کے خلاف نہیں ہیں، حقیقت کے برعکس اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ، بردبار اور معاملہ فہم شخصیت کے مالک ہیں جو ہر معاملے کو جذبات کے بجائے حکمت اور تدبر سے دیکھتے ہیں۔ ہر شخص کا اپنا انداز ہوتا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کس طرح آواز بلند کرے، اور ضروری نہیں کہ ہر آواز بلند و بانگ ہو—کبھی خاموشی، تحمل اور پسِ پردہ کوششیں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
شیخ ادریس صاحب کا طریقہ ہمیشہ مثبت، اصلاحی اور معاشرے میں بہتری لانے والا رہا ہے۔ وہ اشتعال انگیزی یا نفرت پھیلانے کے بجائے لوگوں کو شعور، برداشت اور اخلاق کا درس دیتے ہیں، جو دراصل ظلم کے خلاف ایک مضبوط اور پائیدار جدوجہد ہے۔ ایک مہذب اور باوقار انسان کی حیثیت سے وہ ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جو نہ صرف مسئلے کو اجاگر کرے بلکہ اس کا حل بھی پیش کرے۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ ظلم کے خلاف ہیں، مگر ان کا انداز شائستہ، متوازن اور حکمت پر مبنی ہے—اور یہی انداز ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