Bzu Central library Campaign

Bzu Central library Campaign Awareness Campaign...
This Page is Made for the Awareness About Central library Bzu..

21/01/2024

ہوتی نہیں جو قوم حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی فقط اسکی سزا ہے

آپ کے مرد کہاں ہیں؟ پولیس والے کا سوالاسی سوال کا جواب لینے تو ہم تربت سے دوہزار کلومیڑ کا تکلیف دہ سفر طے کرکے اسلام آب...
23/12/2023

آپ کے مرد کہاں ہیں؟ پولیس والے کا سوال

اسی سوال کا جواب لینے تو ہم تربت سے دوہزار کلومیڑ کا تکلیف دہ سفر طے کرکے اسلام آباد تک آئے ہیں ۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

These are the instructions which are written on the wall of Central library BZU multan .The first point is about serving...
02/06/2023

These are the instructions which are written on the wall of Central library BZU multan .The first point is about serving time for readers/students which is (24 hours) but unfortunately after COVID-19 the students are deprived from their right of using library for their general studies .This time is given by administration but now university administration is unable to provide the full serving time for students..We requested many time but no one is ready to tackle this problem which beneficial for the students.The administration is claiming lame excuses. Their is no professor is ready stay with the students and speak about the legal right . So said that all the students are sleeping no one is here to help the students who want to use library.The students who left their homes for better studies are being disappointed that they came from 1000 KMs for being an educated and knowledgeable person but when they see a lazy or bothering environment they become depressed.

”جس گھر میں کتابیں رکھنے کی کوئی جگہ نہیں، اُس گھر کا پانی پینے سے بھی اجتناب کرو کیونکہ وہ پانی پلانے کے بہانے آپ کا وق...
31/03/2023

”جس گھر میں کتابیں رکھنے کی کوئی جگہ نہیں،
اُس گھر کا پانی پینے سے بھی اجتناب کرو کیونکہ
وہ پانی پلانے کے بہانے آپ کا وقت ضائع کریں گے۔“

رُوسی کہاوت
💔

30/03/2023

میرے تمام بھائیوں اور بہنو السلام وعلیکم !
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ دنیا میں جتنے بھی لائبریری ہیں وہ 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے اگر ایسا نہیں تو لائبریری پورا ہفتہ آدھی رات تک کھلی رہتی ہے ۔مگر افسوس بہاؤ دین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایسا نہیں ہے ۔یہاں لائبریری کی ایسی ٹائمنگ ہے یا تو طلباء وطالبات کلاس لے سکتے ہیں یہ وہ لائبریری جاسکتے ہیں مطلب شام 3:30 پہ لائبریری بند ہوجاتی ہے ۔اور المیہ یہ ہے کہ جب ہم ہفتہ، اتوار کو کوئی جنرل پڑھائی کرنا چاہیں تو بدقسمتی سے ہماری لائبریری بند ہوتی ہے ۔
تومیں نے بذات خود اس مسلے کو زیر غور لایا اور اب اس پر باقاعدہ ہم انتظامیہ سے بات بھی کریں گے اور اس میں بہتری لائیں گے تاکہ ہمیں لائبریری اور اس کی کتابوں سے فائدہ حاصل ہو ۔بجائے ہم اپنا وقت ہاسٹل میں یا کسی اور کام میں ضائع کریں وہ وقت ہم کتابوں کو دیں ۔اور علم وشعور سے خود کو روشناس کریں اپنی اور اپنے قوم کے لیے ایک مثبت اور مثالی سوچ بن سکیں نہ کہ کورس کو رٹ رٹ کر خود کو لکیر کا فقیر بنائیں ۔
تو یہ مسئلہ ہمارا مشترکہ مسلئہ ہے آپ بھی اس میں ہمارا ساتھ دیں ۔
کتاب دوست قوم بننے کا ثبوت دیں ۔

A system that cannot be tested is flawed About today under the wing of CCSL the team of CCEP( club of competitive exams ...
29/03/2023

A system that cannot be tested is flawed
About today under the wing of CCSL the team of CCEP( club of competitive exams preparation) held a Mock Test at UGLC under the supervision of patron in charge Dr Muhammad Bilal and Muhammad Sheikh Saleem.
More than 50 students attempted the given test. Principal of UGLC Mam Samza Fatima also came to inspect and praise such trials.

Copied post .                                   امریکن لوگ جہاں بیٹھتے ہیں وہی کتاب پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔اگر وہ ٹرین پ...
25/03/2023

Copied post .




