AHC tv

AHC tv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AHC tv, Landmark & historical place, chadhar colony, Mirpur Mathelo.

اپنے قبیلے کی ہسٹری جاننے کہ لیئے میرے یوٹیوب چینل
https://youtube.com/?si=j_ZC1BTTFUm5t16p
سے جڑ جائیں اور ہم سے رابطہ کریں ہم بتائیں گے آپ کو اپ کے قبیلے کہ ہسٹری

ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی کتاب "نائچ نامہ" کی تقریبِ رونمائی کا احوال​علم و ادب کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ!​ڈاکٹر لعل بخش...
12/04/2026

ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی کتاب "نائچ نامہ" کی تقریبِ رونمائی کا احوال
​علم و ادب کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ!
​ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی نئی کتاب "نائچ نامہ" المعروف "پیڑھی نامہ" کی تعارفی تقریب ان کے آبائی گاؤں میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ادیبوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور نائچ برادری کے دوستوں نے بھرپور شرکت کر کے اس علمی کاوش کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ کتاب نہ صرف نائچ قبیلے کی تاریخ بلکہ خطے کے ثقافتی پس منظر کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
​ڈاکٹر صاحب کو اس عظیم علمی سفر کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
​ #تاریخ #ادب #سندھ #ثقافت

نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ: جٹ تاریخ کا ایک روشن باب اور چدھڑ قبیلے کا تذکرہتحریر: علی حسن چدھڑ تاریخ محض ماضی کے قصوں کا ...
11/04/2026

نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ: جٹ تاریخ کا ایک روشن باب اور چدھڑ قبیلے کا تذکرہ

تحریر: علی حسن چدھڑ

تاریخ محض ماضی کے قصوں کا نام نہیں بلکہ یہ کسی قوم یا قبیلے کی پہچان اور اس کی جڑوں کی تلاش کا نام ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی مرتب کردہ کتاب نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ" منظرِ عام پر آئی ہے، جو بلاشبہ جٹ قبائل کی تاریخ پر ایک مستند اور گراں قدر دستاویز ہے۔ یہ کتاب صرف ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ ایک عمر کی ریاضت اور ان تھک محنت کا وہ نچوڑ ہے جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
مصنف کی شخصیت اور علمی جذبہ
ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی شخصیت علم و تحقیق کا ایک ایسا روشن مینار ہے جن کی ہمت کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس علم اور جستجو سے نوازا ہے، اس کا منہ بولتا ثبوت ان کا یہ علمی کام ہے۔ بڑھاپے کی دہلیز پر جہاں لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے اپنی تمام تر توانائیاں اپنی برادری اور خطے کی تاریخ کو محفوظ کرنے میں صرف کر دیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قلم کی طاقت اور تحقیق کا جذبہ عمر کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
کتاب کا پس منظر اور وسعت
اگرچہ کتاب کا نام "نائچ نامہ" رکھا گیا ہے تاکہ وہ اپنی برادری کو دنیا کے سامنے متعارف کروا سکیں، لیکن حقیقت میں یہ کتاب جٹ قبائل کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں پاکستان کے تمام اہم جٹ قبائل کا احاطہ کیا ہے۔ یہ کتاب اس تاریخ کا وہ باب ہے جس کے لیے ڈاکٹر صاحب ہمیشہ کوشاں رہے۔ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے بکھرے ہوئے حوالوں اور پیڑھی ناموں (شجرہ جات) کو یکجا کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی خزانہ چھوڑا ہے۔
چدھڑ ہسٹری: ایک اہم تذکرہ
اس کتاب کی سب سے خاص بات، جو ہم جیسے قارئین کے لیے باعثِ مسرت ہے، وہ چدھڑ قبیلےکا تفصیلی اور زبردست تذکرہ ہے۔ چدھڑ قبیلہ جو اپنی بہادری، غیرت اور شاندار ماضی کی وجہ سے جٹ قبائل میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے، اس کتاب میں اس کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔
کتاب میں جہاں دیگر قبائل کی تاریخ بیان ہوئی ہے، وہیں چدھڑ قبیلے کے شجرے، ان کی ہجرت کے احوال اور ان کی سماجی و سیاسی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، اور اب یہ چھپ کر ہمارے سامنے ہے تو اس کی ایک ایک سطر ڈاکٹر صاحب کی محبت اور سچائی کی گواہی دے رہی ہے۔
حرفِ آخر
"نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ" محض ایک کتاب نہیں بلکہ ہماری شناخت کا آئینہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا تعلق کن عظیم روایات سے ہے۔ ڈاکٹر لعل بخش نائچ جیسے محققین کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگی۔


#چدھڑ #نائچ
# # # **ادب اور تحقیق:**
#تحقیق #ثقافت

تاریخی پس منظر: چدھڑ کون ہیں؟تحریر علی حسن چدھڑ 03013838412اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ چدھڑ قبیلے کا تعلق کس نسل یا ع...
11/04/2026

تاریخی پس منظر: چدھڑ کون ہیں؟

تحریر علی حسن چدھڑ
03013838412

اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ چدھڑ قبیلے کا تعلق کس نسل یا علاقے سے ہے؟ کیا وہ پنجابی ہیں، بلوچ، پٹھان یا سندھی؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں قدیم جغرافیائی سرحدوں اور تاریخ کے اوراق کو پلٹنا ہوگا۔
قدیم ریاست اور نسبی تعلق
تاریخی روایات کے مطابق، راجہ طور نے دہلی کے قریب ایک ریاست کی بنیاد رکھی جسے دہلی طوراں کہا جاتا تھا۔ اس خاندان نے وہاں ایک طویل عرصے تک حکومت کی۔ اسی سلسلے کی کڑی راجہ رائے ویلان کے بیٹے راجہ رائے چدھڑ سے جا ملتی ہے۔
قدیم سندھ کی سرحدیں اور ہجرت
ایک دور میں قدیم سندھ کی سرحدیں قندھار، کابل اور کشمیر سے ہوتی ہوئی دہلی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی بھی کسی زمانے میں سندھ کا حصہ رہی ہے۔ جب راجپوتوں پر بیرونی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو چدھڑ برادری کے مختلف دستے وہاں سے ہجرت کر کے راجستھان کے راستے ملتان اور جھنگ کے علاقوں میں آباد ہوئے۔
لسانی و جغرافیائی پہچان
زبان چدھڑ قبیلہ زیادہ تر سرائیکی زبان بولتا ہے، جسے ماہرین لسانیات سندھی زبان کی قریبی شاخ یا اس کا نعم البدل قرار دیتے ہیں۔ اس لسانی اشتراک کی بنیاد پر چدھڑ قبیلے کی جڑیں سندھی تہذیب سے جڑی ہوئی ہیں۔
جغرافیہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک سرائیکی پٹی کے کئی علاقے سندھ کی انتظامی حدود کا حصہ تصور کیے جاتے تھے۔
نقل مکانی 'ٹالھی منگنی' کے مشہور تاریخی واقعے کے بعد اس قبیلے نے مختلف علاقوں کی طرف نقل مکانی کی اور آج یہ قبیلہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے، تاہم ان کی اکثریت آج بھی سندھ اور سرائیکی بیلٹ میں مقیم ہے۔
نتیجہ
چدھڑ بنیادی طور پر ایک قدیم سورج بنسی راجپوت قبیلہ ہے، جس کی تاریخ، زبان اور ثقافت اسے قدیم سندھ اور ملتان کی تہذیب سے مضبوطی سے جوڑتی ہے۔

#چدھڑ #تاریخ #سندھ

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 10

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 9

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 8

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 7

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 6

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 5

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 4

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 3

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 2

Address

Chadhar Colony
Mirpur Mathelo

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHC tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share