Malir Pages

Malir Pages Find the latest News and issues on Wade Malir

14 مارچ دریاؤں کا عالمی دن اور ملیر دریاحفیظ بلوچ۔کسی پہاڑ سے بہہ کر یا جھیل سے نکل کر بہت سا پانی جب خشکی پر دور تک بہت...
01/04/2023

14 مارچ دریاؤں کا عالمی دن اور ملیر دریا
حفیظ بلوچ۔

کسی پہاڑ سے بہہ کر یا جھیل سے نکل کر بہت سا پانی جب خشکی پر دور تک بہتا چلا جاتا ہے تو اسے دریا کہتے ہیں۔ دریا بذات خود مستقل بھی ہوتے ہیں اور معاون بھی۔ ایک دریا دوسرے دریا میں جا گرے تو معاون کہلاتا ہے ۔ دنیا بھر میں دریاﺅں کی آگاہی کا عالمی دن 14 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد دریاﺅں کے پانی اور آبی حیات کو محفوظ بنانے کے لئے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔

کراچی شہر، جس کے ایک طرف وشال سمندر ہے اور دوسری طرف کھیرتھر رینج کی پہاڑیاں۔۔ اگر ہم گئے وقتوں کے کراچی کو دیکھیں تو آج جہاں کراچی کی بلند بالا عمارتیں اور وسیع و عریض سڑکیں ہیں، وہاں پہاڑوں کے چھوٹے بڑے سلسلے ہوتے تھے۔ جنہیں کاٹ کر وہاں یہ عمارتیں اور سڑکیں بنائی گئیں۔ دو بڑی دریا جیسی ندیاں میٹھے پانی کی ہوا کرتی تھی، لیاری ندی اور ملیر ندی، کئی نالے جو مخلتف اطراف سے گھوم کر ملیر ندی یا لیاری ندی میں جا کر ملتے تھے، جن کو آج گٹر نالوں میں تبدیل کیا گیا ہے، وہ میٹھے پانی کی آبی گذر گاہیں ہوا کرتی تھیں۔

کراچی کے مضافات میں دیکھیں تو کھیرتھر کی پہاڑوں کا سلسلہ ہے، جہاں سے کئی چھوٹی ندیاں کھدیجی ندی، مول ندی، جرندو ندی، لنگھیجی ندی، کونکر ندی، تھدو ندی، لٹ ندی اور چھوٹے نالے ملیر ندی بناتے ہیں اور دوسری طرف لیاری ندی وجود میں آتی ہےـ

گئے وقتوں میں لیاری ندی اور ملیر ندی میں سارا سال میٹھے پانی کے چشمے بہتے تھے اور مون سون کی بارشوں میں یہ ندیاں دریا بن جایا کرتی تھیں۔ انہیں ندیوں کی بدولت کراچی کی زمینیں سمندر کے کھارے پانی سے محفوظ رہتی تھیں۔ زیر زمین میٹھے پانی کا لیول اوپر سطح تک تھا، لیاری ندی کے ساتھ زراعت ہوتی تھی، جو اب ماضی کی بات ہے کیونکہ پہلے لیاری ندی کی ریتی بجری ختم کی گئی، پھر اس لیاری ندی کو گٹر نالے میں تبدیل کر دیا گیا۔

کراچی شہر کو لیاری ندی کی اس طرح تذلیل سے برے نتائج کا سامنا کرنا پڑا ـ زیر زمین پانی کا لیول نیچے آ گیا، موسمی تبدیلیاں شروع ہو گئیں، مگر دوسری طرف ملیر ندی لیاری ندی کے تباہی کے اثرات کو زائل کرنے کے لیئے کافی تھی، لیکن لیاری ندی کے بعد ملیر ندی سونے کے انڈے دینے والی مرغی بن گئی، جسے لامحدود حرص کی بھینٹ چڑھا کرے تباہ کرنا شروع کر دیا گیا۔

ریتی بجری کی چوری سے ملیر ندی کی سونے جیسے معدنیات کو نچوڑا گیا، ریتی بجری زیر زمین پانی کو قدرتی طور پر جذب کرنے اور فلٹر کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہوتے ہیں یہ خدا کی نعمت ہے فطرت کی عطا مگر سرمایہ کے حصول کے لیے قبضہ مافیا ریتی بجری مافیا نے ریاستی اداروں، نااہل نمائندوں لالچی زمینداروں کے تعاون سے خدا کی نعمت اور فطرت کی اس عطا کو چوری کرنا شروع کر دیا ـ

