Radio Pakistan Mianwali

Radio Pakistan Mianwali Government Organisation- Broadcasting & Media Production Company. An official page of Radio Pakistan

03/09/2026

وہ چراغ سا کفِ رہ گزار میں کون تھا
میں کہاں تھا اور مرے انتظار میں کون تھا

خوشی کے عہد چلے جاتے ہیں کہاں سیدؔ
اداسیوں کے زمانے کہاں سے آتے ہیں

آج اردو و پنجابی کے صاحبِ اسلوب، ممتاز شاعر، ریڈیو پاکستان لاہور کے سابق اسٹیشن ڈائریکٹر اور سابق ڈائریکٹر پروگرامز، ستار سید رخصت ہو گئے۔
ایک ایسا صاحبِ قلم، جس نے اردو و پنجابی ادب کو اپنی منفرد شعری آواز سے مالا مال کیا اور ریڈیو کی دنیا میں اپنی تخلیقی بصیرت کے نقوش چھوڑے۔
سحر کو ساتھ اڑا لے گئی صبا جیسے
یہ کس نے کر دیئے رستے دھواں دھواں میرے

لہو میں پھول کھلانے کہاں سے آتے ہیں
نئے خیال نہ جانے کہاں سے آتے ہیں

یوں اہتمام رد سحر کر دیا گیا
ہر روشنی کو شہر بدر کر دیا گیا

کب بن باس کٹے اس شہر کے لوگوں کا
قفل کھلیں کب جانے بند مکانوں کے

سمندروں کو سکھاتا ہے کون طرز خرام
زمیں کی تہہ میں خزانے کہاں سے آتے ہیں

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

02/09/2026

Imran Niazi, regional director AIOU Mianwali region speaking on autumn admissions in the University.

https://www.facebook.com/share/p/1HdenVnRfK/?mibextid=wwXIfr
01/09/2026

https://www.facebook.com/share/p/1HdenVnRfK/?mibextid=wwXIfr

*کراچی کا بڑا سلیم*

جَنوری ۱۹۷۴ء میں عُبیدُاللّٰہ علیم کی ‘چاند چہرہ ستارہ آنکھیں’ کی تقریبِ رُونُمائی کے موقع پر مُنعقدہ مُشاعرے میں دونوں سلیم پہلی مرتبہ عَوامی طَور پر اِکٹھے ہوئے۔ دونوں نے ہی اپنی اپنی غزلیں سُنائیں اور اِتفاق یہ تھا کہ دونوں کے مَقطعوں میں ‘سلیمؔ’ ہی تَخلُّص تھا؛ اَندازِ بَیان بھی یَکساں بے باکانہ اور اَشعار بھی یکساں طاقت وَر اور جِگر دوز!

ایسا لگتا تھا کہ دونوں سلیم ماہر تیر اَندازوں کی طرح اپنی اپنی شِعری تَرکش سے اَشعار کے تیر نکال نکال کر سامعین کے دِلوں کی طرف داغ رہے ہیں۔ اَہلِ کراچی کو یہ مُشاعرہ بہت دیر تک یاد رہا۔

مُشاعرہ کس نے لُوٹا، یہ سوال ایک طرف؛ اب اَہلِ کراچی کیلئے بڑا سوال یہ تھا کہ دونوں شُعرا میں تَفریق کیسے کریں؟

دِلچسپ بات یہ ہے کہ اِنہی برسوں میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو بھی ایک جیسے ناموں کا مسئلہ دَرپیش ہوا۔ ۱۹۷۵ء میں نوجوان منظور حسین قومی ٹیم میں شامل ہوئے تو فُل بیک منظور الحسن کی پہلے سے ٹیم میں موجودگی کے سبب ایک کو ‘منظور سینئر’ اور دوسرے کو ‘منظور جونیئر’ کا نام دے دیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر ہاکی کے کمنٹیٹر بھی بِلا تَکلُّف اُنہیں منظور جونیئر اور منظور سینئر کہہ کر میچ کا اَحوال سُناتے۔

کراچی میں بسنے والے چاہتے تو اپنے دونوں شاعروں کو بھی ‘سلیم سینئر’ اور ‘سلیم جونیئر’ کہہ سکتے تھے، مگر نہ جانے کیوں عَوامی مَحفلوں نے کھیل کے میدان کی اِصطلاح قبول کرنے کے بجائے زیادہ گھریلو اور بے تَکلُّف نام پسند کیے: ‘بڑا سلیم’ اور ‘چھوٹا سلیم’۔

سلیم احمد کراچی میں رہنے والوں کے لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔ شاید اِس لیے کہ بٹوارے کے بعد ہی سے وہ اُسے اپنے شہر کی اَدبی نشستوں اور شِعری مَحفلوں میں دیکھ اور سُن رہے تھے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھا؛ شِعری میدان میں مَعرکے بَرپا کرتا تھا اور اپنی الگ راہ نکالتا تھا۔ چُنانچہ اَہلِ کراچی کی نِگاہ میں وہ پہلے سے موجود، زیادہ تَجربہ کار اور اَدبی مَرتبے میں سینئر سلیم تھا—اِس لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔

دوسری جانب سلیم کوثر سَتّر کی دَہائی میں، ۱۹۷۲ء میں، کبیروالا سے کراچی آئے۔ کراچی کے مَنچ پر اُن کی آمد تاخیر سے ہوئی اور چُونکہ وہ سلیم احمد سے عُمر میں بیس برس چھوٹے اور کراچی کی حَد تک شُہرت میں بھی قَدرے پیچھے تھے، اِس لیے اُنہیں ‘چھوٹا سلیم’ کہا گیا۔

بڑے سلیم، یعنی سلیم احمد، تو اُن دنوں مُشاعروں میں کم کم دِکھائی دیتے تھے، لیکن چھوٹے سلیم نے کراچی پہنچنے کے بعد نہ صرف یہاں کے ہر مُشاعرے میں شِرکت کی بلکہ کئی ایک مُشاعروں کو تو اُنہوں نے حقیقی مَعنوں میں ‘لُوٹا’ بھی۔

