05/03/2026
آج مردان میں حمایت اللہ مایار کی زیرِ انتظام یوسفزئی نڑیوالا جرگہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں عظیم شخصیت ملک میرویس بابا کو “گمنام ہیرو” کا لقب دیا گیا، جو دراصل اُن کی خدمات اور قربانیوں کا دیر سے سہی مگر ایک اعتراف ہے۔ اسی موقع پر یہ اعلان بھی کیا گیا کہ چارسدہ چوک کا نام تبدیل کر کے “میر وس بابا چوک” رکھا جائے گا، تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم نام کو یاد رکھ سکیں۔
لیکن دل میں ایک کرب اور افسوس بھی ہے…
کیونکہ اس عظیم شخصیت کی اپنی اولاد شھباز گڑھی میں آباد ہے اور یاد مردان والے کر رہے ہیں جیسے مروس منڈے ،اور اب یہ چوک ،
شھباز گڑھی سے جناب حسن تاج خان بہرام خیل نے نمائندے کے حیثیت سے شرکت کی ۔
مگر افسوس کہ ان کی اولاد نے اپنے ہی بزرگ کو تاریخ کی گمنامی میں دھکیل دیا ہے۔ وہ اس قدر بکھر چکے ہیں کہ جیسے اپنی پہچان ، وقار ، عظمت اور اپنی اصل کو ہی بھلا بیٹھے ہوں۔
آج حال یہ ہے کہ وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہیں، ایک دوسرے سے دور اور اپنے آباؤ اجداد کی میراث سے غافل۔، کسی نے اپنے بزرگ کے نام کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کی۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنا وقار، اپنی پہچان اور اپنی تاریخ سب کچھ وقت کے حوالے کر دیا ہے۔
یاد رکھیں!
قومیں تب تک زندہ رہتی ہیں جب تک وہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔
جو قوم اپنے محسنوں کو بھلا دیتی ہے، تاریخ بھی اسے بھلا دیتی ہے۔
اب بھی وقت ہے…
اپنے بزرگوں کی عزت اور تاریخ کو زندہ کیجیے، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