Radio Pakistan Mianwali

Radio Pakistan Mianwali Government Organisation- Broadcasting & Media Production Company. An official page of Radio Pakistan

02/08/2026

رزمک میں شہید ہونے والے پاک آرمی کے میجر حافظ احسان الٰہی کو میانوالی میں ان کے آبائی گاؤں شہباز خیل میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔ شہید کی نماز جنازہ میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران، ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران سمیت سیکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔ شہید کی قبر پر قومی پرچم لہرایا گیا اور پاک فوج کے چاک وچوبند دستے نے سلامی پیش کی ۔ صدر مملکت، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کی طرف سے پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں ۔ شہید میجر حافظ احسان الٰہی نے پسماندگان میں بیوہ اور تین کم عمر بچے چھوڑے ہیں۔ شہید کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بچے کی شہادت پر فخر ہے۔ وہ حافظ قرآن بھی تھا اور اب شہادت کا رتبہ بھی حاصل کر لیا ہے۔ شہید کے ننھے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ بھی اپنے ابو کی طرح فوجی بنے گا۔

29/07/2026

وزیر اعلیٰ پنجاب کے اپنا کھیت، اپنا روزگار پروگرام کے تحت میانوالی کے 18 مستحق مردوں اور خواتین کو سرکاری زمین 20 سال کے لیے لیز پر دینے کی تقریب منعقد ہوئی ۔ رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر نور خان نیازی مہمان خصوصی تھے ۔
تقریب کی صدارت ڈپٹی کمشنر میانوالی شاہد عباس کاٹھیا نے کی۔ تقریب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی عہدیداروں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مال کے افسران نے شرکت کی۔ 15 مستحق دیہی مردوں اور تین خواتین میں مجموعی طور پر 74 ایکڑ، دو کنال زمین کے الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کیے گئے۔ زمین حاصل کرنے والے ہر خوش نصیب کو پچاس ہزار روپے فی ایکڑ ترقیاتی گرانٹ بھی دی جائے گی۔ یہ زمین سو روپے فی ایکڑ سالانہ فیس کے حساب سے دی گئی ہے۔اپنا کھیت، اپنا روزگار پروگرام کے تحت زمین حاصل کرنے والوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا ۔

19/07/2026

Youm e Ilhaq e Pakistan (19th July)یوم الحاق پاکستان

19/07/2026

ایک نابینا اور نادم مغل شاہزادے کی داستان ، جس کا مدفن مکہ مکرمہ کی مقدس دھرتی پر بنا

وہ بھیس بدل کر مان کوٹ سے کابل کی طرف فرار ہو رہا تھا کہ سلطان آدم گھکھر نامی ایک مقامی سردار نے اُسے گرفتار کر لیا۔گرفتاری کی اطلاع بذریعہ خط ہمایوں بادشاہ کو پہنچائی گئی جس نے پہلے اِس اہم خبر کی تصدیق کیلئے اپنے ایک مصاحب منعم خان کو سلطان آدم کے ہاں روانہ کیا ۔ اور پھر معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر خود بھی اپنی فوج کے ہمراہ وہاں کیلئے روانہ ہوگیا۔

ہمایوں نے “پرہالہ” کے مقام پر رات کو پڑاؤ ڈالا ہوا تھا کہ سلطان آدم ، ہمایوں بادشاہ کو مطلوب اُس “باغی شہزادے” کو لیکر ازخود وہاں پہنچ گیا ۔

ہمایوں کے حکم سے باغی کو ایک خیمے میں قید کردیا گیا۔ درجنوں بااعتماد اور مستعد سپاہی بھی نگرانی کی غرض سے اِس خیمے کے اطراف میں مقرر کردئیے گئے ۔

اگلی صبح بادشاہ کے دربار میں “اکابرِ دین و دولت و اعاظمِ ملک و ملت” کا ایک محضر ( پروانہ ) پیش کیا گیا جس میں اُس باغی کے لیے قتل کی سزا تجویز کی گئی تھی(بحوالہ “اکبر نامہ” از ابوالفضل،ص: ۳۲۸)۔ اُس پر بغاوت، عہد شکنی اورمسلسل فتنہ انگیزی کے درجنوں ناقابلِ تردید الزامات تھے، تاہم سب سے سنگین الزام اپنے بھائی مرزا ہندال کے قتل کا تھا جو اُس کی طرف سے کئے جانے والے ایک شب خون کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