یہ نام بِظاہر بے تَکلُّف بلکہ کسی قَدر گُستاخانہ مَعلوم ہوتے ہیں، لیکن کراچی کی اَدبی فَضا میں اُن کے اَندر تَحقیر نہیں، اَپنائیت پوشیدہ تھی۔ ‘بڑا’ عُمر، تَجربے اور پہلے سے قائم اَدبی مَرتبے کی علامت تھا اور ‘چھوٹا’ اُس نِسبتاً نوجوان شاعر کی شناخت، جو ابھی ابھی شہر میں آیا تھا مگر بہت تیزی سے اُس کی شِعری مَحفلوں پر چھاتا جارہا تھا۔

چھوٹا سلیم ہمیشہ بڑے سلیم کیلئے رَطبُ اللِّسان رہا ہے اور اب تک یہی کہتا ہے کہ ‘سلیم بھائی مجھ سے بہت مَحبّت کرتے تھے’۔

یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو ‘بڑا سلیم’، چھوٹے سلیم اور اپنے دیگر چاہنے والوں کو داغِ مُفارقت دے گیا۔ ‘چھوٹا سلیم’ علیل ہے اور اب وہ کراچی کا اِکلوتا سلیم ہے۔

آج کراچی والوں کے ‘بڑے سلیم’ اور اَدبی دنیا کے بھی ایک بڑے سلیم، سلیم احمد کی ۴۳ ویں بَرسی ہے۔

کراچی کے اِس ‘بڑے سلیم’ کا اَصلی نام سلیم احمد اور تَخلُّص ‘سلیمؔ’ تھا۔ وہ سیّد شرافت علی کے صاحب زادے تھے اور یکم دسمبر ۱۹۲۷ء کو ضلع بارہ بنکی کے قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے میں حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کرنے کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوگئے۔

میرٹھ کا زمانہ سلیم احمد کی فِکری اور اَدبی زندگی میں بڑی اَہمیت رکھتا ہے۔ وہاں اُنہیں پروفیسر کرّار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی جیسی شخصیات کی رَفاقت نصیب ہوئی۔ بالخصوص محمد حسن عسکری کے اَفکار نے اُن کے ذہن اور تنقیدی شُعور پر گہرا اَثر ڈالا۔ سلیم احمد نے ۱۹۴۴ء ہی میں شاعری شروع کردی تھی، گویا ہجرت سے پہلے ہی اُن کے اندر کا شاعر بیدار ہوچکا تھا۔

سلیم احمد نومبر ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور اپنی باقی تعلیم یہیں مکمل کی۔ ۱۹۵۰ء میں وہ ریڈیو پاکستان سے مُنسلک ہوئے۔ یہ وابستگی محض سرکاری مُلازمت تک محدود نہیں رہی؛ ریڈیو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بڑا وسیلہ بن گیا۔ اُنہوں نے ریڈیو کیلئے متعدد ڈرامے لکھے، پروگرام ترتیب دیے اور اَدبی و فِکری نشریات میں حِصّہ لیا۔

سلیم احمد بعدازاں وفاقی وزارتِ اطلاعات میں بھی کچھ عرصہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے مُشیر کی حیثیت سے مامور رہے۔ ریڈیو کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور اسٹیج کیلئے بھی ڈرامے تحریر کیے۔ نسیم حجازی کے معروف ناول ‘آخری چٹان’ کی ڈرامائی تشکیل بھی اُنہی کے نمایاں کاموں میں شامل ہے۔

سلیم احمد کا فَنّی سفر صرف ریڈیو اور ٹیلی وژن تک محدود نہیں رہا۔ اُنہوں نے فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور منظرنامے بھی لکھے۔ پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم کہی جانے والی ‘راز کی کہانی’ کی کہانی بھی اُنہی کے قلم سے نکلی اور اِس پر اُنہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ عطا کیا گیا۔

یوں ‘بڑا سلیم’ شاعری اور تنقید کے ساتھ ساتھ ریڈیو، ٹیلی وژن، اسٹیج اور فلم—چاروں میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتا رہا۔

سلیم احمد نے صحافت میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ ۱۹۶۶ء میں اُنہوں نے روزنامہ ‘حریت’ کراچی میں ‘مجھے کہنا ہے کچھ’ کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی۔ روزنامہ ‘جسارت’ میں ‘رُوبرو’ کے عنوان سے کالم لکھے اور ہفت روزہ ‘زندگی’ میں کبھی اپنے نام سے اور کبھی مختلف قلمی ناموں سے سیاسی، سماجی اور فِکری موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے۔ اُن کے کالموں میں بھی وہی بے باکی، راست گوئی اور فِکری کاٹ موجود تھی جو اُن کے تنقیدی مضامین کی پہچان بنی۔

سلیم احمد بیک وقت شاعر، نقّاد، ڈراما نگار، فلم نویس اور کالم نگار تھے، لیکن اُن کی اَصل اَدبی شناخت شاعری اور تنقید سے قائم ہوئی۔ اُن کے شعری مجموعوں میں ‘بیاض’، ‘اکائی’، ‘چراغِ نیم شب’ اور ‘مشرق’ جبکہ تنقیدی کتابوں میں ‘اَدبی اقدار’، ‘نئی نظم اور پورا آدمی’، ‘غالب کون؟’، ‘اَدھوری جدیدیت’، ‘اقبال: ایک شاعر’ اور ‘محمد حسن عسکری: آدمی یا انسان؟’ نمایاں ہیں۔

دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق سلیم احمد اپنی زندگی کے آخری برسوں تک ریڈیو، ٹیلی وژن، کالم نگاری، شاعری اور تنقید کے میدانوں میں سرگرم رہے۔ یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو صرف پچپن برس کی عمر میں کراچی میں اُن کا اِنتقال ہوگیا اور وہ پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

سلیم احمد کا شعری مجموعہ ‘چراغِ نیم شب’ ۱۹۸۵ء میں اور ‘مشرق’ ۱۹۸۹ء میں، اُن کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

سلیم احمد کی شاعری اپنی مَخصوص آواز، فِکری گہرائی اور لِسانی جُرأت کے باعث اپنے عہد کے دوسرے شاعروں سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کلاسیکی غزل سے اپنا رِشتہ منقطع نہیں کیا، بلکہ اِسی روایت کے اندر رہتے ہوئے اِظہار کی نئی راہیں تلاش کیں۔

