Tehreek-e-Insaf Multan

Tehreek-e-Insaf Multan Multan is a city in the Punjab Province of Pakistan, and capital of Multan District. It has a population of over 3.8 million (according to 1998 census).

It is located in the southern part of the province, and is steeped in history. ♥░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░♥ ♥░▀█▀░░░▀█▀░▀█▀░▀█▀░░▀█▀▀▀▀█░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█░▄▀░░░░░█░░░░░░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█▀▄░░░░░░█▄▄▄░░░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█░░▀▄░░░░█░░░░░░♥ ♥░▄█▄▄█░▄█▄░▄█▄░░▄█▄░▄█▄▄▄▄█░♥ ♥░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░♥ ─────────────────────── ───────▄▀▀▄──────────── ───────█──█──────────── ───────█──█▄▄────────── ───────█

──█──█▀▀▄▄───── ───▄▄▄─█──█──█──█─▀▄─── ───█──▀█────────▀──█─── ────▀▄─█───────────█─── ─────▀▄───────────█──── ──────▀▄──────────█──── ───────▀▄────────█───── ────────█▄▄▄▄▄▄▄▄█───── LIke ♥ LIke ♥ LIke ♥ LIke ♥


Imran Khan Niazi (Punjabi, Pashto, Urdu: عمران خان نیازی) (born 25 November 1952) is a Pakistani politician and former Pakistani cricketer, playing international cricket for two decades in the late twentieth century and being a politician since the mid-1990s. Currently, besides his political activism, Khan is also a philanthropist, cricket commentator and Chancellor of the University of Bradford. Khan played for the Pakistani cricket team from 1971 to 1992 and served as its captain intermittently throughout 1982-1992. After retiring from cricket at the end of the 1987 World Cup, he was called back to join the team in 1988. At 39, Khan led his teammates to Pakistan's first and only World Cup victory in 1992. He has a record of 3807 runs and 362 wickets in Test cricket, making him one of eight world cricketers to have achieved an 'All-rounder's Triple' in Test matches.[1] On 14 July 2010, Khan was inducted into the ICC Cricket Hall of Fame.[2]
In April 1996, Khan founded and became the chairman of a political party Pakistan Tehreek-e-Insaf (Movement for Justice).[3] He represented Mianwali as a member of the National Assembly from November 2002 to October 2007.[4] Khan, through worldwide fundraising, helped establish the Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital & Research Centre in 1996 and Mianwali's Namal College in 2008.

Today, leaders from Europe and G10 got in queue to applaud Pakistan🇵🇰 for its peace buildings initiatives - as issued fr...
09/04/2026

Today, leaders from Europe and G10 got in queue to applaud Pakistan🇵🇰 for its peace buildings initiatives - as issued from the 10 Downing Street today.

پاکستان - نام یاد رکھیں! 7 اپریل 2026۔ رات گیارہ بج کر تینتالیس منٹ برطانوی وقت۔ٹیلی گراف نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے آخری ل...
08/04/2026

پاکستان - نام یاد رکھیں!

7 اپریل 2026۔ رات گیارہ بج کر تینتالیس منٹ برطانوی وقت۔

ٹیلی گراف نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران سے جنگ بندی کا اعلان کیا۔"

نیویارک ٹائمز نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، فوری تباہی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گیا۔"

ایکسیوز نے تصدیق کی: "امریکہ نے پاکستان کی تجویز کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی قبول کر لی۔"

بارہ گھنٹے پہلے اسی آدمی نے لکھا تھا: "آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی۔" اسی آدمی کے اپنے عہدیدار نے اسے "پاگل کتے کی طرح خونخوار" کہا تھا۔ اسی آدمی نے ایسٹر سنڈے کو گالیاں لکھی تھیں۔ اسی آدمی کی اپنی پارٹی کی مارجوری ٹیلر گرین نے پچیسویں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی آدمی نے کہا تھا "چار گھنٹے میں ہر پل اور ہر بجلی گھر تباہ۔" اسی آدمی نے "پتھر کے دور میں بھیج دوں گا" کہا تھا۔