کراچی، جس کے مضافات زراعت کی وجہ سے، چراگاہوں کی بدولت سرسبز شاداب ہوا کرتے تھے، جن کی پہاڑی سلسلے جنگلی حیاتیات چرند پرند اور مقامی لوگوں کی محنت سے کشمیر جیسا منظر پیش کرتے تھے۔ یہ سب کھیرتھر کے پہاڑوں اور ملیر ندی کے بدولت تھا۔ کراچی جس کے چار موسم ہوا کرتے تھے، بارشوں کے سیزن میں ہر طرف ہریالی ہوا کرتی تھی، ندیاں میٹھے پانی سے بھری رہتی تھیں ـ یہ سب کچھ ملیر ندی کی وجہ سے ہے ـ

ملیر ندی، جس نے ستر کی دہائی تک کراچی شہر کی پیاس بجھائی، ملیر جو پورے کراچی کو تازہ سبزیاں اور پھل مہیا کرتا تھا ـ ایک بھرپور زندگی جو صرف ملیر ندی کی وجہ سے ممکن تھی، وہ ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، آج پچھتر سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ـ

آج کراچی کو جس ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے، چار موسموں سے دو موسم رہ گئے ہیں، بارشوں کا موسم سکڑ کر رہ گیا ہے، سردیاں کم اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، یہ سارے وہ نتائج ہیں، جو اس ریاست کی جانب سے کراچی کی فطرت کے ساتھ روا رکھے گئے عمل سے برآمد ہوئے ہیں ـ ساری میٹھے پانی کی آبی گذر گاہیں گٹر نالوں میں تبدیل کر دی گئیں۔ لیاری ندی کو سیورج سسٹم میں تبدیل کر دیا گیا رہ گئی، ملیر ندی جس کے بدولت کراچی کا بچا ہوا گرین بیلٹ آج کسی حد تک وجود رکھتا ہے، آج بھی ملیر میں زراعت ہوتی ہے، زمیندار اور کسان اپنی اپنی زمینوں میں کام کرتے ہوئے ملیں گے، عورتیں اور مرد مل کر باغات میں کام کرتے ملیں گے ـ یہ سب ملیر ندی کی وجہ سے ہے ـ ملیر ندی آج بھی کراچی کے ماحولیاتی تحفظ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ـ مگر ملیر ندی کو سرمایہ دار گدھ اپنے سرمایہ کے حصول کے لیئے نوچ رہے ہیں۔

کھیرتھر رینج کے پہاڑی سلسلے میں بننے والے دو بڑے مگرمچھ ہاؤسنگ منصوبے بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے اور دوسرے چھوٹے کنکریٹ کے سپولے نما سرمایہ داروں سیاسی اشرافیہ کی مفادات کے لیئے ملیر ندی کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے ـ ایک بڑا اژدہا ملیر ایکسپریس وے کی شکل میں ملیر ندی کو نگل رہا ہے ـ یہ اژدھا صرف ملیر ندی کو ہی نہیں بلکہ ملیر کی زراعت، کراچی کی ماحولیاتی بقا، اور سیکڑوں انڈیجینئس آبادیوں کو نگل لے گا ـ اگر اس اژدھا کو نہیں روکا گیا تو صرف ملیر ندی اور ملیر کے لوگ ختم نہیں ہوں گے، کراچی کی سانسیں بھی ختم ہو جائیں گی ـ

14 مارچ عالمی طور پر دریاؤں کے حفاطت کے دن کے لیئے مخصوص کیا گیا ہے، دنیا 14 مارچ کو آبی گذر گاہوں، ندیوں اور دریاؤں کی افادیت اور ان کے بچانے کے لیئے آواز اٹھاتی ہےـ آؤ اس 14 مارچ سے ہم سب یکجا ہو کر ملیر ندی کی حفاظت کی بات کریں ـ

