Government Employees Help Center

Government Employees Help Center Help to Employee

04/09/2026

قانون کا سنہری اصول
"ہزار مجرم چھوٹ جائیں، ایک بےگناہ کو سزا نہ ہو"

04/09/2026

پنجاب ۔ ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے تقسیمِ جائیداد کے کیسز سے متعلق نئی ہدایات جاری

*Group Creative & Edited by:*
--------------------------------------------

*Mian Anwar Hussain*
*Faisalabad.* 🇵🇰

♥️ 🌐 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی نے تمام ڈسٹرکٹ کلیکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ مشترکہ ملکیت والے کھاتوں میں تقسیمِ جائیداد (تقسیم) کے تمام کیسز کی کارروائی Revenue Courts Management System (RCMS) کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔

یہ کارروائی Land Revenue Act, 1967 کی متعلقہ دفعات کے تحت ہوگی، جبکہ جاری کردہ جامع گائیڈ لائنز تمام متعلقہ ریونیو افسران تک فوری طور پر پہنچانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

تقسیم کے وہ مقدمات جن کی متعلقہ مجاز اتھارٹی سے منظوری ہوچکی ہے، ان کی پروسیسنگ بھی RCMS کے ذریعے کی جائے گی۔

03/09/2026

*پنجاب میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، گرینڈ آپریشن شروع۔ ذرائع*

پنجاب پولیس ڈیپارٹمنٹ میں موجود کرپٹ پولیس ملازمین کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے۔

وزیراعلی پنجاب کا آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو حکم جاری

*Group Creative & Edited by:*
--------------------------------------------

*Mian Anwar Hussain*
*Faisalabad.* 🇵🇰

♥️ 🌐 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

*میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے بھی ٹاپ 5 کرپٹ ترین آفیسرز و ملازمین کی لسٹ بمعہ ثبوت فائنل کر لی گئی۔ ذرائع*

جلد گھیرا تنگ ہونے کا امکان۔ ذرائع

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

کرپشن کی نشاندہی اور کارروائی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم جبکہ عوامی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1350 بھی فعال کر دی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی ذاتی نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے خفیہ سیل کی رپورٹس براہِ راست پیش کرنے اور شکایات پر گرفتاریاں عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ ہر ترقیاتی منصوبے کے معیار اور اخراجات کا آزادانہ جائزہ لینے کے ساتھ جدید مانیٹرنگ نظام بھی بروئے کار لایا جائے گا۔

مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں کہیں کرپشن ہو، رشوت مانگی جائے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جائے، فوری اطلاع دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شکایت پر مقررہ مدت میں کارروائی ہوگی جبکہ شکایت کنندہ کا نام مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہوگا، کسی کو عوام کا پیسہ کھانے نہیں دوں گی۔ کرپشن کے مقدمات میں عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی، جبکہ لوٹی گئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارروائی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف پیسے کی چوری نہیں بلکہ عوام کے حق اور اعتماد کی چوری ہے۔ جو ہاتھ عوام کے پیسے کی طرف بڑھے گا، وہ ہاتھ روکا جائے گا۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سی ایم میرٹ بیج ہے، جبکہ کرپشن کرنے والا قانون کے کٹہرے میں ہوگا۔ عوام کا اعتماد حکومت کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور اس پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

محکمہ ایکسائز پنجاب میں کرپٹ سرکاری افسران اور ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن،

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 22 ایکسائز انسپکٹروں اور عملے کو معطل کر دیا گیا

*محکمہ اینٹی کرپشن کی مختلف کاروائیوں میں متعدد محکموں کے افسران و اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر لئے*

👈 اینٹی کرپشن ٹیم کا سرکل افیسر کی نگرانی میں سول جج کہ ہمراہ چھاپہ سب انسپیکٹر محمد منیر کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا

👈 ایس سی او گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ قصور نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے ایس سی او، ADLR آفس قصور مقصود احمد کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 گوجرانوالہ کرپشن کے الزام میں ڈپٹی کمشنر گجرانوالہ نوید احمد نے دو نائب تحصیلدار اور ایک رجسٹری محرر کو کرپشن کے الزامات میں معطل کر دیا معطل ہونے والوں میں ریئس چیمہ ریڈر محررصدر
اکرام چیمہ(پی اے ) اے ڈی سی آر بھی کرپشن پہ معطل
ارشدڈھلوں نائب تحصیلدارصدرگوجرانوالہ کیپٹن نسیم نائب تحصیلدار صدرگوجرانوالہ شامل ہیں