اور اب اسی پاگل سانڈ نے پاکستان کی تجویز مان لی ہے۔

ایکسیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کیا: "مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پرامن حل کی سفارتی کوششیں مستحکم، مضبوط اور طاقتور انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سفارتکاری کو اپنا کام کرنے کا موقع دینے کے لیے میں صدر ٹرمپ سے دو ہفتے کی توسیع کی درخواست کرتا ہوں۔" پھر ایران سے مخاطب ہوئے: "پاکستان پوری خلوص نیت سے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ دو ہفتے کے لیے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر آبنائے ہرمز کھول دیں۔"

وائٹ ہاؤس ترجمان کارولین لیویٹ نے اے بی سی نیوز کو بتایا: "صدر کو تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور جواب آئے گا۔"

جواب آیا۔ ٹرمپ نے مانا۔

ایکسیوز نے بتایا کہ پاکستانی تجویز کے تحت ٹرمپ اپنی دھمکی روک لے گا اور ایران دو ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز کھولے گا۔ ان دو ہفتوں میں وسیع تر معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔ نائب صدر وینس ممکنہ طور پر ذاتی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ ٹیلی گراف نے بتایا کہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران پاکستانی ثالثوں کے تازہ ترین منصوبوں کا "مثبت جائزہ" لے رہا ہے۔

ذرا رکیں اور اس لمحے کی وسعت محسوس کریں۔

صبح خارگ جزیرے پر امریکی فوج نے "درجنوں فوجی اہداف" پر حملے کیے۔ اسرائیلی طیاروں نے ایران بھر میں ریلوے پل اور پٹریاں تباہ کیں۔ البرز صوبے میں رہائشی علاقوں پر حملوں میں 18 شہری مارے گئے جن میں دو بچے شامل ہیں۔ تہران کی خوراسانیہ عبادت گاہ "مکمل طور پر تباہ" ہوئی۔ کراج میں اعلیٰ وولٹیج لائنیں اڑائی گئیں اور شہر اندھیرے میں ڈوبا۔ ایرانی نوجوان بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیریں بنا رہے تھے۔ پوپ لیو نے ویٹیکن سے التجا کی کہ "جن کے ہاتھوں میں جنگ چھیڑنے کی طاقت ہے وہ امن کا راستہ چنیں۔" سعودی عرب نے سات بیلسٹک میزائل اور 18 ڈرون روکے۔ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فائرنگ ہوئی۔ اٹلی کے چار ہوائی اڈوں پر ایندھن کی راشننگ شروع ہوئی۔ برینٹ کروڈ 108 ڈالر۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ جواب "خطے سے باہر" تک جائے گا۔

اور ان سب کے درمیان پاکستان نے وہ کام کیا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.

21 مارچ سے ٹرمپ ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن دے رہا تھا۔ 48 گھنٹے سے پانچ دن۔ پانچ دن سے دس دن۔ 6 اپریل سے 7 اپریل۔ ہر بار TACO۔ ہر بار پیچھے ہٹا مگر کسی نے اسے پیچھے ہٹنے کا باعزت راستہ نہیں دیا۔ آج پاکستان نے وہ راستہ دیا۔ دو ہفتے کا وقفہ۔ نہ ہار نہ جیت۔ سفارتکاری کو موقع۔ آبنائے خیر سگالی سے کھلے۔ بمباری رکے۔ مذاکرات ہوں۔

یہ وہی فارمولا ہے جو میں نے آج صبح لکھا تھا: "آخری لمحے میں ایک ترمیم شدہ مسودہ سامنے آتا ہے جسے دونوں فریق 'ہاں' کہنے کے بجائے 'نہیں نہیں' کہنا بند کر دیتے ہیں۔ نہ باقاعدہ معاہدہ ہوتا ہے نہ پاور پلانٹ ڈے۔ ایک دھندلا سا وقفہ بنتا ہے جسے دونوں طرف فتح کا نام دیا جاتا ہے۔"

بالکل یہی ہوا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر فون پر تھے۔ وینس، وٹکاف، عراقچی سے بات ہوتی رہی۔ وزیر اعظم شریف نے عوامی طور پر درخواست کی۔ ایران نے "مثبت جائزہ" لیا۔ ٹرمپ نے مانا۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا: "تباہی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گیا۔"

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی کوششوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے اس پر اپنی مہر لگا دی ہے. ہو سکتا ہے کچھ لوگ جو ایرانیوں سے زیادہ ایرانی ہوں، انہیں وہ پسند نہ آئے.

