22/06/2021
کتابوں کی دنیا
انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی معاشرہ کسی قدر منظم ہوا ہے اور انسان نے تہذیبی زندگی شروع کی ہے تو کتاب کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہی ہے.کتاب موجودہ صورت میں حال ہی کی ایجاد ہے.قدیم زمانے میں کتابیں درختوں کے پتوں,چھال,سوتی اور ریشمی کپڑوں ,مٹی کی ٹکیوں,تختیوں,چمڑے کے ٹکڑوں اور پیپرس پر لکھی جاتی تھیں.
پیپرس ایک طرح کا کاغذ تھا,مصری ایک خاص قسم کے سر کنڈے کے گودے کو کاٹ کر کاغذ بنایا کرتے تھے,اور اسکو پیپرس کہتے تھے,موجودہ لفظ پیپر بھی اس اسی سے بنا ہے.یہ مخصوص سرکنڈہ جس سے مصری کاغذ بنایا کرتے تھے دریائے نیل کی وادیوں میں پایا جاتا تھا.کئی صدیاں گزرنے کے بعد جاپان اور چین میں شہتوت کی لکڑی سے بھی کاغذ بنایا جانے لگا.
قدیم مصر یا شام میں کتاب اس اینٹ ,قرص یا مٹی کی تختی کو کہتے تھے جس پر کچھ علامتیں کندہ ہوتی تھیں.
حضرت موسیٰ علیہ سلام کی کتاب تورات بھی پتھروں پر کندہ کی گئی تھی.مصر میں لفظ کتاب نقشہ کی لکڑی کی ڈنڈی پر لپٹے ہوئے چرمی کاغذ کے لیے مستعمل تھا جس پر عبارت لکھی ہوتی تھی.
قدیم روم اور یونان میں بھی کتاب سے یہی مفہوم لیا جاتا تھا.قدیم کتب خانہ نینوا کے کھنڈرات سے برآمد ہوا.اس میں جو کتابیں ہیں وہ پہلے مٹی کی کچی تختیوں پر تحریر کی گئ تھیں اور پھر ان تختیوں کو پکایا گیا تھا.پہلے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں.مطبوعہ کتابیں اگرچہ پندرھویں صدی عیسوی میں یورپ میں رائج ہوئی تھیں لیکن طباعت کی ایجاد کا سہرا چینیوں کے سر ہے.
کہا جاتا ہے کہ قدیم کتاب 828 عیسوی کو چھپائی گئ .اس کی ابتدا ٹھپے کی چھپائی سے ہوئی تھی.100 سال پہلے چین کے صوبے, کانوں ,میں یہ کتاب ملی.حروف کی چھپائی بھی چین میں شروع ہوئی.پی تنگ,نامی شخص اس کا موجد تھا.
برصغیر پاک و ہند میں طباعت کء ابتدا سترھویں صدی میں ہوئی.مغل بادشاہ اگرچہ ہر نئ چیز کا خیر مقدم کرتے تھے مگر انھوں نے طباعت میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی.
سترھویں صدی کے وسط میں برصغیر میں چھاپہ خانہ قائم کیا گیا.
آج کل بازاروں میں ہر طرح کی کتابوں کی ریل پیل ہے.ہر سائز اور ہر رنگ میں ہر موضوع پر کتابیں مل سکتی ہیں لیکن ہر کتاب کتاب نہیں ہوتی اور نہ ہی ہرکتاب کا ہر شخص کے لیے پڑھنا مفید ہوسکتا ہے.سنجیدہ کتابیں پڑھنی چاہئیں.
عظیم کتابوں کی عظیم روشنی سے خود کو محروم رکھنا بدنصیبی ہوتی ہے.
گھٹیا قسم کی کتابوں سے دور رہنا چاہئیے.صرف پیسہ کمانے کے لیے زہر سے بھرے لٹریچر کو تصویروں وغیرہ سے مزین کر کے بڑے خوبصورت کورز میں چھاپتے رہتے ہیں.
صرف رزق ہی سے نہیں بعض کتابوں سے بھی پرواز میں کوتاہی آتی ہے.
اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
سردار عمران