امریکن لوگ جہاں بیٹھتے ہیں وہی کتاب پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔اگر وہ ٹرین پر سفر کر رہے ہیں اور انہیں پتا ہے کہ سفر 40 منٹ کا ہے تو یہ 35 منٹ کتاب ضرور پڑھیں گے۔ اسی طرح اگر Walk کے بعد کسی جگہ پر 25 منٹ بیٹھیں گے تو وہ 20 منٹ کتاب ضرور پڑھیں گے.
امریکہ کے لوگوں کی کتاب سے دوستی دیکھ کر لگتا ہے یہاں پر موبائل، ٹیبلٹ نہیں ہوگا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں۔ان کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں لیکن یہ کتاب کی اہمیت سے خوب واقف ہیں۔ یہ آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں مگر یہ فزیکل طور پر کتاب اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ شوق سے لائبریری جاتے ہیں۔ ریسرچ کرتے ہیں۔
" لا تحزن " میں لکھتے ہیں "مطالعہ سے وسوسے اور غم دور ہوتا ہے. ناحق لڑائی جھگڑے سے حفاظت رہتی ہے, فارغ اور بے کار لوگوں سے بچاؤ رہتا ہے, زبان کھلتی ہے اور کلام کا طریقہ آتا ہے۔ ذہن کھلتا ہے، دل تندرست ہوتا ہے، علوم حاصل ہوتے ہیں۔ لوگوں کے تجربات اور علماء و حکماء کی حکمتوں کا علم ہوتا ہے۔ کے مطالعے سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ #پاکستان کے اندر کتاب سے دوستی اور اسے پڑھنے کا رجحان کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔ حالانکہ کتاب کی دوستی سے روح کو تازگی اور طبیعت کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ مطالعہ سے قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کا پتہ چلتا ہے اور ان کے تجربات سے استفادہ حاصل ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نام باقی رہے، ہماری نسلیں ہمارے جانے کے بعد ہمارے سکون کا باعث ہوں تو ہمیں انہیں کتاب کے ساتھ دوستی اور اس کی اہمیت سے واقف کروانا ہوگا۔
یاد رکھیں کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کرواتی ہے۔ کتاب سے ہمیں قوانین قدرت کا پتہ چلتا ہے۔ ادب انسانی زندگی میں ادب پیدا کرتا ہے۔
لہذا میں دعا گو ہوں کہ ہم اپنی آنے والی اور موجودہ نسلوں کو اس طرف راغب کریں گے۔

24/03/2023

''تم اپنے لوگوں میں کتابوں کی ہوس پیدا کرو اور اُن کو اِس لت سے محظوظ کرتے جاو۔ تب تم دیکھو گے کہ مضبوط فکری اور شعوری بنیادوں کے ساتھ تم معاشرے میں کوئی بھی انقلاب برپا کر سکتے ہو.''
(سید شباب فخری

کسی دوست نے لائبریری کے حوالے سے یہ تحریر بھیجی ہے جو قابلِ غور ہے

کتاب کی قدر و منزلت اور اہمیت و افادیت کبھی بھی کم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں علوم کے ذخائر ہیں اور علوم کے متلاشی ہمیشہ ان ذخائر کی تلاش میں محو جستجو رہتے ہیں۔ کتاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ کتاب کو کبھی مٹی کی تختیوں، پیپرس کے رول، ہڈیاں چمڑے یا جھلی کاغذ اور آ خر میں الیکڑانک فارمیٹ ای بکس میں لکھا گیا۔

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب کی اہمیت اس وقت بھی کم نہ تھی جب کاغذ موجود نہ تھا پڑھنے اور مطالعے کیلئے کتابوں کا مجموعہ جو کسی عمارت یا کمرے میں رکھا ہوا ہو اسے لائبریری کہتے ہیں۔

امریکا کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو تب بھی ان کتب کی تعداد اس ایک لائبریری کے برابر نہیں بنتی.

امریکا کی ریاست کنیکٹی میں واقع ییل یونیورسٹی کی لائبریری معلومات کا خزانہ ہے جہاں ڈیڑھ کروڑ سے زائد کتابیں موجود ہیں، ان کتابوں کی حفاظت کے لیے جدید میکنزم متعارف کروایا گیا ہے. ییل یونیورسٹی اور اس کی لائبریری سنہ 1701ء میں قائم کی گئی، اس کی لائبریری میں کئی سو سال پرانی کتب موجود ہیں

تصویر میں نظر آنے والی امریکی یونیورسٹی Yale کی یہ لائبریری کئی سو سال پرانی کتابیں رکھتی ہے۔ یہاں کتابوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے اوپر ہے۔ ان کتابوں کی حفاظت کے لئے اور انہیں گلنے سڑنے کے عمل سے بچانے کے لئے بہت حفاظت کی جاتی ہے۔

