04/10/2025
📰 اپر سوات: محمود خان کی کاوشیں اور نئی حکومت کی ذمہ داریاں
اپر سوات کی ترقی کا خواب محمود خان کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں حقیقت کا روپ دھارنے لگا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی حیثیت سے محمود خان نے نہ صرف انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی مکمل کی بلکہ اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام جیسے تاریخی اقدامات بھی کیے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ضلع اپر سوات کے جملہ معاملات اُس وقت مکمل ہو چکے تھے، صرف اعلان باقی تھا۔
📌 اقتباس:
“محمود خان نے اپر سوات کی بنیاد رکھ دی، اب اسے ادھورا چھوڑنا زیادتی ہوگی۔”
اہم منصوبوں میں سڑکوں کی توسیع، سیاحت کے فروغ کے لیے سہولیات کی فراہمی، تعلیم و صحت کے مراکز کی بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل تھا۔
سوات موٹروے فیز ٹو کی توسیع نے اس خطے کو صوبے اور ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ جوڑ کر نئی معاشی راہیں کھولیں۔ یہ سب کچھ محمود خان کی ذاتی دلچسپی اور محنت کا ثمر تھا، جس کا اعتراف عوام بھی کرتے ہیں۔
اب جبکہ نئی حکومت برسرِ اقتدار آچکی ہے، سب سے بڑی ذمہ داری ان منصوبوں کو عوامی خواہشات کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ شانگلہ اور بونیر جیسے اضلاع میں کئی منصوبے اعلانات اور سنگِ بنیاد کی حد تک محدود رہے اور عملی طور پر عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا۔ اپر سوات کے عوام نہیں چاہتے کہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہو۔
📌 اقتباس:
“شانگلہ اور بونیر کے نامکمل منصوبے سبق ہیں، سوات کے ساتھ ایسا نہ ہو۔”
▌عملی تجاویز برائے حکومت
📦 پالیسی اور شفافیت
منصوبوں کا فوری آڈٹ اور حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کی جائے۔
پراجیکٹ مینجمنٹ آفس (PMO) قائم کر کے ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے۔
📦 فنڈنگ اور نگرانی
ہر منصوبے کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
عوامی ڈیش بورڈ متعارف کرا کے شفافیت برقرار رکھی جائے۔
📦 مقامی شراکت داری
مقامی نوجوانوں کو روزگار اور ہنر مندی کے منصوبوں سے جوڑا جائے۔
ٹورازم زونز میں کمیونٹی کو براہ راست حصہ دار بنایا جائے۔
📦 ماحولیاتی پہلو
سڑکوں اور پلوں کو قدرتی آفات کے خلاف مضبوط بنایا جائے۔
جنگلات اور ماحول کے تحفظ کے لیے علیحدہ منصوبہ شامل کیا جائے۔
▌اختتامیہ
اپر سوات کے عوام کی نظریں اب حکومت پر ہیں کہ وہ محمود خان کی شروع کردہ اس سنہری روایت کو جاری رکھے۔
اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوئے تو اپر سوات پورے صوبے کے لیے ایک نمونۂ ترقی ثابت ہوگا۔