جس جگہ ملیر ایکسپریس وے کا قائدآباد انٹرچینج بنایا جا رہا ہے اس میں وہ پانچ ایکڑ زرعی زمین بھی شامل ہے جس کی ملکیت کے دع...
01/04/2023

جس جگہ ملیر ایکسپریس وے کا قائدآباد انٹرچینج بنایا جا رہا ہے اس میں وہ پانچ ایکڑ زرعی زمین بھی شامل ہے جس کی ملکیت کے دعوے دار ایک 65 سالہ مقامی کاشت کار سائل دہقان ہیں۔ اس لیے وہ اس سڑک کی تعمیر پر ناراض بھی ہیں اور مایوس بھی۔

وہ ۲۰ فروری ۲۰۲۲ کو اتوار کے روز گیارہ بجے صبح کراچی کے شمال مشرقی ضلعے ملیر کے کمیونٹی ہال میں مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ موجود تھے۔ ان لوگوں کو سندھ کے محکمہ ماحولیات نے بلا رکھا تھا تاکہ وہ قدرتی ماحول پر ایکسپریس وے کے ممکنہ اثرات کے بارے میں اپنی آرا پیش کر سکیں۔ ان میں سے اکثر کو شکایت ہے کہ صوبائی حکومت نے اس سڑک کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے اُنہیں اعتماد میں نہیں لیا حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بننے سے ان کی روزی روٹی براہ راست متاثر ہو گی۔ سائل دہقان نے بیان کیا کہ “حکومت ہم سے زبردستی وہ زمین لینا چاہتی ہے جس سے ہماری زندگی اور ہمارا روزگار وابستہ ہیں”۔

ملیر ایکسپریس وے کے متاثرین نے سندھ انڈِجنس رائٹس الائنس، اور ملیر ایکسپریس وے ایکشن کمیٹی نامی مقامی باشندوں کی تنظیوں کے پلیٹ فارم اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ مؤمنٹ سمیت دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں (کراچی بچاؤ تحریک، گرین پاکستان کولیشن) نے بھی احتجاج کیا اور اس کی تعمیر کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی قانونی اور سرکاری دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سڑک کے لیے لی جانے والی زمین کا ایک بڑا حصہ ان کی جائز ملکیت ہے اس لیے حکومت جبراً انہیں اس سے بے دخل نہیں کر سکتی۔ سائل دہقان کے بقول “ہم کئی دہائیوں سے اس زمین کے قانونی مالک ہیں اس لیے حکومت اس کا بہتر متبادل فراہم کیے بغیر اسے ہم سے نہیں چھین سکتی”۔

لیکن حکومتی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کبھی کسی کی ذاتی ملکیت تھی ہی نہیں بلکہ اسے لیز پر مقامی لوگوں کو دیا گیا تھا جسے ختم کر کے حکومت اب یہ زمین واپس لے رہی ہے۔

تتلیاں کہاں کو سفر پر جائیں؟

نجی شعبے اور سندھ حکومت کے اشتراک (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے تحت تقریباً ۱۶۰ ملین ڈالر کی لاگت سے بنائے جانے والا ملیر ایکسپریس وے کا افتتاح دسمبر ۲۰۲۰ میں صوبے کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے جون ۲۰۲۳ تک مکمل کر لیا جائے گا۔

چھ لین پر مشتمل اور 39 کلومیٹر طویل یہ سڑک کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے شمال مشرقی سرے پر واقع کورنگی کریک روڈ سے شروع ہوگی اور جگہ جگہ ملیر ندی کے درمیان سے چلتی ہوئی کاٹھور کے مقام پر کراچی-حیدرآباد شاہراہ سے مل جائے گی۔

ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کی زد میں آنے والے علاقوں کا قدرتی ماحول کراچی کے تمام دوسرے علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ سرسبز اور شاداب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، ان کے مطابق، اس کی تعمیر سے ۱۹ ہزار کے قریب پودوں اور درختوں، پرندوں کی ایک سو ۷۶ اقسام اور ۷۳ طرح کی تتلیوں کی جائے افزائش کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