تاہم ہمایوں بادشاہ نے اُسے قتل کرنے کے بجائے اس کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اسے نابینا کردئیے جانے کا حکم جاری کیا۔

یہ باغی شہزادہ ، کوئی غیر نہیں بلکہ ہمایوں کا بھائی مرزا کامران تھا جو پہلے مغل شہنشاہ ہند ، ظہیر الدین محمد بابر کی اہلیہ گُل رُخ بیگم کے بطن سے ۹۱۵ ہجری میں پیدا ہوا۔ گُل رُخ بیگم سے بابر کا نکاح ۹۱۴ ہجری میں ہوا تھا۔

بابر اپنے بڑے بیٹے ہمایوں کی طرح اپنے اِس بیٹے مرزا کامران سے بھی بہت محبت کرتا تھا اور اکثر اُسے اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔“تزکِ بابری” میں وہ خود لکھتا ہے کہ جب وہ ۹۲۰ ہجری میں کابل واپس آیا تو شہزادہ ہمایوں اور شہزادہ کامران دونوں اُس کے استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے اور بادشاہ کو اپنے ہمراہ شہر میں لے گئے۔اُس وقت مرزا کامران کی عمر صرف پانچ برس تھی۔

بابر نے اپنی خود نوشت میں یہ بھی لکھا کہ “چارباغ میں وہ (مرزا کامران) بادشاہ کے ہمرکاب شکار پر جاتا اور وہاں تیز اندازی کے جوہر دکھاتا ہے۔” ( بحوالہ: “تزک بابری” از ظہیرالدین محمد بابر، ص: ۴۱۷)

۹۳۲ ہجری میں جب مرزا کامران اٹھارہ برس کا ہوا تو بابر نے اُسے کابل اور قندھار کی حکومت سونپ دی اور دو سال بعد اُسے ملتان کا حاکم بھی مقرر کر دیا۔ (بحوالہ: مآثرِ رحیمی، جلد دوم، ص ۳۰۳)

کامران مرزا اپنے والد کا اِس قدر محبوب تھا کہ بعض مؤرخین کے مطابق بابر نے اپنی مثنوی “مبین” اُسی کی تعلیم و تربیت کی غرض سے تصنیف کی۔

بابر نے اپنا رسالہ “والدیہ”، “تزکِ بابری” کا ایک خوش خطی سے لکھا ہوا قلمی نسخہ ، ہندوستان میں کہے ہوئے اپنے اشعار اور اپنے ایجاد کردہ رسمُ الخط “بابری” کا نمونہ بھی اِسی شہزادے مرزا کامران کے پاس رکھوایا۔ اپنے باپ کی خود نوشت “تزکِ بابری” کے اِس قلمی نسخے کو وہ اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا تھا ۔

۹۳۷ ہجری میں جب بابر کی وفات ہوئی تو مرزا کامران قندھار کا حاکم تھا۔ والد کی وفات کی خبر سنتے ہی وہ اپنے بھائی مرزا عسکری کو قندھار میں چھوڑ کر ہندوستان روانہ ہوا اور لاہور پر قبضہ کر لیا۔ یہیں سے بابر کے اِن دو بیٹوں، ہمایوں اور کامران کے درمیان اقتدار کی وہ بھیانک کشمکش شروع ہوئی جو بالآخر مرزا کامران کی بینائی چھین لئے جانے کی اذیت ناک سزا پر منتج ہوئی۔

ہمایوں کے خادمِ خاص جوہر آفتابچی نے “تذکرۃ الواقعات” میں مرزا کامران کو نابینا کیے جانے کا چشم دیدہ احوال کچھ یوں قلم بند کیا ہے:

