09/09/2026
ہمارا فیصلہ ہماری آواز✌️✌️
ہمیں موجودہ شکل میں صوبہ ہزارہ قبول نہیں۔
یہ بات کسی قوم زبان یا علاقے سے دشمنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی شناخت اپنے جغرافیے اور اپنے سیاسی و انتظامی حق کی بنیاد پر ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی دوسرے علاقے کو اپنے حق سے محروم کیا جائے۔ ہر علاقے کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ لیکن ہماری مرضی کے بغیر ہمارے مستقبل کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اگر واقعی مقصد نئے صوبے بنانا انتظامی مسائل حل کرنا عوام کو سہولت دینا اور پسماندہ علاقوں کو ترقی دینا ہے تو پھر اس کے لیے ایک ہی اصول پورے پاکستان پر لاگو ہونا چاہیے۔
پہلے بڑے صوبوں خصوصاً پنجاب کی انتظامی تقسیم پر بھی سنجیدہ بحث کی جائے پھر باقی علاقوں کے لیے وہی معیار اپنایا جائے۔ اس سے عوام کے سامنے واضح ہو جائے گا کہ مقصد انتظامی بہتری ہے یا صرف مخصوص علاقوں کی سیاسی تقسیم۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بٹگرام کوہستان اور دیگر متعلقہ علاقوں کے عوام کی آواز کو نظرانداز کرکے کوئی بھی فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہم امن، عدم تشدد اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم دلیل دیں گے، سوال کریں گے سیاسی اور جمہوری طور پر اپنی آواز بلند کریں گے۔
لیکن خاموش رہنا بھی ضروری نہیں۔
جب حقِ رائے اور حقِ نمائندگی کو نظرانداز کیا جائے تو عوام کا اپنی آواز بلند کرنا جمہوریت کا حصہ ہے۔
ہم کسی کے خلاف نہیں
اپنے حق کے ساتھ ہیں۔
ہم کسی کا حق نہیں چھیننا چاہتے
لیکن اپنا حق بھی کسی کو چھیننے نہیں دیں گے۔
ہماری تجویز واضح ہے
صوبہ ہزارہ نہیں — اباسین ڈویژن پر سنجیدہ، آئینی اور عوامی بحث ہونی چاہیے۔
فیصلہ نقشے بنانے والے نہیں
عوام کی رضامندی آئین اور جمہوری عمل کریں گے۔
تورغر کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔
اپنے مستقبل کے فیصلے میں اپنا حق ضرور ہونا چاہیے۔