آج 7 اپریل 2026 کی تاریخ یاد رکھیں۔

آج وہ دن ہے جب ایک تہذیب مرنے سے بچی۔ ایک ملک جسے ایک سال پہلے "ناکام ریاست" کہا جاتا تھا اس نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو "باعزت" راستہ دیا اور پچیس سو سال پرانی تہذیب کے بجلی گھر بچا لیے۔ رومی نے کہا تھا کہ پاگل کے ہاتھ میں تلوار دینا خطرناک ہے۔ آج پاکستان نے وہ تلوار نیچے رکھوائی ہے۔

عارضی طور پر۔ دو ہفتے کے لیے۔ مگر دو ہفتے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اور دو ہفتے میں بہت کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کہ آج رات نوے لاکھ انسانوں کی بجلی بند نہ ہو۔

امید ہے کہ پاسداران اور ٹرمپ کوئی نواں چن نہیں چڑھائیں گے اور اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر امن کا باجا بجنے دیں گے. ہم بارود کے ڈھیر کو تیلی دکھانے سے چند لمحوں کے فاصلے پر ہیں.

آج رات کے لیے ہی سہی، لیکن لندن، نیویارک، پیرس نہیں، اسلام آباد دنیا کا سب سے اہم شہر ہے۔

پاکستان - ہمیشہ زندہ باد ♥️🇵🇰

ماسکو میں چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست جاری کی جن پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے بمباری کی ہے۔ یہ فہرست، ...
21/03/2026

ماسکو میں چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست جاری کی جن پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے بمباری کی ہے۔ یہ فہرست، جس میں 30 سے ​​زائد ممالک شامل ہیں، تلخ سچائیوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

امریکی بمباری کا نشانہ بننے والے ممالک کی فہرست:
• جاپان (1945) | کوریا اور چین (1950–1953) | گوئٹے مالا (1954–1969) | انڈونیشیا (1958) | کیوبا (1959–1961) | کانگو (1964) | لاؤس اور ویتنام (1961–1973) | کمبوڈیا (1969–1970) | گریناڈا (1983) | لبنان اور شام (1983–1984) | لیبیا (1986–2015) | ایل سلواڈور اور نکاراگوا (1980) | ایران (1987 اور 2025) | پاناما (1989) | عراق (1991-2015) | کویت (1991) | صومالیہ (1993-2011) | بوسنیا (1994-1995) | سوڈان (1998) | افغانستان (1998 اور 2001-2015) | یوگوسلاویہ (1999) | یمن (2002-2025) | پاکستان (2007-2015) | شام (2014-2015)۔
ایران 2025-2026

چین نے اس فہرست کو شائع کرتے ہوئے زور دیا:
"ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔"

یہ فہرست کچھ بڑے سوالات اٹھاتی ہے:
1. کیا مغربی دنیا نے کبھی امریکہ کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا ہے؟ کیا کبھی واشنگٹن کے خلاف متحد، اعلیٰ یقین کا اظہار ہوا ہے؟
3. کیا ان جرائم کے لیے امریکہ کو کسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