۳۸۸ فٹ (ایک سو میٹر) چوڑی ایکسپریس وے ملیر ندی کے متوازی اور جگہ جگہ بیچ و بیچ تعمیر کی جائے گا جس کے باعث اس کا پاٹ تنگ ہو جائے گا۔ یوں برسات کے موسم میں ندی کے ارد گرد واقع بستیوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ایکسپریس وے کے متاثرین کی ایکشن کمیٹی کے رکن بشیر بلوچ بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے رہائشی اور تجارتی علاقوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملیر کا زرعی رقبہ پچھلے ۲۰ سالوں میں ۶۰ ہزار ایکڑ سے کم ہو کر ۱۹ ہزار ایکڑ رہ گیا ہے جو اس سڑک کی تعمیر سے مزید کم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اس سڑک کی وجہ سے اس رقبے کو سیراب کرنے والے ۲۷ کنوئیں بھی ختم ہو جائیں گے۔

ان خطرات کی نشان دہی کرتے ہوئے ملیر سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے چھ ارکان نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ بشیر بلوچ کے بقول اس خط میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دیہات اور زرعی زمینوں کو بچانے کے لیے سڑک کو زمین پر بنانے کے بجائے ایک اوور ہیڈ برج کی طرح تعمیر کیا جانا چاہیے۔

سندھ انڈیجنس رائٹس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایکسپریس وے کی تعمیر سے ملیر کے کئی دیہات دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے جن کے رہنے والے لوگ سڑک کے ساتھ لگی باڑ کی وجہ سے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جا بھی نہیں پائیں گے۔

لیکن ان کے نزدیک اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موٹرسائیکل اور آٹو رکشا جیسی چھوٹی گاڑیوں کو اس سڑک پر چڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ “ملیر کے رہنے والے کم آمدن والے لوگوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا”۔

اگرچہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد کراچی کے انتہائی جنوب میں رہنے والے لوگوں کو شہر کے انتہائی شمالی حصے تک پہنچنے میں محض آدھا گھنٹہ لگے گا۔ لیکن کراچی میں مقیم ماہر ماحولیات توحید احمد کہتے ہیں کہ “یہ فائدہ اس نقصان کے مقابلے میں کہیں کم ہے جو ملیر کی جنگلی حیات، قدرتی ماحول اور زراعت کو پہنچے گا”۔

ملیر ایکسپریس وے کے بارے میں تمام عوامی اعتراضات کو رد کرتے ہوئے سندھ کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (Sindh Environmental Protection Agency) نے ۲۰ اپریل ۲۰۲۲ کو اس کے ماحولیاتی اثرات کے جائزے پر مبنی رپورٹ (environment impact assessment report) کو تسلی بخش قرار دے دیا جس سے اس کی تعمیر کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سڑک کے لیے مختص تمام رقم کا 15 فیصد درختوں، کھیتوں، سرسبز جگہوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سڑک کی وجہ سے متاثر ہونے والے درختوں، کھیتوں اور سرسبز جگہوں کے لیے متبادل زمین فراہم کی جائے گی۔ ماحولیاتی تحفظ کے صوبائی ادارے نے اس کے متاثرین سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ انہیں ان کے نقصان کا معاوضہ دے کر متبادل جگہوں پر آباد کیا جائے گا۔

لیکن متاثرین اور ان کے ساتھ کام کرنے والے سماجی کارکنوں کو ان سرکاری وعدوں اور دعووں پر اعتبار نہیں۔ کراچی کی رہنے والی وکیل عبیرہ اشفاق کہتی ہیں کہ ملیر ایکسپریس وے ایسا پہلا منصوبہ نہیں جو کراچی کے ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب کرے گا بلکہ، ان کے مطابق، پچھلے 10 سالوں میں شہر کے شمالی دیہی علاقوں میں ایسی کئی تعمیرات کی گئی ہیں جن کے مضر اثرات کوہ کھیرتھر تک پہنچ رہے ہیں جو ملیر اور لیاری جیسی کئی ندیوں کا ماخذ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ایکسپریس وے اور بحریہ ٹاؤن جیسے بڑے تعمیراتی منصوبوں نے کراچی میں جنگلات، جنگلی حیات، آبی ذخائر، زیرآب پانی کی سطح اور فضا کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے کھوکھلے وعدوں سے نہیں ہو سکتی”۔