👈 اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر ملتان انتظار میو کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 اے ایس آئی گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ننکانہ صاحب نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے اے ایس آئی پولیس اسٹیشن سٹی شاہکوٹ شرافت علی کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج

👈 اہلمد ڈسٹرکٹ کورٹس گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گجرات نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے اہلمندڈسٹرکٹ کورٹس گجرات یوسف گل کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج

👈 سینئر کلرک گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گجرات نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے سینئر کلرک محکمہ ماحولیات گجرات عابد حسین کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج

👈 فارسٹ مینجر گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بہاولپور نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے فاریسٹ مینجر محکمہ جنگلات بہاولپور محمد احمد یوسف کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بہاولنگر نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے نائب قاصد یونین کونسل بہاولنگر محمد انور کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 انسپکٹر PHA گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے انسپکٹر پی ایچ اے لاہور بلال اشفاق کو بل بورڈز لگانے کے لیے شہری سے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج

👈 ڈرائیور اسسٹنٹ کمشنر گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے ڈرائیور اسسٹنٹ کمشنر راوی ٹاؤن لاہور غلام علی اکبر کو ملازمت کا جھانسہ دے کر شہری سے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 پٹواری گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خانیوال نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے یونس پٹواری اور پرائیوٹ کلرک ضمیر احمد رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ چکوال نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے فیلڈ اسسٹنٹ سوشل کنزرویشن محمد جاوید کو شہری سے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ جھنگ نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے کلرک این ٹی او برانچ ڈی سی آفس جھنگ ایوب الحسن کو شہری سے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 سب انسپکٹر گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مظفرگڑھ نے شہری حاجی محمد کی شکایت پر مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے سب انسپکٹر پولیس اسٹیشن خان گڑھ ضلع مظفرگڑھ حاجی احمد کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 اے ایس آئی گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ راجن پور نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے اے ایس آئی پولیس اسٹیشن فاضل پور ضلع راجن پور ظفر بخاری کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 لیبر انسپکٹر گرفتار
اینٹی کرپشن شیخوپورہ نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے لیبر انسپکٹر ، لیبر ڈیپارٹمنٹ شیخوپورہ غلام مرتضی کو فیکٹری کی رجسٹریشن کروانے کیلئے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 انچارج ڈرائیونگ سکول اور انچارج ٹریفک لائسنسنگ گرفتار
اینٹی کرپشن اٹک نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرتے ہوئے ٹریفک کانسٹیبل/
انچارج ڈرائیونگ سکول نجف محمود اور انچارج ٹریفک لائسنسنگ اصف غفور
کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ نشان زدہ نوٹ برآمد / مقدمہ درج ۔

👈 چیف آفیسرمیونسپل کمیٹی گرفتار
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کامیاب ریڈکرتے ہوئے علی احمد صابر چیف آفیسر (گریڈ 17) میونسپل کمیٹی جہانیاں ضلع خانیوال کو شہری سے ٹھیکے کے کاغذات پر دستخط کروانے کیلئے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتارکر لیا۔ ملزم سے موقع پر نشان زدہ نوٹ برآمد/ مقدمہ درج

👈 اینٹی کرپشن سیالکوٹ کا کامیاب ٹریپ ریڈ
سیالکوٹ میں اینٹی کرپشن حکام کی کارروائی، EPA انسپکٹر شاہد محمود ڈوگر کو 40 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران نشان زدہ نوٹ بھی برآمد ہوئے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

02/09/2026

🛑پنجاب اسمبلی میں اینٹی ٹیررازم ترمیمی بل 2026 منظور

*Group Creative & Edited by:*
--------------------------------------------

*Mian Anwar Hussain*
*Faisalabad.* 🇵🇰

♥️ 🌐 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

پنجاب اسمبلی نے اینٹی ٹیررازم (پنجاب ترمیم) بل 2026 منظور کر لیا، جس کے تحت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی شق 21AAA شامل کی جائے گی۔