“اور یہ طے کیا کہ مرزا کامران کو اندھا کر دیا جائے۔ جب بادشاہ یہ حکم دے کر روانہ ہو گئے تو کوئی شخص مرزا کامران کی آنکھوں پر نشتر نہیں چلاتا تھا۔ لوگ آپس میں ایسے شخص کو تلاش کرتے تھے( جو یہ کام کرلے)۔ اتنے میں سلطان علی بخشی نے علی دوست ایشک آقا سے کہا کہ تو نشتر مار۔ علی دوست نے جواب دیا کہ جب تو کسی کو ایک شاہ رخی ( سکے کا نام) بھی دیتا ہے تو حضرت بادشاہ سے عرض کر دیتا ہے۔ میں حضرت بادشاہ کے حکم کے بغیر صرف تیرے کہنے سے یہ کام کیسے کر سکتا ہوں؟ کل اگر حضرت بادشاہ نے دریافت کیا کہ یہ کام تو نے کیوں کیا اور ہمارے بھائی کو بیکار کر دیا، تو کیا میں اس وقت یہ کہوں گا کہ سلطان علی نے کہا تھا؟ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ وہ آپس میں یہی گفتگو کر رہے تھے کہ جوہر خاکسار نے کہا کہ میں جا کر بادشاہ سے عرض کرتا ہوں۔ علی دوست نے بھی ترکی میں بادشاہ سے عرض کیا کہ اے بادشاہ! تابعداروں میں کوئی شخص یہ کام نہیں کرتا۔ حضرت بادشاہ نے ترکی میں گالی دے کر فرمایا کہ تجھ کو کیا ہو گیا ہے؟ تو تعمیل کر۔ اس حکم کے بعد لوگ مرزا کامران کے پاس آئے اور غلام علی نے مرزا سے عرض کیا کہ اے مرزا! یہ بات اگر میں خود سے کہتا ہوں تو خدا تعالیٰ میری زبان گدی سے کھینچ لے، لیکن حضرت بادشاہ کے حکم میں چارہ نہیں۔ حکم یہی ہے کہ تمہاری آنکھوں پر نشتر مارا جائے۔ مرزا نے کہا کہ مجھ کو مار ڈالو۔ غلام علی نے جواب دیا، خداوند! کون تم کو مار سکتا ہے؟ پھر وہ اس کام کو انجام دینے کی فکر میں لگ گئے۔ اس کے ہاتھ میں رومال تھا، اس نے گولا سا بنایا اور اس فراش نے، جس نے مرزا کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا، مرزا کے منہ میں ٹھونس دیا۔ اس کے بعد وہ مرزا کے ہاتھ پکڑ کر خیمے سے باہر لائے اور مرزا کو لٹا کر اس کی آنکھوں میں نشتر لگایا۔ اللہ ما شاء اللہ پچاس نشتر مارے، لیکن اس بہادر مرد نے دم بھی نہ مارا۔ جو شخص مرزا کے زانوں پر بیٹھا تھا، مرزا نے اس سے صرف یہ کہا کہ تو میرے زانوں پر کس لیے بیٹھا ہے؟ جب تک تمہارا اطمینان نہ ہوگا، تم نہ چھوڑو گے۔ سوائے اس بات کے اور کچھ نہ کہا اور مردوں کی مانند مستقل مزاج رہا۔ کردی بیوہ دار نے اُس کی آنکھوں میں نمک چھوڑ دیا۔ اس مجبوری کی حالت میں اس نے اللہ کا نام لیا اور اس کے بعد یہ الفاظ کہے: ‘اے خدا! دنیا میں جو کچھ میں نے کیا، اس کی سزا مجھے ملی۔ آخرت میں معافی کا امیدوار ہوں۔’ اس کے بعد مرزا کو سوار کر کے لشکر میں لے آئے۔”(بحوالہ اردو ترجمہ“تذکرۃ الواقعات”از سید معین الحق، ص:۱۵۵تا ۱۵۶)

مرزا کامران کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیرے جانے کا یہ دل سوز واقعہ ۹۶۰ ہجری میں پیش آیا۔ (بحوالہ: اکبرنامہ، جلد اول، ص ۳۲۸)

نابینا کئے جانے کے بعد مرزا کامران کئی ہفتے شاہی حکمیوں کے پاس زیرِ علاج رہا جو اُس کی آنکھوں میں گرم سلائیوں کے سبب پڑنے والے زخموں پر مرہم پٹیاں باندھتے رہے ۔