جدید اِنسان کی بے چینی، ذات کا اَکیلا پَن، جِسم اور رُوح کا باہمی تَعلُّق، مُحبّت کے پیچیدہ تَجربات اور مشرق و مغرب کا تہذیبی تَصادم سلیم احمد کی شاعری میں بار بار نئے زاویوں سے سامنے آتا ہے۔

سلیم احمد کے یہاں شاعری محض جذبات کے بے ساختہ اظہار کا نام نہیں؛ اُن کے اَشعار میں خیال اور اِحساس ایک دوسرے میں اِس طرح جذب ہوتے ہیں کہ فِکری بات بھی جیتی جاگتی کیفیّت بن جاتی ہے۔

سلیم احمد نے روزمَرّہ کے عام اور مانوس اَلفاظ، بلکہ اُن لفظوں کو بھی شاعرانہ وَقار بخشا جنہیں اُس زمانے میں شاعری کیلئے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اُن کے ہاں خیال کی گہرائی زبان کو بوجھل نہیں بناتی؛ سادہ لفظوں کے اندر مَعنی کی کئی تَہیں آہستہ آہستہ کُھلتی چلی جاتی ہیں۔

‘بیاض’ میں زبان کے رائج سانچوں کو توڑنے اور شاعری کیلئے نئے اِمکانات پیدا کرنے کی کوشش دِکھائی دیتی ہے۔ ‘اکائی’ میں جِسم اور رُوح ایک دوسرے کی ضِد نہیں رہتے بلکہ انسانی وُجود کی تَکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ‘مشرق’ میں مغربی تہذیب کے مقابل مشرقی اِنسان کی شِکست، بے یقینی اور وُجودی کَرب نمایاں ہے، جبکہ ‘چراغِ نیم شب’ میں سلیم احمد کا فِکری اور شاعرانہ شُعور زیادہ پُختہ صُورت میں سامنے آتا ہے۔

یوں سلیم احمد کی شاعری میں سادگی اور مَعنوی گہرائی، نَغمگی اور ڈرامائیت، نَرم اِحساس اور تیز فِکری کاٹ ایک ساتھ موجود ہیں۔ اُن کا شعر صرف کانوں کو بھلا نہیں لگتا، بلکہ ذہن میں اُتر کر دیر تک قاری سے مُکالمہ کرتا رہتا ہے۔

سلیم احمد کی یہ غزل دیکھیے:

جانے کِسی نے کیا کہا تیز ہَوا کے شور میں
مُجھ سے سُنا نہیں گیا تیز ہَوا کے شور میں

مَیں بھی تُجھے نہ سُن سکا، تُو بھی مُجھے نہ سُن سکا
تُجھ سے ہُوا مُکالمہ تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔ ۔

کَشتیوں والے بے خَبر بڑھتے رہے بَھنور کی سَمت
اور مَیں چیختا رہا تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

میری زَبانِ آتِشیں لَو تھی مِرے چَراغ کی
میرا چَراغ چُپ نہ تھا تیز ہَوا کے شور میں

جیسے خُروشِ بَحر میں شورِ پَرند ڈوب جائے
ڈوب گئی مِری صَدا تیز ہَوا کے شور میں

نَوحہ گَرانِ شامِ غَم، تُم نے سُنا نہیں مگر
کیسا عَجیب دَرد تھا تیز ہَوا کے شور میں

میرے مَکاں کی چھت پہ تھے طائِرِ شب ڈرے ڈرے
جیسے پَیامِ مَرگ تھا ، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

مِنّتِ گوشِ بے حِسّاں کون اُٹھائے اب سلیمؔ
نَوحۂ غَم مِلا دیا، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔

سلیم احمد نے تنقید کو محض اَدبی خوبیوں اور خامیوں کی نِشان دِہی تک محدود نہیں رکھا۔ اُن کے نزدیک کسی تَخلیق کو سمجھنے کیلئے اُس کے پس منظر میں موجود اِنسانی تَجربے، تہذیبی روایت، مذہبی شُعور اور عَصری صُورتِ حال کو سمجھنا بھی ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تنقید میں اَدب کے ساتھ ساتھ اِنسان، تہذیب، روایت، جدیدیت اور زندگی کے بنیادی سوالات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ وہ کسی مُسلّمہ رائے کو صرف اِس لیے قبول نہیں کرتے تھے کہ بڑے بڑے نام اُس کی تائید کرچکے ہیں؛ ہر اَدبی مسئلے کو اپنے مطالعے، تَجربے اور فِکری میزان پر پرکھتے تھے۔

محمد حسن عسکری سے سلیم احمد نے گہرا فِکری اَثر قبول کیا، مگر اُنہوں نے اپنے اُستاد کے خیالات کو محض دُہرایا نہیں۔ عسکری کے اُٹھائے ہوئے سوالات سلیم احمد کی تحریروں میں اُن کے اپنے مزاج، حِسّیت اور زاویۂ نِگاہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ عسکری صاحب کی نثر میں عِلمی اِنضباط اور اِستدلال کی شان نمایاں تھی، جبکہ سلیم احمد اُسی عِلمی مسئلے کو ایک زندہ اِنسانی تَجربے میں تبدیل کردیتے تھے۔ اُن کی تحریر پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نقّاد کسی دُور کے مَنبر سے فیصلہ نہیں سُنا رہا، بلکہ قاری کے سامنے بیٹھا اُس سے بات کررہا ہے۔

سلیم احمد کی تنقیدی نثر میں مکالمے کی رَوانی، دلیل کی مضبوطی، زبان کی شُگفتگی اور طنز کی تیزی ایک ساتھ مِلتی ہے۔ وہ پیچیدہ خیال کو عام فہم بنانے کا ہُنر جانتے تھے؛ مُجرّد مسئلہ اُن کی تحریر میں ٹھوس اور دُور کی بات قریب آجاتی تھی۔ غالب، اقبال، نئی نظم، جدیدیت اور محمد حسن عسکری پر لکھتے ہوئے اُنہوں نے کئی مَقبول اور مُسلّمہ خیالات کو چیلنج کیا۔ اُن کی بعض آرا سے شدید اِختلاف کیا گیا، لیکن اِس اَمر سے اِنکار ممکن نہیں کہ اُنہوں نے اُردو تنقید کو نئے سوالات، مختلف زاویے، تازہ فِکری پیمانے اور اپنی تہذیبی روایت پر اعتماد کے ساتھ سوچنے کا حَوصلہ عطا کیا۔