اگر یہاں آگ لگ جائے تو اس لائبریری میں ایسا آٹومیٹک سسٹم ہے جو کتابوں کی حفاظت کے لئے آکسیجن لیول اتنا کم کر سکتا ہے کہ آگ مزید نہیں پھیل سکتی۔ کتابیں کچھ عرصے بعد انفیکشن یا کسی پیتھوجن کے حملے سے گلنا شروع ہو جاتی ہیں یونیورسٹی نے اس مسئلے کے حل کے لئے تحقیق کی اور ایسا میکنزم لایا جس سے پرانی کتابوں کو منفی درجہ حرارت سے ٹریٹ کرکے انکی عمر کو بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ اصل نسخے بچ سکیں۔

اس وقت امریکہ کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو تب بھی ان کتب کی تعداد اس ایک لائبریری کے برابر نہیں بنتی۔ کانگریس لائبریری 170 ملین یا پھر 17 کروڑ کتابیں رکھتی ہے ان کتابوں کا احاطہ 800 میل بک شیلف ہے۔

اس وقت دنیا کی چالیس بڑی لائبریریز میں، مسلمان دنیا جس کی آبادی دو ارب ہے، کی ایک لائبریری ہے جس میں فقط پانچ لاکھ کتابیں ہیں اسکندریہ کی یہ لائبریری مصر میں اس لئے محفوظ ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے پرانی لائبریری ہے ورنہ مسلمانوں کو کتب خانے بنانے کی توفیق نہیں رہی۔

اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری فقط تین لاکھ کتب رکھتی ہے۔ ان کتب میں بھی زیادہ تعداد ریاستی مؤقف کی تائید کرتی ہے اور ان میں ایسی کتب بہت کم ہیں جو قوم کی جذباتیت ابھارنے کے علاوہ ان کا علم بڑھا سکیں۔

ہم نے یہ جنریشن اتنی آسانی سے نہیں بنائی کہ جسے یہ پتا ہونے کی بجائے کہ ہمارا ہمسائیہ ملک بھارت ہے بلکہ انہیں یہ پتا ہے کہ ہمارا دشمن ملک بھارت ہے۔ اور یہ ایک المیہ ہے ہم اپنے بچوں کو سوائے نفرت کے کچھ سکھا ہی نہیں پائے۔ آج ہماری بڑی جنریشن میں سے کوئی بھی تیس سال کی عمر تک بیس کتب بھی نہیں پڑھ پاتا اور جو پڑھ پاتے ہیں وہ اشفاق احمد، عمیرہ اور نمرہ کے شوگر کوٹڈ برین واشنگ ناول ہی پڑھ پاتے ہیں جن میں قرآنی آیات کی اپنے مطالب میں تشریح کی گئی تا کہ ناول کے کردار چل سکیں اور ان کا چورن بک سکے۔

سپر پاور بننا کوئی آسان کام نہیں ہے اس وقت امریکہ کی کچھ لائبریریز مل کر ایک ارب تک کتابیں رکھتی ہیں وہاں ہر سال ایک ایک کتاب لاکھوں کاپیز بیچتی ہے اور یہاں کوئی کتاب پڑھنے والا ہی نہیں ہے۔
💔

Ye timing list he Pakistan k 4 bari university ka jin ko mene khud personally visit kia he . IUB b 6 bjy close hoti he b...
24/03/2023

Ye timing list he Pakistan k 4 bari university ka jin ko mene khud personally visit kia he . IUB b 6 bjy close hoti he but central Library bzu 💔

23/03/2023

Welcome to All Members..
Humy bhot Khushi hoi ky Ap logo ny is platform ko join Kiya But Sirf isko join krny Sy kaam khtm nhi hoga...
Humara Motif ha Library ky issue ko Solve krna...
Jb tk humy humara Right nhi milay ga hum pechy nhi hatny Waly...
Agr Ap ma Sy Kisi ko nhi pta ky hum kis issue ki BAAT kr rahy hein to hum apko bta dyty Hein..
Humare demand bs itne ha ky Central library Bzu ko Subha 8 Sy sham 8 tk khola jaye and also Sunday Saturday bhi..
Ap logo ma Sy Jo smjhty Hein ky yeh hr Student ka Right ha wo humara Sath dyn khud ky liyai...