زخم ٹھیک ہونے کے بعد کامران مرزا کی طبیعت سنبھلنے لگی تو اُس نے اپنے بھائی ، ہمایوں سے پہلی درخواست یہ کی کہ اُس کا غلامِ خاص بیگ ملوک اُس کی خدمت کے لیے اُس کے ساتھ کر دیا جائے۔ ہمایوں نے یہ درخواست قبول کر لی( بحوالہ: “اکبر نامہ” ص: ۳۲۹)

چند روز بعد، جب شاہی لشکر دریائے سندھ کے کنارے خیمہ زن تھا، مرزا کامران نے قاصد کے ذریعے ہمایوں سے حج کی اجازت طلب کی۔ یہ اُس کی اپنے بھائی کے حضور دوسری آور غالبا آخری درخواست تھی ۔

ہمایوں حج کا سُن کر خود کامران مرزا کے خیمے میں آیا۔ بھائی کی آمد پر مرزا کامران نے یہ شعر پڑھا:
بر جانم از تو ہرچہ رسد، جایِ منت است
گر ناوکِ جفاست و گر خنجرِ ستم
ترجمہ: آپ کی طرف سے میری جان پر جو کچھ بھی پہنچے، وہ میرے لیے باعثِ احسان ہے، خواہ وہ ظلم کا تیر ہو یا ستم کا خنجر۔

اس شعر میں پُر درد شکوہ بھی تھا اور بڑے بھائی کی سامنے عجز و انکساری بھی ۔ شعر پڑھنے کے بعد وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ آپ نے مجھ پر احسان کیا ، اکابرینِ سلطنت کے اصرار کے باوجود مجھے قتل نہیں کروایا، میری جان بخشی کی اور اب مجھے حج کی اجازت بھی عطا فرما دی ہے، میں آپکا ممنون ِ احسان ہوں ۔

کامران نے اپنے بچوں، جن میں پانچ بیٹیاں ( حبیبہ بیگم ،عائشہ سلطان ، گُل رُخ بیگم ، حاجی بیگم اور گُل عذار بیگم) اور اکلوتا بیٹا ( ابراہیم سلطان میرزا) تھے، ہمایوں کے سپرد کیے اور اپنی اہلیہ ماہ چُوچک بیگم اور چند خدام کے ہمراہ وہیں سے سندھ کیلئے رخصت ہو گیا جہاں سے اُس نے سمندری راستے سے حج کا سفر شروع کرنا تھا ۔ سفر کا تمام سامان اور زادراہ اُسے ہمایوں نے مہیا کیا، لیکن جس غلامِ خاص بیگ ملوک کو اس نے اپنے بھائی سے بطور خاص مانگا تھا، وہ چند منزلیں طے کرنے کے بعد اُسے چھوڑ کر واپس چلا آیا۔ یہ بات اُس کیلئے الگ سے ایک صدمہ تھی۔

“اکبرنامہ” میں مرزا کامران کے سفرِ حج کا ذکر نہایت مختصر ہے۔ ہمایوں کی بہن گل بدن بیگم اور اس کے آفتابہ بردار جوہر آفتابچی نے بھی اِس سفر کا صرف اجمالی ذکر کیا ہے۔ تاہم محمد معصوم بھکری کی “تاریخِ معصومی” اس حوالے سے نسبتاً مفصل معلومات فراہم کرتی ہے۔

“تاریخِ معصومی” کے مطابق مرزا کامران سیدھا حجاز نہیں گیا بلکہ کچھ عرصہ( قریب قریب ایک سال) اپنے سسر شاہ حسین ارغون کے ہاں ٹھٹھہ اور حیدرآباد کے درمیان کے ایک مقام “فتح باغ” میں مقیم رہا۔ سسر نے اس کے اخراجاتِ مطبخ کے لیے ایک پرگنہ بھی مقرر کر دیا۔ جب وہ حج کے لیے روانہ ہوا تو اس کی اہلیہ ماہ چُوچک بیگم نے بھی اُس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ رشتہ داروں نے، حتیٰ کہ اُس کے والد نے بھی اُسے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ رو کر کہنے لگیں:
“میں نے کامران کے ساتھ کابل اور قندھار کے محلات کا عیش و آرام دیکھا ہے ۔ دنیا کیا کہے گی کہ جب کامران صاحبِ حکومت اور صاحبِ بصارت تھا تو مجھے اُس کے سپرد کیا گیا اور میں خوشدلی سے اُس کے ساتھ رہی ۔ اور اب جب وہ بے بس اور بے کس ہو گیا ہے تو کیا میں بھی اُس کا ساتھ چھوڑ دوں؟”
یہ سن کر ماہ چوچک بیگم کا باپ خاموش ہوگیا اور آخرکار دونوں کو ایک ساتھ رخصت کر دیا۔