پورا عالمی نظام جسے ہم "بین الاقوامی برادری" کہتے ہیں، خاموش تماشائی کے سوا کچھ نہیں رہا۔ جبکہ امریکہ نے ڈاکو جیسے ممالک پر حملہ کرکے قوموں کے خوابوں کو ڈراؤنے خوابوں میں بدل دیا ہے۔
کوئی مذمت نہ مذمت۔ بس ایک بزدل، بے شرم اور منافق آفاقی ضمیر!
یہ فہرست اب کیوں جاری کی گئی؟
جہاں مغربی میڈیا نے اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ایران کو "عالمی خطرہ" قرار دیا ہے، وہیں چین نے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ فہرست جاری کی ہے۔ چین کا پیغام واضح ہے: حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ کے ساتھ، امریکہ کے پاس دوسروں کو مشورہ دینے کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔
دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل خطرہ کہاں ہے۔ جب امریکہ قتل عام شروع کرتا ہے تو مغربی میڈیا خاموش رہتا ہے لیکن دوسروں کو جمہوریت کا سبق سکھاتا ہے۔ یہ فہرست جھوٹ سے دنیا چلانے والوں کے لیے ایک مکروہ دستاویز ہے۔

❓ آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا اب وقت نہیں آیا کہ دنیا کو غیر سنسر شدہ سچائیوں کا سامنا کرنا پڑے؟

21/03/2026
 : IRAN CONFIRMS SUPREME LEADER AYATOLLAH ALI KHAMENEI is no more. Shahadat
01/03/2026

: IRAN CONFIRMS SUPREME LEADER AYATOLLAH ALI KHAMENEI is no more.
Shahadat

25/02/2026

‏پورے ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے بالخصوص پنجاب کے ہر گھر کی فضا بوجھل ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، قدرتی آفات نے رہی سہی طاقت بھی چھین لی۔

کسان کھیتوں میں کھڑے اپنی جلی ہوئی فصلیں دیکھ رہے ہیں، مویشی مر چکے ہیں، قرض بڑھتا جا رہا ہے۔ سیلاب نے گھر بہا دیے، روزگار ختم کر دیا، اور غربت اب وقتی مسئلہ نہیں رہی، یہ زندگی کا مستقل سایہ بن چکی ہے۔

شہر ہوں یا دیہات، ہر طرف ایک ہی کہانی ہے۔ آٹا، دال، سبزی، سب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسکول پناہ گاہ بن گئے، بچوں کی کتابیں بند ہو گئیں، مستقبل دھند میں گم ہے۔ اسپتالوں میں دوائیں کم ہیں، سرکاری نظام تھکا ہوا ہے، آلودہ پانی نئی بیماریاں لا رہا ہے۔

لیکن دوسری طرف منظر بالکل مختلف ہے۔ عیاشی، تقریبات، بسنت، میلے ٹھیلے، روشنیوں سے جگمگ راتیں۔ سرکاری خرچ پر شاہانہ پروٹوکول، لمبے قافلے، اور مہنگے پرائیوٹ جہازوں میں سفر۔ جب عوام زمین پر مسائل میں دبی ہو، تو اقتدار کے ایوانوں میں جشن کیسا؟ جب خزانہ خالی ہو، تو فضاؤں میں یہ شاہ خرچ پروازیں کیوں؟

ایک طرف عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے، دوسری طرف طاقت کے ایوانوں میں عوام کے نام پر مانگے گئے قرضوں سے پہنے کپڑوں میں ملبوس اس ملک کے نیرو چین کی بانسری بجاتے پرائیوٹ جہازوں کی خرید میں مصروف ہیں۔

25/02/2026

جب غریب عوام کے ٹیکس کے پیسے کا ضمیر اور خبریں خریدنے کے لیے بے دریغ استعمال ہو گا توکون ان لفافہ صحافیوں اور بکاؤ میڈیا پر یقین کرے گا

01/02/2026

برطانیہ کی 20 بہترین اسپانسر کمپنیوں کی لسٹ دے رہا ہوں، پاکستان بیٹھ کر ان کمپنیوں میں اپلائے کریں ، قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی۔

ایک ان لائن ایپلیکیشن آپکی زندگی بدل سکتی ہے

یہ ان کمپنیوں کی لسٹ ہے جہاں اپلائے کر کے 2025 میں دوسو سے زیادہ لوگ اسپانسر جاب پہ آئے اور
بلکل مفت اسپانسر پراسس کروا کر لوگ اپنی زندگیوں میں مقام حاصل کر چکے ہیں

