Adnan Behzad

Call Directions Contact the organization

Adnan Behzad عاجز

18/09/2026

نماز میں پڑھے جانے والے بنیادی اذکار اور سورۃ الفاتحہ کا لفظی و با محاورہ ترجمہ درج ذیل ہے:
تكبير تحريمہ
* اللهُ أَكْبَرُ
* ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے۔
ثناء (نماز شروع کرنے کی دعا)
* سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
* ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔
* وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ
* ترجمہ: اور تیرا نام برکت والا ہے، اور تیری شان بہت بلند ہے۔
* وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
* ترجمہ: اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
تعوذ اور تسمیہ
* أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
* ترجمہ: میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا/مانگتی ہوں۔
* بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
سورۃ الفاتحہ
* الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
* الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
* مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ: جزا اور سزا کے دن کا مالک ہے۔
* إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ: ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
* اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ: ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔
* صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ: ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا۔
* غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ: نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا۔
* آمِيْن: اے اللہ! قبول فرما۔
ركوع کے اذکار
* سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ (3 بار)
* ترجمہ: پاک ہے میرا رب عظمت والا۔
* سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ (رکوع سے اٹھتے ہوئے)
* ترجمہ: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔
* رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (سیدھے کھڑے ہو کر)
* ترجمہ: اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔
سجدے کے اذکار
* سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى (3 بار)
* ترجمہ: پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔
تشہد (التحیات)
* التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ
* ترجمہ: تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
* السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
* ترجمہ: اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔
* السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ
* ترجمہ: سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر۔
* أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
* ترجمہ: میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
درودِ ابراہیمی
* اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
* ترجمہ: اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر، جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔
* اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
* ترجمہ: اے اللہ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔

* رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي
* ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔
* رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
* ترجمہ: اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔
* رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
* ترجمہ: اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو اس دن بخش دے جب حساب قائم ہوگا۔
(یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے جو سورۃ ابراہیم کی آیات 40 اور 41 میں بیان ہوئی ہے اور نماز کے آخر میں تشہد و درود کے بعد پڑھی جاتی ہے)
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ
ترجمہ: تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔

آزادکشمیر کے شہریوں کیلئے صحت کارڈ پر رجسٹرڈ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی لسٹ
14/09/2026

آزادکشمیر کے شہریوں کیلئے صحت کارڈ پر رجسٹرڈ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی لسٹ

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ملک کی بقا، ترقی اور جدید انتظامی تقاضوں کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔...
17/05/2026

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ملک کی بقا، ترقی اور جدید انتظامی تقاضوں کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ چاروں صوبوں کی حدود کوئی آسمانی صحیفہ یا الہامی الفاظ نہیں ہیں جن میں ردوبدل نہ کیا جا سکے، بلکہ یہ بنیادی طور پر نوآبادیاتی دور میں برطانوی راج کے اپنے سیکیورٹی مفادات اور ٹیکس وصولی کے نظام کو چلانے کے لیے کھینچی گئی لکیریں تھیں۔ مثال کے طور پر انگریزوں نے 1901ء میں افغان سرحد کے دفاع کے لیے پنجاب سے الگ کر کے خیبر پختونخوا (سابقہ سرحد) کی بنیاد رکھی، جبکہ سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کر کے 1936ء میں صوبہ بنایا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی 1955ء میں سیاسی مفادات کے تحت ون یونٹ بنا کر تمام صوبوں کو ضم کیا گیا اور پھر عوامی دباؤ پر 1970ء میں دوبارہ پرانے صوبے بحال کر دیے گئے۔ یہ تاریخی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ صوبے ہمیشہ انسانوں نے اپنی سیاسی اور دفاعی ضرورتوں کے تحت بنائے اور تبدیل کیے ہیں، اس لیے وقت بدلنے کے ساتھ ان میں تبدیلیاں کرنا بالکل فطرتی امر ہے۔