سلیم احمد کو ہم سے بچھڑے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُن کی شاعری، تنقید، ڈراموں اور فِکری مکالموں کی روشنی آج بھی قائم ہے۔

‘بڑا سلیم’ کبھی دو ہم نام شاعروں میں تَفریق کیلئے اختیار کیا گیا ، سلیم احمد ایک بے تَکلُّف نام تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ نام اُن کے بلند اَدبی قد، فِکری وُسعت اور تخلیقی عظمت کا اِستعارہ بن گیا۔

پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک سلیم احمد آج بھی کراچی کا ‘بڑا سلیم’ ہے۔

ریڈیو پاکستان اپنے سابق کارکن، اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر، اُردو کے ایک جَیّد نقّاد، ممتاز ڈراما نگار اور مُنفرد اِنسان سلیم احمد کو اُن کی تینتالیسویں بَرسی پر خراجِ عَقیدت پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



Radio Pakistan Bahawalpur RadioPakistan Karachi FM101abbottabad NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Radio Pakistan Hyderabad

27/08/2026

پنجاب حکومت نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) راولپنڈی میں جلد مفت گردہ اور جگر ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اسپتال کے دورے کے دوران طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور انتظامیہ سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر انہوں نے PKLI راولپنڈی میں کامیاب جگر ٹرانسپلانٹ کے دو آپریشنز پر طبی عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔

27/08/2026

اب ہوگا کرپشن کا خاتمہ۔۔
ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کا پیغام ۔۔

26/08/2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جشنِ یومِ ولادت سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ ، 12 ربیع الاول 1448ھ پر پیغام

12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت دن پر میں پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امتِ مسلمہ کو سید الانبیاء ،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر دلی مبارکباد اوراظہارِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

حضور ﷺ کی ذاتِ مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغامِ ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔

اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کو" نسلِ نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار"، سیرت النبی کی روشنی میں کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔ نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیۓ ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری جیسے اسلامی شعار انکی تربیت میں شامل کرنا ہونگے۔ تاکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔

اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کے لیۓ مشعل راہ ہے۔ یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک دینِ اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرتِ النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔

دورِ حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کے لیۓ دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔

آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے۔ کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوۂ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

آئیے,اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پُرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

26/08/2026

میانوالی میں یوم ولادت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرکزی جلوس

https://www.facebook.com/share/p/1LoxSyk7pz/?mibextid=wwXIfr
25/08/2026

https://www.facebook.com/share/p/1LoxSyk7pz/?mibextid=wwXIfr

اَحمد فَراز: اُردو اَدَب کا رَوشَن چَراغ

قِیامِ پاکِستان کو اَبھی دو ہی بَرس گُزرے ہیں۔ پِشاوَر کے ایڈوَرڈز کالِج کے ایک بانکے سَجیلے نَوجوان، سَیِّد اَحمد شاہ، کو ریڈیو پاکِستان میں اِسکرِپٹ رائٹر کی مُلازَمَت کی پیش کَش ہوتی ہے جِسے وہ قَبول کرتا اور کَراچی کے لیے رَختِ سَفَر باندھ لیتا ہے۔

کَراچی نَوزائیدہ مَملِکَتِ پاکِستان کا دارُالحُکومَت ہے۔ بَٹوارے کے بَعد برٹش اِنڈیا کے مُختَلِف عِلمی و اَدَبی مَراکِز سے آنے والے بڑے بڑے اَدیب اور شاعِر یہاں جَمع ہو رہے ہیں۔ ریڈیو پاکِستان کے اَندر عَلَیحدہ سے اَدَب کی مُنفَرِد دُنیا آباد ہے۔

نَوجوان اَحمد شاہ کو پَشتو بولنے والے پِشاوَر کے ماحول سے کَراچی آنے کے باعِث رَواں اُردو بولنے میں کُچھ دِقَّت کا سامنا ہے، تاہم شاہِد اَحمد دِہلَوی، اَرَم لَکھنَوی اور سَیماب اَکبَر آبادی جیسے اَہلِ قَلَم کے دَرمِیان کام کرنے کا مَوقَع مِلنے کے سَبَب اُس کی اُردو گوئی نِکھرنے لگتی ہے۔

تاہم رَوشنیوں کے اِس شَہرِ کَراچی میں اَحمد شاہ اپنی ماں کے لیے سَخت اُداس رَہنے لگتا ہے؛ اُس کا دِن تو ریڈیو پاکِستان کَراچی کی روزمَرّہ کی مَصروفِیات میں کِسی طَور گُزر جاتا ہے، مَگَر رات کو ماں کی یاد اُسے سَخت بے قَرار کرتی ہے۔ اِس مُشکِل صُورتِ حال سے چُھٹکارے کے لیے وہ کوشِش کرکے اپنا تَبادَلہ کَراچی سے پِشاوَر کروا لیتا ہے۔

یوں اَحمد شاہ اُسی شَہر میں واپَس آجاتا ہے جہاں وہ اپنی تَعلیم اَدھوری چھوڑ کر گیا تھا۔ ریڈیو میں چَند جَہاندیدہ لوگ اُسے مَشوَرہ دیتے ہیں کہ اِسکرِپٹ رائٹنگ کا کام تو گَھر بَیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے، تَعلیم اَدھوری چھوڑ دینا قَطعی طَور پر نادانی ہوگی، لِہٰذا ہوسکے تو اپنی اَدھوری تَعلیم مُکَمَّل کرو۔

اَحمد شاہ دوبارہ کالِج کا رُخ کرتا ہے۔ گریجویشن اور ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو کے لیے اِسکرِپٹ لِکھنے کا سِلسِلہ بھی جاری رکھتا ہے۔ کُچھ عَرصے کے بَعد وہ ریڈیو پاکِستان میں پروڈیوسَر کے عُہدے پر تَرَقّی پا جاتا ہے۔

