B N P Sharbat Khan unit jadeed Abad

B N P Sharbat Khan unit jadeed Abad Sardar Akhtar Jan Mengal Lover's

01/04/2026

Akhtar Jan Mengal

" سردار اختر جان مینگل کا استعفی اور انتخابی سرگرمیاں" شفیق الرحمن ساسولیبلوچستان کی سیاست کو اگر سنجیدگی گہرائی اور تار...
01/04/2026

" سردار اختر جان مینگل کا استعفی اور انتخابی سرگرمیاں"

شفیق الرحمن ساسولی

بلوچستان کی سیاست کو اگر سنجیدگی گہرائی اور تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو سردار اختر جان مینگل کا حالیہ سیاسی رویہ محض ایک وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری اور عملی تسلسل کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ ان کا استعفیٰ اور پھر انتخابی عمل میں ان کا کردار بظاہر "دو مختلف اقدامات" درحقیقت ایک ہی سیاسی فلسفے کے دو مہذب رخ ہیں۔

پارلیمانی سیاست کی بنیاد نمائندگی پر قائم ہوتی ہے مگر نمائندگی صرف ایک انتخابی نشست پر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ جب کوئی منتخب نمائندہ بالخصوص سردار اختر جان مینگل جیسا قد آور شخصیت یہ محسوس کرے کہ اسے انکے ووٹرز بلکہ کل بلوچ قوم کے بنیادی مسائل خصوصاً جبری گمشدگیوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جان و مال کے تحفظ جیسے سنگین معاملات کو اسے وہاں مؤثر انداز میں اٹھانے نہ دیا جارہا ہو تو اس کی موجودگی محض رسمی رہ جاتی ہے۔ اسی تناظر میں سردار اخترجان مینگل کا استعفیٰ ایک “اخلاقی حد” کی علامت اور مطالبہ ء انصاف تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے خاموش شمولیت کے بجائے فعال احتجاج کو ترجیح دی اور یوں صرف اپنے ووٹرز ہی نہیں بلکہ بلوچ قوم خصوصاً متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وفاداری کا عملی اظہار کیا۔ (یہ بات وضاحت کرتا چلوں کہ میں ایک حلقہ میں کل بلوچ قوم کا ذکر کیوں لارہاہوں؟ وہ اسی لئے کہ بی این پی بلوچستان میں سب سے زیادہ مقبول اور عوامی سطح پر قابل قبول حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بالخصوص جماعت کے سربراہ کی اصولی اور مزاحمتی سیاست اور دیگر قیادت و ورکرز کی سیاست میں مستقل مزاجی اور سخت سے حالات میں سیاسی میدان میں کھڑے رہنا ہے۔ گوکہ اخترجان خود ایک حلقہ انتخاب سے جیت کر آتے ہیں مگر وہ ایک فرد بلوچستان بھر کا نمائندہ بن کر سامنے آتے اور سمجھے جاتے ہیں۔)

اس کے استعفیٰ کا ڈیڑھ سال تک التوا میں رہنا اور استعفی قبول کرکے ہنگامی بنیادوں پر الیکشن کا اعلان از خود ملک کے سیاسی و ادارہ جاتی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی عمل ہمیشہ خالص آئینی اصولوں کے مطابق نہیں چلتا بلکہ اس میں وقت مصلحت اور طاقت کے غیر مرئی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ سیاسیات کی اصطلاح میں اسے ایک “managed democracy” کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں جمہوری ڈھانچہ موجود تو ہوتا ہے مگر اس کی سمت اور رفتار مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتی۔

ایسے میں جب ضمنی انتخاب کا اعلان ہوتا ہے تو کچھ پارٹیاں اور انکے امیدوار کچھ عجب انداز سے آجاتے ہیں کہ اس انتخاب سے قبل ہی رائے عامہ بن جاتا ہے کہ یہ انتخابی عمل مزید متنازعہ ہوگا اور یہ ایک وسیع تر سیاسی بیانیے کی کشمکش بن جاتا ہے۔ ایک طرف نمائندہ سیاست، عوامی رائے اور سیاسی طریقہ کار کا راستہ ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسا ماڈل دکھائی دیتا ہے جو سختی کنٹرول اور طاقت بلکہ تشدد سے بڑھ کر ایک مخصوص قوت کے استعمال سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ انتخاب دراصل سیاسی ورکر اور ہر ووٹر کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے کہ وہ کس طرزِ سیاست کو قبول کرتا ہے؟