جغرافیائی اور آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 796,096 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنے وسیع و عریض رقبے اور دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کو محض چار انتظامی اکائیوں کے ذریعے چلانا اب ایک انتظامی ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ پنجاب کی آبادی اب 12 کروڑ سے زائد ہے جو جرمنی اور فرانس جیسے بڑے یورپی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے لاہور میں بیٹھ کر راجن پور یا رحیم یار خان جیسے دور دراز اضلاع پر نظر رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسی طرح رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے 44 فیصد حصے پر پھیلے بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ، گوادر اور ژوب کے رہنے والوں سے سینکڑوں میل دور ہے، جس کی وجہ سے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کا موازنہ کیا جائے تو ترکی کا رقبہ تقریباً پاکستان کے برابر ہے لیکن وہاں 81 فعال صوبے موجود ہیں، جبکہ جرمنی اور ویتنام جیسے ممالک رقبے میں پاکستان سے آدھے ہونے کے باوجود بالترتیب 16 اور 58 صوبوں کے ساتھ انتہائی مقتدر اور معاشی طور پر مستحکم طریقے سے چل رہے ہیں۔

اس انتظامی بحران کا سب سے منطقی، آسان اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ پاکستان کی تمام موجودہ انتظامی ڈویژنز کو آزاد صوبوں کا درجہ دے دیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 35 سے زائد ڈویژنز موجود ہیں، اگر ان تمام ڈویژنز کو نئے صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے تو ملک کا گورننس ماڈل راتوں رات بدل جائے گا۔ ہر ڈویژن کے پاس پہلے ہی سے کمشنر، آر پی او (RPO) اور دیگر محکموں کا ایک بنیادی انتظامی ڈھانچہ موجود ہوتا ہے، اس لیے نئے صوبے بنانے کے لیے بالکل صفر سے شروعات نہیں کرنی پڑے گی۔ جب ہر ڈویژن ایک الگ صوبہ بنے گی، تو ہائی کورٹ کے بنچ، صوبائی سیکرٹریٹ اور تمام صوبائی محکموں کے ہیڈ کوارٹرز عوام کے اپنے علاقے میں منتقل ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف لاہور، کراچی اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں پر آبادی اور ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا بلکہ دور دراز اضلاع کے وسائل بھی ان کے اپنے ہی علاقے کی ڈویژنل حدود میں خرچ ہوں گے۔

ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی صورت میں ملک کی انتظامی کارکردگی میں انقلابی اضافہ ممکن ہے۔ اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی سے عام شہریوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں، سیکرٹریٹ کے چکروں یا ہائی کورٹ کے کیسز کے لیے سینکڑوں میل دور موجودہ صوبائی دارالحکومتوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ جہاں ڈویژنل سطح پر نئے صوبے بننے سے مقامی سطح پر احساسِ محرومی کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی فنڈز صرف چند بڑے شہروں کی نظر ہونے کے بجائے پسماندہ اضلاع پر خرچ ہوں گے اور ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، وہاں اس منصوبے کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں صوبے بنانے سے نئی اسمبلیاں، وزرائے اعلیٰ، گورنر ہاؤسز اور بیوروکریسی کا نیا بوجھ کھڑا ہوگا جو موجودہ کمزور ملکی معیشت پر ایک بھاری مالیاتی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کا حل یہ ہے کہ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر کو انتہائی سادہ اور کم خرچ رکھا جائے۔ سب سے بڑھ کر، ڈویژنل بنیادوں پر صوبے بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ لسانی اور نسلی تنازعات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ یہ تقسیم کسی زبان یا نسل کے نام پر نہیں بلکہ خالصتاً پہلے سے موجود انتظامی لکیروں پر ہوگی۔ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر، لسانی تعصبات سے ہٹ کر، ہر ڈویژن کو ایک نئے صوبے کی شکل دی جائے تاکہ عام آدمی کو اس کی دہلیز پر انصاف، صحت اور تعلیم مل سکے۔
پاکستان کے موجودہ چار صوبے نہ آسمانی احکام ہیں اور نہ تاریخ کا ناقابلِ تبدیل حصہ۔ یہ انتظامی ضروریات کے تحت انسانوں نے بنائے تھے اور انسان ہی انہیں بدل سکتے ہیں۔ ملک کی بڑھتی آبادی، وسیع رقبہ، علاقائی تفاوت اور عوام کا احساسِ محرومی یہ سب مل کر نئے صوبوں کی ضرورت کو ناگزیر بناتے ہیں۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور پاکستان سے کم رقبے والے ممالک نے زیادہ انتظامی اکائیاں بناکر کامیابی حاصل کی۔ ترکی، ایران، تھائی لینڈ، جرمنی اور جاپان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ وکندریاتی حکومت ہی عوام کی حقیقی خدمت کا ذریعہ ہے۔
نئے صوبے بنانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے سیاسی ارادے، قومی اتفاق رائے اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔ جو قومیں اپنے آپ کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہی ترقی کرتی ہیں اور جو ہر تبدیلی کی مخالفت کریں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو اپنے انتظامی ڈھانچے کو عوام کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
— علامہ اقبال