نئی شق کے تحت ایک نامزد اتھارٹی کو حساس مقدمات کو "سپیشل سکیورٹی کیس" قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ اتھارٹی گریڈ 20 یا اس کے مساوی افسر پر مشتمل ہوگی، جس کی تعیناتی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت سے کی جائے گی۔

اتھارٹی ایسے مقدمے یا مقدمات کی کسی قسم کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دے سکے گی جن میں فریقین اور عدالتی کارروائی کے لیے غیر معمولی سکیورٹی درکار ہو۔

اتھارٹی کی درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ججوں میں سے کسی جج کو مقدمہ سونپیں گے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب پانچ اہل پراسیکیوٹرز کا پینل فراہم کرے گا، جس میں سے اتھارٹی مقدمے کی پیروی کے لیے ایک پراسیکیوٹر کا انتخاب کرے گی۔

منظور شدہ قانون کے تحت جج، پراسیکیوٹر، وکلا، پولیس افسران، گواہوں اور عدالت سے متعلق دیگر افراد کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے گی۔ ناموں کے بجائے سرکاری عہدے، مخصوص ٹائٹلز یا کوڈ نمبرز استعمال کیے جائیں گے۔

حساس مقدمات میں ورچوئل، ویڈیو لنک اور ان کیمرہ ٹرائل کی اجازت ہوگی، جبکہ سکیورٹی خدشات کی صورت میں جیل سے بھی ورچوئل سماعت کی جا سکے گی۔ گواہوں اور دیگر افراد کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا سکے گی۔

قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ سیل رکھا جائے گا اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تحویل میں رہے گا۔ ججوں اور پراسیکیوٹرز کے نام آفیشل گزٹ میں بھی شائع نہیں کیے جائیں گے۔

شق 21AAA کے تحت کیے گئے اقدامات کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کی متعلقہ دفعات پر برتری حاصل ہوگی۔

بل کے مطابق ترمیم کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں ججوں، پراسیکیوٹرز، تفتیشی افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین سکیورٹی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا اور حساس مقدمات کی مؤثر سماعت یقینی بنانا ہے۔

02/09/2026

چھوٹے تاجروں کے مطالبات کے عین مطابق ایف بی آر کی خصوصی ٹیکس اسکیم

*Group Creative & Edited by:*
--------------------------------------------

*Mian Anwar Hussain*
*Faisalabad.* 🇵🇰

♥️ 🌐 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

بیس کروڑ روپے تک سالانہ سیل والے دکانداروں کے لیے:

سالانہ سیل کا صرف ایک فیصد ٹیکس۔

کم از کم قابلِ ادائیگی ٹیکس صرف پچیس ہزار روپے۔

اردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا سادہ اور آسان گوشوارہ فارم۔

ایف بی آر ویب سائٹ، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس آفس کے ذریعے آسان فائلنگ۔

⚖️ اہم عدالتی فیصلہسرکاری ملازم کی ترقی سے متعلق اجلاس کی کارروائی(Dpc Minutes) ملازم لینے کا حقدار ہوتا ہے ۔لاہور ہائیک...
02/09/2026

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ

سرکاری ملازم کی ترقی سے متعلق اجلاس کی کارروائی(Dpc Minutes) ملازم لینے کا حقدار ہوتا ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کوئی سرکاری ادارہ کسی معاملے، خصوصاً کسی سرکاری ملازم کی ترقی کے بارے میں حتمی فیصلہ کر چکا ہو تو اس فیصلے سے متعلق اجلاس کی کارروائی کو صرف اس بنیاد پر ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا کہ اس میں حتمی فیصلے سے قبل ہونے والی بحث، غور و خوض اور سفارشات شامل ہیں۔

مقدمے کا پس منظر

یہ معاملہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ایک افسر محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق تھا۔

درخواست گزار نے:

🔹 انسانی وسائل سے متعلق 144ویں اجلاس مورخہ 27 فروری 2023ء
🔹 بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 261ویں اجلاس مورخہ 4 مئی 2025ء

کی مصدقہ کارروائی کی نقول طلب کی تھیں۔

لیسکو کی جانب سے معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے بعد متعلقہ شخص نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت اپیل دائر کی۔ معلوماتی کمیشن نے اپیل منظور کرتے ہوئے لیسکو کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا اہم قانونی اصول

عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-اے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں کے تابع ہے۔