اَحمد شاہ کے قَریبی لوگ اور یار دوست جانتے ہیں کہ اُسے شاعِری کا شَغَف ہے۔ وہ اُردو میں نَظمیں اور غَزلیں کہتا ہے۔ پِھر ۱۹۵۸ء میں اِس نَوجوان شاعِر کا پَہلا مَجموعۂ کَلام ’تَنہا تَنہا‘ مَنظَرِ عام پر آتا ہے۔

اِسی مَجموعے کے ۹۲ویں صَفحے پر ایک غَزل چھپتی ہے:

تیرے ہوتے ہوئے مَحفِل میں جَلاتے ہیں چَراغ
لوگ کیا سادَہ ہیں سُورَج کو دِکھاتے ہیں چَراغ۔۔

اپنی مَحرُومی کے اِحساس سے شَرمِندَہ ہیں۔۔۔۔
خود نہیں رکھتے تو اَوروں کے بُجھاتے ہیں چَراغ

کیا خَبَر اُن کو کہ دامَن بھی بَھڑَک اُٹھتے ہیں
جو زَمانے کی ہَواؤں سے بَچاتے ہیں چَراغ۔

بستِیاں دُور ہُوئی جاتی ہیں رَفتہ رَفتہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دَم بہ دَم آنکھوں سے چُھپتے چلے جاتے ہیں چَراغ

گو سِیَہ بَخت ہیں ہم لوگ، پَہ رَوشَن ہے ضَمیر
خود اَندھیرے میں ہیں دُنیا کو دِکھاتے ہیں چَراغ

بَستِیاں چاند سِتاروں کی بَسانے والو۔۔
کُرۂ اَرض پہ بُجھتے چلے جاتے ہیں چَراغ

ایسے بے دَرد ہُوئے ہم بھی کہ اَب گُلشَن پر
بَرق گِرتی ہے تو زِنداں میں جَلاتے ہیں چَراغ

ایسی تاریکِیاں آنکھوں میں بَسی ہیں کہ فَرازؔ۔۔۔
رات تو رات ہے ہَم دِن کو جَلاتے ہیں چَراغ

ریڈیو کی اِسی دُنیائے اَدَبی و مُوسیقی میں یہ غَزل کِسی طَور اپنے عَہد کے بڑے کلاسیکی گُلوکار اُستاد اَمانَت علی خاں تک پَہنچتی ہے۔ اور جَب وہ اِسے اپنی آواز دیتے ہیں تو یہ غَزل لَفظوں سے ایک جادُوئی آواز میں مُبَدَّل ہو جاتی ہے۔ اور پِھر یہ کہ، اِسی غَزل کے ریڈیو پاکِستان سے نَشر ہونے سے اِس نَوجوان شاعِر کے کَلام کو اُس زَمانے میں شُہرَت کا سَب سے مُؤَثِّر ذَریعہ مُیَسَّر آجاتا ہے۔ اور یہیں سے اَحمد شاہ کے نام کے ساتھ اَحمد فَراز کی پَہچان بھی دُور دُور تک پَہنچنے لگتی ہے۔ اور کَیسا عَجیب اِتِّفاق ہے کہ جِس غَزل نے اِس نَوجوان شاعِر کی پَہچان کو آواز دی، اُس کا اِستِعارَہ بھی چَراغ تھا:

تیرے ہوتے ہوئے مَحفِل میں جَلاتے ہیں چَراغ۔۔۔

گویا ریڈیو کے اِسٹوڈیو ہی میں اَمانَت علی خاں کی آواز کے ساتھ فَراز کی شُہرَت کا پَہلا چَراغ رَوشَن ہوا۔

۱۹۶۱ء میں اَحمد فَراز ریڈیو پاکستان کی مُلازمت چھوڑ دیتے ہیں اور وہ پشاور یونیورسٹی کے شُعبۂ اُردو میں اُستاد مُقرّر ہوجاتے ہیں۔ ۱۹۶۶ء میں اُن کا دوسرا مَجموعۂ کلام ’دَرد آشوب‘ مَنظرِ عام پر آتا ہے۔

اب اَحمد فَراز کا شُمار نئی نَسل کے پَسندیدہ شُعرا میں ہونے لگتا ہے۔ اُن کی شاعری اپنی شِناخت بنا چکی ہے اور اب وہ ریڈیو کے تَعارُف کے مُحتاج نہیں رہتے، مگر ریڈیو اور فَراز کا تَعلّق ابھی بھی خَتم نہیں ہوا۔

۱۹۷۰ء میں ریڈیو پاکستان مُلتان سے ناہید اَختر نامی ایک دُبلی پَتلی گُلوکارہ کی نئی آواز اُبھرتی ہے۔ خالد اَصغر کے ساتھ ’راگ مَلہار‘ میں ایک دوگانے سے اپنا فَنّی سَفر شروع کرنے والی یہ گُلوکارہ جلد ہی لاہور کی فِلمی دُنیا تک جا پہنچتی ہے۔

۱۹۷۵ء میں فِلم ’مَعصوم‘ کے لیے مُوسیقار خلیل اَحمد، ناہید اَختر کی آواز میں اَحمد فَراز کا یہ کلام مُنتخب کرتے ہیں:

یہ عالَمِ شَوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بُت ہے یا خُدا دیکھا نہ جائے

یہ کِن نَظروں سے تُو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

ہَمیشہ کے لیے مُجھ سے بِچھڑ جا
یہ مَنظر بارہا دیکھا نہ جائے

غَلَط ہے جو سُنا، پَر آزما کر
تُجھے اے بے وَفا دیکھا نہ جائے

یہ مَحرومی نہیں، پاسِ وَفا ہے
کوئی تیرے سِوا دیکھا نہ جائے

یہی تو آشنا بنتے ہیں آخِر
کوئی ناآشنا دیکھا نہ جائے

یہ میرے ساتھ کیسی رَوشنی ہے
کہ مُجھ سے راستہ دیکھا نہ جائے

فَرازؔ اپنے سِوا ہے کون تیرا
تُجھے تُجھ سے جُدا دیکھا نہ جائے

وَقت ایک دائرہ مُکمّل کرتا ہے؛ ایک طرف وہ شاعِر جس نے اپنا اَدبی سَفر ریڈیو پاکستان سے شروع کیا، دوسری طرف وہ گُلوکارہ جسے ریڈیو پاکستان مُلتان نے پہلی مرتبہ سامِعین سے مُتعارف کرایا۔