مرزا کامران مکہ مکرمہ پہنچا اور وہاں کچھ روایات کے مطابق دو اور کچھ کے مطابق تین حج ادا کرنے کے بعد وفات پا گیا۔ ابوالفضل لکھتا ہے: “و مرزا سہ حج دریافت و در یازدہمِ ذی الحجہ در منٰی سال (۹۶۴) لبیک گویان اجابتِ دعوتِ حق نمود و رحلت۔”
ترجمہ: مرزا کامران نے تین حج ادا کیے اور ۹۶۴ ہجری میں گیارہ ذی الحجہ کے روز منیٰ میں “لبیک” کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

میر محمد معصوم بھکری لکھتے ہیں: “مرزا کامران در روزِ حج، بعد از وقوف در عرفات، قبل از غروبِ آفتاب، حیاتش نیز غروب نمود۔”
ترجمہ: مرزا کامران کی زندگی کا سورج روزِ حج، وقوفِ عرفات کے بعد، غروبِ آفتاب سے پہلے غروب ہو گیا۔

یعنی ابوالفضل کے مطابق مرزا کامران ۱۱ ذی الحجہ ۹۶۴ ہجری کو منیٰ میں وفات پا گیا، جبکہ محمد معصوم بھکری کے مطابق اس کا انتقال وقوفِ عرفات کے بعد ۹ ذی الحجہ کو ہوا۔ البتہ یہ دو اور دیگر تمام روایات اِس بات پر متفق ہیں کہ اِس مغل شہزادے کی وفات مکہ مکرمہ میں حج کے دوران ہوئی اور اسے وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

جب مرزا کامران کی آنکھوں میں نشتر لگائے جا رہے تھے تو اس کی زبان پر یہی الفاظ تھے:
“اے خدا! دنیا میں جو کچھ میں نے کیا، اس کی سزا مجھے مل گئی۔ آخرت میں تیری معافی کا امیدوار ہوں۔”

شاید یہی اُس کی زندگی کی آخری اور سچی التجا تھی۔

آج تقریباً پانچ صدیاں گزر چکی ہیں۔ ہر سال لاکھوں کروڑوں زائرین مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور وادیٔ بطحاء کی مقدس سرزمین پر حاضری دیتے ہیں، مگر کسی کو معلوم نہیں کہ بابر کا وہ لاڈلا شہزادہ، جس نے کبھی کابل، قندھار اور ملتان پر حکومت کی تھی، اس مقدس سرزمین کے کس گوشے میں آسودۂ خاک ہے۔ وقت کی گرد نے اس کی قبر کا نشان بھی مٹا دیا۔ قدرت نے اُس کی زندگی کے نشیب و فراز تو محفوظ رکھ لیے، مگر اس کی آخری آرام گاہ کو گمنامی کے سپرد کر دیا۔

شاید اسی میں مرزا کامران کی داستانِ حیات کا سب سے بڑا سبق پوشیدہ ہے، جو خود یہ اعتراف کر کے دنیا سے رخصت ہوا تھا کہ دنیا میں اپنے اعمال کی سزا پا چکا ہوں، اب آخرت میں اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہوں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مرزا کامران نے ایک موقع پر اپنے بھائی ہمایوں کے لیے فی البدیہہ یہ شعر کہا تھا:
ہر غباری کہ از راہت خیزد
نورِ چشمِ منِ محزون بادا
(ترجمہ: تیری راہ سے اٹھنے والی ہر گرد و غبار، کاش مجھ غم زدہ کی آنکھ کا نور بن جائے!)