معلومات تک رسائی کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب، عوامی شرکت اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس کی کارروائی کا استثنیٰ مستقل نہیں

معلومات تک رسائی کے قانون 2017ء کی دفعہ 7(ب) کے تحت اجلاس کی کارروائی کو اس وقت تک مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جب تک متعلقہ سرکاری ادارہ حتمی فیصلہ نہ کر دے۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ قانون میں اجلاس کی کارروائی کو مستقل یا ہمیشہ کے لیے خفیہ قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کا استثنیٰ واضح طور پر حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔

لہٰذا جب سرکاری ادارہ حتمی فیصلہ کر دے تو دفعہ 7(ب) کے تحت حاصل استثنیٰ ختم ہو جاتا ہے۔

ترقی کے معاملے میں عدالت کا فیصلہ

موجودہ مقدمے میں محمد رمضان بٹ کی ترقی کے بارے میں فیصلہ پہلے ہی حتمی ہو چکا تھا اور اس پر عمل بھی کیا جا چکا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد اجلاس کی کارروائی کو صرف یہ کہہ کر روکنا کہ اس میں حتمی فیصلے سے پہلے کی بحث اور غور و خوض شامل تھا، قانون کی واضح زبان کے خلاف ہوگا۔

ذاتی رازداری کی بنیاد پر بھی پورا ریکارڈ نہیں روکا جا سکتا

عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ اجلاس کی کارروائی کسی مخصوص سرکاری افسر کی ترقی سے متعلق ہے، پورے ریکارڈ کو ذاتی رازداری کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

اگر ریکارڈ کسی سرکاری عہدے پر ترقی اور سرکاری ادارے کے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق ہے تو اسے محض ذاتی رازداری کی بنیاد پر مکمل طور پر روکنا درست نہیں۔

صرف مستثنیٰ حصہ حذف کیا جا سکتا ہے

اگر اجلاس کی کارروائی کے کسی مخصوص حصے میں ایسی معلومات موجود ہوں جو قانون کے تحت واقعی مستثنیٰ ہوں تو پورا ریکارڈ روکنے کے بجائے صرف اس مخصوص حصے کو الگ کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی معلومات درخواست گزار کو فراہم کرنا ہوں گی۔

معلومات مانگنے کی وجہ بتانا ضروری نہیں

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے تحت معلومات طلب کرنے والے شخص سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ معلومات حاصل کرنے کی وجہ یا مقصد بتائے۔

یعنی شہری کا معلومات طلب کرنے کا حق اس بات سے مشروط نہیں کہ وہ پہلے اپنا ذاتی مفاد یا معلومات حاصل کرنے کا مقصد ثابت کرے۔

عدالت کا حتمی حکم

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معلوماتی کمیشن کے حکم میں کوئی غیر قانونی اقدام، اختیار سے تجاوز یا قانون کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی۔

چنانچہ لیسکو کی آئینی درخواست خارج کر دی گئی اور معلومات فراہم کرنے سے متعلق معلوماتی کمیشن کا حکم برقرار رہا۔

عدالت نے اخراجات کے بارے میں بھی کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

---

⚖️ خلاصۂ قانونی اصول

کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کسی ملازم کی ترقی یا دیگر سرکاری معاملے پر حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد متعلقہ اجلاس کی کارروائی کو صرف اس بنیاد پر مکمل طور پر خفیہ نہیں رکھا جا سکتا کہ اس میں حتمی فیصلے سے قبل ہونے والی بحث اور غور و خوض شامل ہے۔

حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد اجلاس کی کارروائی پر دفعہ 7(ب) کے تحت حاصل مشروط استثنیٰ ختم ہو جاتا ہے، البتہ اگر ریکارڈ کے کسی مخصوص حصے کو قانوناً استثنیٰ حاصل ہو تو صرف وہ حصہ الگ کیا جا سکتا ہے۔

Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636

Islamabad Office:
Khadim Hussain Khosa Adv Supreme Court
Office No. 31, Third Floor, Al Hameed Mall, G-11 Markaz, Islamabad.
📞 Contact: 0334-6759818

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہکنٹریکٹ سروس سینیارٹی کے لیے شمار نہیں ہوگی، تاہم پنشن کے لیے شمار ہو سکتی ہےسپریم ...
02/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