۱۹۷۵ء میں یہ دونوں ہَستیاں ایک غزل کی صُورت میں ایک دوسرے سے آن ملتی ہیں۔ اب اَحمد فَراز اور ناہید اَختر، دونوں کا طُوطی بولنے لگتا ہے۔ ریڈیو پاکستان کا ہر اِسٹیشن اِس عَمل میں مُعاوِن رہتا ہے؛ اِس اِدارے کو یہ خُوشی حاصل ہے کہ اُس کے لگائے پَودے تَناوَر دَرخت بن رہے ہیں۔

۱۹۷۵ء کے بعد ہر نئے سال کے ساتھ ریڈیو پاکستان اور اَحمد فَراز کا رِشتہ مزید سے مزید مَضبوط ہونے لگتا ہے؛ بلکہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے پَہلو بہ پَہلو ہی رہتے ہیں۔ اُستاد اَمانت علی خاں اور ناہید اَختر کے علاوہ مَہدی حَسن، اِقبال بانو، غُلام علی، نُورجہاں اور کئی دوسری بڑی آوازوں میں سے جو کوئی اَحمد فَراز کا کلام گاتی ہے، ریڈیو پاکستان اُسے بلا توقف اپنے سامِعین تک پہنچاتا ہے۔ یوں فَراز ریڈیو کی مُلازمت سے تو الگ ہوجاتے ہیں، مگر اُن کی شاعری ریڈیو سے جُدا نہیں ہوپاتی۔

ریڈیو کی لَہروں پر کبھی اَحمد فَراز کی غزل کسی ناموَر گُلوکار کی آواز میں گونجتی ہے، کبھی مُشاعروں اور اَدبی پروگراموں میں خود فَراز کی آواز سامِعین تک پہنچتی ہے اور کبھی اُن کے فَن اور شَخصیت پر گُفتگو ہوتی ہے۔

جس اِدارے سے نوجوان سَیِّد اَحمد شاہ نے اپنے اَدبی سَفر کا آغاز کیا، اُس کے اَحمد فَراز بن جانے اور پھر اِس دُنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اُس اِدارے سے اُس کا رِشتہ قائم ہے۔

اِس اَمر کا اِس سے بڑا ثُبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ آج ریڈیو پاکستان نے اپنے دِیرینہ ساتھی، اَحمد فَراز کو اُن کی اَٹھارہویں بَرسی کے مَوقع پر یاد رکھا ہے۔

اَحمد فَراز کا اَصل نام سَیِّد اَحمد شاہ تھا۔ وہ ۱۹۳۱ء میں کوہاٹ میں پَیدا ہوئے۔ اُن کے والِد سَیِّد مُحمّد شاہ بَرق فارسی کے اُستاد اور شاعِر تھے، اِس لیے شِعر و اَدَب سے آشنائی اُنہیں گھر ہی سے مِلی۔ اِبتدائی تَعلیم کوہاٹ میں ہوئی اور اِسلامیہ ہائی اِسکول کوہاٹ میں زیرِ تَعلیم رہے۔ بعد میں اُن کا خاندان پِشاوَر مُنتقل ہوگیا۔

مَیٹرک کے بعد اَحمد فَراز ایڈورڈز کالج پِشاوَر کے طالِبِ عِلم بن گئے۔ اِسی زَمانے میں اُن کی شاعِری شروع ہوچکی تھی اور پِشاوَر کے اَدَبی حَلقوں میں نَوجوان اَحمد شاہ کی شِناخت ایک شاعِر کے طور پر بننے لگی تھی۔ بعداَزاں اُنہوں نے جامِعہ پِشاوَر سے اُردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔

۱۹۴۹ء کے لگ بھگ، جب قِیامِ پاکستان کو ابھی دو بَرس ہی گُزرے تھے اور اَحمد شاہ ابھی کالج کے طالِبِ عِلم تھے، اُنہیں ریڈیو پاکستان میں اِسکرپٹ رائٹر کی مُلازمت کی پیش کَش ہوئی۔ پہلی تَقرّری کراچی میں ہوئی۔ کچھ عَرصے بعد اُنہوں نے اپنا تَبادلہ کراچی سے پِشاوَر کروا لیا۔ اپنی اَدھوری تَعلیم مُکمّل کرنے کے لیے اَحمد شاہ دوبارہ کالج پہنچ گئے۔ تَعلیم اور ریڈیو ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ وہ اِسکرپٹ لکھتے رہے اور بعد میں ریڈیو پاکستان پِشاوَر میں پروڈیوسر بھی ہوگئے۔

اِسی دَوران شاعِری بھی خاموشی سے اپنا راستہ بنا رہی تھی۔ ۱۹۵۸ء میں اَحمد فَراز کا پہلا شِعری مَجموعہ ’تَنہا تَنہا‘ شائع ہوا۔ ۱۹۶۱ء میں اُنہوں نے ریڈیو پاکستان کی مُلازمت چھوڑ دی اور دَرس و تَدریس کا شُعبہ اِختیار کیا۔ وہ جامِعہ پِشاوَر میں اُردو کے اُستاد مُقرّر ہوئے۔ یوں تَقریباً ایک دَہائی تک ریڈیو سے وابَستگی کے بعد اُن کی عَمَلی زِندگی کا ایک نیا دَور شروع ہوا، لیکن ریڈیو سے پَیدا ہونے والا اَدَبی رِشتہ خَتم نہیں ہوا۔

۱۹۶۶ء میں اُن کا دوسرا شِعری مَجموعہ ’دَرد آشوب‘ شائع ہوا۔ اِس مَجموعے پر اُنہیں پاکستان رائٹرز گِلڈ کا آدم جی اَدَبی اِنعام مِلا۔ اب اَحمد فَراز کا شُمار نئی نَسل کے نُمایاں اور مَقبول شاعِروں میں ہونے لگا تھا۔

