AHC tv

AHC tv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AHC tv, Landmark & historical place, chadhar colony, Mirpur Mathelo.

اپنے قبیلے کی ہسٹری جاننے کہ لیئے میرے یوٹیوب چینل
https://youtube.com/?si=j_ZC1BTTFUm5t16p
سے جڑ جائیں اور ہم سے رابطہ کریں ہم بتائیں گے آپ کو اپ کے قبیلے کہ ہسٹری

چدھڑ قبیلہ: جٹ محنت کا استعارہ یا راجپوت شاہی کا تسلسل؟**تحریر: علی حسن چدھڑ 03013838412تاریخ کے جھروکوں سے جب ہم برصغیر...
22/04/2026

چدھڑ قبیلہ: جٹ محنت کا استعارہ یا راجپوت شاہی کا تسلسل؟
**تحریر: علی حسن چدھڑ
03013838412

تاریخ کے جھروکوں سے جب ہم برصغیر کی جنگجو اور زراعت پیشہ اقوام کا مطالعہ کرتے ہیں، تو چدھڑ ایک ایسا معتبر نام بن کر ابھرتا ہے جس کی جڑیں راجپوتانہ کی تپتی ریت سے لے کر چناب کے زرخیز کناروں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک بحث جو اکثر علمی حلقوں اور پنچایتوں میں چھڑتی ہے، وہ یہ ہے کہ: کیا چدھڑ جٹ ہیں یا راجپوت؟
اس گتھی کو سلجھانے کے لیے ہمیں محض شجروں کو نہیں، بلکہ تاریخ کے بدلتے ہوئے سماجی اور معاشی دھاروں کو دیکھنا ہوگا۔تاریخی پس منظر: راجپوتانہ سے ملتان تک
تاریخی روایات کے مطابق، چدھڑ قبیلہ اپنی اصل کے اعتبار سے سورج بنسی راجپوت شاخ سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد کا ماضی کسی تعارف کا محتاج نہیں؛ وہ ہزاروں سال تک برصغیر کے مختلف حصوں اور دہلی طوراں پر بطور مہاراجہ اور حکمران متمکن رہے۔ ان کا ماضی شجاعت، بہادری اور شاہی جاہ و جلال سے عبارت رہا ہے۔
جب حالات کے جبر یا نقل مکانی کی لہر نے انہیں دہلی طوراں راجپوتانہ کے ریگزاروں سے نکال کر ملتان، جھنگ اور ٹالھی منگنی (سندھ و پنجاب کی سرحد) کی طرف ہجرت پر مجبور کیا، تو یہاں سے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہوا۔
تقدیر بدلی تو پہچان بدل گئی
"جٹ" یا "راجپوت" کا فرق خون کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ جب یہ قبیلہ راجپوتانہ کو خیرباد کہہ کر دریائے چناب کے کچے کے علاقوں میں آباد ہوا، تو انہوں نے تلوار کے بجائے ہل کو اپنا رفیق بنا لیا اور انہوں نے چناب کی بنجر اور کچی زمینوں پر دن رات پسینہ بہایا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ بہترین کاشتکار بن گئے اور ساتھ ہی مویشی پالنے کے فن میں بھی کمال حاصل کر لیا۔
برصغیر کے سماجی ڈھانچے میں زراعت سے وابستہ لوگوں کو "جٹ" کے لقب سے پکارا جانے لگا۔ چونکہ چدھڑ قبیلے نے اس پیشے میں نام پیدا کیا اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا، اس لیے انہوں نے فخر سے خود کو "جٹ" کہلوانا شروع کر دیا۔
چدھڑ قبیلے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ کسی ایک لسانی اکائی تک محدود نہیں رہا۔ یہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں پنجابی، سندھ کی وادیوں میں سندھی اور بعض سرحدی علاقوں میں بلوچ یا پٹھان ثقافت کا حصہ بھی بنے۔ لیکن ان سب کا مرکز و منبع ایک ہی ہے—یعنی چدھڑ کی پشت اصل میں جٹ ہو یا راجپوت، یہ قبیلہ ایک ہی نسل سے ہے۔ فرق صرف طرزِ زندگی کا ہے۔"
تاریخ گواہ ہے کہ چدھڑ قبیلہ جہاں بھی رہا، اس نے دریاؤں اور نہروں کے کنارے آباد ہونے کو ترجیح دی۔ یہ پانی سے ان کی محبت اور زمین سے ان کی وابستگی کا ثبوت ہے۔ آج اگر کوئی چدھڑ خود کو جٹ کہتا ہے، تو یہ اس کی زمین سے وفاداری اور محنت کا اعتراف ہے، اور اگر وہ خود کو راجپوت کہتا ہے، تو یہ اس کے آباؤ اجداد کی اس شاہی وراثت کا تسلسل ہے جس نے صدیوں تک اس خطے کی تقدیر لکھی۔
حقیقت یہ ہے کہ چدھڑ ایک ایسی ہمہ گیر شناخت کا نام ہے جس میں راجپوتوں کی غیرت اور جٹ بھائیوں کی جفاکشی ایک ساتھ دھڑکتی ہے۔ یہ قبیلہ محض ایک قوم نہیں، بلکہ برصغیر کی تہذیبی تاریخ کا ایک مکمل باب ہے۔

#چدھڑ
#تاریخ #راجپوتانہ #کاشتکاری #ثقافت #اجداد

چدھڑ قبیلہ: دہلی طوراں سے ٹالھی منگنی تک ایک تاریخی سفرتحریر۔ علی حسن احسن چدھڑ 03013838412چدھڑ قبیلے کی تاریخ برصغیر کی...
15/04/2026

چدھڑ قبیلہ: دہلی طوراں سے ٹالھی منگنی تک ایک تاریخی سفر

تحریر۔ علی حسن احسن چدھڑ
03013838412

چدھڑ قبیلے کی تاریخ برصغیر کی ان قدیم اور جرات مند داستانوں میں سے ایک ہے جو اپنی جڑوں کی تلاش میں نکلنے والے محققین کے لیے ہمیشہ باعثِ کشش رہی ہے۔ اس قبیلے کے تاریخی سفر کے دو اہم ترین پڑاؤ 'دہلی طوراں' اور 'ٹالھی منگنی' ہیں، جو نہ صرف جغرافیائی مقامات ہیں بلکہ اس قبیلے کی سیاسی و سماجی جاہ و جلال کے گواہ بھی ہیں۔
تاریخ کہ اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چدھڑ قبیلہ اپنی بہادری، سخاوت اور خاندانی جاہ و جلال کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس قبیلے کی تاریخ کے دو عہد ایسے ہیں جنہیں اس کی عظمت کا ستون مانا جاتا ہے۔
پہلا تخت گاہ: دہلی طوراں
چدھڑ قبیلے کی سیاسی تاریخ کا پہلا باقاعدہ مرکز 'دہلی طوراں' کہلاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب یہ قبیلہ اپنی شناخت کو مستحکم کر رہا تھا۔ دہلی طوراں محض ایک مقام نہیں بلکہ اس قبیلے کی طاقت کا وہ مرکز تھا جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی فتوحات اور نظم و نسق کی بنیاد رکھی۔
روایت ہے کہ قدیم دور میں جب قبائلی عصبیت اور طاقت کا سکہ چلتا تھا، اس وقت دہلی طوراں میں چدھڑ قبیلے کے اکابرین راجہ طور نے اپنی روایات کو پروان چڑھایا۔ یہاں کی مٹی میں آج بھی ان کے اجداد کی جرات کی کہانیاں دفن ہیں۔
دوسرا تخت گاہ: ٹالھی منگنی
وقت کی لہروں کے ساتھ جب انسانی بستیاں منتقل ہوئیں، اور باہر کہ جنگجووں نے راجپوتوں پر حملے اور چدھڑ قبیلے نے نقل مقامی کی تو چدھڑ قبیلے نے اپنا دوسرا بڑا مرکز 'ٹالھی منگنی' کو بنایا۔ یہ مقام قبیلے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوا، ٹالھی منگنی کا علاقہ اپنی زرخیزی اور قبائلی اثر و رسوخ کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اسے قبیلے کا دوسرا "تخت" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے چدھڑ سرداروں نے طویل عرصے تک اپنے معاملات چلائے اور دیگر قبائل کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی۔ یہ قبیلہ اپنی بہادری سے مشہور تھا ایک وقت آیا کہ کچھ قبائل کہ ساتھ ایک بڑی جنگ چھڑی جس میں کئی قتل ہوئے اور اس کہ بعد کچھ لوگوں نے آج کہ پاکستان کہ کئی علاقوں میں جا کر بسے اور زمیداری کو اپنا پیشا بنا لیا تب ہی تو چدھڑ قبیلے کی باشندے اچھے کاشتکار ہیں۔
اگر دہلی طوراں کو بنیاد مانا جائے تو ٹالھی منگنی وہ مقام ہے جہاں اس قبیلے نے سماجی استحکام پایا۔ یہاں کی پنچایتیں اور فیصلے پورے علاقے میں مستند مانے جاتے تھے۔
تاریخی تسلسل اور علمی اہمیت
کسی بھی قبیلے کے لیے اپنی 'تخت گاہوں' (دارالحکومتوں) کا تحفظ دراصل اپنی شناخت کا تحفظ ہوتا ہے۔ چدھڑ قبیلے نے جس طرح ان مقامات کی تاریخ کو سینے سے لگا کر رکھا ہے، وہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ "میرا قبیلہ چدھڑ" جیسے تاریخی کاموں کے ذریعے ان مقامات کی مزید کھوج لگائی جائے۔ دہلی طوراں کی قدیم شان اور ٹالھی منگنی کا سماجی عروج محض قصے نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب کے نقش ہیں۔ یہ مقامات بتاتے ہیں کہ یہ قبیلہ کبھی بھی منتشر گروہ نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ ایک منظم نظام اور ایک مضبوط مرکز کے تحت زندگی گزارتا آیا ہے۔
دہلی طوراں سے ٹالھی منگنی تک کا سفر محض ہجرت کا سفر نہیں، بلکہ یہ اقتدار، روایت اور خاندانی وقار کی بقا کا سفر ہے۔ تاریخ کے یہ دو مراکز ہمیشہ چدھڑ قبیلے کی عظمت کی گواہی دیتے رہیں گے۔

#چدھڑ #راجپوت #تاریخ #پاکستان #ثقافت


ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی کتاب "نائچ نامہ" کی تقریبِ رونمائی کا احوال​علم و ادب کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ!​ڈاکٹر لعل بخش...
12/04/2026

ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی کتاب "نائچ نامہ" کی تقریبِ رونمائی کا احوال
​علم و ادب کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ!
​ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی نئی کتاب "نائچ نامہ" المعروف "پیڑھی نامہ" کی تعارفی تقریب ان کے آبائی گاؤں میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ادیبوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور نائچ برادری کے دوستوں نے بھرپور شرکت کر کے اس علمی کاوش کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ کتاب نہ صرف نائچ قبیلے کی تاریخ بلکہ خطے کے ثقافتی پس منظر کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
​ڈاکٹر صاحب کو اس عظیم علمی سفر کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
​ #تاریخ #ادب #سندھ #ثقافت

نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ: جٹ تاریخ کا ایک روشن باب اور چدھڑ قبیلے کا تذکرہتحریر: علی حسن چدھڑ تاریخ محض ماضی کے قصوں کا ...
11/04/2026

نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ: جٹ تاریخ کا ایک روشن باب اور چدھڑ قبیلے کا تذکرہ

تحریر: علی حسن چدھڑ

تاریخ محض ماضی کے قصوں کا نام نہیں بلکہ یہ کسی قوم یا قبیلے کی پہچان اور اس کی جڑوں کی تلاش کا نام ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی مرتب کردہ کتاب نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ" منظرِ عام پر آئی ہے، جو بلاشبہ جٹ قبائل کی تاریخ پر ایک مستند اور گراں قدر دستاویز ہے۔ یہ کتاب صرف ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ ایک عمر کی ریاضت اور ان تھک محنت کا وہ نچوڑ ہے جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
مصنف کی شخصیت اور علمی جذبہ
ڈاکٹر لعل بخش نائچ کی شخصیت علم و تحقیق کا ایک ایسا روشن مینار ہے جن کی ہمت کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس علم اور جستجو سے نوازا ہے، اس کا منہ بولتا ثبوت ان کا یہ علمی کام ہے۔ بڑھاپے کی دہلیز پر جہاں لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے اپنی تمام تر توانائیاں اپنی برادری اور خطے کی تاریخ کو محفوظ کرنے میں صرف کر دیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قلم کی طاقت اور تحقیق کا جذبہ عمر کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
کتاب کا پس منظر اور وسعت
اگرچہ کتاب کا نام "نائچ نامہ" رکھا گیا ہے تاکہ وہ اپنی برادری کو دنیا کے سامنے متعارف کروا سکیں، لیکن حقیقت میں یہ کتاب جٹ قبائل کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں پاکستان کے تمام اہم جٹ قبائل کا احاطہ کیا ہے۔ یہ کتاب اس تاریخ کا وہ باب ہے جس کے لیے ڈاکٹر صاحب ہمیشہ کوشاں رہے۔ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے بکھرے ہوئے حوالوں اور پیڑھی ناموں (شجرہ جات) کو یکجا کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی خزانہ چھوڑا ہے۔
چدھڑ ہسٹری: ایک اہم تذکرہ
اس کتاب کی سب سے خاص بات، جو ہم جیسے قارئین کے لیے باعثِ مسرت ہے، وہ چدھڑ قبیلےکا تفصیلی اور زبردست تذکرہ ہے۔ چدھڑ قبیلہ جو اپنی بہادری، غیرت اور شاندار ماضی کی وجہ سے جٹ قبائل میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے، اس کتاب میں اس کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔
کتاب میں جہاں دیگر قبائل کی تاریخ بیان ہوئی ہے، وہیں چدھڑ قبیلے کے شجرے، ان کی ہجرت کے احوال اور ان کی سماجی و سیاسی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، اور اب یہ چھپ کر ہمارے سامنے ہے تو اس کی ایک ایک سطر ڈاکٹر صاحب کی محبت اور سچائی کی گواہی دے رہی ہے۔
حرفِ آخر
"نائچ نامہ عرف پیڑھی نامہ" محض ایک کتاب نہیں بلکہ ہماری شناخت کا آئینہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا تعلق کن عظیم روایات سے ہے۔ ڈاکٹر لعل بخش نائچ جیسے محققین کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگی۔


#چدھڑ #نائچ
# # # **ادب اور تحقیق:**
#تحقیق #ثقافت

تاریخی پس منظر: چدھڑ کون ہیں؟تحریر علی حسن چدھڑ 03013838412اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ چدھڑ قبیلے کا تعلق کس نسل یا ع...
11/04/2026

تاریخی پس منظر: چدھڑ کون ہیں؟

تحریر علی حسن چدھڑ
03013838412

اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ چدھڑ قبیلے کا تعلق کس نسل یا علاقے سے ہے؟ کیا وہ پنجابی ہیں، بلوچ، پٹھان یا سندھی؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں قدیم جغرافیائی سرحدوں اور تاریخ کے اوراق کو پلٹنا ہوگا۔
قدیم ریاست اور نسبی تعلق
تاریخی روایات کے مطابق، راجہ طور نے دہلی کے قریب ایک ریاست کی بنیاد رکھی جسے دہلی طوراں کہا جاتا تھا۔ اس خاندان نے وہاں ایک طویل عرصے تک حکومت کی۔ اسی سلسلے کی کڑی راجہ رائے ویلان کے بیٹے راجہ رائے چدھڑ سے جا ملتی ہے۔
قدیم سندھ کی سرحدیں اور ہجرت
ایک دور میں قدیم سندھ کی سرحدیں قندھار، کابل اور کشمیر سے ہوتی ہوئی دہلی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی بھی کسی زمانے میں سندھ کا حصہ رہی ہے۔ جب راجپوتوں پر بیرونی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو چدھڑ برادری کے مختلف دستے وہاں سے ہجرت کر کے راجستھان کے راستے ملتان اور جھنگ کے علاقوں میں آباد ہوئے۔
لسانی و جغرافیائی پہچان
زبان چدھڑ قبیلہ زیادہ تر سرائیکی زبان بولتا ہے، جسے ماہرین لسانیات سندھی زبان کی قریبی شاخ یا اس کا نعم البدل قرار دیتے ہیں۔ اس لسانی اشتراک کی بنیاد پر چدھڑ قبیلے کی جڑیں سندھی تہذیب سے جڑی ہوئی ہیں۔
جغرافیہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک سرائیکی پٹی کے کئی علاقے سندھ کی انتظامی حدود کا حصہ تصور کیے جاتے تھے۔
نقل مکانی 'ٹالھی منگنی' کے مشہور تاریخی واقعے کے بعد اس قبیلے نے مختلف علاقوں کی طرف نقل مکانی کی اور آج یہ قبیلہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے، تاہم ان کی اکثریت آج بھی سندھ اور سرائیکی بیلٹ میں مقیم ہے۔
نتیجہ
چدھڑ بنیادی طور پر ایک قدیم سورج بنسی راجپوت قبیلہ ہے، جس کی تاریخ، زبان اور ثقافت اسے قدیم سندھ اور ملتان کی تہذیب سے مضبوطی سے جوڑتی ہے۔

#چدھڑ #تاریخ #سندھ

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 10

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 9

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 8

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 7

11/03/2026

‎شہید رمضان دلدار چدھڑ: علم، ادب اور تحقیق کا ایک عہد ساز نام
ماتلی کی دھرتی کے نامور ادیب، شاعر اور محقق شہید رمضان دلدار چدھڑ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی اور روزہ افطار کا اہتمام کیا گیا۔
اس پروقار تقریب میں مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات نمایاں تھیں:
جسقم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی
قاضی عبدالرزاق، یونس رستمانی
مسافر ہالیپوٹو، زاہد حسین چدھڑ اور دیگر معزز مہمان۔
شخصیت پر تبصرہ:
مقررین نے شہید رمضان دلدار چدھڑ کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"رمضان دلدار چدھڑ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی مسائل، ثقافت، ادب اور سچائی کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا۔
ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور ان کا فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

#ماتلی #برسی ‎ Part 6

Address

Chadhar Colony
Mirpur Mathelo

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHC tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share