کنٹریکٹ سروس سینیارٹی کے لیے شمار نہیں ہوگی، تاہم پنشن کے لیے شمار ہو سکتی ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی سول سرونٹ کی ابتدائی کنٹریکٹ سروس کو سینیارٹی کے تعین کے لیے شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ریگولر تقرری یا ریگولرائزیشن کو Fresh Appointment تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، کنٹریکٹ سروس کی مدت پنشن کے فوائد کے لیے شمار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ سول سروس ریگولیشنز (CSR) کی متعلقہ شرائط پوری ہوتی ہوں اور اس کے بعد بلا تعطل ریگولر سروس کی گئی ہو۔
Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636

Islamabad Office:
Khadim Hussain Khosa Adv Supreme Court
Office No. 31, Third Floor, Al Hameed Mall, G-11 Markaz, Islamabad.
📞 Contact: 0334-6759818

🚨غلط برطرفی کا خمیازہ سرکاری ملازم کو نہیں بھگتنا چاہیے — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ🚨سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کی غلط برطر...
01/09/2026

🚨غلط برطرفی کا خمیازہ سرکاری ملازم کو نہیں بھگتنا چاہیے — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ🚨

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کی غلط برطرفی، بحالی اور بقایا تنخواہ کے حوالے سے اہم اصول واضح کیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری اختیار صرف اس بنیاد پر درست نہیں ہوجاتا کہ متعلقہ افسر کے پاس اختیار موجود تھا، بلکہ ہر سرکاری فیصلہ قانونی اختیار، معقول وجہ، شفافیت اور منصفانہ طرزِ عمل پر مبنی ہونا ضروری ہے۔

اہم قانونی اصول

👈آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر شخص کو منصفانہ طریقۂ کار اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔

👈سرکاری اداروں کے فیصلے محض اختیار کے استعمال پر نہیں بلکہ مضبوط، معقول اور قابلِ جواز وجوہات پر مبنی ہونے چاہئیں۔

👈عدالت نے “وجہ اور جواز کی ثقافت” پر زور دیا، یعنی حکومتی فیصلوں کو محض طاقت یا اختیار کے بجائے واضح قانونی اور منطقی بنیاد پر ثابت کرنا ہوگا۔

👈اگر کسی سرکاری ملازم کو غلط طور پر ملازمت سے برطرف کیا گیا اور بعد ازاں اسے بحال کردیا گیا تو بحالی کے ساتھ پچھلی مدت کی تنخواہ کا معاملہ خودکار طور پر طے نہیں ہوتا؛ متعلقہ مجاز اتھارٹی کو حالات اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

👈تاہم جہاں برطرفی واضح طور پر غلط ثابت ہو، وہاں عمومی اصول یہ ہے کہ ملازم کو اس مالی حالت کے قریب لایا جائے جس میں وہ غلط کارروائی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔

بقایا تنخواہ کے بارے میں اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بقایا تنخواہ (بیک پے) دینا ہر صورت میں خودکار حق نہیں بلکہ اس کا فیصلہ متعلقہ اتھارٹی کو منصفانہ بنیادوں پر کرنا ہوگا۔

اگر ملازم یہ ثابت کردے کہ برطرفی کے دوران وہ کہیں اور ملازمت نہیں کررہا تھا تو پھر یہ ذمہ داری متعلقہ محکمہ پر منتقل ہوسکتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ملازم اس عرصے میں فائدہ مند ملازمت یا آمدن حاصل کررہا تھا۔

سرکاری افسران کے لیے اہم پیغام

عدالت نے واضح کیا کہ اختیارات استعمال کرتے وقت سرکاری افسر کو منصفانہ، معقول اور قانونی طریقے سے کام کرنا لازم ہے۔ ایسا اقدام جو قانون کی بنیادوں اور عوامی اعتماد کو متاثر کرے، عدالتی جانچ کا سامنا کرسکتا ہے۔

آسان الفاظ میں

اگر کسی سرکاری ملازم کو غلط طور پر برطرف کیا گیا ہو اور بعد میں بحال کردیا جائے تو صرف بحالی کافی نہیں؛ بقایا تنخواہ کے معاملے میں بھی انصاف، حالات اور ملازم کے حقیقی نقصان کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Address

Mandi Bahauddin
50400

Telephone

+923007751455

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government Employees Help Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Government Employees Help Center:

Shortcuts

Share

Category