اِس کے بعد اُن کے شِعری مَجموعے یکے بعد دیگرے سامنے آتے گئے۔ ۱۹۷۰ء میں ’نایافْت‘، ۱۹۷۱ء میں ’شَب خُون‘، ۱۹۷۲ء میں ’میرے خواب ریزہ ریزہ‘ اور ۱۹۷۶ء میں ’جاناں جاناں‘ شائع ہوئے۔

اِنہی بَرسوں میں اَحمد فَراز پاکستان نیشنل سینٹر سے وابَستہ ہوگئے اور اُس کے مَقامی سَربراہ کی حَیثیت سے خِدمات اَنجام دیں۔ ۱۹۷۶ء میں حُکومتِ پاکستان نے مُلک میں اَدَب اور اَدیبوں کی سَرپَرستی کے لیے اَکادَمی اَدَبیات پاکستان قائم کی تو اَحمد فَراز اِس نئے قَومی اَدَبی اِدارے کے پہلے سَربراہ مُقرّر ہوئے۔ بعد کے زَمانے میں اُنہوں نے قَومی اِدارۂ لوک وِرثہ اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن سَمیت مُلک کے اَہم عِلمی، اَدَبی اور ثَقافتی اِداروں میں اَعلیٰ اِنتظامی ذِمّہ داریاں بھی نِبھائیں۔

اَفسر شاہی کا حِصّہ بننے کے باوُجود اَحمد فَراز کا تَخلیقی سَفر جاری رہا۔ بعد کے بَرسوں میں اُن کے مَزید شِعری مَجموعوں میں ’بے آواز گَلی کُوچوں میں‘ ۱۹۸۲ء، ’نابِینا شَہر میں آئینہ‘ ۱۹۸۴ء، ’یہ سَب میری آوازیں ہیں‘ ۱۹۸۵ء، ’پَس اَنداز مَوسم‘ ۱۹۸۹ء، ’خوابِ گُل پَریشاں ہے‘ ۱۹۹۴ء، ’غَزل بَہانہ کروں‘ ۱۹۹۹ء اور ’اے عِشق جُنوں پیشہ‘ ۲۰۰۷ء شامِل ہیں۔ ۱۹۹۴ء میں اُن کا مَنظوم ڈراما ’بودلک‘ بھی شائع ہوا۔ اُن کے شِعری سَرمائے کو ۲۰۰۴ء میں ’شَہرِ سُخَن آراستہ ہے‘ کے عُنوان سے کُلّیات کی صُورت میں یکجا کیا گیا۔

یوں فَراز کی شاعِری مُحبّت اور رُومان سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے عَہد کے سِیاسی اور سَماجی تَجرِبات کو بھی اپنے اَندر سَمیٹتی چلی گئی۔ مُحبّت، حُسن، ہِجر اور اِنسانی تَعلّقات کے بَیان نے اُن کی غَزل کو غَیر مَعمولی مَقبولیت بَخشی، جبکہ اُن کی مُزاحَمتی شاعِری نے اُن کی شَخصیت کا ایک دوسرا رُخ نُمایاں کیا۔ وہ زِندگی کے آخِری اَیّام تک پاکستان کے نُمائندہ شُعرا میں شُمار ہوتے رہے۔

حُکومتِ پاکستان نے اَحمد فَراز کی اَدَبی خِدمات کے اِعتراف میں اُنہیں ۲۰۰۰ء میں سِتارۂ اِمتِیاز اور ۲۰۰۴ء میں ہِلالِ اِمتِیاز سے نَوازا۔

اُردو غَزل کو نئی نَسل کی آواز دینے والے اَحمد فَراز ۲۵ اَگست ۲۰۰۸ء کو اِسلام آباد میں اِنتقال کرگئے۔ اُنہیں اِسلام آباد کے ایچ ایٹ قَبرِستان میں سُپردِ خاک کیا گیا۔

اَحمد فَراز کی شاعِری کا سَب سے نُمایاں وَصف اُس کی سادَگی، رَوانی اور بَراہِ راست دِل میں اُتر جانے والی کَیفِیّت ہے۔ اُنہوں نے غَزل کی کلاسیکی رِوایَت کو بَرقَرار رکھتے ہوئے اُسے اپنے عَہد کے نَوجوان کی زَبان اور اِحساس سے قَریب کردیا۔ اُن کے ہاں مُحبّت مَحض مَحبوب کے حُسن کی تَعریف نہیں بلکہ اِنتِظار، جُدائی، بے وَفائی، یاد، تَنہائی اور اِنسانی رِشتوں کی پَیچیدگیوں کا پُورا تَجرِبہ بن کر سامنے آتی ہے۔

اَحمد فَراز کے اَلفاظ عُموماً مانوس اور روزمَرّہ کی زَبان سے قَریب ہوتے ہیں، لیکن اِنہی سادَہ لَفظوں سے وہ ایسی کَیفِیّت پَیدا کردیتے ہیں جو قاری کو دِیر تک اپنے حِصار میں رکھتی ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ فَراز کے بَہت سے اَشعار شِعر و اَدَب کے باقاعدہ قاری سے نِکل کر عام آدمی کی گُفتگو اور یادداشت کا حِصّہ بن گئے۔

فَراز کی غَزل کا ایک اَہم حُسن اُس کی مُوسِیقِیّت بھی ہے۔ اُن کے مِصرَعوں میں لَفظوں کی نِشَست، بَحر کی رَوانی اور صَوتی آہَنگ ایسا ہے کہ بَہت سا کَلام پڑھتے ہوئے ہی گائے جانے کی صَلاحِیّت رکھتا مَحسوس ہوتا ہے۔ شاید اِسی لیے اُن کی غَزل کو گُلوکاروں نے بھی غَیر مَعمولی طور پر اَپنایا۔

اُستاد اَمانت علی خاں سے مَہدی حَسن، غُلام علی، اِقبال بانو اور ناہید اَختر تک مُختَلِف آوازوں میں فَراز کا کَلام مَقبول ہوا۔ اُن کی غَزلوں میں خَیال کی دِل کَشی کے ساتھ ایسی نَغمَگی بھی مَوجود ہے جو شِعر کو کِتاب کے صَفحے سے اُٹھا کر آواز کی دُنیا میں لے آتی ہے۔