اب فیصلہ آپکا ہے ، بس وقت ضائع کرتے رہنا ہے یا اپلائے کرنا ہے


یہاں یوکے (برطانیہ) میں وہ کمپنیز اور ادارے ہیں جو کام کے ویزا (Skilled Worker Visa/Sponsor Visa) کے لیے لائسنس یافتہ سپانسر ہوتے ہیں — یعنی پاکستان سے بیٹھ کر آپ ان کمپنیز میں اپلائی کر کے ویزا سپورٹ حاصل کر سکتے ہیں (اگر وہ واقعی رول کے لیے سپانسرشپ دیتے ہیں)۔ 🇬🇧 

⚠️ ایک اہم بات: صرف اس سرکاری سپانسر لسٹ میں موجود کمپنی سپانسر کر سکتی ہے — اور سپانسرشپ ملنا اس بات پہ بھی ڈپینڈ کرتا ہے کہ آیا وہ خاص جاب رول کے لیے واقعی سپانسر کرتا ہے یا نہیں۔ 

🇬🇧 مشہور اور بہترین UK سپانسر کمپنیاں (جہاں سے بہت سے بین الاقوامی لوگوں نے ویزا لے رکھا ہے)

ٹیکنالوجی & سافٹ ویئر
• Google UK – سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنس، پروڈکٹ مینجمنٹ وغیرہ 
• Microsoft UK – سافٹ ویئر، کلاؤڈ سروسز، IT رولز 
• Amazon UK – AWS، سافٹ ویئر، آپریشنز 
• Meta (فیس بک) UK – سافٹ ویئر، تجزیہ، AI رولز 
• Capgemini UK – IT کنسلٹنگ، ڈیٹا انجینئرنگ 
• Tata Consultancy Services (TCS) – IT سروسز کے مختلف رولز 

💼 کنسلٹنگ اور پروفیشنل سروسز
• PwC UK – آڈٹ، اکاؤنٹنگ، ڈیٹا اینالیسس 
• Deloitte UK – مینجمنٹ کنسلٹنگ، ٹیکنالوجی رولز 
• KPMG UK – فنانس، کنسلٹنگ (نوٹ: کچھ کیسز میں ویزا رولز تبدیل بھی ہوئے ہیں) 
• EY (Ernst & Young) UK – اکاؤنٹنگ، بزنس رولز 

💳 بینکنگ & فنانس
• HSBC UK – فنانس، سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس رولز 
• Barclays – بینکنگ، تجزیہ، IT رولز 
• Shell UK – انرجی، انجینئرنگ، سسٹمز 

🏥 ہیلتھ کیئر & سوشل کیئر
• NHS – نرسنگ، ڈاکٹروں، سپورٹ اسٹاف وغیرہ (سب سے بڑا پبلک سیکٹر سپانسر) 
• Barchester Healthcare – نرسز اور کیئر رولز 
• HC-One – کیئر ہومز اور اٹینڈنٹس 
• Four Seasons Health Care – اسپانسرشپ رولز 

🏗️ انجینئرنگ، ایوی ایشن & مینو فیکچرنگ
• Rolls-Royce – ایرو اسپیس انجینئرنگ 
• BAE Systems – دفاعی انجینئرنگ، ٹیکنالوجی 
• Airbus UK – ایوی ایشن انجینئرنگ 
• Jaguar Land Rover – آٹوموٹو انجینئرنگ 
• Arup – انجینئرنگ، انفراسٹرکچر 

🛍️ ریٹیل / ای-کامرس
• Amazon UK (ریٹیل + ٹیک) 
• Tesco – مینجمنٹ، سپلائی چین، IT رولز 
• Sainsbury’s – ڈسٹری بیوشن، آپریشنز 
• Marks & Spencer – ہیڈکوارٹر رولز 

اب یہاں اپلائے کرنے کے لیے CV اور Cover. لیٹر آپکے پاس ضرور ہونا چاہیے

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tehreek-e-Insaf Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Tehreek-e-Insaf Multan:

Share