16/05/2026

ہور کوئی خدمت ساڈے لائق 🫡

ہم خیال گروپ ڈڈیال نے آج بہاری میں ہم خیال گروپ کے رہنما چوہدری شبیر صاحب کی عیادت کی، ڈگار میں سید نصیر حسین شاہ صاحب ک...
02/05/2026

ہم خیال گروپ ڈڈیال نے آج بہاری میں ہم خیال گروپ کے رہنما چوہدری شبیر صاحب کی عیادت کی، ڈگار میں سید نصیر حسین شاہ صاحب کے ساتھ ملاقات کی اور مختلف امور پر گفتگو کی، چلایار میں چوہدری محمد الہی صاحب کی عیادت کی، بلوح میں ڈاکٹر عثمان گھمن صاحب کے ساتھ ملاقات کی جبکہ اسکے علاوہ بھی مختلف شصیات کے ساتھ ملاقات کی۔۔۔

سابق ٹیچرز ارگنائزیشن تحصیل ڈڈیال مرکزی رہنما ماسٹر امجد حسین چوہدری بلتھی نے مائنس اظہر صادق ہم خیال گروپ کی حمایت کر د...
27/04/2026

سابق ٹیچرز ارگنائزیشن تحصیل ڈڈیال مرکزی رہنما ماسٹر امجد حسین چوہدری بلتھی نے مائنس اظہر صادق ہم خیال گروپ کی حمایت کر دی اس موقع پر سابق چیئرمین ضلع زکوۃ میرپور چوہدری محمد عارف صاحب خواجہ محمد امجد صاحب سینیئر وائس چیئرمین ال پاکستان گورنمنٹ ایمپلائیز کنفریڈریشن قاری حفیظ الرحمن چوہدری کی موجودگی میں کیا اللہ پاک چوہدری صاحب کو صحت تندرستی عطا فرمائے امین

25/04/2026

شکریہ جے کے نیوز

آج کی کورج
25/04/2026

آج کی کورج

ایم ایل اے اظہر صادق کو ایک بڑا سیاسی دھچکا پیر سید مشتاق حسین شاہ صاحب نے اظہر صادق کو چھوڑ کر ہم خیال گروپ کی حمایت کا...
24/04/2026

ایم ایل اے اظہر صادق کو ایک بڑا سیاسی دھچکا پیر سید مشتاق حسین شاہ صاحب نے اظہر صادق کو چھوڑ کر ہم خیال گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا پیر سید مشتاق حسین شاہ صاحب نے 2016 اور 2021 کے الیکشن میں اظہر صادق کی بھرپور سپورٹ کی تھی پیر صاحب کی حلقہ ایل اے ون ڈڈیال میں مریدین اور چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجود پے پیر صاحب کے چھوڑنے کے اعلان سے حلقہ میں ظہر صادق کی پوزیشن مزید خراب ہو چکی ہے اور آئندہ الیکشن میں بری شکست کا سامنا ہونے کا امکان ہے۔۔۔

Address

Dadyal Ajk
Mirpur

Telephone

+923334422554

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adnan Behzad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Adnan Behzad:

Shortcuts

Share