Central library BZU  یہ تحریر ہے مرکزی لائیبریری بی۔زیڈ ۔یو کے نام۔۔۔ میں نے جب 12 ویں پاس کی تو میں نے اپنے محترم والد ...
23/03/2023

Central library BZU
یہ تحریر ہے مرکزی لائیبریری بی۔زیڈ ۔یو کے نام۔۔۔
میں نے جب 12 ویں پاس کی تو میں نے اپنے محترم والد صاحب سے عرض کی کہ مجھے پڑھائی کے لیے پنجاب جانا ہے تو انہوں نے اس بات پر بحث کی کہ یہاں کی یونیورسٹی اور وہاں کی یونیورسٹی میں کیا فرق ہے تو میں نے جواب دیا کہ ابا جان! یہاں پہ تعلیمی سہولیات بہت کم ہیں اور پنجاب کے تعلیمی ادارے بہتر ہیں ۔ وہاں پے کلاسز ریگولر ہوتے ہیں اور سارے اساتذہ کرام بہت ہی قابل ہیں اور طالب علموں کی ہر میدان میں راہنمائی اور ان کی مدد کرتے ہیں ۔ طالب علم بھی کافی محنت کرتے ہیں ۔شعور یافتہ ہیں کوئی نا انصافی برداشت نہیں کرتے ۔ لائبریری صبح سے نصف رات تک کھلی رہتی ہے تا کہ جو طلب علم پڑھنا چاہتے ہوں وہ بیٹھ کر پڑھائی کریں ۔ ابا جان کو مطمئن کر کے جب یہاں داخلہ لیا تو بہت خوش ہوا ۔ سوموار کا دن تھا پہلی کلاس لی اور ہاسٹل آکر فریش ہوا اور لائبریری کے لیے نکلا وہاں جا کر یہ معلوم ہوا کہ دن کو 1 سے لے کر 2 بجے تک بریک ہوتا ہے میرے آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد لائبریری کا ایک پورشن کھلا اور میں جا کر بیٹھ کے پڑھنے لگا تقریباً 1 گھنٹہ 15 منٹ پڑھنے کے بعد ایک بندہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا بھائی جلدی کریں اٹھیں لائبریری کا ٹائم ختم ہوا تو مجھے جھٹکا لگا کہ ابھی تو 3:15 منٹ ہوئے ہیں میں نے وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کے لائبریری 3:30 پہ روز بند ہوجاتی ہے اور ہفتہ ،اتوار تو کھلتی ہی نہیں ہے یہ سن کر اور تکلیف ہوئی تو دل کو تسلی دیتے ہوئے میں وہاں سے اٹھا کہ چلو اساتذہ کرام سے بات کریں گے لیکن بات کر کے دیکھ لی جواب ملا کے بیٹے ھم کچھ نہیں کرسکتے ۔پھر دل میں سوچا کہ طالب علم ہزاروں کی تعداد میں ہیں ان سے بات کر کے دیکھتے ہیں لیکن ہر کوئی اسی جگہ افسوس کرتا اور انتظامیہ کو برا بھلا کہتا رہا لیکن عملاً کچھ نہیں کیا اور 1.5 سال کے بعد جو آپشن بچی تھی وہ تھی طلباء تنظیمیں میں نے ان سے بھی بات کی لیکن وہاں تو سٹوڈنٹس پولیٹکس کے نام پر کینٹین پولیٹکس اور لڑائی پولیسیز اور گروپنگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ھے ۔میرے چند دوست مل کر یونیورسٹی کے VC کو لائبریری کے بارے میں درخواست دینے گئے لیکن ہزاروں کی تعداد میں صرف 10 لوگوں کی بات لازمی اگنور ہوگی ۔
1۔۔۔کیا لائبریری ہمارا حق نہیں ہے ؟
2۔۔۔اگر لائبریری میں کام کرنے ولی ٹیم ایک ہے تو وہ 2 نہیں ہوسکتی ؟
3۔۔۔پنجاب میں باقی سب جامعات میں لائبریری پورا ہفتہ اور صبح 8 بھی سے رات کو 10 بجے تک کھلی رہتی ہیں تو یہاں کیوں نہیں ؟
آج کلاسز نہیں ہیں اور طالب علم سو کر یا موبائل استعمال کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ایک ہفتے کے بعد امتحانات ہیں ۔جو طالب علم بہت دور سے آئے ہیں وہ بھی اس پر یکجا ہو کر نہیں بولتے افسوس ہوتا ہے ان پر کہ اگر سونا ہی تھا تو والدین کے پیسے خرچ کر کے اتنے دور کیوں آئے ہو اگر کوئی مقصد ہے تو اس پر مکمل کام کرو سستی اور کاہلی کا شکار مت بنو ۔
#ازخود شبیر بلوچ

23/03/2023

السلام وعلیکم!
تمام محترم دوستو امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے ہم آپ کو یہاں پر خوش آمدید کہتے ہیں آپ سب کا شکریہ کے آپ نے لائبریری کی مسئلہ کو حل کرانے کے لیے اس پلیٹ فارم کو جوائن کیا۔

Address

Bzu Multan
Multan
60800

Telephone

+923012344438

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bzu Central library Campaign posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Bzu Central library Campaign:

Share

Category