تقدیر نے مگر کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ ہمایوں کی راہ سے اُٹھنے والی گرد تو اُس کی آنکھوں کا نور نہ بن سکی، لیکن آج بھی لاکھوں حجاج اور معتمرین کے قدموں سے اُٹھنے والی مقدس مٹی شاید اس مقام پر ضرور بکھرتی ہوگی، جہاں بابر کا یہ نابینا، نادم اور فراموش کر دیا گیا شہزادہ صدیوں سے آسودۂ خاک ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


Radio Pakistan Bahawalpur Multan RadioPakistan Karachi fans Radio Pakistan Gilgit FM93 Radio Pakistan Dera Ismail Khan NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
19/07/2026

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

ساغر کتھا
ایک منفرد شاعر، ایک منفرد انسان کی داستان

وہ ایک منفرد شاعر تھا، لیکن اس سے کہیں بڑھ کر ایک قطعی منفرد انسان۔ اتنا منفرد کہ بٹوارے کے بعد لاہور کے سب سے زیادہ افسانہ ہائے عامہ (Folklore) اُسی کی ذات سے جا کر جُڑتے ہیں۔

ویسے اِس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ اُسے اپنے فنِ شاعری سے زیادہ اپنی طرزِ زندگی کے باعث شہرت (یا بدنامی) ملی۔ پرانے لاہوری اُس کی ذات سے پہلا افسانۂ عامہ یہ منسوب کرتے ہیں کہ اُس سے زیادہ سُر اور ترنُّم کے ساتھ شاید ہی کسی شاعر نے اپنا کلام پڑھا ہو۔ دوسرا افسانۂ عامہ یہ کہ وہ حالتِ خبطُ الحواسِی میں، نگاہیں جُھکائے، ہونٹوں میں سگریٹ یا بیڑی دبائے، خودکلامی کرتا ہوا، ننگے پاؤں لاہور کی سڑکوں پر گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ زندہ دلانِ لاہور نے اپنے شہر کا شاید ہی کوئی گوشہ اس کی ذات سے وابستہ نہ کیا ہو۔ کوئی دعویٰ کرتا کہ اُس نے اُسے موری دروازے کے باہر دیکھا تھا، کوئی سرکلر روڈ پر اُس سے ملاقات کا ذکر کرتا، تو کوئی داتا دربار، ٹکسالی دروازہ، لوہاری دروازہ، میکلوڈ روڈ یا بادامی باغ میں اُس سے ہم کلام ہونے کی شیخی بگھارتا۔

تیسرا افسانۂ عامہ یہ تھا کہ بچے اُسے “چادر والی مائی” کہہ کر چھیڑتے تھے، کیونکہ وہ اکثر میلے کچیلے کپڑوں کے اُوپر کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی ایک سیاہ چادر اوڑھے رکھتا تھا۔ بچوں کے چھیڑنے اور تعاقب پر وہ گھبرا کر تیز قدموں سے وہاں سے نکل جاتا تھا۔

اُس سے ایک اور افسانۂ عامہ یہ بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ اُس کے بال جٹا دھاری سادھوؤں کی مانند کندھوں، گردن اور چہرے پر بکھرے رہتے تھے۔ وہ کئی کئی ماہ نہ نہاتا ، نہ داڑھی بنواتا اور نہ ہی بال کٹواتا ۔ ایک اور افسانۂ عامہ یہ کہ ایک کتا ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتا، جسے وہ کھلاتا، پلاتا اور اپنے ہاتھوں سے سہلاتا رہتا تھا۔

البتہ اُس کی ذات سے متعلق سب سے زیادہ مشہور افسانۂ عامہ یہ ہے کہ لاہور کی فلم نگری کا کوئی چالاک، چلتر اور چرب زبان فلم ساز یا ہدایت کار اُس کے پاس آتا، اُس کی ہتھیلی پر چونی، اٹھنی یا روپیہ رکھتا، اپنی فلم کے لیے درکار گیت کی صورتِ حال بیان کرتا، اور یہ زودگو شاعر سگریٹ کی ڈبی یا اُس کی کناری کی پشت پر فی البدیہہ گیت لکھ کر اُس کے حوالے کر دیتا۔ پھر وہی گیت فلم کی کامیابی کی ضمانت بن جاتا۔