جبکے حالیہ دنوں میں ملیر ایکسپریس وے کے اطراف موجود آبادیوں کو مزید بے دخل کردیا گیا ہے اور جیسے جیسے ایکسپریس وے اپنے مکمل ہونے کے قریب جا رہی ہے ویسے مزید اطراف کی آبادیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے واضح رہے کے صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کے ملیر ایکسپریس وے اس سال کے جون میں مکمل کی جائے گی

سائل دہقان بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدے محض وعدے ہی رہیں گے کیونکہ صوبائی حکومت نے ماضی میں اسی طرح کے منصوبوں کے منفی اثرات کا شکار ہونے والے لوگوں کی شکایات کا کبھی کوئی ازالہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ “سندھ حکومت نے ایسے ہی وعدے اورنگی اور گجر نالوں اور سرکلر ریلوے کے متاثرین سے بھی کیے تھے لیکن انہیں ابھی تک کچھ بھی نہیں ملا”۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور ان کے واحد جانشین ذوالفقار جونیئر ملیر ایکسپریس وے کی ت...
01/04/2023

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور ان کے واحد جانشین ذوالفقار جونیئر ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت پر برس پڑے۔

واضح رہے کہ کراچی کی پوش آبادی ڈی ایچ اے کو بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی سے ملانے کیلیے سندھ حکومت ملیر ندی میں 30 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے تعمیر کررہی ہے جس کے لیے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور قدیم آبادیوں کا انہدام جاری ہے۔

سندھ کے ورثے کی حفاظت کیلیے سرگرم سماجی کارکن حفیظ بلوچ نے ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کیلیے منہدم کیے جانے والے مکانات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور پی پی میڈیا سیل کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاکہ”آپ اور آپ کے وزیر پوری دنیا میں ماحولیات کی بات کرتے ہیں اور اس کی تباہی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں، کیا آپ اور آپ کی سندھ حکومت ملیر ایکسپریس وے جیسے منصوبوں سے پوری گرین بیلٹ کو تباہ نہیں کر رہی؟“۔

01/04/2023
Qaisrani Baloch Qom Tareekh, Qaisrani Caste Zat, history of Baloch Tribes, قیصرانی بلوچ قوم تاریخ This video is about qa...
12/03/2023

Qaisrani Baloch Qom Tareekh, Qaisrani Caste Zat, history of Baloch Tribes, قیصرانی بلوچ قوم تاریخ This video is about qaisrani baloch qom tareekh,history of qaisrani baloch tribe caste Zat, history of Baloch Tribes In Urdu Maliri TV

قیصرانی بلوچ قوم کی تاریخ

#بلوش https://youtu.be/qoEUMUKyAcA

This video is about qaisrani baloch qom tareekh,history of qaisrani baloch tribe caste Zat, history of Baloch Tribes In Urdu Maliri TV قیصرانی بلوچ قوم کی تا...

Hosh Muhammad Sheedi History | Hoshu Sheedi Tareekh Biography in Urdu | ہوش محمد شیدی کی تاریخ This video is about Hosh ...
04/03/2023

Hosh Muhammad Sheedi History | Hoshu Sheedi Tareekh Biography in Urdu | ہوش محمد شیدی کی تاریخ This video is about Hosh Muhammad Sheedi History | Hoshu Sheedi Tareekh Biography in Urdu by Maliri TV https://youtu.be/TGB4uQBwxKI

This video is about Hosh Muhammad Sheedi History | Hoshu Sheedi Tareekh Biography in Urdu by Maliri TV

Kahani Suno 1 Singer Kafi Khalil Life Story, Kaifi Khalil Home To coke Studio, کیفے خلیل کہانی سنو This video is about K...
02/03/2023

Kahani Suno 1 Singer Kafi Khalil Life Story, Kaifi Khalil Home To coke Studio, کیفے خلیل کہانی سنو This video is about Kahani Suno 1 Singer Kafi Khalil Life Story, Kaifi Khalil Home To coke Studio Biography in Urdu by Maliri TV

کیفے خلیل کی کہانی سنو

https://youtu.be/r6f0hhDmTwI

This video is about Kahani Suno 1 Singer Kafi Khalil Life Story, Kaifi Khalil Home To coke Studio Biography in Urdu by Maliri TV کیفے خلیل کی کہانی سنو ...