فَراز کے ہاں مُحبّت کی شِدّت مَوجود ہے، مگر اِظہار میں عُموماً ایک وَقار اور شائِستگی قائم رہتی ہے؛ یہی وَصف اُن کی غَزل کو رُومانی ہونے کے باوُجود سَطحی جَذباتِیّت سے بچاتا ہے۔

اَحمد فَراز صِرف مُحبّت کے شاعِر بھی نہیں تھے۔ اُن کی شاعِری میں وَقت گُزرنے کے ساتھ اِحتِجاج، مُزاحَمَت اور اپنے عَہد کے سِیاسی و سَماجی حالات کا شُعور زیادہ نُمایاں ہوتا گیا۔ یہاں بھی اُن کا کَمال یہ ہے کہ وہ سِیاسی بات کو مَحض نَعرہ نہیں بننے دیتے۔

زِنداں، زَنجیر، شَہر، مَقتَل، چَراغ، گُلشَن اور اَندھیرا جیسے اِستِعارے فَراز کے ہاں ذاتی اور اِجتِماعی دونوں مَعنوں میں اِستِعمال ہوتے ہیں۔ مَحبوب سے جُدائی کا دُکھ کہیں وَطن اور مُعاشرے کے دُکھ سے مِل جاتا ہے اور فَرد کی بے بَسی کہیں پُورے عَہد کی بے بَسی کا اِستِعارہ بن جاتی ہے۔ یوں اُن کے یہاں رُومان اور مُزاحَمَت دو الگ دُنیائیں نہیں رہتیں بلکہ کئی مَقامات پر ایک دوسرے میں گُھل مِل جاتی ہیں۔

فَراز کی مَقبولِیّت کا ایک سَبب یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے رِوایَت اور جَدید حِسِّیّت کے دَرمیان ایک قابِلِ فَہم راستہ پَیدا کیا۔ اُن کی غَزل میں میر و غالِب سے چلی آنے والی اُردو غَزل کی لَفظِیات اور مَحبوب، ہِجر، وَصل، رَقیب اور وَفا جیسے رِوایَتی مَوضوعات مَوجود ہیں، لیکن اُن کے پیچھے بِیسویں صَدی کے اِنسان کا تَجرِبہ بولتا ہے۔

فَراز کا عاشِق صِرف مَحبوب کے کُوچے میں آہیں بھرنے والا رِوایَتی کِردار نہیں؛ وہ سَوال کرتا ہے، شِکوہ کرتا ہے، اپنی خُودداری کا اِظہار کرتا ہے اور ضَرورت پڑنے پر رِشتہ توڑ کر چلے جانے کا حَوصلہ بھی رکھتا ہے۔ اِسی لیے فَراز کی شاعِری نے خُصوصاً نَوجوان نَسل کو اپنی طَرف مُتَوَجِّہ کیا اور ہر آنے والی نَسل نے اُن کے اَشعار میں اپنے جَذبوں کی کوئی نہ کوئی صُورت تَلاش کرلی۔

اُن کے فَن کا شاید سَب سے بڑا مَحسَن یہی ہے کہ فَراز مُشکِل بات کو مُشکِل زَبان میں کہنے کے قائِل نہیں تھے۔ شِعر پہلی قِراءَت میں قاری کو اپنی طَرف کھینچتا ہے، لیکن دوبارہ پڑھنے پر اُس کے اَندر مَعنی کی دوسری تَہیں بھی دِکھائی دیتی ہیں۔ مُحبّت ہو یا جُدائی، دوستی ہو یا بے وَفائی، آمِرِیّت ہو یا آزادی کی خواہِش، فَراز اپنے قاری سے ایسے لَہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کوئی شَخص سامنے بیٹھ کر اپنا دُکھ سُنا رہا ہو۔

اِسی بے تَکَلُّفی، مُوسِیقِیّت، رُومان، عَصری شُعور اور جَذبات کی سَچّائی کے اِمتِزاج نے اَحمد فَراز کو مَحض اپنے زَمانے کا مَقبول شاعِر نہیں رہنے دیا بلکہ اُن کی غَزل کو آنے والی نَسلوں تک پہنچنے کی قُوّت بھی عَطا کی۔

اَحمد فَراز نے بِچھڑنے کی بات اپنے ایک شِعر میں یوں کہی تھی:

اَب کے ہم بِچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں مِلیں
جِس طرح سُوکھے ہوئے پُھول کِتابوں میں مِلیں۔۔

مگر ریڈیو پاکستان اور فَراز کا رِشتہ کچھ ایسا ہے کہ یہاں بِچھڑنے کے بعد مُلاقات کے لیے خوابوں کا اِنتِظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔

فَراز آج بھی کبھی اُستاد اَمانت علی خاں، کبھی مَہدی حَسن، کبھی اِقبال بانو، غُلام علی اور ناہید اَختر کی آواز میں ریڈیو کی نَشریات میں مِلتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں اَحمد فَراز سے مُتعلّق ۵۵۱ صَوتی مَواد مَحفوظ ہیں، جو اِس اِدارے کی فَراز دوستی کا بَیِّن ثُبوت ہیں۔

یوں فَراز ریڈیو سے رُخصت ضَرور ہوئے، جُدا کبھی نہیں ہوئے۔

ریڈیو پاکستان اپنے اِس دِیرینہ ساتھی اَحمد فَراز کی اَٹھارہویں بَرسی پر اُنہیں خَراجِ تَحسین پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Rawalpindi Radio Pakistan Peshawar Bahria University Quaid e Azam University Radio Pakistan World Service NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Bahauddin Zakariya University

ربیع الاول شریف کے سلسلے کی ریڈیو پاکستان میانوالی کے اسٹوڈیو میں منعقدہ محفل نعت
24/08/2026

ربیع الاول شریف کے سلسلے کی ریڈیو پاکستان میانوالی کے اسٹوڈیو میں منعقدہ محفل نعت

24/08/2026

Address

Mianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Mianwali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Radio Pakistan Mianwali:

Shortcuts

Share