ان تمام افسانہ ہائے عامہ میں کتنی حقیقت ہے اور کس قدر افسانہ سازی، اس کا علم اللہ جلَّ شانہٗ کے سوا کسی کو نہیں۔ لیکن ایک حقیقت مُسلَّم ہے کہ جب لوگوں نے صحیح معنوں میں اُس کی ذات میں پوشیدہ جوہر کو پہچانا اور اُسے ایک باوقار شاعر کے طور پر تسلیم کرنا شروع کیا، تب تک اُس کا جسم جواب دے چکا تھا۔ فالج اُس کا ایک بازو ناکارہ کر چکا تھا، جبکہ مسلسل سگریٹ اور بیڑی نوشی اُس کے پھیپھڑوں کو گُھن کی طرح چاٹ چکی تھی۔ وہ داتا دربار کے پہلو میں واقع پائلٹ ہوٹل کے سامنے کے فٹ پاتھ پر بیماری سے نڈھال پڑا رہتا تھا۔

پھر ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کی صبح اِسی فٹ پاتھ پر ایک راہ گیر نے اُسے مردہ حالت میں دیکھا۔ شور و غوغا پر آس پاس کے لوگ جمع ہوئے، کچھ جاننے والے اور کچھ اجنبی۔ جنازہ پڑھایا گیا اور لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں یہ شاعر اپنی ادھوری کتھا اپنے ساتھ لیے منوں مٹی تلے جا سویا۔

آج اسی بے مثال شاعر اور افسانوی شخصیت کے مالک ساغر صدیقی کی باونویں برسی ہے۔

ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا۔ وہ ۱۹۲۸ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے گھر میں شدید غربت تھی۔ مالی حالات ایسے نہ تھے کہ باقاعدہ تعلیم کا انتظام ہو سکتا۔ محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن نے انہیں ابتدائی تعلیم دی۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے غیر معمولی شغف تھا۔ حساس طبیعت، غیر معمولی حافظہ اور موزوں طبع نے انہیں بہت جلد شعر گوئی کی طرف مائل کر دیا۔ ابتدا میں وہ ناصر حجازی کے قلمی نام سے شعر کہتے تھے، لیکن جلد ہی ساغر صدیقی کا تخلُّص اختیار کر لیا، جو بعد میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔

انبالہ کی تنگ دستی سے دل اچاٹ ہوا تو وہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں امرتسر جا پہنچے، جہاں انہوں نے لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت اختیار کی اور یہی ہنر بھی سیکھ لیا۔ شاعری کا سلسلہ اس دوران بھی جاری رہا۔ ۱۹۴۴ء میں امرتسر کے ایک آل انڈیا مشاعرے میں اتفاقاً انہیں اپنا کلام سنانے کا موقع ملا۔ ان کی مترنم آواز، بے مثال سوز اور دل میں اتر جانے والے اشعار نے سامعین کو اس طرح مسحور کر دیا کہ وہ ایک ہی نشست میں ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس کے بعد لاہور اور امرتسر کے مشاعروں میں انہیں باقاعدگی سے مدعو کیا جانے لگا، یہاں تک کہ شاعری ہی ان کا ذریعۂ معاش بھی بن گئی اور انہوں نے کنگھیاں بنانے کا کام ترک کر دیا۔

تقسیمِ ہند کے بعد ساغر لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں انہوں نے معروف شاعر لطیف انور گورداسپوری سے اپنے کلام کی اصلاح لی اور ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۲ء تک کا عرصہ ان کی ادبی زندگی کا سنہرا دور ثابت ہوا۔ اس دوران ان کا کلام ملک کے ممتاز اخبارات، ادبی جرائد اور رسائل میں نمایاں طور پر شائع ہوتا رہا۔ ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فلمی دنیا نے بھی ان کا رخ کیا اور انہوں نے متعدد فلموں کے لیے گیت تحریر کیے، جن میں سے کئی بے حد مقبول ہوئے۔

لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۱۹۵۲ء کے بعد وہ بلا کی سگریٹ اور بیڑی نوشی میں مبتلا ہو گئے۔ آہستہ آہستہ وہ دنیا اور اپنے آپ، دونوں سے بے نیاز ہوتے گئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عالمِ بے خودی میں بھی ان کی تخلیقی صلاحیت کم نہ ہوئی۔ وہ غزل، نظم، قطعہ اور فلمی گیت لکھتے رہے اور اردو شاعری کو ایسے شاہکار دے گئے جو آج بھی زندہ ہیں۔

