02/09/2026
⚖️ اہم عدالتی فیصلہ
سرکاری ملازم کی ترقی سے متعلق اجلاس کی کارروائی(Dpc Minutes) ملازم لینے کا حقدار ہوتا ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کوئی سرکاری ادارہ کسی معاملے، خصوصاً کسی سرکاری ملازم کی ترقی کے بارے میں حتمی فیصلہ کر چکا ہو تو اس فیصلے سے متعلق اجلاس کی کارروائی کو صرف اس بنیاد پر ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا کہ اس میں حتمی فیصلے سے قبل ہونے والی بحث، غور و خوض اور سفارشات شامل ہیں۔
مقدمے کا پس منظر
یہ معاملہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ایک افسر محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق تھا۔
درخواست گزار نے:
🔹 انسانی وسائل سے متعلق 144ویں اجلاس مورخہ 27 فروری 2023ء
🔹 بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 261ویں اجلاس مورخہ 4 مئی 2025ء
کی مصدقہ کارروائی کی نقول طلب کی تھیں۔
لیسکو کی جانب سے معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے بعد متعلقہ شخص نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت اپیل دائر کی۔ معلوماتی کمیشن نے اپیل منظور کرتے ہوئے لیسکو کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کا اہم قانونی اصول
عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-اے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں کے تابع ہے۔
معلومات تک رسائی کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب، عوامی شرکت اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس کی کارروائی کا استثنیٰ مستقل نہیں
معلومات تک رسائی کے قانون 2017ء کی دفعہ 7(ب) کے تحت اجلاس کی کارروائی کو اس وقت تک مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جب تک متعلقہ سرکاری ادارہ حتمی فیصلہ نہ کر دے۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ قانون میں اجلاس کی کارروائی کو مستقل یا ہمیشہ کے لیے خفیہ قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کا استثنیٰ واضح طور پر حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔
لہٰذا جب سرکاری ادارہ حتمی فیصلہ کر دے تو دفعہ 7(ب) کے تحت حاصل استثنیٰ ختم ہو جاتا ہے۔
ترقی کے معاملے میں عدالت کا فیصلہ
موجودہ مقدمے میں محمد رمضان بٹ کی ترقی کے بارے میں فیصلہ پہلے ہی حتمی ہو چکا تھا اور اس پر عمل بھی کیا جا چکا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد اجلاس کی کارروائی کو صرف یہ کہہ کر روکنا کہ اس میں حتمی فیصلے سے پہلے کی بحث اور غور و خوض شامل تھا، قانون کی واضح زبان کے خلاف ہوگا۔
ذاتی رازداری کی بنیاد پر بھی پورا ریکارڈ نہیں روکا جا سکتا
عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ اجلاس کی کارروائی کسی مخصوص سرکاری افسر کی ترقی سے متعلق ہے، پورے ریکارڈ کو ذاتی رازداری کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
اگر ریکارڈ کسی سرکاری عہدے پر ترقی اور سرکاری ادارے کے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق ہے تو اسے محض ذاتی رازداری کی بنیاد پر مکمل طور پر روکنا درست نہیں۔
صرف مستثنیٰ حصہ حذف کیا جا سکتا ہے
اگر اجلاس کی کارروائی کے کسی مخصوص حصے میں ایسی معلومات موجود ہوں جو قانون کے تحت واقعی مستثنیٰ ہوں تو پورا ریکارڈ روکنے کے بجائے صرف اس مخصوص حصے کو الگ کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی معلومات درخواست گزار کو فراہم کرنا ہوں گی۔
معلومات مانگنے کی وجہ بتانا ضروری نہیں
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے تحت معلومات طلب کرنے والے شخص سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ معلومات حاصل کرنے کی وجہ یا مقصد بتائے۔
یعنی شہری کا معلومات طلب کرنے کا حق اس بات سے مشروط نہیں کہ وہ پہلے اپنا ذاتی مفاد یا معلومات حاصل کرنے کا مقصد ثابت کرے۔
عدالت کا حتمی حکم
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معلوماتی کمیشن کے حکم میں کوئی غیر قانونی اقدام، اختیار سے تجاوز یا قانون کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی۔
چنانچہ لیسکو کی آئینی درخواست خارج کر دی گئی اور معلومات فراہم کرنے سے متعلق معلوماتی کمیشن کا حکم برقرار رہا۔
عدالت نے اخراجات کے بارے میں بھی کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
---
⚖️ خلاصۂ قانونی اصول
کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کسی ملازم کی ترقی یا دیگر سرکاری معاملے پر حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد متعلقہ اجلاس کی کارروائی کو صرف اس بنیاد پر مکمل طور پر خفیہ نہیں رکھا جا سکتا کہ اس میں حتمی فیصلے سے قبل ہونے والی بحث اور غور و خوض شامل ہے۔
حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد اجلاس کی کارروائی پر دفعہ 7(ب) کے تحت حاصل مشروط استثنیٰ ختم ہو جاتا ہے، البتہ اگر ریکارڈ کے کسی مخصوص حصے کو قانوناً استثنیٰ حاصل ہو تو صرف وہ حصہ الگ کیا جا سکتا ہے۔
Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636
Islamabad Office:
Khadim Hussain Khosa Adv Supreme Court
Office No. 31, Third Floor, Al Hameed Mall, G-11 Markaz, Islamabad.
📞 Contact: 0334-6759818