06/09/2025
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خراشِ آئنہ ہرگز نقابِ رو سے کم نہ ہو گی
چوٹا کے چند بازاری ذہن رکھنے والے لڑکوں نے سوشل میڈیا پر گھٹیا زبان استعمال کر کے حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن آئیے تاریخ کے آئینے میں ان حقائق کو دیکھتے ہیں۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ گجر برادری کو کسان محاذ میں قوم قریش (جنہیں مقامی طور پر کٹوال کہا جاتا ہے) نے بگار اور غلامی سے نجات دلائی کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس وقت کے گجر برادری کے سرکردہ اور پڑھا لکھا طبقہ اس احسان کو تسلیم کرتے رہا ہے اور آج بھی اقرار کرتے ہیں؟
میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ گجر برادری کے بہت سے لوگ آج بھی ہمارے لیے قابلِ عزت ہیں، مگر ایک خاندان ہے جو اپنے ماضی کو بھلا کر اپنی نسل کو حقیقت سے کاٹنے پر تُلا ہوا ہے۔
وی سی پنجول کے چیئرمین اپنے بھتیجوں کے ذریعے قومیت اور تعصب پر مبنی پوسٹیں کرواتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب قوم قریش نے اپنا ہاتھ تمہارے سر سے ہٹایا تھا تو تم منڈہ گچھہ بازار میں اپنے ہی قائد کا جلسہ تک نہیں کرا سکے تھے۔
افسوس اس بات پر ہے کہ اپنے ہی محسنوں کے خلاف یہ نیچ حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ یاد رکھو، چوٹا کی پہچان کبھی بھی چند بدزبان لڑکے نہیں ہو سکتے۔ چوٹا میں سردار نور رحمان، سردار عبدالرشید ایوب، حاجی نور حسین، سردار جہانزیب، مفتی جمیل فاروقی، مولانا شبیر عثمانی، قاری رفیق جامی جیسے معزز لوگ بھی بستے ہیں جن پر پوری برادری کو فخر ہے۔
جو لوگ اپنے نام کے ساتھ کبھی "سردار" اور کبھی "چوہدری" لگا کر اپنی پہچان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ حقیقت میں وہی لوگ ہیں جن کے آبا و اجداد خوانین کے کھیتوں میں بغیر اجرت کے ہل چلاتے تھے، اور جن کی عورتیں و مائیں گوبر اور برتن صاف کرنے پر مجبور تھیں۔
وہ ماضی نہ تم بدل سکتے ہو نہ مٹا سکتے ہو۔ یاد رکھو،
اصل عزت تاریخ سے بھاگنے میں نہیں بلکہ سچائی کو تسلیم کرنے میں ہے۔