14/08/2021
کشمیر کے ترانے کی تاریخ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا قومی ترانہ ایک نظم ہے جسے سنہ 1949 میں حفیظ جالندھری نے تحریر کیا تھا اور سنہ 1958 میں اسے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں ریکارڈ کیا گیا۔
ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن پر اس نظم کو سب سے پہلے منور سلطانہ اور عنیقہ بانو نے گایا تھا۔
حفیظ جالندھری کی سنہ 1949 میں لکھی گئی نظم کو سنہ 1972 میں کشمیر کے قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔ جالندھری پاکستان کے قومی ترانے کے خالق بھی ہیں
حفیظ جالندھری کی اس نظم کو سنہ 1972 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔
اس نظم کو قومی ترانے کا درجہ دینے سے قبل اس میں ایک آدھ مصرعہ بھی بدلا گیا۔ حفیظ صاحب کی نظم میں مصرعہ تھا ’جاگ اٹھے گی ساری وادی‘ جس کو دوبارہ ترتیب دے کر ’جاگ اٹھی ہے ساری وادی‘ لکھا گیا۔
اس نظم میں ’آزاد کشمیر‘ سے مراد صرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نہیں بلکہ متحدہ کشمیر (پاکستان اور انڈیا دونوں کے زیر انتظام منقسم کشمیر) هے۔
اس کی موسیقی عنایت شاہ اور رشید عطرے نے ترتیب دی ۔ ’فلمی دنیا میں آنے سے قبل رشید عطرے ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ تھے۔‘
اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا قومی ترانہ پاکستان کے اپنے قومی ترانے سے بھی پہلے لکھا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان کے قومی ترانے کی موسیقی یا دھن سنہ 1950 میں منظور ہوئی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے روز یہ دھن بجائی جاتی اور لوگوں کو کہا گیا کہ وہ اس دھن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترانے کے بول تجویز کریں۔ سات اگست 1954 کو حکومت پاکستان نے حفیظ جالندھری کے قومی ترانے کے بول منظور کیے جبکہ 13 اگست 1954 کو پاکستان کا ترانہ نشر ہوا۔‘
۔
حکومتِ کشمیر اپنے قومی ترانے کو ’ری کمپوز‘ کرنے کا سوچ رہی ہے اور اس حوالے سے آئندہ دنوں میں ایک میٹنگ بھی بلائی جائے گی۔
’ترانے میں الفاظ کی کافی تکرار ہے اور چند سطریں بار بار دہرائی گئی ہیں جیسا کہ ’وطن ہمارا آزاد کشمیر‘۔ اس کو مختصر کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘
ترانے کی دھن کو بھی تازہ (ریفریش) کیا جائے گا کیونکہ اصل ریکارڈنگ بہت پرانی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت چاہتی ہے کہ موسیقی کی کوئی بڑی کمپنی جیسا کہ ’کوک سٹوڈیو‘ یا کوئی نامور موسیقار یہ کام کرے تاکہ ترانے کو مزید پرجوش اور سننے میں بہتر بنایا جا سکے۔
حکومت کے اپنے