اسی تناظر میں سردار اختر جان مینگل کا فیصلہ خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے اور ایسے میں صرف اس حلقے کا ووٹر کی نہیں بلکہ بلوچستان بھر سے سیاسی نظریاتی ورکر بلکہ عام مظلوم سردار اختر مینگل سے کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہی۔ لہذا وہ خود میدان میں اتر سکتے تھے جو ایک فطری اور سیاسی قدم ہوتا اور جماعت کا حق بھی، مگر انہوں نے پارٹی اور مختلف قبائلی ووٹرز کے باہمی مشاورت سے بی این پی کے اتحادی جمعیت علماء اسلام کے امیدوار مولانا قمر الدین کی حمایت کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ دراصل سیاسی بلوغت اور حکمتِ عملی کا عکاس ہے۔ اس میں ذاتی یا جماعتی مفاد سے بالاتر ہو کر عوام کے حق میں ایک بڑے مقصد یعنی متنازع قوتوں کا راستہ روکنے اور مظلوموں کی داد رسی کو ترجیح دی گئی اور اس احتجاجی استعفی( مطالبہ ء انصاف) کے عمل کو سبوتاژ بھی نہیں کیاگیا۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وہ سیاست کو محض مقابلے کا کھیل نہیں بلکہ اشتراک توازن، حقیقی نمائندگی اور بالخصوص مظلوموں کی داد رسی و عوام پر ممکنہ ظلم و ستم سے بچائو کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مزید یہ کہ یہ رویہ سیاسی مزاحمت کی ایک نئی شکل کو بھی ہے۔ یہ وہ مزاحمت نہیں جو صرف وقتی نعروں یا بائیکاٹ تک محدود ہو بلکہ وہ ہے جو عملی سیاسی بندوبست کے ذریعے اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ یعنی نظام سے مکمل لاتعلقی کے بجائے اس کے اندر رہتے ہوئے اس کو صحیح سمت میں لانے کی ایک پھر ایک اور کوشش۔

اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ایسے کردار کم ہی نظر آتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے جمہوری عمل میں شامل ہو کر بھی اصولی مؤقف کو برقرار رکھا، جبکہ لیخ والیسہ نے مزدور تحریک سے نکل کر ریاستی ڈھانچے کے اندر تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ ان مثالوں سے یہ واضح ہے کہ حقیقی سیاسی اثر وہی ہوتا ہے جو مزاحمت اور عملیت (pragmatism) کے درمیان توازن قائم کرے۔

یوں اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سردار اخترجان مینگل کے اقدامات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک واضح تسلسل ہے۔ استعفیٰ انکار تھا ایک اخلاقی اعلان کہ موجودہ حالات ناقابلِ قبول ہیں۔ جبکہ انتخابی عمل میں شمولیت نظام میں اصلاح کی مزید ایک کوشش ہے، یہ احساس کہ میدان خالی چھوڑ دینا مزید منفی نتائج کو جنم نہ دے۔

بلوچستان جیسے حساس اور پیچیدہ خطے میں یہ طرزِ سیاست ایک اہم مثال ہے کہ سیاست صرف اقتدار کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جہاں کبھی علامتی احتجاج کبھی سخت سیاسی مزاحمت اور کبھی خاموش سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے راستہ نکالا جاتا ہے۔

زمانہ معترف ہے اب بھی ہمارے استقامت کا نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے قافلہ بدلہ
06/11/2025

زمانہ معترف ہے اب بھی ہمارے استقامت کا
نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے قافلہ بدلہ

*😭إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ😭**لیویز اہلکار عبدالرزاق جان مینگل روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہو گئے* وہ بی این ...
23/10/2025

*😭إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ😭*
*لیویز اہلکار عبدالرزاق جان مینگل روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہو گئے*

وہ بی این پی مستونگ کے ضلعی نائب صدر چیئرمین ملک عبدالصمد مینگل عبدالرؤف مینگل عبدالسلام مینگل عبدالرشید مینگل کے چھوٹے بھائی ملک عبداللہ مینگل میر حبیب اللہ مینگل سمیع اللہ مینگل قدیر احمد مینگل مراد بخش مینگل عبدالقادر مینگل کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر عمران مینگل عدنان مینگل ملک قادر بخش مینگل عبد الستار مینگل شہزاد مینگل ذیشان مینگل کے چچا اور سلیم مینگل مقصود احمد رودینی ملک شعیب اللہ کاسی غلام مرتضی کاسی جہانزیب مینگل کے ماموں تھے
*اس کی تدفین ابائی گاؤں شہید قادر ٹاؤن کلی مینگل درینگڑھ میں ہوئی فاتحہ خوانی شہید قادر ٹاؤن کلی مینگل درینگڑھ ۔مینگل ہاؤس میں جاری ہیں*

23/10/2025
Sister of Baloch Nation Dr Mahrang Baloch
09/10/2025

Sister of Baloch Nation Dr Mahrang Baloch

09/10/2025

"آج سے 1 دن بعد، 10 اکتوبر کو نوبل امن انعام کا اعلان ہوگا۔ تب تک تمام سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ مذکورہ ہیش ٹیگ ک...
09/10/2025

"آج سے 1 دن بعد، 10 اکتوبر کو نوبل امن انعام کا اعلان ہوگا۔ تب تک تمام سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ مذکورہ ہیش ٹیگ کا کثرت سے استعمال کریں۔"

08/10/2025

@

6 years ago A great memorable day at turai with Marhoom Ali Gul Mengal
03/10/2025

6 years ago A great memorable day at turai with Marhoom Ali Gul Mengal

Find local businesses, view maps and get driving directions in Google Maps.

Address

Jadeed Abad
Mastung

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when B N P Sharbat Khan unit jadeed Abad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to B N P Sharbat Khan unit jadeed Abad:

Share