19/07/2026
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
ساغر کتھا
ایک منفرد شاعر، ایک منفرد انسان کی داستان
وہ ایک منفرد شاعر تھا، لیکن اس سے کہیں بڑھ کر ایک قطعی منفرد انسان۔ اتنا منفرد کہ بٹوارے کے بعد لاہور کے سب سے زیادہ افسانہ ہائے عامہ (Folklore) اُسی کی ذات سے جا کر جُڑتے ہیں۔
ویسے اِس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ اُسے اپنے فنِ شاعری سے زیادہ اپنی طرزِ زندگی کے باعث شہرت (یا بدنامی) ملی۔ پرانے لاہوری اُس کی ذات سے پہلا افسانۂ عامہ یہ منسوب کرتے ہیں کہ اُس سے زیادہ سُر اور ترنُّم کے ساتھ شاید ہی کسی شاعر نے اپنا کلام پڑھا ہو۔ دوسرا افسانۂ عامہ یہ کہ وہ حالتِ خبطُ الحواسِی میں، نگاہیں جُھکائے، ہونٹوں میں سگریٹ یا بیڑی دبائے، خودکلامی کرتا ہوا، ننگے پاؤں لاہور کی سڑکوں پر گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ زندہ دلانِ لاہور نے اپنے شہر کا شاید ہی کوئی گوشہ اس کی ذات سے وابستہ نہ کیا ہو۔ کوئی دعویٰ کرتا کہ اُس نے اُسے موری دروازے کے باہر دیکھا تھا، کوئی سرکلر روڈ پر اُس سے ملاقات کا ذکر کرتا، تو کوئی داتا دربار، ٹکسالی دروازہ، لوہاری دروازہ، میکلوڈ روڈ یا بادامی باغ میں اُس سے ہم کلام ہونے کی شیخی بگھارتا۔
تیسرا افسانۂ عامہ یہ تھا کہ بچے اُسے “چادر والی مائی” کہہ کر چھیڑتے تھے، کیونکہ وہ اکثر میلے کچیلے کپڑوں کے اُوپر کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی ایک سیاہ چادر اوڑھے رکھتا تھا۔ بچوں کے چھیڑنے اور تعاقب پر وہ گھبرا کر تیز قدموں سے وہاں سے نکل جاتا تھا۔
اُس سے ایک اور افسانۂ عامہ یہ بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ اُس کے بال جٹا دھاری سادھوؤں کی مانند کندھوں، گردن اور چہرے پر بکھرے رہتے تھے۔ وہ کئی کئی ماہ نہ نہاتا ، نہ داڑھی بنواتا اور نہ ہی بال کٹواتا ۔ ایک اور افسانۂ عامہ یہ کہ ایک کتا ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتا، جسے وہ کھلاتا، پلاتا اور اپنے ہاتھوں سے سہلاتا رہتا تھا۔
البتہ اُس کی ذات سے متعلق سب سے زیادہ مشہور افسانۂ عامہ یہ ہے کہ لاہور کی فلم نگری کا کوئی چالاک، چلتر اور چرب زبان فلم ساز یا ہدایت کار اُس کے پاس آتا، اُس کی ہتھیلی پر چونی، اٹھنی یا روپیہ رکھتا، اپنی فلم کے لیے درکار گیت کی صورتِ حال بیان کرتا، اور یہ زودگو شاعر سگریٹ کی ڈبی یا اُس کی کناری کی پشت پر فی البدیہہ گیت لکھ کر اُس کے حوالے کر دیتا۔ پھر وہی گیت فلم کی کامیابی کی ضمانت بن جاتا۔
ان تمام افسانہ ہائے عامہ میں کتنی حقیقت ہے اور کس قدر افسانہ سازی، اس کا علم اللہ جلَّ شانہٗ کے سوا کسی کو نہیں۔ لیکن ایک حقیقت مُسلَّم ہے کہ جب لوگوں نے صحیح معنوں میں اُس کی ذات میں پوشیدہ جوہر کو پہچانا اور اُسے ایک باوقار شاعر کے طور پر تسلیم کرنا شروع کیا، تب تک اُس کا جسم جواب دے چکا تھا۔ فالج اُس کا ایک بازو ناکارہ کر چکا تھا، جبکہ مسلسل سگریٹ اور بیڑی نوشی اُس کے پھیپھڑوں کو گُھن کی طرح چاٹ چکی تھی۔ وہ داتا دربار کے پہلو میں واقع پائلٹ ہوٹل کے سامنے کے فٹ پاتھ پر بیماری سے نڈھال پڑا رہتا تھا۔
پھر ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کی صبح اِسی فٹ پاتھ پر ایک راہ گیر نے اُسے مردہ حالت میں دیکھا۔ شور و غوغا پر آس پاس کے لوگ جمع ہوئے، کچھ جاننے والے اور کچھ اجنبی۔ جنازہ پڑھایا گیا اور لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں یہ شاعر اپنی ادھوری کتھا اپنے ساتھ لیے منوں مٹی تلے جا سویا۔
آج اسی بے مثال شاعر اور افسانوی شخصیت کے مالک ساغر صدیقی کی باونویں برسی ہے۔
ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا۔ وہ ۱۹۲۸ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے گھر میں شدید غربت تھی۔ مالی حالات ایسے نہ تھے کہ باقاعدہ تعلیم کا انتظام ہو سکتا۔ محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن نے انہیں ابتدائی تعلیم دی۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے غیر معمولی شغف تھا۔ حساس طبیعت، غیر معمولی حافظہ اور موزوں طبع نے انہیں بہت جلد شعر گوئی کی طرف مائل کر دیا۔ ابتدا میں وہ ناصر حجازی کے قلمی نام سے شعر کہتے تھے، لیکن جلد ہی ساغر صدیقی کا تخلُّص اختیار کر لیا، جو بعد میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔
انبالہ کی تنگ دستی سے دل اچاٹ ہوا تو وہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں امرتسر جا پہنچے، جہاں انہوں نے لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت اختیار کی اور یہی ہنر بھی سیکھ لیا۔ شاعری کا سلسلہ اس دوران بھی جاری رہا۔ ۱۹۴۴ء میں امرتسر کے ایک آل انڈیا مشاعرے میں اتفاقاً انہیں اپنا کلام سنانے کا موقع ملا۔ ان کی مترنم آواز، بے مثال سوز اور دل میں اتر جانے والے اشعار نے سامعین کو اس طرح مسحور کر دیا کہ وہ ایک ہی نشست میں ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس کے بعد لاہور اور امرتسر کے مشاعروں میں انہیں باقاعدگی سے مدعو کیا جانے لگا، یہاں تک کہ شاعری ہی ان کا ذریعۂ معاش بھی بن گئی اور انہوں نے کنگھیاں بنانے کا کام ترک کر دیا۔
تقسیمِ ہند کے بعد ساغر لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں انہوں نے معروف شاعر لطیف انور گورداسپوری سے اپنے کلام کی اصلاح لی اور ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۲ء تک کا عرصہ ان کی ادبی زندگی کا سنہرا دور ثابت ہوا۔ اس دوران ان کا کلام ملک کے ممتاز اخبارات، ادبی جرائد اور رسائل میں نمایاں طور پر شائع ہوتا رہا۔ ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فلمی دنیا نے بھی ان کا رخ کیا اور انہوں نے متعدد فلموں کے لیے گیت تحریر کیے، جن میں سے کئی بے حد مقبول ہوئے۔
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۱۹۵۲ء کے بعد وہ بلا کی سگریٹ اور بیڑی نوشی میں مبتلا ہو گئے۔ آہستہ آہستہ وہ دنیا اور اپنے آپ، دونوں سے بے نیاز ہوتے گئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عالمِ بے خودی میں بھی ان کی تخلیقی صلاحیت کم نہ ہوئی۔ وہ غزل، نظم، قطعہ اور فلمی گیت لکھتے رہے اور اردو شاعری کو ایسے شاہکار دے گئے جو آج بھی زندہ ہیں۔
ساغر صدیقی کے شعری مجموعوں میں ’زہرِ آرزو‘، ’غمِ بہار‘، ’شبِ آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوحِ جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتلِ گل‘ اور ’کلیاتِ ساغر‘ شامل ہیں۔
ساغر کی شاعری میں عشق، محرومی، تنہائی، خودداری، فقر، روحانی اضطراب اور انسانی دکھوں کا ایسا گہرا احساس ملتا ہے جو انہیں اردو غزل کے منفرد ترین شاعروں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔
جنوری ۱۹۷۴ء میں انہیں فالج کا شدید حملہ ہوا، جس سے ان کا دایاں بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد منہ سے خون آنے لگا اور مسلسل بیماری نے ان کے جسم کو تحلیل کر دیا۔ بالآخر ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کو صرف چھیالیس برس کی عمر میں یہ دردمند شاعر دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ریڈیو پاکستان اردو کے ممتاز شاعر ساغر صدیقی کو ان کی برسی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان
Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Gilgit FM93 Radio Pakistan Dera Ismail Khan NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN @