12/08/2026
میرپور پولیس کی شاندار کارروائی، اندھا قتل 6 گھنٹوں میں ٹریس، ملزمان گرفتار
ترجمان میرپور پولیس کے مطابق مورخہ 2026-08-11 کو بوقت قریب 09:30 بجے دن بذریعہ مددگار15میرپور تھانہ پولیس سٹی میرپور اطلاع ملی کہ بمقام بوہڑ کالونی ڈیم ایریا نزد قبرستان پانی میں ایک سرکٹی نعش موجود ہے ۔ اس اطلاع پرعامر فاروق انسپکٹر SHOتھانہ پولیس سٹی میرپور کو معہ نفری کے برسیدگی موقع ڈیم کے کنارے بوہڑ کالونی مامور کیا گیا۔برسیدگی جائے وقوع ایک سر کٹی نعش اسمی و مسکن نامعلوم موجود پائی جس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ۔جس نے سیاہ رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کی ہوئی تھی موجود پاتے ہوئے بغرض کاروائی قبضہ پولیس میں لی گئی سرسری چھان بین پر مسمیان1۔ یاسف اسلم ولد محمد اسلم قوم گجر ساکن حال جنجوعہ سٹریٹ بن خرماں 2۔مسافر شاہ ولد کٹور خان ساکن پشمال کالام ضلع سوات نے نعش متذکرہ بالا کو شناخت کرتےہوئے بتایا کہ نعش شہزاد ولد ایوب ساکن لائیکوٹ کالام تحصیل بحرین ضلع سوات کی ہے۔ ملاحظہ نعش کرنے پر نامعلوم شخص /اشخاص نے نامعلوم وجوہات کی بناءپر شہزاد مذکور کا کسی تیز دھار آلہ سےبے دردی سے سر تن سے کاٹ کر جدا کرتے ہوئے قتل کیا۔
واقع کی اطلاع پر ایس ایس پی میرپور خرم اقبال کی ہدایت پر محمد نصیر خان ،سکندر اعظم DSP/SDPOضلع ہذاوافسر مہتمم تھانہ پولیس سٹی میرپور معہ نفری کے موقع پر پہنچے توتقریباً ایک فٹ گہرے پانی میں ایک سرکٹی نعش مقتول اسمی و مسکن نامعلوم شخص کی موجود پاکر حفاظت میں لی گئی ۔سرکٹی نعش مقتول کے جسم پر شلوار قمیض برنگ سیاہ زیب تن تھی۔ ملاحظہ نعش کرنے پر اسمی و مسکن نامعلوم کو کسی نے تیز دھار آلہ سے سر تن سے جدا کرکے قتل کیا گیا تھا جبکہ سر غائب پایا ۔نعش سے کوئی شناختی علامت دستیاب نہ ہوئی البتہ نعش کے پارچات زیب تن قمیض کے کف پرWAZIR.T.S کا ٹیگ لگا ہوا تھا جس پر WAZIR.T.S متعلقہ ٹیلر ماسٹر مسمی پرویز کو ٹریس کرتے ہوئے طلب کیاجاکر دریافت /تحقیق کی گئی جس نے بعد از پڑتال ریکارڈ بتلایا کہ کچھ عرصہ قبل یاسف اسلم ولد محمد اسلم قوم گوجر ساکن حال جنجوعہ سٹریٹ بن خرما ں نے ایک شخص کو اس کے پاس کپڑے سلائی کروانے کے لیے ایک لڑکے کو بھیجا تھا جس نے سیاہ رنگ کا سوٹ اس سے سلائی کروایا تھا اور نعش پر موجود پارچات پوشیدگی اسی کے ہی سلائی کردہ ہیں اور نعش اسی لڑکے کی باڈی سے کافی مشابہت رکھتی ہے۔ مسمی یاسف اسلم کو طلب کرتے ہوئے دریافت عمل میں لائی گئی جس نے بتایا کہ مسمی شہزاد ولد ایوب ساکن لائیکوٹ تحصیل بحرین ضلع سوات کو کپڑوں کی سلائی کے لیے پرویز ٹیلر ماسٹر (WAZIR.T.S ) کے پاس بھیجا تھا۔ مذکور نے بتلایاکہ شہزاد مذکور کا موبائل نمبر روز گذشتہ سے بند چلاآرہا ہے۔ اس نے شہزاد مذکور سے گاڑی کے رینٹ کے سلسلہ میں 30,000 روپے وصول کرنے تھے کالیں کرنے پر مذکور کا نمبر بند آرہا ہے۔ شہزاد مذکور نے نزد آزاد چوک سیکٹرF/1 کمرہ کرایہ پر حاصل کررکھا ہے۔نعش متذکرہ کو دیکھ کر تاسف اسلم مذکور نے اس بات کی تائید کی کہ نعش شہزاد مذکور کی باڈی سے کافی مشابہت رکھتی ہے تاہم اگر کمرے میں موجود نہ ہوا تو یہ نعش شہزاد مذکور ہی کی ہوسکتی ہے۔ جس پر مسمی یاسف اسلم مذکور کو ہمراہ رکھتے ہوئے شہزاد مذکور کے کمرہ میں پہنچے تو شہزاد مذکور کو وہاں موجود نہ پایا ۔ یاسف اسلم نے مزید بتایا کہ شہزاد کا نانا صدیق پلازہ سیکٹرC/1 میرپور چوکیدار ہے مابعد سرسری چھان بین پر مسمیان 1 یاسف اسلم ولد محمد اسلم 2۔ مسافر شاہ ولد کٹور خان ساکن پشمال کالام ضلع سوات(نانا شہزادمتوفی چوکیدار صدیق پلازہ سیکٹرC/1 ) نے نعش متذکرہ بالا کی شناخت بطور شہزاد ولد ایوب ساکن لائیکوٹ تحصیل بحرین ضلع سوات کی۔ نعش متوفی شہزاد بغرض پوسٹمارٹم و مزید کارروائی ضابطہ کے لیے DHQ ہسپتال میرپور پہنچائی گئی ۔
مابعد واقعہ کی روشنی میں مقدمہ علت 2026/186 مورخہ 2026-08 -11 بجرائم APC302 تھانہ پولیس سٹی میرپوردرج رجسٹر کیاجاکر تفتیش مقدمہ عمل میں لاتے ہوئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیاگیا۔ CCTV فوٹیج کی پڑتال کرنے پر مورخہ 2026-08-10 کو متوفی شہزاد ایک موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر بن خرماں کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیا۔ موٹر سائیکل سوار کو ٹریس کیاگیا متوفی شہزاد کا بن خرماں اپنے ماموں مسمی محمد بشیر ولد مسافر خان ساکن سوات حال خاکسار سٹریٹ بن خرماں کے گھرجانا تصدیق ہوا۔ جس پر متوفی شہزاد مذکور کی ممانی مسماۃ طاہرہ بی بی زوجہ محمد بشیر ساکن بن خرماں ماموں مسمیان1 سلیمان 2 عثمان غنی پسران مسافر خان اقوام گوجر ساکنان حال سیکٹرC/1 میرپور کو ٹریس کرتے ہوئے معقول شک و جوازیت کی بناء پر دریافت و چھان بین عمل میں لائی گئی جس سے پایا گیا کہ ملزم عثمان ولد مسافر خان کی زوجہ مسماۃ یاسمین اپنے خاوند سے ناراض ہوکر کچھ عرصہ سے اپنے میکے گھر اسلام گڑھ میں رہ رہی تھی ۔ عثمان اور یاسمین کے مابین ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ عثمان کو شبہ تھا کہ اس کی بیوی یاسمین اور بھانجے مقتول محمد شہزاد ولد ایوب خان کے مابین ناجائز تعلقات تھے جس پر مسماۃ یاسمین بی بی کو بھی طلب کرتے ہوئے دریافت عمل میں لائی گئی جس نے بھی اس بات کی تائید کی کہ اس کا خاوند عثمان ، سسر مسافر خان اور دیگر سسرالی رشتہ دار اس پر شہزاد مقتول سے ناجائز تعلقات کے حوالہ سے شک و شبہ کرتے رہے ہیں ۔حالات و واقعات بالا کے تناظر میں بروز وقوع مورخہ 2026-08-10کو ملزمان عثمان غنی ، سلیمان پسران مسافر خان، مسافر خان ولد کٹور خان ، محمد بشیر نے باہمی صلاح مشورہ اور منصوبہ بندی سے مسماۃ طاہرہ بی بی زوجہ محمد بشیر سے بذریعہ موبائل فون کال کرواکے مقتول شہزاد کو اپنے گھر بمقام خاکسار سٹریٹ بن خرماں میرپور بلواکر طے شدہ منصوبہ کے مطابق جملہ مرد ملزمان نے ملکر ڈنڈے لاتوں مکوں سے اولاًشدید تشددکرتے ہوئے مابعد گلہ دبا قتل کیا اور مابعد اپنے جرم کو چھپانے کے لیے نعش مقتول شہزاد کو اولاً رکشہ میں ڈالکر اپنے گھر واقع C/3 بالمقابل بوائز ہائی سکول نمبر 2 لائے اور مابعد رینٹ پر کار لےکر مقتول کی ڈیڈ باڈی کار کی ڈگی میں ڈال کر بوہڑ کالونی ڈیم ایریا میں لے جاکر ملزمان نے ملکر مقتول کا گلہ تیز دھار ٹوکہ سے کاٹ کر سرتن سے جدا کردیا اور مقتول کا دھڑ وہیں ڈیم میں پھینک دیا جبکہ مقتول کا سر تھیلا میں ڈال کر جاتلاں ہیڈ نہر میں پھینک دیا ملزم عثمان سے آلہ ضرر ٹوکہ اور مسافر خان سے آلہ ضرر ڈنڈا کی برآمدگی ہوچکی ہے علاوہ ازیں ملزمان کے پارچات خون آلودہ بھی قبضہ پولیس میں لیے گئے ہوئے ہیں۔ مقتول کے سر غائب شدہ کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے وقوع مقدمہ کے چند ہی گھنٹوں میں ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا ہے
ایس ایس پی میرپور خرم اقبال کا کہنا ہے کہ ضلع پولیس میرپور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے میرپور ایک پرامن ضلع ہے جہاں پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کاروائی ضابطہ عمل میں لائی جا رہی ہے آئندہ بھی پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