History of Sheedi or Makrani Baloch Caste, Makrani Sheedi Baluch Qom Tareekh, شیدی مکرانی قوم تاریخ This video is about ...
01/03/2023

History of Sheedi or Makrani Baloch Caste, Makrani Sheedi Baluch Qom Tareekh, شیدی مکرانی قوم تاریخ This video is about the history of sheedi or Makrani baloch caste Qom, makrani Sheedi baluch qom tareekh,

شیدی یا مکرانی قوم کی تاریخ

پاکستان میں یہ افریقی نسل کے لوگ کب اور کیسے آئے؟

https://youtu.be/NF7NEF4vEwk

This video is about the history of sheedi or Makrani baloch caste Qom, makrani Sheedi baluch qom tareekh, شیدی یا مکرانی قوم کی تاریخ پاکستان میں یہ افریقی...

History Of Nosherwani Tribe Zaat, Nosherwani Baloch Qom Tareekh, Dynasty, نوشیروانی قوم تاریخ This video is about the hi...
28/02/2023

History Of Nosherwani Tribe Zaat, Nosherwani Baloch Qom Tareekh, Dynasty, نوشیروانی قوم تاریخ This video is about the history of the nosherwani tribe,nosherwani qom tareekh,baloch nosherwani, dynasty in Urdu by Maliri TV

نوشیروانی قوم یا قبیلے کی تاریخ

#نوشیروان #نوشیروانی https://youtu.be/7hc0nwmoZPk

This video is about the history of the nosherwani tribe,nosherwani qom tareekh,baloch nosherwani, dynasty in Urdu by Maliri TV نوشیروانی قوم یا قبیلے کی تار...

History of Panhwar Qom in Urdu Hindi | Parmar Rajput Caste History | Panwar Qom Tareekh | پھنور ذات This video is about ...
27/02/2023

History of Panhwar Qom in Urdu Hindi | Parmar Rajput Caste History | Panwar Qom Tareekh | پھنور ذات This video is about history of panhwar Qom in Urdu Hindi, parmar rajput caste history panwar qom Ki tareekh,پنہور ذات کی تاریخ by Maliri TV

پھنور ذات یا قوم قبیلے کی تاریخ اردو میں

https://youtu.be/_USf4a2jopQ

This video is about history of panhwar Qom in Urdu Hindi, parmar rajput caste history panwar qom Ki tareekh,پنہور ذات کی تاریخ by Maliri TVپھنور ذات یا قوم ق...

Baloch In Oman Army | Omani Baloch Story | Umani Baloch Faoj | عمانی فوج کے بلوچ سپاہیوں کی کہانی Baloch In Oman Army | ...
26/02/2023

Baloch In Oman Army | Omani Baloch Story | Umani Baloch Faoj | عمانی فوج کے بلوچ سپاہیوں کی کہانی Baloch In Oman Army | Omani Baloch Story | Umani Baloch Faoj History in Urdu Hindi by Maliri TV

عمانی فوج کے بلوچ سپاہیوں کی کہانی

#البلوش #البلوشی #بلوش https://youtu.be/qQBxHy4e7eI

Baloch In Oman Army | Omani Baloch Story | Umani Baloch Faoj History in Urdu Hindi by Maliri TV عمانی فوج کے بلوچ سپاہیوں کی کہانی ...

History of Wattoo Caste, Wattu Caste history in Urdu | Who are the Wattoo | Wattoo Qom ki Tareekh This video is about Hi...
26/02/2023

History of Wattoo Caste, Wattu Caste history in Urdu | Who are the Wattoo | Wattoo Qom ki Tareekh This video is about History of Wattoo Caste, Wattu Caste history in Urdu | Who are the Wattoo | Wattoo Qom ki Tareekh in Urdu Hindi by Maliri TV History of Punjabi Caste

وٹو قوم و قبیلہ کی تاریخ اردو میں

https://youtu.be/K86Efqytu7Y

This video is about History of Wattoo Caste, Wattu Caste history in Urdu | Who are the Wattoo | Wattoo Qom ki Tareekh in Urdu Hindi by Maliri TV History of P...

Address

Karachi
Malir Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malir Pages posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category