ساغر صدیقی کے شعری مجموعوں میں ’زہرِ آرزو‘، ’غمِ بہار‘، ’شبِ آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوحِ جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتلِ گل‘ اور ’کلیاتِ ساغر‘ شامل ہیں۔

ساغر کی شاعری میں عشق، محرومی، تنہائی، خودداری، فقر، روحانی اضطراب اور انسانی دکھوں کا ایسا گہرا احساس ملتا ہے جو انہیں اردو غزل کے منفرد ترین شاعروں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔

جنوری ۱۹۷۴ء میں انہیں فالج کا شدید حملہ ہوا، جس سے ان کا دایاں بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد منہ سے خون آنے لگا اور مسلسل بیماری نے ان کے جسم کو تحلیل کر دیا۔ بالآخر ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کو صرف چھیالیس برس کی عمر میں یہ دردمند شاعر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

ریڈیو پاکستان اردو کے ممتاز شاعر ساغر صدیقی کو ان کی برسی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Gilgit FM93 Radio Pakistan Dera Ismail Khan NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN @

13/07/2026

یونیورسٹی آف میانوالی، پہلا کانووکیشن ۔۔۔
رجسٹرار اور وائس چانسلر سے گفتگو ۔۔
) کنووکیشن منعقدہ 10 جولائی 2026 کی رپورٹ، جو تیکنیکی اشو کی وجہ سے آج اپلوڈ کی گئی ہے)

28/06/2026

میانوالی میں سرگودھا ڈویژن کی قتل کی سب سے بڑی صلح کی تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان مہمان خصوصی تھے ۔ 2015 میں شروع ہونے والی قتل کی اس دشمنی میں نو افراد لقمہ اجل بنے۔ 2019 میں فریقین کی جانب سے آخری قتل ہوئے جس کے بعد معززین علاقہ نے اس دشمنی کو ختم کرکے صلح میں تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کیں جو آخر کار کامیاب ہوئیں۔ زیادہ قصور وار فریق پر صلح کے لیے ایک کروڑ، بیس لاکھ روپے جرمانہ رکھا گیا۔ رقم متاثرہ فریق کو دی گئی، تاہم انہوں نے یہ رقم اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دی۔ مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے اس صلح کو نہ صرف میانوالی بلکہ پورے پنجاب کے لیے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے صلح کرانے میں کردار ادا کیا ہے، اللہ انہیں نیک اجر دے۔ صلح کرانے اور صلح کرنے والوں نے آئندہ نسلوں کو بچا لیا ہے۔

16/06/2026

تنویر خالد، کچھ عرصہ قبل ڈائریکٹر انفارمیشن آفس میانوالی کے عہدہ جلیلہ سے ریٹائرڈ ہوئے تھے... میانوالی میں اپنے 18 سالہ قیام کے بعد 18 جون 2026 کو اپنے آبائی شہر کروڑ لعل عیسن چلے جائیں گے. ان کے اس سرکاری عہدے کے دوران ان کا اور ریڈیو پاکستان میانوالی کا آپس میں بہت گہرا تعلق قائم رہا کیونکہ ضلعی انفارمیشن آفس کا صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ گہرا پیشہ ورانہ تعلق ضروری ہوتا ہے... انہوں نے اپنے قیام کے دوران بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، کئی علمی و ادبی اور سماجی و اخلاقی تقریبات کا انعقاد کیا. وہ بے پناہ خوبیوں کے مالک اپنی ذات میں انجمن ہیں.
میانوالی سے رخصت ہونے کے موقع پر ریڈیو پاکستان میانوالی نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا انعقاد بھی کیا اور ان کا خصوصی انٹرویو بھی کیا. شریک گفتگو رہے... نسیم عباس اور اسٹیشن ڈائریکٹر ،احمد آفتاب نیازی

12/06/2026

باران رحمت اور بلوخیل میانوالی...
جون کے جھلسا دینے والے دنوں میں اپنے رب کریم کی مہربانیاں تو ملاحظہ کیجئے کہ کیسے اس مہربان رب نے باران رحمت سے ماحول کو ٹھنڈا ٹھار کر کے رکھ دیا ہے

Address

Mianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Mianwali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Radio Pakistan Mianwali:

Shortcuts

Share